Explained with ayahs 12–20
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ…
Read the full tafseer →سورة صٓ 14
یعنی عذاب کا ایک ہی کڑکا انہیں ختم کردینے کے لیے کافی ہوگا۔ کسی دوسرے کڑکے کی حاجت پیش نہ آئے گی۔ دوسرا مفہوم اس فقرے کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد پھر انہیں کوئی افاقہ نصیب نہ ہوگا، اتنی دیر کی بھی مہلت نہ ملے گی جتنی دیر اونٹنی کا دودھ نچوڑتے وقت ایک دفعہ سونتے ہوئے تھن میں دوبارہ سونتنے تک دودھ اترنے میں لگتی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ۔ فواق کے عربی میں کئی معنی آتے ہیں۔ ایک تو ”فواق“ اس درمیانی وقفہ کو کہتے ہیں جس میں ایک مرتبہ دودھ دوہنے کے بعد دوبارہ اس کے تھنوں میں دودھ آجائے۔ نیز اس کے معنی ”راحت و آرام“ کے بھی ہیں۔ بہرصورت، مطلب یہ ہے کہ حضرت اسرافیل ؑ کا پھونکا ہوا صور اس قدر مسلسل ہوگا کہ اس میں کوئی وقفہ نہ ہوگا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ان کل الاکذب الرسل فحق عقاب یعنی ان میں سے ہر ایک کا اصلی جرم یہی تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اسی جرم کے مرتکب تم بھی ہو رہے ہیں۔ فحق عذاب اصل میں حق عقابی کے قافیہ کی رعایت سے یہ گر گئی ہے جس طرح لمایذوقوا عذاب میں گر گئی ہے۔
آیت
فسواق کے عمنی وقفہ اور مہلت کے ہیں۔
قط حصہ اور نصیب کے معنی میں آتا ہے۔
مطالبہ عذاب اور اس کا جواب
اشارہ قریش کی طرف ہے کہ یہ لوگ بڑے طنطنہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لئے انہوں نے کوئی ناقابل تسخیر دفاعی لائن تعمیر کرلی ہے حالانکہ ان کو پامال کردینے کے لئے خدا کی ایک ہی ڈانٹ کافی ہوگی، دوسری کی نوبت بھی نہیں آنے پائے گی اور…
Read the full tafseer →15۔ 1 یعنی صور پھونکنے کا جس سے قیامت برپا ہوجائے گی۔
15۔ 2 صور پھونکنے کی دیر ہوگی کہ قیامت کا زلزلہ برپا ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →7: اس سے مراد صور پھونکنے کی آواز ہے جس کے ساتھ ہی قیامت واقع ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 15
یعنی جب یہ وقت آئے گا تو اس میں اس قدر تاخیر بھی نہ ہوگی جس قدر اونٹنی کا دودھ دوہنے کے دو اوقات میں ہوتا ہے۔ اس لیے کہ دودھ دینے والے جانور کا دودھ وقت مقررہ پر نکالا جاتا ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں کی جاتی۔ یہ امت آخری امت ہے اور اللہ نے اسے قیامت تک کا وقت اور مہلت دے دی ہے۔ کیونکہ اس امت کو اللہ امم سابقہ کی طرح نیست ونابود نہیں کرتا
یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اس امت کو اللہ نے طویل مہلت دے دی ہے لیکن افسوس کہ اہل قریش نے اس کو غنیمت نہ جانا اور اس پر خدا کا شکرادا نہ کیا ۔ الٹا اپنے مقرر انجام کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے رہے ، دعا کرتے رہے کہ اے اللہ ' تم میں سے جس کا…
Read the full tafseer →7 یعنی صور کی آواز کے منتظر ہیں۔ پوری سزا اس وقت ملے گی۔ اور ممکن ہے " صیحہ " سے یہیں کی ایک ڈانٹ مراد ہو۔
Read the full tafseer →آیت 15 { وَمَا یَنْظُرُ ہٰٓؤُلَآئِ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَہَا مِنْ فَوَاقٍ } ”اور یہ لوگ بھی اب منتظر نہیں ہیں مگر صرف ایک چنگھاڑ کے جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔“
ماضی کی کئی اقوام پر اللہ کا عذاب ایک مسلسل تیز آواز اور چنگھاڑ کی صورت میں بھی آیا تھا۔ چناچہ اگر مشرکین ِمکہ ّاپنی ہٹ دھرمی پر اسی طرح قائم رہے تو ایسا ہی کوئی عذاب ان پر بھی آسکتا ہے۔ آج کی سائنس بھی تصدیق کرتی ہے کہ صوتی لہریں sound waves چونکہ انرجی ہی کی ایک قسم ہے ‘ اس لیے ایک انتہائی زور دار آواز کسی بھی مادی نظام کو درہم برہم کرنے اور ماحول میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بن سکتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
17 فواق کا لغوی معنی :۔ فواق دراصل دودھ دوہتے وقت گائے کا ایک دفعہ تھن نچوڑنے اور دوسری دفعہ وہی تھن نچوڑنے کے درمیان کے وقفہ کو کہتے ہیں۔ اور اس سے مراد انتہائی قلیل مدت لی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ دھماکہ یا کڑکا ہوگا تو یہ اس وقت تک مسلسل ہوتا رہے گا جب تک سارے مجرم ڈھیر نہ ہوجائیں اور اس میں معمولی سا وقفہ بھی نہ ہوگا۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ انہیں ہلاک کرنے کے لئے ایک کڑکا ہی کافی ہوگا دوسرے کی نوبت یا حاجت ہی پیش نہ آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
16۔ منکرین بطور استہزاء کہتے تھے کہ جو کچھ عذاب ہم پر ہونا ہے وہ ابھی لے آؤ کل پر کیوں اٹھا رکھا ہے ! اعلم ان الکفار لما بالغوا فی السفاھۃ علی رسول اللہ ﷺ حیث قالوا انہ ساحر کذاب وقالوا لہ علی سبیل لاستھزاء عجل لنا قطنا امرہ اللہ بالصبر علی سفاھتھم (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…
Read the full tafseer →وما ینظر ھولاء الا صیحۃ واحدۃ ما لھا من فواق اور یہ لوگ بس ایک چیخ کے (یعنی صور پھونکے جانے
کے) منتظر ہیں جس میں دم لینے کی بھی گنجائش نہ ہوگی۔
ھٰٓؤُلَآء یعنی قریش کے کافر۔ صحیۃ واحدۃً صور پھونکے جانے کی آواز۔ مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ جب تک (قیامت کے) عذاب کو نہ دیکھ لیں گے ‘ نہیں مانیں گے لیکن اس وقت ایمان لانا بےسود ہوگا۔
فَوَاق (لغت قریش) فُوَاق (لغت بنی تمیم) دونوں لفظ آئے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ نے کہا : فواق کا معنی ہے : واپس ہونا۔ مجاہد نے ترجمہ کیا : مہلت۔ ضحاک نے کہا : فواق یعنی پھیرنا ‘ موڑنا۔ ابو عبیدہ اور فراء نے کہا : فواق کا معنی ہے آرام ‘ افاقہ (سکون اور ہوش) اور فواق اس وقفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(13۔ 15) اور محمد آپ کی قوم سے قبل بھی قوم نوح نے نوح کی اور قوم ہود نے ہود کی اور فرعون نے جس کی سلطنت کے کھونٹے گڑ گئے تھے یا کہ جو کھونٹوں میں آدمیوں کو باندھ کر سزا دیا کرتا تھا اسی واسطے اس کو ذوالاودتاد کہا جاتا ہے موسیٰ کی اور قوم صالح نے صالح کی اور قوم لوط نے لوط کی اور قوم شعیب نے شعیب کی تکذیب کی۔
اور وہ انہی لوگوں کی جماعت ہے ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تھا جیسا کہ آپ کی قوم آپ کو جھٹلا رہی ہے سو میرا عذاب ان پر واقع ہوگیا اور آپ کی قوم جو تکذیب پر مصر ہے صرف دوسری صورت کی منتظر ہے جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →وَمَا يَنْظُرُ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً :”يَنْظُرُ“ یہاں ”یَنْتَظِرُ“ کے معنی میں ہے۔ ”صَيْحَةً وَّاحِدَةً“ (ایک سخت چیخ) سے مراد دوسری دفعہ صور کے نفخہ سے پیدا ہونے والی آواز ہے، کیونکہ پہلے نفخہ کے وقت تک زندہ و موجود رہنے کا انتظار تو کوئی بھی نہیں کرتا۔ ”فَوَاقٍ“ مَا بَیْنَ الْحَلْبَتَیْنِ مِنَ الْوَقْتِ أَوْ مَا بَیْنَ فَتْحِ یَدِکَ وَ قَبْضِھَا عَلَی الضَّرْعِ“ (قاموس) ”دو دفعہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ یا دودھ دوہتے وقت تھن کو پکڑنے اور چھوڑنے کا درمیانی وقفہ۔“ مراد تھوڑا سا وقفہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے یہ لوگ ایک سخت چیخ کے انتظار میں ہیں، جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15 ۔ 16: یہاں ینظر ینتظر کے معنی میں ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انظرونا نقتبس من نور کم ۔ الحدید (13: ھولا سے مراد کفار مکہ ہیں الا صیحۃ واحدہ سے مراد قیامت کا نفخہ ہے بعنی عزوہ بدر میں جو مصیبت انہیں پہنچی اس کے بعد وہ قیامت کے نفخہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے زندہ لوگ اس وقت صرف صیحہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں صیحہ سے مرادصور پھونکنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان کے زندہ لوگ اس وقت صرف صیحہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں صیحہ سے مراد صور پھونکنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذہم و ھم یجصمون۔ فلا یستطیعون توصیۃ) یس (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →وَمَا يَنْظُرُ [اور راہ نہیں دیکھتے ] هٰٓؤُلَاۗءِ [یہ لوگ ] اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً [مگر ایک چنگھاڑ کی ] مَّا لَهَا [نہیں ہوگا جس میں ] مِنْ فَوَاقٍ [کوئی بھی وقفہ ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اہل مکہ کو جب یہ بات بتائی جاتی تھی کہ انکار اور تکذیب پر عذاب آجایا کرتا ہے اور پہلی قومیں کفر پر جمے رہنے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہیں تو اس کا مذاق بناتے تھے اور اطمینان کے ساتھ دنیاوی اعمال میں مشغول رہتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ یہ لوگ بس اسی انتظار میں ہیں کہ ایک چیخ آجائے یعنی صور پھونک دیا جائے گا اس وقت جو چیخ ہوگی وہ رکنے والی نہ ہوگی سمجھداری اسی میں ہے کہ قیامت آنے سے پہلے ہی ایمان قبول کرلیں اور اپنا حال درست کرلیں۔ اور علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جسے سورة یٰسین میں فرمایا ہے، (مَا یَنظُرُونَ اِِلَّا صَیْحَۃً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
تنبیہ وتوبیخ برانکار رسالت سید المرسلین ﷺ ومقابلہ قدرت رب العالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت ) ”۔ ء انزل علیہ الذکر ...... الی ....... قبل یوم الحساب “۔ کفار مکہ کے دوسرے شبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا نازل کیا گیا ہے یہ ذکر اور کتاب نصیحت یعنی قرآن ہم سب میں سے صرف اسی شخص پر حالانکہ نہ یہ کوئی دولت مند ہے اور نہ کسی بستی کا سردار ہے حقیقت اس طرح نہیں ہے کہ اگر انکی خواہش کے مطابق قرآن کسی بستی کے سردار یا دولت مند پر اتارا جاتا تو یہ لوگ اسکی اتباع کرلیتے جیسے ان کا یہ قول قرآن کریم نے نقل کیا (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من…
Read the full tafseer →16:۔ وما ینظر الخ۔ فواق : اونٹنی کو ایک بار دوہنے کے بعد کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ مزید دودھ اپنے تھنوں میں اتار دے اس درمیانی وقفے کو فواق کہا جاتا ہے، والفَواق والفُواق مابین الحلبتین من الوقت، لانہا تحلب ثم تترک سویعۃ یرضعہا الفصیل لتدر ثم تحلب (قرطبی ج 15 ص 156) ۔ یہ کفار مکہ قیامت کے انتظار میں ہیں جب قیامت بپا ہوگی یہ اس وقت ایمان لائیں گے۔ صیحۃ واحدۃ سے نفخہ اولی مراد ہے جو خاصا طویل اور مسلسل ہوگا اور اس کے درمیان معمولی سا وقفہ بھی نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی
(رسالت پر اعتراض)
گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →وَمَا يَنْظُرُ ہٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا صَيْحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَہَا مِنْ فَوَاقٍ 15
نظر
النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
ترکیب : جند مبتدء و ما للابہام کقولہ جئت لا مر ما ومن الاحزاب صفت لجند و مہزوم خبر ھنالک یجوزان یکون صفۃ لجند ای جند ثابت ھنالک ویجوزان یکون متعلقا بمھزوم معناہ ان الجند من الاحزاب مھزوم ھنالک ای فی ذلک الموضع۔
تفسیر : اس شبہ کا جواب خدا تعالیٰ کئی طرح سے دیتا ہے۔ اول بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب ذکری سے مراد دلائل کہ انہوں نے دلائلِ نبوت میں غور و فکر نہ کیا۔ ورنہ یہ شبہ زائل ہوجاتا اور غور و تامل نہ کرنا یوں ہی شک کرلینا، ان کو اس لیے ہوا کہ ابھی میرا عذاب نہیں چکھا یعنی دنیا میں کوئی اس کی سزا ان کو نہیں ملی، اگر ایسا ہو تو شک جاتا رہے۔ انسان یونہی بیجا حجتیں کیا کرتا ہے، مگر جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
وَمَا یَنْظُرُ ھٰٓـؤُلَآئِ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَھَا مِنْ فَوَاقٍ ۔ وَقَالُوْا رَبّنَا عَجِّلْ لَّـنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ ۔ (صٓ: 15، 16)
(اور یہ لوگ بس ایک ڈانٹ کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی ڈھیل نہیں۔ اور انھوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ! روزِحساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے۔ )
قریش کا متکبرانہ رویہ اور اس کا جواب
پہلی آیت میں قریش کے اس رویئے کا ذکر ہے جو ان کے انکارِ حق اور اصرارِ باطل سے پیدا ہوا ہے۔ اور دوسری آیت میں ان کے اس طنطنہ اور غرور کی طرف اشارہ ہے جس کی وجہ سے ان کی زبانوں پر ایسے الفاظ آگئے ہیں جو کوئی شخص بھی اس وقت تک نہیں کہہ سکتا جب تک کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس سے پہلی اقوام پر اس لیے عذاب آئے کہ وہ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنے والے تھے۔ اہل مکہ ! تم بھی وہی وطیرہ اختیار کیے ہوئے ہو جب کہ تم ایک جھٹکے کی ما رہو اور ناکامی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل سے مکہ والے اس قدر دلیر ہوچکے تھے کہ وہ نبی ﷺ کو بار بار کہتے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ یہ عذاب کیوں نہیں آتا ؟ وہ لوگ تمرد میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ایک دن اپنے لیے ان الفاظ میں بد دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب قیامت کی بجائے دنیا میں ہی ہمارا حساب چکادے۔ انہوں نے اس طرح بھی دعا کی کہ ” کافروں نے کہا کہ اللہ اگر یہ…
Read the full tafseer →15: وَ مَایَنْظُرُ ھٰٓؤُ لَآ ئِ (نہیں یہ انتظار کر رہے) یعنی ھؤلاء کا مشارالیہ اہل مکہ ہیں۔ اِلَّا صَیْحَۃً وَّ احِدَۃً (مگر ایک زور کی چیخ کا) نفخہ اولی مراد ہے اور وہ بڑی گھبراہٹ کا دن ہے۔ مَّا لَھَا مِنْ فَوَاقٍ (جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی)
قراءت : حمزہ اور علی نے ضمہ سے پڑھا فواقؔ یعنی وہ ایک سانس کی مقدار بھی نہ رکے گی۔ فواقؔ دراصل دودھ دوہنے والے کے پہلی مرتبہ تھنوں سے دودھ نکالنے اور دوسری مرتبہ نکالنے کا درمیانی وقفہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کا وقت آجائے گا تو اتنے وقت کی مقدار بھی توقف و تاخر نہ ہوگا۔
قول ابن عباس ؓ :
اس کیلئے لوٹنا اور لوٹانا نہیں ہے۔ یہ افاق المریض سے ماخوذ ہے۔…
Read the full tafseer →15، وماینظر، یہ لوگ انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ھولا، کفار مکہ ، الا صیحۃ واحدۃ، اور وہ نفخہ صو رہے۔ ، مالھا من فواق، حمزہ اور کسائی نے، فواق، فاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء کے نزدیک فاء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ یہ دو ونوں لگات درست ہیں۔ قریش کی لغت میں فتحہ ہے اور تمیم کی لغت میں ضمہ ہے۔ ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کہا کہ فواق کا معنی ہے واپس ہونا ۔ مجاہد نے اس کا ترجمہ کیا مہلت۔ ضحاک کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے پھیرنا، موڑنا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ چیخ جو اپنے مقررہ وقت پر آئے گی جو عذاب کی صورت میں ہوگی تو اس کونہ کوئی لوٹا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کو پھیر سکتا ہے۔ بعض نے ضمہ اور فتحہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
8۔ 15۔ قرآن شریف کے جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین مکہ ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ یا عمرو بن مسعود ایسے مال دار شخص پر نازل ہوتا۔ ان مال دار شخصوں کو چھوڑ کر محمد ؓ جیسے تنگ دست پر کلام الٰہی کا اترنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ جب تک ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کے طور پر کوئی آفت ان پر نہیں آتی۔ اس وقت تک یہ لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں ایسی ہی شک و شبہ کی باتیں کرتے رہیں گے۔ ہاں جب کوئی آفت آسمانی ان پر آجاوے تو ان کا یہ سب شک و شبہ جاتا رہے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمر بستہ تھیں :: (آیت) ” قوم نوح اور عاد “ جو کہ حضرت ہود کی قوم تھی : (آیت) ” اور میخوں والا فرعون “ یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا (وثمود) ” اور ثمود “ صالح کی قوم (وقوم لوط واصحب لئکۃ) ” اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ ‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیب کی قوم ہے۔ (اولئک الاحزاب) جنہوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی ساز و سامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لئے جمع کیا،…
Read the full tafseer →18 منکرین کے لیے تنبیہ وتحذیر : سو منکرین کے لیے تنبیہ وتحذیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اب یہ لوگ ایک ہی ہولناک آواز کے منتظر ہیں "۔ مراد ہے نفخ صور۔ یعنی حق کی وضاحت میں اب کوئی کسر و کمی باقی نہیں رہ گئی۔ اب یہ لوگ گویا اپنے آخری انجام اور قیامت ہی کے منتظر ہیں۔ سو انکے عذاب کا وہ وقت آجائے گا تو پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو منکرین جو اپنے کبر و غرور میں مبتلا ہو کر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب وہ عذاب آئے گا تو ایک جھڑکی ہی سے ان کا کام تمام ہوجائے گا۔
19 منکرین کے لیے عذاب کی بےپناہی کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 5” جب تک ان کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دے “ یا ” جس کے بعد کوئی دوسری چنگھاڑ نہ ہوگی (قرطبی) ” فواق “ اصل میں اس وقفہ کو کہتے ہیں جو اونٹنی کا دودھ دوہتے وقت ایک دفعہ کے بعد دوسری دفعہ کے درمیات ہوتا ہے۔ تو مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نہ ذرہ بھر پہلے آئے گی اور نہ بعد میں۔
Read the full tafseer →(38:15) ما ینظر۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ واحد کا صیغہ جمع کے لئے ہے۔ نظر (نصر) مصدر سے بمعنی دیکھنا۔ لیکن یہاں معنی انتظار آیا ہے وہ انتظار نہیں کر رہے۔
ھؤلاء اسم اشارہ جمع۔ یہ سب۔ مشار الیہ کفار مکہ ہیں۔
صیحۃ واحدۃ۔ موصوف و صفت۔ ایک چیخ۔ ایک کڑک ، (مراد صور کے پھونکے جانے کی آواز ہے) منصوب بوجہ ینظر کے مفعول ہونے کے ہے۔
لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع صیحۃ ہے۔
فواق۔ اسم مصدر۔ واحد ہے اس کی جمع افوقۃ اور افقۃ ہے چناچہ محاورہ ہے فاق المریض۔ جب مریض بیماری سے صحت کی طرف رجوع کرے۔ اسی بناء پر بعض نے تفسیر افاقہ اور استراحت سے کی ہے۔
اگر فواق (فاء کے ضمہ ساتھ) ہو تو اس کا معنی وہ وقفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
خدا پر اعتراض کرنا۔
(ف 1) قرآن شریف کو جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف میں اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ایسے مالدار شخص پر نازل ہوتا، یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا، کیا سارے جہان میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا، جس پر اپنا کلام نازل کرتا، اس کا جواب اللہ نے یہ دیا بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکالگا ہوا ہے وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
[7] فرعون کی کثیر فوج کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی تھی۔ عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
نبوت کا استحقاق
1: جیسا کہ بتایاجاچکا ہے ۔ مکہ والوں کو سب سے زیادہ غصہ اس بات پر تھا ۔ کہ اگر نبوت ایک انعام ہے تو ہم اس سے کیوں محروم ہیں ؟ کیوں ہماری عزت وجاہت کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ کیوں ہمارے شرف ومجد کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور کیوں ایسا ہوا ہے کہ ہم سے اس آدمی کو سعادت کے لئے چن لیا گیا ہے ۔ جو کسی طرح بھی مال و دولت کے اعتبار سے یا اعوان وانصار کے لحاظ سے ہم سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔ اس استدلال سے ان کی غرض یہ تھی ۔ کہ شروع ہی سے حضور ﷺ کا دعویٰ غلط ہے ۔ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی ۔ تو پھر ہمیں عہدہ نبوت پر فائز ہونا چاہیے تھا ۔ خدا ایسا نا منصف نہیں ہے کہ اکابر اور مشاہیر کو…
Read the full tafseer →(15) اور یہ دین حق کے منکر نہیں انتظار کرتے اور نہیں راہ دیکھتے مگر ایک ہولناک آواز اور چیخ کی جو شروع ہوئے پیچھے ٹھہرے گی اور بیچ میں دم نہ لے گی۔ یعنی نفخہ صور اور صور کی آواز کا انتظار کر رہے ہیں۔ جو شروع ہوئے پیچھے تھوڑی سی دیرکو بھی دم نہ لے گی۔ فواقکے زبر یا پیش سے اس وقفہ کو کہتے ہیں جو دودھ والے جانور کو دودھ دوہتے وقت دودھ اترنے کی غرض سے تھوڑی دیرکو چھوڑ دیا کرتے ہیں تاکہ جانور دودھ اتارلے اس تھوڑے وقفہ کی نفی فرمائی کہ اتنی دیر بھی وہ چنگھاڑ شروع ہونے کے بعد بھی دم نہ لے گی یعنی اس آواز کے تسلسل میں توقف نہ ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی صور کی آواز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ف 6۔ یعنی اس کی سلطنت مدید اور شدید تھی۔
Read the full tafseer →یہ لوگ تو صرف ایک چیخ کے منتظر ہیں جس میں دم لینے کی ذرا بھی گنجائش نہیں
15۔ زیر نظر آیت کا مضمون ان گزشتہ جماعتوں کے ساتھ بھی مل سکتا ہے اور قریش مکہ کی جماعت کے ساتھ بھی اگر گزشتہ قوموں کے ساتھ اس کو ملایا جائے تو مطلب یہ ہے کہ ان جماعتوں اور گروہوں کے سارے لوگ اس بات کے منتظر رہے کہ وہ عذاب جس کا ان کے نبی نے ذکر کیا ہے کب آتا ہے ؟ گویا ان لوگوں کو موعود عذاب کے آنے کی کوئی امید نہ تھی اور اپنے نبی و رسول کی زبان کو اید آوارہ ہی سمجھے تھے لیکن جب موعود وقت آیا اور عذاب کے ایک دھماکے نے ان کو آلیا جس کے وہ منتظر تھے تو ان کو ایک معمولی وقفہ بھی نہ دیا گیا اور اس دھماکے یا چیخ نے ان کو تہس…
Read the full tafseer →The word: فَوَاقُ (fawaq) in verse 15: مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ (that will have no pause.) is used in Arabic to convey several meanings. To begin with, 'fawaq' is the period of time that intervenes between milking an animal and creation of milk in its teats once again. Then, it also means 'comfort.' Whatever the case, the sense is that the Horn صُور (Sur) blown by Sayyidna Israfil (علیہ السلام) would be so continuous that there will be no pause in it. (Qurtubi)
Read the full tafseer →14 That is, `Only a single blast of the torment will be enough to annihilate them; no other will be needed for the purpose." Another meaning of the sentence can be: "After this they will get no more relief and no more respite. "
Read the full tafseer →