Saad 38:14

Saad · from ayah 14

38:14

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ۟۠اِنۡ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ

(ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Each of them denied the messengers, so My penalty was justified.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juzع

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:14

ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ اس پر چسپاں ہو کر رہا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہو پس میری سزا ان پر ﺛابت ہوگئی

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جس نے پیغمبروں کو نہ جھٹلایا ہو، اس لیے میرا عذاب بجا طور پر نازل ہو کر رہا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان میں کوئی ایسا نہیں جس نے رسولوں کو نہ جھٹلایا ہو تو میرا عذاب لازم ہوا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اِن میں سے) ہر ایک گروہ نے رسولوں کو جھٹلایا تو (اُن پر) میرا عذاب واجب ہو گیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہیں ہے (ان میں سے) کوئی مگر اس نے رسولوں کو جھٹلایا، تو میرا عذاب واقع ہوگیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب واجب ہوگیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سب ہی نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر نازل ہو کے رہا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان میں سے ہر ایک نے جھٹلایا (اپنے تکبر و سرکشی کی بناء پر) میرے رسولوں کو سو آخرکار (ان میں سے ہر ایک پر) چسپاں ہو کر رہا میرا عذاب

— مولانا اسحاق مدنی

ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تھا سو میرا عذاب (ان پر) واقع ہوگیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان سب نے ہی رسولوں ؑ کی تکذیب کی تو وہ میری سزا کے مستحق ہوگئے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر آ واقع ہوا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Each of them gave the lie to Messengers and My decree of chastisement came upon them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

All of them did nothing but declare the messengers as liars; hence, My punishment became due.

— Muhammad Taqi Usmani

All of them did nothing but declare the messengers as liars; hence, My punishment became due.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Not one of them but did deny the messengers, therefor My doom was justified,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Each of them denied the messengers, so My penalty was justified.

— Saheeh International

Each of them who rejected the Messenger become subject to Our punishment.

— Muhammad Sarwar

There was none of them but called the apostles liars, so just was My retribution.

— Muhammad Habib Shakir

There was not one but belied the apostles, wherefore justified was My wrath.

— Abdul Majid Daryabadi

Not one (of them) but rejected the messengers, but My punishment came justly and inevitably (on them).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–20

ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–14

سورة صٓ 13 فرعون کے لیے " ذی الا وتاد " (میخوں والا) یا تو اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا میخ پر ٹھکی ہوئی ہو۔ یا اس بنا پر کہ اس کے کثیر التعداد لشکر جہاں ٹھہرتے تھے وہاں ہر طرف خیموں کی میخیں ہی میخیں ٹھکی نظر آتی تھیں۔ یا اس بنا پر کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اسے میخیں ٹھوک کر عذاب دیا کرتا تھا۔ اور ممکن ہے کہ میخوں سے مراد اہرام مصر ہوں جو زمین کے اندر میخ کی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

اُولٰۗىِٕكَ الْاَحْزَابُ اس کی تفسیر تو یہ ہے کہ یہ جملہ مھز وم من الاحزاب کا بیان ہے۔ یعنی جن گروہوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہیں۔ حضرت تھانوی نے اسی کے مطابق تفسیر کی ہے۔ لیکن دوسرے مفسرین نے اس کے معنے یہ بتائے ہیں کہ ”گروہ وہ تھے“ یعنی اصل طاقت و قوت کی مالک قوم نوح اور عاد وثمود وغیرہ کی قومیں تھیں۔ مشرکین مکہ کی ان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں، جب وہ لوگ عذاب الٰہی سے نہ بچ سکے تو ان کی ہستی کیا ہے ؟ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–15

ان کل الاکذب الرسل فحق عقاب یعنی ان میں سے ہر ایک کا اصلی جرم یہی تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اسی جرم کے مرتکب تم بھی ہو رہے ہیں۔ فحق عذاب اصل میں حق عقابی کے قافیہ کی رعایت سے یہ گر گئی ہے جس طرح لمایذوقوا عذاب میں گر گئی ہے۔ آیت فسواق کے عمنی وقفہ اور مہلت کے ہیں۔ قط حصہ اور نصیب کے معنی میں آتا ہے۔ مطالبہ عذاب اور اس کا جواب اشارہ قریش کی طرف ہے کہ یہ لوگ بڑے طنطنہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لئے انہوں نے کوئی ناقابل تسخیر دفاعی لائن تعمیر کرلی ہے حالانکہ ان کو پامال کردینے کے لئے خدا کی ایک ہی ڈانٹ کافی ہوگی، دوسری کی نوبت بھی نہیں آنے پائے گی اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–14

13۔ 1 اَ صْحَاب الاَیْکۃِ کے لئے دیکھئے (وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ) 26۔ الشعراء :186) کا حاشیہ

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–14

6: مقصد یہ ہے کہ جو بڑی بڑی قومیں پہلے گذری ہیں، ان کے مقابلے میں یہ لوگ ایک چھوٹا سا لشکر ہیں جو خود اپنے وطن میں شکست کھاجائے گا۔ یہ فتح مکہ کی پیشین گوئی ہے، اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ یہ سارے بڑے بول بولنے والے فتح مکہ کے موقع پر ایسی شکست کھا گئے کہ مکہ مکرمہ پر ان کا کوئی اقتدار باقی نہیں رہا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–14

آیت نمبر 12 تا 14 یہ مثالیں تو ان لوگوں کی ہیں جو قریش سے قبل تاریخ میں گزرے ہیں ۔ قوم نوح ، قوم عاد ، فرعون جو بڑے بڑے اہراموں والا تھا۔ یہ اہرام زمین پر ایسے ہیں جیسی میخیں ، قوم ثمود ، قوم لوط ، قوم شعیب جنہیں اصحاب الایکہ بھی کہا جاتا ہے یعنی گھنے جنگلوں والے ، یہ ہیں وہ جتھے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ۔ تو انجام کیا ہوا ان کا ۔ حالانکہ وہ بڑے جبار اور پکڑوالے تھے۔ یہ ہوا فحق عقاب (38: 14) ” میرے عذاب کا فیصلہ ان پر چسپاں ہوا “۔ جو ہونا تھا وہ ہوا۔ وہ اس طرح نیست ونابود کردیئے گئے کہ ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہا ہے۔ یہ تھی پوزیشن ان لوگوں کی جو زمانہ ماضی میں گزرے۔ رہے یہ لوگ تو ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی یہ بڑی بڑی طاقتور فوجیں اور رسولوں کو جھٹلا کر سزا سے نہ بچ سکیں۔ تمہاری تو حقیقت کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 { اِنْ کُلٌّ اِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ } ”ان سب نے ہی رسولوں علیہ السلام کی تکذیب کی ‘ تو وہ میری سزا کے مستحق ہوگئے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

17 فواق کا لغوی معنی :۔ فواق دراصل دودھ دوہتے وقت گائے کا ایک دفعہ تھن نچوڑنے اور دوسری دفعہ وہی تھن نچوڑنے کے درمیان کے وقفہ کو کہتے ہیں۔ اور اس سے مراد انتہائی قلیل مدت لی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ دھماکہ یا کڑکا ہوگا تو یہ اس وقت تک مسلسل ہوتا رہے گا جب تک سارے مجرم ڈھیر نہ ہوجائیں اور اس میں معمولی سا وقفہ بھی نہ ہوگا۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ انہیں ہلاک کرنے کے لئے ایک کڑکا ہی کافی ہوگا دوسرے کی نوبت یا حاجت ہی پیش نہ آئے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–14

15۔ متعین طور پر نام بھی قرآن نے پرانی پر قوت، پرشوکت قوموں کے بتا دیئے، کہ تکذیب انبیاء وتکذیب شریعت الہی ہی کی پاداش میں یہ لوگ ہلاک ہوتے تھے۔ وہی صورت آج کے منکرین کو بھی پیش آنی ہے۔ (آیت) ” نوح، عاد، فرعون، ثمود، لوط، اصحب الیکۃ “۔ ان سب پر حاشیے اپنے اپنے مقام پر گزر چکے۔ (آیت) ” اصحب الئیکۃ “۔ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت ہے۔ (آیت) ” ذوالاوتاد “۔ محاورہ میں اس سے مراد شوکت و حشمت والے سے ہوتی ہے۔ استعیر لثبات العز والملک واستقامۃ الامر (کشاف) اصل ھذہ الکلمۃ من ثبات البیت المطنب باوتادہ ثم استعیر لاثبات العز والملک (کبیر) پرانی قوموں میں تعذیب کی ایک صورت مجرم کو چومیخا کردینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب (ان میں سے کوئی جماعت ایسی نہ تھی کہ اس نے پیغمبروں کو نہ جھٹلایا ہو ‘ یعنی) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا ‘ سو میرا عذاب ان پر واقع ہوگیا۔ اِنْ نافیہ ہے ‘ یعنی ان میں سے کسی جماعت نے سوائے اس کے کچھ نہیں کیا کہ پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا اور سخت ترین عذاب کی مستحق بنی۔ کُلٌّ کے لفظ کو مبہم رکھ کر تکذیب کی اس کی طرف نسبت کرنے سے اس مقصد کے بیان میں پختگی پیدا ہوگئی گویا اس بات پر مہر لگ گئی کہ (تکذیب کی وجہ سے) وہ مستحق عذاب ہو ہی گئے ‘ اسی لئے آئندہ فقرہ حقّ عقاب فرمایا ‘ یعنی عذاب ان پر لازم ہوگیا اور (کفر کی وجہ سے) واقع ہوگیا۔ (کُلُّ کَذَّبَ الرُّسُلَاقوام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–15

(13۔ 15) اور محمد آپ کی قوم سے قبل بھی قوم نوح نے نوح کی اور قوم ہود نے ہود کی اور فرعون نے جس کی سلطنت کے کھونٹے گڑ گئے تھے یا کہ جو کھونٹوں میں آدمیوں کو باندھ کر سزا دیا کرتا تھا اسی واسطے اس کو ذوالاودتاد کہا جاتا ہے موسیٰ کی اور قوم صالح نے صالح کی اور قوم لوط نے لوط کی اور قوم شعیب نے شعیب کی تکذیب کی۔ اور وہ انہی لوگوں کی جماعت ہے ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تھا جیسا کہ آپ کی قوم آپ کو جھٹلا رہی ہے سو میرا عذاب ان پر واقع ہوگیا اور آپ کی قوم جو تکذیب پر مصر ہے صرف دوسری صورت کی منتظر ہے جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ :”عِقَابِ“ اصل میں ”عِقَابِيْ“ ہے، میرا عذاب، میری سزا۔ سورة عنکبوت میں ان تمام اقوام کے جھٹلانے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ) [ العنکبوت : 40 ] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–14

12 ۔ 14:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر نبی کریم ﷺ کے لئے تعزیت اور آپ کی تسلی کے لئے کیا یعنی اے محمد ! ﷺ یہ تیری قوم کے لوگ ہیں متقدمہ قوموں کے لشکر ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کے خلاف لشکر کشی کی وہ لوگ ان سے زیادہ طاقتور تھے پس انہیں ہلاک کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم کو بانیث کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا (1) علماء عرب نے اس بارے میں دو قول نقل کئے ہیں : (1) اس میں تذکیرو تانیث جائز ہے (2) یہ مذکر ہے اس کی تانیث جائز نہیں مگر اس صورت میں کہ معنی عشیرہ اور قبیلہ پر واقع ہو تو لفظ میں اس معنی کا حکم غالب ہوگا جو معنی مضمر ہے مقصود اس پر تنیہ کرنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کلا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–16

:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ كُلٌّ [نہیں ہیں یہ سب ] اِلَّا [مگر یہ کہ ] كَذَّبَ [انھوں نے جھٹلایا ] الرُّسُلَ [رسولوں کو ] فَحَقَّ [تو ثابت ہوا ] عِقَابِ [میرا سزا دینا ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–14

گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا تذکرہ اس کے بعد گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا ذکر فرمایا جس میں مشرکین مکہ کے لیے عبرت ہے ارشاد فرمایا کہ ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور قوم عاد نے اور فرعون نے جو ذی الاوتاد تھا اور ثمود نے اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے اور اصحاب الایکہ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کو اپنا شیوہ بنایا اور اس کی سزا پائی، مزید فرمایا (اِِنْ کُلٌّ اِِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ) یہ سب وہی ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا، ان لوگوں کے عذاب کی تفصیلات قرآن مجید میں جگہ جگہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–16

تنبیہ وتوبیخ برانکار رسالت سید المرسلین ﷺ ومقابلہ قدرت رب العالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ ، (آیت ) ”۔ ء انزل علیہ الذکر ...... الی ....... قبل یوم الحساب “۔ کفار مکہ کے دوسرے شبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا نازل کیا گیا ہے یہ ذکر اور کتاب نصیحت یعنی قرآن ہم سب میں سے صرف اسی شخص پر حالانکہ نہ یہ کوئی دولت مند ہے اور نہ کسی بستی کا سردار ہے حقیقت اس طرح نہیں ہے کہ اگر انکی خواہش کے مطابق قرآن کسی بستی کے سردار یا دولت مند پر اتارا جاتا تو یہ لوگ اسکی اتباع کرلیتے جیسے ان کا یہ قول قرآن کریم نے نقل کیا (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

15:۔ کذبت الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ یہ وہ احزاب ہیں جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) سے ٹکر لی اور ان کی تکذیب کی تو ان سب پر ہمارا عذاب نازل ہوا۔ اور ہم نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور ان پر اپنے پیغمبروں کو غلبہ عطا فرمایا۔ فرعون کو ذوالاوتاد اس لیے کہا کہ اس کا ملک نہایت مضبوط اور مستحکم تھا گویا اس کی حکومت کو اس گھر سے تشبیہ دی گئی جس ستون نہایت مضبوط ہوں۔ ذو الاوتاد ذوالملک الثابت (جامع البیان ص 390) ۔ شبہ ھنا فرعون فی ثبات ملکہ ورسوخ سلطنتہ ببیت ثابت اقیم عمادہ و ثبتت اوتادہ (روح ج 23 ص 170) ۔ اور اصحاب الایکہ حضرت شعیب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–16

ربط آیات : گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی (رسالت پر اعتراض) گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۝ 14ۧ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–15

ترکیب : جند مبتدء و ما للابہام کقولہ جئت لا مر ما ومن الاحزاب صفت لجند و مہزوم خبر ھنالک یجوزان یکون صفۃ لجند ای جند ثابت ھنالک ویجوزان یکون متعلقا بمھزوم معناہ ان الجند من الاحزاب مھزوم ھنالک ای فی ذلک الموضع۔ تفسیر : اس شبہ کا جواب خدا تعالیٰ کئی طرح سے دیتا ہے۔ اول بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب ذکری سے مراد دلائل کہ انہوں نے دلائلِ نبوت میں غور و فکر نہ کیا۔ ورنہ یہ شبہ زائل ہوجاتا اور غور و تامل نہ کرنا یوں ہی شک کرلینا، ان کو اس لیے ہوا کہ ابھی میرا عذاب نہیں چکھا یعنی دنیا میں کوئی اس کی سزا ان کو نہیں ملی، اگر ایسا ہو تو شک جاتا رہے۔ انسان یونہی بیجا حجتیں کیا کرتا ہے، مگر جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌوَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ ۔ وَثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّاَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ ط اُوْلٰٓئِکَ الْاَحْزَابُ ۔ اِنْ کُلٌّ اِلاَّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ۔ (صٓ: 12 تا 14) (ان سے پہلے نوح کی قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے تکذیب کی۔ اور ثمود، قوم لوط اور ایکہ والوں نے بھی، یہ جتھے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا، تو میرا عذاب ان پر نازل ہو کے رہا۔ ) تاریخ سے استشہاد قریش کو تنبیہ کرتے ہوئے انھیں تاریخ کا آئینہ دکھایا گیا ہے کہ تم جس روش پر چل رہے ہو اور جس طرح تم نے ہمارے پیغمبر کی تکذیب کو اپنا طرزعمل بنا لیا ہے تمہیں خوب معلوم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–16

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس سے پہلی اقوام پر اس لیے عذاب آئے کہ وہ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنے والے تھے۔ اہل مکہ ! تم بھی وہی وطیرہ اختیار کیے ہوئے ہو جب کہ تم ایک جھٹکے کی ما رہو اور ناکامی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل سے مکہ والے اس قدر دلیر ہوچکے تھے کہ وہ نبی ﷺ کو بار بار کہتے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ یہ عذاب کیوں نہیں آتا ؟ وہ لوگ تمرد میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ایک دن اپنے لیے ان الفاظ میں بد دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب قیامت کی بجائے دنیا میں ہی ہمارا حساب چکادے۔ انہوں نے اس طرح بھی دعا کی کہ ” کافروں نے کہا کہ اللہ اگر یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14: اِنْ کُلٌّ اِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ (ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تھا) اولاً ان کی تکذیب کا تذکرہ جملہ خبر یہ سے کیا اور اس میں ابہام باقی رکھا اس طرح کہ مکذب کو واضح کردیا۔ اور جن کی تکذیب کی گئی یعنی رسل ان کو بیان کردیا۔ اور یہ ذکر فرمایا کہ ان گروہوں میں سے ہر ایک نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ اس لئے کہ ایک کی تکذیب وہ سب کی تکذیب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغام و دعوت سب کی ایک ہے۔ تکذیب کو دوبارہ لائے، ابہام کے بعد اس کی وضاحت کی، اور شروع میں جملہ لا کر باربار لانے میں اس کی تنویع کی طرف اشارہ کردیا۔ پھر جملہ استثنائیہ سے دوبارہ لائے اور استثنائیہ کو جس انداز سے لائے۔ اس میں کئی قسم کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 14، ان کل ، ان میں سے تمام جماعتوں نے ، الا کذب الرسل فحق عقاب ، ابن پر عذاب واجب ہے اور ہم نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–15

8۔ 15۔ قرآن شریف کے جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین مکہ ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ یا عمرو بن مسعود ایسے مال دار شخص پر نازل ہوتا۔ ان مال دار شخصوں کو چھوڑ کر محمد ؓ جیسے تنگ دست پر کلام الٰہی کا اترنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ جب تک ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کے طور پر کوئی آفت ان پر نہیں آتی۔ اس وقت تک یہ لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں ایسی ہی شک و شبہ کی باتیں کرتے رہیں گے۔ ہاں جب کوئی آفت آسمانی ان پر آجاوے تو ان کا یہ سب شک و شبہ جاتا رہے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–16

آیت 12 اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمر بستہ تھیں :: (آیت) ” قوم نوح اور عاد “ جو کہ حضرت ہود کی قوم تھی : (آیت) ” اور میخوں والا فرعون “ یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا (وثمود) ” اور ثمود “ صالح کی قوم (وقوم لوط واصحب لئکۃ) ” اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ ‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیب کی قوم ہے۔ (اولئک الاحزاب) جنہوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی ساز و سامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لئے جمع کیا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

17 ہلاک و برباد ہونے والے جتھوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی ہیں وہ جھتے جنہوں نے حق کو جھٹلایا اور اس کو ماننے سے انکار کیا " اور یہ اس کی عداوت و دشمنی ہی پر کمربستہ رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جب عذاب الہی آیا تو ان جماعتوں اور گروہوں میں سے کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکا۔ سو اللہ کے عذاب سے وقت آنے پر کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔ خواہ وہ کتنی ہی قوت اور جمعیت کیوں نہ رکھتا ہو۔ سو یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ حضرات انبیاء و رسل اور ان کی دعوت کی تکذیب اور انکار کا نتیجہ و انجام بہرحال دائمی ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان بدبخت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة ص رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14 اسرار و معارف : ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–15

ف 5” جب تک ان کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دے “ یا ” جس کے بعد کوئی دوسری چنگھاڑ نہ ہوگی (قرطبی) ” فواق “ اصل میں اس وقفہ کو کہتے ہیں جو اونٹنی کا دودھ دوہتے وقت ایک دفعہ کے بعد دوسری دفعہ کے درمیات ہوتا ہے۔ تو مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نہ ذرہ بھر پہلے آئے گی اور نہ بعد میں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:14) ان کل میں ان نافیہ ہے ان کل الا کذب الرسل ای کل کذب الرسل۔ ہر جماعت نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ فحق : فاء سببیہ ہے۔ حق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ حق مصدر سے باب ضرب جس کا معنی واجب ہونا ہے۔ حق واجب ہوا۔ حق ہوا۔ مطابق ہوا۔ عقاب ای عقابی۔ میرا عذاب، میری طرف سے سزا۔ عاقب یعاقب کا مصدر ہے اس باب میں معاقبۃ (مفاعلۃ) سے بھی مصدر ہے۔ عقاب کے اصل معنی پیچھے ہو لینے کے ہیں۔ جیسے عقب الثانی الاول دوسرا پہلے کے پیچھے ہو لیا۔ یا عقب الیل النھار۔ رات دن کے پیچھے ہولی۔ اس اعتبار سے عقاب سزا ہوئی جو جرم کے پیچھے ہولی۔ لہٰذا اس کا ترجمہ پاداش جرم ہوا۔ فحق عقاب۔ تو (ان پر) میرا عذاب لازم ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–15

خدا پر اعتراض کرنا۔ (ف 1) قرآن شریف کو جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف میں اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ایسے مالدار شخص پر نازل ہوتا، یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا، کیا سارے جہان میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا، جس پر اپنا کلام نازل کرتا، اس کا جواب اللہ نے یہ دیا بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکالگا ہوا ہے وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–15

[7] فرعون کی کثیر فوج کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی تھی۔ عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–15

نبوت کا استحقاق 1: جیسا کہ بتایاجاچکا ہے ۔ مکہ والوں کو سب سے زیادہ غصہ اس بات پر تھا ۔ کہ اگر نبوت ایک انعام ہے تو ہم اس سے کیوں محروم ہیں ؟ کیوں ہماری عزت وجاہت کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ کیوں ہمارے شرف ومجد کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور کیوں ایسا ہوا ہے کہ ہم سے اس آدمی کو سعادت کے لئے چن لیا گیا ہے ۔ جو کسی طرح بھی مال و دولت کے اعتبار سے یا اعوان وانصار کے لحاظ سے ہم سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔ اس استدلال سے ان کی غرض یہ تھی ۔ کہ شروع ہی سے حضور ﷺ کا دعویٰ غلط ہے ۔ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی ۔ تو پھر ہمیں عہدہ نبوت پر فائز ہونا چاہیے تھا ۔ خدا ایسا نا منصف نہیں ہے کہ اکابر اور مشاہیر کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) یہ جتنے تھے ان سب ہی نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا یعنی ان سب لوگوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور آخرکار ان پر میرا عذاب واقع ہوگیا اسی طرح یہ کفار مکہ آپ کی تکذیب کررہے ہیں تو ان کو بھی مطمئن نہ ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

14۔ ان مذکورہ تمام گروہوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی مخالفت کی اور مخالفت میں وہ حد سے بہت آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ جسمانی اذیت کا باعث بھی ہوئے اور بہت سے ایسے بھی تھے جن کو انہوں نے قتل ہی کردیا اور پھر انجام کار ان کو ان کے ان افعال کی پاداش میں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا گیا اس لیے کہ ان کا مٹانا لازم ہوگیا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

أُولَـٰئِكَ الْأَحْزَابُ (They were the [ strong ] groups. - 38:13) One explanation of this statement is that it is the description of the word 'groups' in verse 11. In other words, 'these are the groups or Confederates that have been pointed out in this verse.' Maulana Thanavi (رح) has gone by this Tafsir in his explanation of the verse. But, other commentators explain it in the sense that actually they were the groups that were really strong, not these people of Makkah. In other words, those who possessed real strength and power were the people of Nuh and ` Ad and Thamud and others like…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–14

13 The use of dhil-autad (of the stakes) for Pharaoh is either in the sense that his kingdom was very strong as though a stake were firmly driven into the ground, or for the reason that wherever his large armies camped, pegs of the tents were seen driven into the ground on every side, or because he would torture and punish at the stakes anyone with whom he was angry; and possibly the stakes may imply the pyramids of Egypt which seem to be driven into the earth like the stakes.

Read the full tafseer →