As-Saaffaat 37:99

As-Saaffaat · from ayah 99

37:99

وَقَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰی رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ ۟وَقَالَ اِنِّىۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّىۡ سَيَهۡدِيۡنِ‏

اور ابراہیم بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [then] he said, "Indeed, I will go to [where I am ordered by] my Lord; He will guide me.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:99

ابراہیمؑ نے کہا "میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی میری رہنمائی کرے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ابراہیم بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے واﻻ ہوں۔ وه ضرور میری رہنمائی کرے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ابراہیم نے کہا : میں اپنے رب کے پاس جارہا ہوں، وہی میری رہنمائی فرمائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں اب وہ مجھے راہ دے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ابراہیم ؑ نے کہا: میں (ہجرت کر کے) اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا (وہ ملکِ شام کی طرف ہجرت فرما گئے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس نے کہا بیشک میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ابراہیم نے کہا : میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں وہی میری رہنمائی کرے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس نے کہا، میں اپنے رب کی طرف جا رہ اہوں۔ وہ میری رہنمائی فرمائے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ان کی اصلاح سے مایوسی کے بعد) ابراہیم نے کہا کہ اب میں جاتا ہوں اپنے رب کی طرف وہ ضرور میری راہنمائی فرمائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور ابراہیم ؑ نے کہا میں اپنے پروردگار کی طرف چلا جاتا ہوں سو وہ مجھے پہنچا ہی دے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اب اس نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

) اور ابراہیم بولے کہ میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

Abraham said: “I am going to my Lord; He will guide me.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And he said, :I am going to my Lord. He will show me the way.

— Muhammad Taqi Usmani

And he said, :I am going to my Lord. He will show me the way.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he said: "Verily, I am going to my Lord. He will guide me!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he said: Lo! I am going unto my Lord Who will guide me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [then] he said, "Indeed, I will go to [where I am ordered by] my Lord; He will guide me.

— Saheeh International

(Abraham) said, "I will go to my Lord who will guide me".

— Muhammad Sarwar

And he said: Surely I fly to my lord; He will guide me.

— Muhammad Habib Shakir

And he said: verily I am going to my Lord who will guide me.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "I will go to my Lord! He will surely guide me!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:99

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 99–113

ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 54 یعنی آگ سے بسلامت نکل آنے کے بعد جب حضرت ابراہیم ؑ نے ملک سے نکل جانے کا فیصلہ کیا تو چلتے وقت یہ الفاظ کہے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 55 اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کی خاطر نکل رہا ہوں کیونکہ اسی کا ہوجانے کی وجہ سے میری قوم میری دشمن ہوگئی ہے ورنہ کوئی دنیوی جھگڑا میرے اور اس کے درمیان نہ تھا کہ اس کی بنا پر مجھے اپنا وطن چھوڑنا پڑ رہا ہو۔ نیز یہ کہ میرا دنیا میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے جس کا رخ کروں۔ تن بتقدیر بس اللہ کے بھروسے پر نکل رہا ہوں۔ جدھر وہ لے جائے گا اسی طرف چلا چاؤں گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور ابراہیم (علیہ السلام جب ان لوگوں کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو) کہنے لگے کہ میں تو (تم سے ہجرت کر کے) اپنے رب کی (راہ میں کسی) طرف چلا جاتا ہوں، وہ مجھ کو (اچھی جگہ) پہنچا ہی دے گا، (چنانچہ ملک شام میں جا پہنچے اور یہ دعا کی کہ) اے میرے رب مجھ کو ایک نیک فرزند دے، سو ہم نے ان کو ایک حلیم المزاج فرزند کی بشارت دی (اور وہ فرزند پیدا ہوا اور ہشیار ہوا) سو جب وہ لڑکا ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم ؑ کے ساتھ چلنے پھرنے لگا، تو ابراہیم ؑ نے (ایک خواب دیکھا کہ میں اس فرزند کو خدا کے حکم سے ذبح کر رہا ہوں، اور یہ ثابت نہیں کہ حلقوم کٹا ہوا بھی دیکھا یا نہیں، غرض آنکھ کھلی تو اسے اللہ کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وقال انی ذاھب انی ربی سیھدین (99) حضرت ابراہیم کی جرت اس واقعہ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر وہاں سے ہجرت کا ارادہ فرما لیا۔ ہجرت کا فیصلہ ایک بڑا اہم فیصلہ ہے۔ نبی اپنے ماحول سے کٹ کر ایک بالکل نئے ماحول میں داخل ہونے کا ارادہ کرتا ہے اور کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ نیا ماحول اس کے لئے سازگار ثابت ہوگا یا نا سازگار اس وجہ سے اس راہ میں اس کا تمام تر اعتماد اللہ تعالیٰ ہی کی دستگیری و رہنمائی پر ہوتا ہے۔ یہاں سیھدین کے لفظ سے اسی اعتماد کا اظہار ہو رہا ہے کہ اگرچہ حالات بالکل پردے میں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ س۔ امید ہے کہ وہ رہنمائی فرمائے گا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

99۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کا یہ واقعہ بابل (عراق) میں پیش آیا، بالآخر یہاں سے ہجرت کی اور شام چلے گئے اور وہاں جا کر اولاد کے لئے دعا کی (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 99–100

18: حضرت ابراہیم ؑ کا اصل وطن عراق تھا، اس واقعے کے بعد آپ شام کی طرف ہجرت فرما گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقال انی۔۔۔۔ سیھدین (99) ” “ میں رب کی طرف ہجرت کر کے جا رہا ہوں۔ یعنی مسافاتی ہجرت سے قبل یہ نفسیاتی اور نظریاتی ہجرت ہے۔ ایک ایسی ہجرت جس میں وہ اپنی تمام ماضی اور آبائی مقام کو خیر آبار کہہ رہے ہیں۔ اپنے باپ اور قوم کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے گھر اور وطن کو چھوڑ رہے ہیں۔ ان تمام روابط کو کاٹ رہے ہیں جو انسان کو اس زمین سے وابستہ کردیتے ہیں۔ ان لوگوں سے وابستہ کردیتے ہیں ، تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تمام مصروفیتوں کو ختم کر رہے ہیں۔ تمام بوجھ ہلکے کرکے اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ تمام چیزوں کو پش پشت ڈال رہے ہیں۔ اپنی پوری ذات کو رب کے سپرد کر رہے ہیں۔ اور اپنی ذات کا کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 جب قوم کی طرف سے مایوسی ہوئی اور باپ نے بھی سختی شروع کی تو حضرت ابراہیم نے ہجرت کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو " شام " کا راستہ دکھلایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 99{ وَقَالَ اِنِّیْ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ } ”اور اب اس نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں ‘ وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔“ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی یا رسول کے قتل پر آمادہ ہوجائے تو پھر وہ نبی یا رسول مزید اس قوم کے درمیان نہیں رہتے۔ آپ علیہ السلام کی قوم نے تو آپ علیہ السلام کے قتل کی صرف منصوبہ بندی ہی نہیں کی تھی بلکہ آپ علیہ السلام کو بالفعل آگ میں ڈال دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ نے آپ علیہ السلام کو معجزانہ طور پر بچا لیا۔ اسی طرح یہودیوں نے بھی اپنے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 99–100

54 شام کی طرف ہجرت :۔ جب آپ کا باپ اور آپ کی ساری قوم آپ کی جانی دشمن بن گئی تو آپ نے ترک وطن کا فیصلہ کرلیا کہ اب یہاں سے نکل جانا ہی بہتر ہے۔ نکلتے وقت یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے۔ فقط اتنا کہا کہ میں اللہ کی خاطر ہجرت پر روانہ ہوا ہوں۔ مجھے کہاں جانا چاہئے یہ بات میرا پروردگار مجھے خود ہی بتائے گا اور میری رہنمائی فرمائے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو شام کی طرف جانے کا حکم ہوا اور آپ اپنی بیوی اور بھتیجا یا چچا زاد بھائی سیدنا لوط سمیت شام کی طرف چلے گئے اس وقت تک صرف سیدنا لوط ہی آپ پر ایمان لائے تھے۔ اور آپ کی اس وقت تک کوئی اولاد بھی نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

48۔ (منزل مقصود تک) (آیت) ” الی ربی “۔ یعنی اپنے پروردگار کی راہ میں کسی طرف اس کے حکم کے مطابق۔ اے الی موضع امرنی بالذھاب الیہ (مدارک) الی حیث امرہ بالمھاجرۃ الیہ (کشاف) مراد ملک شام کہے جو آپ کے وطن عراق سے شمال مغرب میں واقع تھا (آیت) ” سیھدین “۔ میں اس تاکید وقوع کے معنی میں ہے۔ والسین لتاکید الوقوع فی المستقبل (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال انی ذاھب الی ربی سیھدین اور ابراہیم کہنے لگے : میں تو اپنے رب کی جانب چلا جاتا ہوں ‘ وہ مجھے (اچھی جگہ) پہنچا ہی دے گا۔ جب ابراہیم آگ سے صحیح سالم نکل آئے اور قوم پھر بھی ایمان نہ لائے تو حضرت ابراہیم نے یہ بات کہی۔ اِنِّیْ ذَاھِبٌ اِلٰی رَبِّیْ یعنی اس کفرستان سے ہجرت کر کے میں ایسی جگہ چلا جاؤں گا جہاں آزادی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرسکوں۔ سیھدین یعنی میرا رب مجھے خود ایسا راستہ بتادے گا جس میں میرے دین کی درستی ہوگی۔ یا یہ مطلب ہے کہ میرا رب مجھے اس جگہ کا راستہ دکھا دے گا ‘ جہاں جانے کا اس نے مجھے حکم دیا ہے۔ اس سے مراد ملک شام ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (اپنی بی بی) سارہ کو لے کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

حضرت ابراہیم نے ان لوگوں سے مایوس ہو کر لوط سے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کے لیے کسی طرف چلا جاتا ہوں وہ مجھے اچھی جگہ پہنچا ہی دے گ اور ان لوگوں سے نجات دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالَ اِنِّىْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ : قرطبی نے فرمایا : ”یہ آیت ہجرت اور کفار سے علیحدگی اختیار کرنے میں اصل ہے۔“ آگ سے سلامتی کے ساتھ نکلنے کے عظیم معجزے کے بعد بھی جب لوط ؑ کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تو ابراہیم ؑ نے وہاں سے ہجرت کا فیصلہ فرمایا اور کہنے لگے، میں اپنی قوم اور اپنے وطن سے، جہاں کفر کا تسلط ہے، اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، جہاں آزادی سے اپنے رب کی عبادت کرسکوں اور اس کے دین کی دعوت دے سکوں۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور بھتیجے لوط ؑ تھے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی جب کسی جگہ اپنے دین پر پوری طرح عمل نہ کرسکے تو اسے وہاں سے ہجرت کرنی چاہیے۔ سَيَهْدِيْنِ : یہ اصل میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 99–101

99 ۔ 101:۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر -1 یہ آیت ہجرت میں اصل ہے۔ سب سے پہلے جس نے یہ عمل کیا وہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام ہیں یہ اس وقت ہوا جب حضرت ابرایم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے چھٹکارا دیا تو آپ نے کہا : میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں یعنی میں اپنی قوم کے شہر اور جائے پیدائش سے ہجرت کرنے والا ہوں جہاں میرے لئے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن ہوگا میں نے جب صحیح عمل کی نیت کی ہے ‘ اللہ تعالیٰ مجھے اس کی ہدایت دینے والا ہے۔ مقاتل نے کہا : یہ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مخلوقات میں سے حضرت طوط اور حضرت سارہ کے ساتھ ارض مقدس یعنی شام کے علاقہ کی طرف ہجرت کی (1) ایک قول یہ کیا گیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَ [اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] اِنِّىْ ذَاهِبٌ [کہ میں جانے والا ہوں ] اِلٰى رَبِّيْ [اپنے رب کی طرف ] سَيَهْدِيْنِ [وہ رہنمائی کرے گا میری ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 99–103

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے علاقہ سے ہجرت کرنا پھر بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ملنا اور فرمانبرداری میں کامیاب ہونا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن بابل کے قریب تھا انہوں نے وہاں کے مشرکین کو شرک سے باز آنے اور خالق کائنات وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی، یہ لوگ شرک سے باز نہ آئے، آپ نے ہجرت کا اعلان کردیا اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں یعنی کسی ایسی جگہ جاکر آباد ہوتا ہوں جہاں اپنے رب کے احکام ادا کرسکوں اور دوسروں کو بھی راہ حق دکھا سکوں، میرا رب میری رہبری فرمائے گا اور مجھے ایسی جگہ پہنچا دے گا جہاں رہنے سے اس کی رضا مندی حاصل ہوگی، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 98–99

44:۔ وقال انی الخ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کی طرف سے انتہائی ضد وعناد کا مشاہدہ کرلیا اور ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اللہ نے آپ کو ملک شام اور بیت المقدس کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دے دیا۔ اس ہجرت میں آپ کے ہمراہ صرف حضرت لوط اور حضرت بی بی سارہ تھے الی ربی الی حیث امرنی (روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–113

ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ اِنِّىْ ذَاہِبٌ اِلٰى رَبِّيْ سَيَہْدِيْنِ۝ 99 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ اِنِّیْ ذَاھِبٌ اِلٰی رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ ۔ (الصآفات : 99) (حضرت ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہ میری رہنمائی فرمائے گا۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی محض اللہ تعالیٰ کے سہارے ہجرت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے رویے کو دیکھتے ہوئے محسوس کیا کہ ان لوگوں سے ایمان قبول کرنے کی امید کارعبث ہے۔ اور حکومت اپنے انتہائی اقدام میں ناکام ہو کر یقینا کسی نئی تدبیر کی فکر میں ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ میں اس شہر سے ہجرت کر جاؤں۔ لیکن جاؤں کہاں، اس کی کچھ خبر نہیں۔ جب اپنوں نے برداشت نہ کیا تو باہر اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت اور دعوت دینے والے کو کون برداشت کرے گا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 99–100

فہم القرآن ربط کلام : آگ سے نکلنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہجرت کرنے کا فیصلہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ پہلے سے آپ کو معلوم نہ تھا کہ مجھے کدھر جانا ہے وطن چھوڑتے وقت آپ نے کہا۔ بس میں اللہ کے بھروسے پر نکل رہا ہوں وہ جدھر رہنمائی کرے گا میں چلا جاؤں گا۔ صاحب قصص القرآن نے لکھا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے دوران ہجرت پہلا قیام کلدانین میں فرمایا۔ کچھ عرصہ جہاں قیام کرنے کے بعد آپ ( علیہ السلام) بمعہ حضرت سارہ اور لوط (علیہ السلام) کے حاران نامی بستی میں قیام پذیر ہوئے۔ کچھ عرصہ تک حاران نامی بستی میں ٹھہرے۔ یہاں بھی دین حنیف کی دعوت کا کام جاری رکھا۔ بالآخر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

99: پھر ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے نکلے۔ وَقَالَ اِنِّیْ ذَاھِبٌ اِلٰی رَبِّیْ ( ابراہیم کہنے لگے میں تو اپنے رب کی طرف جاتا ہوں) یعنی ایسی جگہ جہاں جانے کا اس نے حکم دیا۔ سَیَھْدِیْنِ (وہ مجھکو پہنچا ہی دے گا) وہ میری راہنمائی فرمائیں گے۔ جس میں میرے دین کی بھلائی ہے۔ وہ میری حفاظت کرے گا اور مجھے توفیق عنایت فرمائے گا۔ قراءت : سَیَہْدِیْنِیْ دونوں مقام پر یعقوب نے پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

99، وقال ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا، انی ذاھب الی ربی ، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ میں اس دارالکفر سے ہجرت کرنے والا ہوں اور جہاں میرے رب کی رضا ہوگی وہیں رہوں گا۔ پھر آگ سے نکلنے کے بعد کہنے لگے۔ جیسا کہ رب العزت نے ارشاد فرمایا، انی معاجرالی ربی، ۔۔۔۔۔۔۔ (سیھدین) جس طرف مجھے میرے رب نے جانے کا حکم دیا ہے اور وہ شام کا ملک ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جب ارض مقدسہ میں پہنچے تو اپنے رب سے ولد کے متعلق دعا کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 96–101

96۔ 101 فرقہ قدریہ معتزلہ اور اہل سنت میں جس طرح اور چند مسئلوں میں بحث ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی بڑی بحث کا ہے۔ فرقہ قدریہ کا یہ مذہب ہے کہ بندہ جو کچھ کام کرتا ہے۔ وہ خود بندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ کام بندہ میں پیدا نہیں کئے۔ اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ بندہ کی ذات اور سب اچھے برے بندہ کے کام اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ لیکن برے کام جب بندہ کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتا ہے۔ اور اچھے کام کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی بحث ایک ایسی بڑی بحث ہے۔ کہ امام بخاری اور علم نے اس باب میں بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ آیت بھی علمائے اہل سنت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے کیونکہ اس آیت سے بندہ کا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

65 حضرت ابراہیم کا اعلان ہجرت : سو ارشاد فرمایا گیا " ابراہیم نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں۔ وہی میری راہنمائی فرمائے گا "۔ جہاں میں سکون و اطمینان کے ساتھ اس کی عبادت و بندگی کرسکوں۔ معلوم ہوا کہ جہاں پیغام حق قبول نہ کیا جائے وہاں سے ہجرت کر جانا چاہیئے کہ ایسے میں وہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ (تفسیر المراغی : ج 23 ص 70) کہ اصل سرمایہ تو دین و ایمان ہی کا سرمایہ ہے۔ اس کی حفاظت سب پر مقدم ہے۔ بہرکیف اس واقعے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر وہاں سے ہجرت کرنے کا فیصلہ فرما لیا۔ اور کسی پیغمبر کا ہجرت کا فیصلہ بہت اہم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–102

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی کافروں کے ملک سے ہجرت کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کو سب سے پہلے ملک شام پہنچنے کا حکم دیا۔ ( فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:99) قال۔ ای قال ابراہیم۔ سیھدین۔ اس میں س تاکید وقوع کے لئے ہے۔ اور فعل کو مستقبل میں وقوع پذیر ہونے کو ظاہر کرتا ہے والسین لتاکید الوقوع فی المستقبل (روح المعانی) ۔ یھدین مضارع واحد مذکر غائب نون وقایہ ی متکلم کی محذوف ۔ وہ میری ضرور رہنمائی کرے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–113

لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 96–101

(ف 2) جب حضرت ابراہیم کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ دے سکے تو ان بت پرستوں نے یہ تجویز کہ ایک بڑا آتش خانہ بناکرحضرت ابراہیم کو اس میں ڈال دو اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی اور ان کے مخالف کا نجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے گا مگر اللہ نے ان کو ہی نیچا، دکھلایا اور حضرت ابراہیم پر آگ گلزار کردی اب حضرت اسماعیل نے الہام الٰہی کے موافق ملک شام کی طرف ہجرت کی اور ملک شام میں پہنچ کر نیک بیٹے کے عطا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–101

ف 1: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منصوبہ یہ تھا ۔ کہ کس طریق سے ان لوگوں پر بتوں کی عاجزی اور بےبسی ثابت ہوجائے ۔ اور یہ دیکھ لیں کہ ان کے بت خود اپنی حفاظت پر قادر نہیں ہیں ۔ جہ جائیکہ کائنات کا انتظام وانصرام ان کے ہاتھ میں ہو ۔ جب یہ لوگ اپنی مذہبی تقریب میں چلے گئے ۔ تو ان کو یہ سوجھی کہ ان کے پاس کچھ کھانا لے کر گئے ۔ اور ان سے کھانے کی درخواست کی ۔ اور جب دیکھا کہ یہ کھانے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاتے ہیں ۔ تو کہا تم کیوں کھاتے نہیں ہو ۔ اور اگر بھوک نہیں ہے ۔ تو بولتے کیوں نہیں ۔ غرض یہ تھی کہ ان لوگوں کے اس عقیدہ کی تذلیل کی جائے ۔ اور بتایا جائے کہ جو بت نہ نذرانوں کو قبول کرتے ہیں ۔ نہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(99) ابراہیم نے کہا میں اپنے پروردگار کی طرف یقینا جانے والا ہوں وہ میری ضرور رہنمائی فرمائے گا۔ یعنی آگ سے سلامت نکلنے کے بعد انہوں نے دارالکفر سے ہجرت کا ارادہ کیا اور فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی راہ میں کسی طرف ہجرت کرکے چلا جاتا ہوں وہ مجھ کو کسی بہتر مقام کے لئے راہ بتائے گا اور میں وہاں پہنچ جائوں گا۔ جب حضرت ابراہیم تشریف لے گئے تو راستے میں حضرت ہاجرہ حضرت سارہ کو مل گئیں جو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کودے دی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں وہ مجھے راہ دکھائے گا : 99۔ وہ جس آگ میں پھینک کر ابراہیم (علیہ السلام) کو ہلاک کردینا چاہتے تھے اس آگ میں ابراہیم (علیہ السلام) ہلاک نہ ہوئے بلکہ سلامتی کے ساتھ بچ کر نکل آئے اور اس معاملہ میں قوم اور باپ کے مقابلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کی برتری ثابت ہوگئی اور مشرکین کو اللہ نے نیچا دکھا دیا ۔ بلاشبہ اس واقعہ کو بیان کرنے سے اصل مقصود قریش کے لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ جن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر تم کو فخر ہے ان کا وہ طریقہ نہ تھا جو تم نے اختیار کر رکھا ہے بلکہ ان کا طریقہ وہ تھا جسے محمد رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The sacrifice of a son Another event in the blessed life of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) has been described in the verses cited above. This is the event of the sacrifice of his first-born son in the way of Allah. Explanatory Notes on the verses The first verse (99) opens with the words:... وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ (And he said, "I am going to my Lord...). Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) said this at a time when he was totally disappointed by his countrymen, for nobody except Sayyidna Lut (علیہ السلام) ، his nephew, was willing to believe in him. The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

54 The Prophet Abraham said these words on his departure after he had been delivered safe from the fire and had decided to leave the country. 55 It mean: "I am leaving my home and country for the sake of Allah, for my people have turned hostile to me only because of my turning to Him exclusively; otherwise there was no worldly dispute between them and me because of which I might have had to Leave my country. Moreover. I have no place of refuge in the world, to which I may turn. I am leaving my home with full faith and trust only in AIlah: I shall go wherever He leads me. "

Read the full tafseer →