As-Saaffaat 37:98

As-Saaffaat · from ayah 98

37:98

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ ۟فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ‏

غرض انہوں نے ان کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور ہم نے ان ہی کو زیر کردیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they intended for him a plan, but We made them the most debased.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:98

انہوں نے اس کے خلاف ایک کاروائی کرنی چاہی تھی، مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

غرض انہوں نے ان کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور ہم نے ان ہی کو زیر کردیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) کے ساتھ مکر کرنا چاہا لیکن ہم نے انہی کو نیچا کر دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس طرح انہوں نے ابراہیم کے خلاف ایک برا منصوبہ بنانا چاہا، لیکن ہم نے انہیں نیچا دکھا دیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہوں نے اس پر داؤں چلنا (فریب کرنا) چاہا ہم نے انہیں نیچا دکھایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

غرض انہوں نے ابراہیم ؑ کے ساتھ ایک چال چلنا چاہی سو ہم نے اُن ہی کو نیچا دکھا دیا (نتیجۃً آگ گلزار بن گئی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

غرض انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنے کا ارادہ کیا تو ہم نے انھی کو سب سے نیچا کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہوں نے تو ابراہیم کے خلاف تدبیر کی تھی۔ مگر ہم نے انہیں ہی نیچا دکھا دیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس انہوں نے اس کے ساتھ چال کرنی چاہی تو ہم نے انہی کو نیچا دکھایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو انہوں نے تو اس کے خلاف ایک (خطرناک) چال چلی مگر ہم نے ان ہی سب کو نیچ (اور ذلیل) کردیا

— مولانا اسحاق مدنی

غرض ان لوگوں نے اس کے ساتھ برائی کر ان چاہا سو ہم نے انہیں کو نیچا دکھا دیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس طرح انہوں نے اس کے ساتھ ایک دائو آزمایا لیکن ہم نے ان کو ہی نیچا دکھادیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

غرض انہوں نے ان کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور ہم نے انہی کو زیر کردیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They had contrived an evil plan against him, but We abased them all.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, they intended to bring harm to him, but We made them the lowest (by frustrating their plan).

— Muhammad Taqi Usmani

So, they intended to bring harm to him, but We made them the lowest (by frustrating their plan).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, they plotted a plot against him, but We made them the lowest.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they designed a snare for him, but We made them the undermost.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they intended for him a plan, but We made them the most debased.

— Saheeh International

They plotted against him, but We brought humiliation upon them.

— Muhammad Sarwar

And they desired a war against him, but We brought them low.

— Muhammad Habib Shakir

And they devised a plot for him, but We made them the humble.

— Abdul Majid Daryabadi

(This failing), they then sought a stratagem against him, but We made them the ones most humiliated!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:98

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–98

بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 53 سورة انبیا (آیت 69) میں الفاظ یہ ہیں۔ قُلْنَا یٰنَارُکُوْنِیْ بَرْداً وَّ سَلَاماً عَلیٓ اِبْرَاہیم (ہم نے کہا، اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے)۔ اور سورة عنکبوت (آیت 24) میں ارشاد ہوا ہے فَاَنْجٰہُ اللہُ مِنَ النَّارِ ، (پھر اللہ نے اس کو آگ سے بچا لیا)۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینک دیا تھا، اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بسلامت نکال دیا۔ آیت کے یہ الفاظ کہ " انہوں نے اس کے خلاف ایک کارروائی کرنی چاہی تھی مگر ہم نے انہیں نیچا دکھا دیا " اس معنی میں نہیں لیے جاسکتے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینکنا چاہا تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–98

فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ، ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ایک خاص دن میں تہوار منایا کرتی تھی، جب وہ دن آیا تو اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو دعوت دی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن میں شرکت کے لئے چلیں مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ اس جشن میں ہمارے ساتھ رہیں گے تو شاید ہمارے دین سے متاثر ہوجائیں، اور اپنے دین کی دعوت چھوڑ دیں۔ (درمنثور وابن جریر وغیرہ) لیکن ابراہیم ؑ اس موقع سے دوسرا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ تھا کہ جب ساری قوم جشن منانے چلی جائے گی تو میں ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالوں گا، تاکہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 97–98

قالوا ابنوالہ بنیانا فالقرہ فی الجحیم، فارادویہ کیداً فجعلنھم الاسفلین (98-97) حضرت ابرایہم کو آگ میں ڈالنے کی سازشوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت حضرت ابراہیم ؑ کی اس واضح مخالفت کے بعد معبد کے ذمہ داروں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ان کو آگ میں جلا دیں لیکن یہ کام انہوں نے علانیہ کرنے کے بجائے ایک خفیہ چال کے ذریعے سے کرنا چاہا۔ یہ بات فارادوبہ کیداً (پس انہوں نے اس کے ساتھ ایک چال کرنی چاہی) سے واضح ہوتی ہے کید کی شکل اختیار کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت ابراہیم قابو سے باہر نہ نکل سکیں اور اس کا بھی امکان ہے کہ کسی علانیہ اقدام کی صورت میں حضرت ابراہیم ؑ کے خاندان کی طرف سے کسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 97–98

98۔ 1 یعنی آگ کو گلزار بنا کر ان کے مکر و حیلے کو ناکام بنادیا، پس پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے اور آزمائش کو عطا میں اور شر کو خیر میں بدل دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

17: یعنی جو آگ دہکائی گئی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت ابراہیم ؑ کے لیے ٹھنڈا کردیا۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة انبیاء :32 میں گذر چکا ہے۔ وہیں اس کی تشریح بھی گذری ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فارادوا بہ کیدا فجعلنھم الاسفلین (98) ” “۔ جب اللہ نہ چاہے تو ضعیف بندوں کی تدابیر کیا کرسکتی ہیں اور اللہ کے معاملے میں ضعیف اور حقیر بندے کر بھی کیا سکتے ہیں۔ دنیا کے سرکش ، جبار ، حکمران ، ڈکٹیٹر اور ان کے اعوان و انصار اللہ کے مقابلے میں ہیچ ہوتے ہیں ۔ جب اللہ کا فضل اللہ کے بندوں کے شامل حال ہو۔ اب قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری کڑی شروع ہوتی ہے۔ اپنے باپ اور اپنی قوم کے ساتھ آپ کا تنازعہ ختم ہوگیا۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ ایک خود ساختہ حجیم (آگ) میں آپ کو جلا دیں۔ اور اللہ نے ارادہ کیا کہ وہ گھاٹے میں رہیں ۔ اور حضرت ابراہیم ان کی سازش سے بچ گئے۔ یہاں آکر حضرت ابراہیم نے اپنی سابقہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 97–98

3 جب ابراہیم (علیہ السلام) کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ بن پڑا تو یہ تجویز کی کہ ایک بڑا آتش خانہ بنا کر ابراہیم کو اس میں ڈال دو ۔ اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی کہ ان کے مخالف کا انجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کرے گا مگر اللہ نے ان ہی کو نیچا دکھلایا۔ ابراہیم پر آگ گلزار کردی گئی۔ جس سے علیٰ رؤس الاشہاد ثابت ہوگیا کہ تم اور تمہارے جھوٹے معبود سب مل کر خدائے واحد کے ایک مخلص بندے کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ آگ کی مجال نہیں کہ رب ابراہیم کی اجازت کے بدون ایک ناخن بھی جلا سکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 98{ فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَسْفَلِیْنَ } ”تو اس طرح انہوں نے اس کے ساتھ ایک دائو آزمایا ‘ لیکن ہم نے ان کو ہی نیچا دکھادیا۔“ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے خلاف کون سا دائو آزمایا تھا ‘ اس کی وضاحت قبل ازیں سورة الانبیاء کی آیت 70 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکی ہے۔ دراصل وہ لوگ آپ علیہ السلام کو آگ میں جلانا نہیں چاہتے تھے بلکہ محض ڈرانا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ان کے لیے آگ کا اتنا بڑا الائو دہکایا جا رہا ہے تو سارا نشہ ہرن ہوجائے گا ‘ اور پھر جب انہیں آگ کے دہانے پر لاکر کھڑا کیا جائے گا تو ہوش ٹھکانے آجائیں گے اور آپ علیہ السلام تائب…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 سیدنا ابراہیم کو آگ کے الاؤ میں پھینکنا :۔ سیدنا ابراہیم کے دلائل کا جواب تو کسی کے پاس تھا نہیں۔ لہذا وہ اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے اور کہنے لگے، اپنے معبودوں کے گستاخ کو ایسی قرار واقعی سزا دو جس سے دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ چناچہ بالاتفاق طے ہوا کہ ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا جائے اور اس میں سیدنا ابراہیم کو پھینک کر زندہ جلا دیا جائے۔ چناچہ ان لوگوں نے حسب تجویز بہت بڑا الاؤ تیار کیا اور سیدنا ابراہیم کو اس میں پھینک دیا۔ اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچنے پائے۔ چناچہ آپ صحیح سلامت اس آگ سے باہر نکل آئے۔ اس طرح آپ تو اس بھاری آزمائش میں پوری طرح کامیاب ہوگئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 97–98

47۔ اس قصہ پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔ (آیت) ” الجحیم “۔ جحیم کے ال معرفہ کے ساتھ آنے کے معنی یہ ہیں کہ اس عمارت کی بھٹی، والالف واللام فی الجحیم تدل علی الکنایۃ اے فی جحیم ذلک البنیان (قرطبی) (آیت) ” بنیانا “۔ بنیان کے لفظی معنی عمارت کے ہیں، یہاں مراد آگ کی بھٹی ہے۔ اے موقع ایقادالنار (بحر) حائطا تو قدون فیہ النار (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فارادوا بہ کیدًا غرض ابراہیم کے ساتھ انہوں نے ایک لڑائی کرنی چاہی تھی۔ کید یعنی شر ‘ مراد ہے جلا دینا ‘ تاکہ عام لوگوں کے سامنے ان کی کمزوری اور معقول جواب سے عاجزی ظاہر نہ ہونے پائے۔ چناچہ حضرت ابراہیم کے ہاتھ پاؤں خوب باندھ کر آپ کو آگ میں پھینک دیا گیا۔ فجعلنھم الاسفلین سو ہم نے انہی کو نچلا کردیا۔ یعنی ذلیل کردیا ‘ ان کی چال کو بیکار کردیا اور ابراہیم کی عظمت شان کی کھلی دلیل اس واقعہ کو بنا دیا ‘ آگ کو ان کیلئے سرد اور سبب سلامتی کردیا۔ آگ سے صرف ایندھن جل گئے ‘ ابراہیم (علیہ السلام) پر آنچ نہیں آئی۔ یہ واقعہ نمرود کے زمانہ میں علاقۂ بابل (عراق) میں ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 94–98

(94۔ 98) پھر وہ لوگ اپنے میلہ سے واپسی پر یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جن کو لکڑیوں اور پتھروں سے خود بناتے ہو اور اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑتے ہو کہ جس نے تمہیں اور تمہاری سب بنائی ہوئی چیزوں کو پیدا کیا ہے قوم کہنے لگی ان کے لیے ایک آتش خانہ تعمیر کرو اور ان کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ان لوگوں نے حضرت ابراہیم کو آگ میں جلانے کی تدبیر کی تھی۔ تو ہم نے اس تدبیر میں ان ہی کو نیچا دکھایا یا یہ کہ سزا کے اعتبار سے ان ہی کو ذلیل و خوار کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 97–98

97 ۔ 98:۔ جس طرح یہ بحث سورة الانبیاء میں گذر چکی ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان پر دلیل کے ساتھ غالب آگئے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا انہوں نے کہا : اس کے لئے ایک عمارت بنائو جس کو لکڑیوں سے بھر دو پھر اسے دہکائو پھر اسے اس آگ میں پھینک دو یہی حجیم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انہوں نے پتھر کی ایک دیوار بنائی اس کی اونچائی تیس ہاتھ تھی انہوں نے اسے آگ سے بھر دیا اور اس آگ میں پھینک دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا : جب آپ نے آگے میں پہنچے تو کہا : حسبی اللہ و نعم الوکیل۔ الحجیم میں الف لام ضمیر پر دلالت کرتا ہے تقدیر کام یوں ہوگی فی جحیمہ یعنی اس مکان کی آگ میں طبری نے یہ ذکر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَرَادُوْا [پھر انھوں نے ارادہ کیا ] بِهٖ [ان (علیہ السلام) کے بارے میں ] كَيْدًا [ایک چالبازی کا ] فَجَـعَلْنٰهُمُ [تو ہم نے کردیا ان لوگوں کو ] الْاَسْفَلِيْنَ [پست ترین ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–98

(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 98–99

44:۔ وقال انی الخ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کی طرف سے انتہائی ضد وعناد کا مشاہدہ کرلیا اور ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اللہ نے آپ کو ملک شام اور بیت المقدس کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دے دیا۔ اس ہجرت میں آپ کے ہمراہ صرف حضرت لوط اور حضرت بی بی سارہ تھے الی ربی الی حیث امرنی (روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَرَادُوْا بِہٖ كَيْدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَسْفَلِيْنَ۝ 98 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَـہٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْہُ فِی الْجَحِیْمِ ۔ فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰـھُمُ الْاَسْفَلِیْنَ ۔ (الصآفات : 97، 98) (انھوں نے کہا اس کے لیے ایک مکان بنائو، پس اس کو آگ میں جھونک دو ۔ انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی تو ہم نے انھیں کو نیچا دکھادیا۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کی سازش اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دلائل کا جب ان سے جواب نہ بن پڑا اور وہ آپ کی گفتگو کے سامنے بےبس ہو کے رہ گئے تو تب انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کے لیے ایک عمارت بنائی جائے اور اسے آگ سے بھر دیا جائے۔ یعنی ایک بڑا آتش کدہ تعمیر کیا جائے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–98

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف فیصلہ۔ (قَالُوْا مَنْ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰ لِہَتِنَا إِنَّہُ لَمِنَ الظَّالِمِیْنَ ۔ قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَذْکُرُہُمْ یُقَالُ لَہُ إِبْرَاہِیْمُ ۔ قَالُوْا فَأْتُوْا بِہِ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 59 تا 61] ” کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ جس نے یہ زیادتی کی ہے واقعتا وہ بڑا ظالم شخص ہے (مجمع سے آواز آئی) ہم نے سنا ہے ایک نوجوان ان بتوں کے خلاف گفتگو کرتا ہے۔ اس کا نام ابراہیم ہے۔ سردار کہنے لگے اس کو پکڑ کر لوگوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ لوگ بھی اس کی شکل دیکھ لیں۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

98: فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا (پس انہوں نے آپ کے ساتھ برائی کرنا چاہا) کید سے آگ میں ڈالنا مراد ہے۔ فَجَعَلْنٰھُمُ الْاَسْفَلِیْنَ (پس ہم ہی نے ان کو نیچا کردیا) ہم نے ان کو ڈالنے کے وقت مغلوب کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

98، فارادوابہ کیدا، کیدا سے مراد شر ہے۔ وہ شریہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلادیں۔ ، فجعلنا ھم الاسفلین، ان کو ذلیل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو صحیح سالم کردیا اور ان کے مکرکورد کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 96–101

96۔ 101 فرقہ قدریہ معتزلہ اور اہل سنت میں جس طرح اور چند مسئلوں میں بحث ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی بڑی بحث کا ہے۔ فرقہ قدریہ کا یہ مذہب ہے کہ بندہ جو کچھ کام کرتا ہے۔ وہ خود بندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ کام بندہ میں پیدا نہیں کئے۔ اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ بندہ کی ذات اور سب اچھے برے بندہ کے کام اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ لیکن برے کام جب بندہ کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتا ہے۔ اور اچھے کام کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی بحث ایک ایسی بڑی بحث ہے۔ کہ امام بخاری اور علم نے اس باب میں بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ آیت بھی علمائے اہل سنت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے کیونکہ اس آیت سے بندہ کا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

64 حق والوں کو ستانے کا نتیجہ و انجام ذلت و رسوائی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت ابراہیم کے خلاف ایک ہولناک چال چلنا چاہی مگر ہم نے خود ان سب کو نیچ اور ذلیل کردیا۔ کہ انہوں نے تو آپ (علیہ السلام) کو آگ میں بھسم کردینا چاہا مگر ہم نے اس آگ کو آپ (علیہ السلام) کے لئے ٹھنڈا کر کے اور سلامتی والی بنا کر ابراہیم کو صحیح و سلامت اس سے نکال دیا اور ان لوگوں کو ذلیل وخوار اور نامراد و رسوا کردیا ۔ " ای بابْطِالِ کَیْدِھِمْ وَجَعْلِ النّٰار علیہَ برْدًا وَّ سَلاَمًا " ۔ (محاسن التاویل للّد مشقی : ج 14 ص 112 والمراغی والصفوۃ وغیرہ) ۔ سو وہ لوگ اپنے مکروہ پروگرام میں ناکام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–102

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 97–98

ف 3 یعنی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو واقعی آگ میں ڈال دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ دیکھئے۔ ( سورة انبیاء آیت 69 و عنکبوت آیت 24)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:98) کیدا خفیہ تدبیر۔ چالاکی۔ دائو۔ کاد یکید (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ برا ارادہ کرنا۔ خفیہ تدبیر کرنا۔ الکید (خفیہ تدبیر) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں جسے دوسروں سے مخفی رکھا جائے۔ یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ اچھے معنوں میں فرمایا :۔ کذلک کدنا لیوسف (12:76) اسی طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کردی۔ اور برے معنوں میں فان کان لکم کید فکیدون (77:39) اگر تم کو کوئی دائو آتا ہے تو مجھ پر کر چلو۔ یا آیت ہذا (37:98) فارادوا بہ کیدا فجعلنہم الاسفلین۔ غرض ان لوگون نے ان کے ساتھ برائی کرنا چاہی سو ہم نے ان کو نیچا دکھا دیا۔ اسفلین۔ اسفل کی جمع ہے اسم تفضیل کا صیغہ ہے سب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–98

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 96–101

(ف 2) جب حضرت ابراہیم کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ دے سکے تو ان بت پرستوں نے یہ تجویز کہ ایک بڑا آتش خانہ بناکرحضرت ابراہیم کو اس میں ڈال دو اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی اور ان کے مخالف کا نجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے گا مگر اللہ نے ان کو ہی نیچا، دکھلایا اور حضرت ابراہیم پر آگ گلزار کردی اب حضرت اسماعیل نے الہام الٰہی کے موافق ملک شام کی طرف ہجرت کی اور ملک شام میں پہنچ کر نیک بیٹے کے عطا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–101

ف 1: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منصوبہ یہ تھا ۔ کہ کس طریق سے ان لوگوں پر بتوں کی عاجزی اور بےبسی ثابت ہوجائے ۔ اور یہ دیکھ لیں کہ ان کے بت خود اپنی حفاظت پر قادر نہیں ہیں ۔ جہ جائیکہ کائنات کا انتظام وانصرام ان کے ہاتھ میں ہو ۔ جب یہ لوگ اپنی مذہبی تقریب میں چلے گئے ۔ تو ان کو یہ سوجھی کہ ان کے پاس کچھ کھانا لے کر گئے ۔ اور ان سے کھانے کی درخواست کی ۔ اور جب دیکھا کہ یہ کھانے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاتے ہیں ۔ تو کہا تم کیوں کھاتے نہیں ہو ۔ اور اگر بھوک نہیں ہے ۔ تو بولتے کیوں نہیں ۔ غرض یہ تھی کہ ان لوگوں کے اس عقیدہ کی تذلیل کی جائے ۔ اور بتایا جائے کہ جو بت نہ نذرانوں کو قبول کرتے ہیں ۔ نہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(98) غرض انہوں نے ابراہیم کے ساتھ ایک برائی اور بدخواہی کا ارادہ کیا مگر ہم نے انہی کو مغلوب اور نیچا کردیا۔ یعنی آگ ٹھنڈی ہوگئی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صحیح اور سلامت نکل آئے اور ان منکروں نے جو دائوں کیا تھا اس دائوں میں انہی کو نیچا دیکھنا پڑا اور ان کا دائوں انہی پر الٹا پڑا اور ہم نے ان کو زیرتر کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 89–98

ف 5۔ یہ ستاروں کا دیکھنا بطور ایہام و توریہ کے تھا کہ وہ تو بوجہ اس کے کہ کواکب کو متصرف فی الحوادث سمجھتے تھے یوں سمجھے کہ کوئی فائدہ نجوم کے آتا ہوگا جس سے رفتار ستاروں کی دیکھ کر ان کو معلوم ہوگیا کہ میں تھوڑی دیر میں بیمار ہوجاوں گا۔ اور چونکہ وہ نجوم کے معتقد تھے اس لئے اصرار نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے ابراہیم کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور اللہ نے ان کو نیچا دکھایا : 98۔ اس طرح انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف ایک چال چلی تاکہ اس کا کام تمام کردیں لیکن ان کی اس چال کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ناکام کردیا اور اس پر ایسا پانی ڈالا کہ کوئی شخص ابراہیم کا بال بھی بیکا نہ کرسکا ۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا کر خاک کردینے کے لیے آگ جلائی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ایسا بجھایا کہ وہ بجائے نقصان کرنے کے سلامتی والی ثابت ہوئی اس لیے کہ اللہ نے اس آگ سے بال بال بچالیا ۔ قرآن کریم نے کتنی صفائی کے ساتھ یہ ارشاد فرمایا کہ ان کی خفیہ تدبیر کو قدرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–98

In verses 88 and 89, it was said: نَظَرَ‌ نَظْرَ‌ةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ. (Then, he cast a look at the stars, and then said, "I feel indisposed" 37:88-89). There is a background to these verses. The people of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) used to have a festival on a particular day. When that day came, they invited Sayyidna Ibrahim to go with them and enjoy the festival. Their purpose was that if he accompanies them in the festival, he might be impressed with them and forget about calling them to his faith. (ad-Durr-ul-Manthur, Ibn Jarir and others). But, Sayyidna Ibrahim…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

53 The words in Surah Al-Anbiya`: 69 are to the effect: "We commanded: O fire, be cool and become safe for Abraham," and in Surah AI'Ankbut: 24, it has been said: "Then Allah saved him from the fire." This proves that those people had actually thrown the Prophet Abraham into the fire, and then Allah had rescued him from it safe and sound. The words of the verse, "They had designed a plan against him, but We defeated them in their plan," cannot be taken to mean that they had only intended to throw the Prophet Abraham into the fire but could not carry their plan into effect; but when these…

Read the full tafseer →