As-Saaffaat 37:97

As-Saaffaat · from ayah 97

37:97

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ ۟قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا فَاَلۡقُوۡهُ فِى الۡجَحِيۡمِ

وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Construct for him a furnace and throw him into the burning fire."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:97

انہوں نے آپس میں کہا "اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه کہنے لگے اس کے لئے ایک مکان بناؤ اور اس (دہکتی ہوئی) آگ میں اسے ڈال دو

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان لوگوں نے کہا : ابراہیم کے لیے ایک عمارت بناؤ، اور اسے دہکتی ہوئی آگی میں پھینک دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اس کے لیے ایک عمارت چنو پھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ کہنے لگے: ان کے (جلانے کے) لئے ایک عمارت بناؤ پھر ان کو (اس کے اندر) سخت بھڑکتی آگ میں ڈال دو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی آگ میں پھینک دو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : اس کے لئے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے آگ میں پھینک دو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا اس کے لئے ایک مکان بنائو پس اس کو آگ میں جھونک دو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر وہ لوگ (آگ بگولہ ہو کر) بولے کہ بناؤ اس کیلئے ایک آتشکدہ پھر جھونک دو اس کو اس کی دہکتی آگ میں

— مولانا اسحاق مدنی

وہ لوگ بولے اس کیلئے ایک آتش کدہ تعمیر کرو اور اس دہکتی ہوئی آگ میں اسے ڈال دو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک عمارت بنائو پھر اس کو شعلے مارتی ہوئی آگ میں جھونک دو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ کہنے لگے اس کے لیے ایک الاؤتیار کرو پھر آگ کے ڈھیر میں اس کو ڈال دو

— محترمہ رفعت اعجاز

They spoke among themselves: “Build him a pyre and then throw him into the furnace.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Build for him a structure, and throw him into the blazing fire.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Build for him a structure, and throw him into the blazing fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Build for him a building and throw him into the blazing fire!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Build for him a building and fling him in the red-hotfire.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Construct for him a furnace and throw him into the burning fire."

— Saheeh International

They said, "Let us build a fire and throw him into the flames".

— Muhammad Sarwar

They said: Build for him a furnace, then cast him into the burning fire.

— Muhammad Habib Shakir

They said. build for him a building and cast him into the flaming fire.

— Abdul Majid Daryabadi

They said, "Build him a furnace, and throw him into the blazing fire!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:97

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–98

بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 94–97

سورة الصّٰٓفّٰت 52 یہاں قصہ مختصر کر کے بیان کیا گیا ہے۔ سورة انبیا میں اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب انہوں نے آ کر اپنے مندر میں دیکھا کہ سارے بت ٹوٹے پڑے ہیں تو پوچھ گچھ شروع کی۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ابراہیم نامی ایک نوجوان بت پرستی کے خلاف ایسی باتیں کرتا رہا ہے۔ اس پر مجمع نے کہا کہ پکڑ لاؤ اسے۔ چناچہ ایک گروہ دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا، اور انہیں مجمع کے سامنے لے آیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–98

فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ، ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ایک خاص دن میں تہوار منایا کرتی تھی، جب وہ دن آیا تو اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو دعوت دی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن میں شرکت کے لئے چلیں مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ اس جشن میں ہمارے ساتھ رہیں گے تو شاید ہمارے دین سے متاثر ہوجائیں، اور اپنے دین کی دعوت چھوڑ دیں۔ (درمنثور وابن جریر وغیرہ) لیکن ابراہیم ؑ اس موقع سے دوسرا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ تھا کہ جب ساری قوم جشن منانے چلی جائے گی تو میں ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالوں گا، تاکہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 97–98

قالوا ابنوالہ بنیانا فالقرہ فی الجحیم، فارادویہ کیداً فجعلنھم الاسفلین (98-97) حضرت ابرایہم کو آگ میں ڈالنے کی سازشوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت حضرت ابراہیم ؑ کی اس واضح مخالفت کے بعد معبد کے ذمہ داروں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ان کو آگ میں جلا دیں لیکن یہ کام انہوں نے علانیہ کرنے کے بجائے ایک خفیہ چال کے ذریعے سے کرنا چاہا۔ یہ بات فارادوبہ کیداً (پس انہوں نے اس کے ساتھ ایک چال کرنی چاہی) سے واضح ہوتی ہے کید کی شکل اختیار کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت ابراہیم قابو سے باہر نہ نکل سکیں اور اس کا بھی امکان ہے کہ کسی علانیہ اقدام کی صورت میں حضرت ابراہیم ؑ کے خاندان کی طرف سے کسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 97–98

98۔ 1 یعنی آگ کو گلزار بنا کر ان کے مکر و حیلے کو ناکام بنادیا، پس پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے اور آزمائش کو عطا میں اور شر کو خیر میں بدل دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 89–97

16: ان کی قوم کے لوگ انہیں اپنے ایک میلے میں لے جانا چاہتے تھے، حضرت ابراہیم ؑ ایک تو میلے میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، دوسرے ان کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ جب یہ سارے لوگ میلے میں چلے جائیں گے، اور مندر خالی ہوگا تو وہ وہاں جا کر بتوں کو توڑ پھوڑ دیں گے، تاکہ یہ لوگ آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھیں جنہیں انہوں نے خدا بنا رکھا ہے۔ اس لیے انہوں نے عذر کیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ واقعی ان کے مزاج ناساز ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ تمہارے کفر و شرک کی حرکتیں دیکھ کر میری طبیعت روحانی طور پر خراب ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالوا انبوا۔۔۔۔ الجحیم (97) ” “۔ یہ ہے قوت اور طاقت کا استدلال۔ اور آگ اور تشدد جس کے سوا سرکشوں کے پاس اور کوئی استدلال نہیں ہوتا۔ جب بھی دلیل ختم ہوتی ہے اور کوئی سرکش حجت پیش نہیں کرسکتا۔ وہ تشد کرتا ہے۔ خصوصاً جبکہ سرکشوں کے سامنے کلمہ حق پیش کیا جائے اور وہ اسے لاجواب کر دے۔ ان کی اس دھکمی کے بعد کیا ہوا ، یہاں قرآن مجید اس کی کوئی صراحت نہیں کرتا۔ اور یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اہل حق کو کامیابی نصیب ہوئی اور مکذبین گھاٹے میں رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 97–98

3 جب ابراہیم (علیہ السلام) کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ بن پڑا تو یہ تجویز کی کہ ایک بڑا آتش خانہ بنا کر ابراہیم کو اس میں ڈال دو ۔ اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی کہ ان کے مخالف کا انجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کرے گا مگر اللہ نے ان ہی کو نیچا دکھلایا۔ ابراہیم پر آگ گلزار کردی گئی۔ جس سے علیٰ رؤس الاشہاد ثابت ہوگیا کہ تم اور تمہارے جھوٹے معبود سب مل کر خدائے واحد کے ایک مخلص بندے کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ آگ کی مجال نہیں کہ رب ابراہیم کی اجازت کے بدون ایک ناخن بھی جلا سکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 97{ قَالُوا ابْنُوْا لَہٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْہُ فِی الْْجَحِیْمِ } ”انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک عمارت بنائو ‘ پھر اس کو شعلے مارتی ہوئی آگ میں جھونک دو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 96–97

52 سیدنا ابراہیم سے قوم کا سوال و جواب :۔ میلہ سے واپسی پر قوم نے جب اپنے معبودوں کا یہ حشر دیکھا تو ان کا پارا بہت چڑھ گیا وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ ہمارے بتوں کی مخالفت صرف ابراہیم ہی کرتا رہتا تھا اور وہ پیچھے بھی رہ گیا تھا۔ لہذا یہ اسی کا کارنامہ ہوسکتا ہے۔ چناچہ ان کے پاس دوڑتے آئے اور معبودوں سے اس طرح کی بدسلوکی کی وجہ پوچھی تو آپ نے کہا کہ بڑے بت سے کیوں نہیں پوچھتے۔ جس کے کندھے پر کلہاڑا ہے۔ شاید اس نے ہی اپنے چھوٹوں سے ناراض ہو کر ان کا یہ حشر کردیا ہو۔ پھر ساتھ ہی کہہ دیا کہ یہ پتھر کے بےجان جو اپنی حفاظت نہیں کرسکتے تمہارا کیا سنوار سکتے ہیں اور تم لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہو اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 97–98

47۔ اس قصہ پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔ (آیت) ” الجحیم “۔ جحیم کے ال معرفہ کے ساتھ آنے کے معنی یہ ہیں کہ اس عمارت کی بھٹی، والالف واللام فی الجحیم تدل علی الکنایۃ اے فی جحیم ذلک البنیان (قرطبی) (آیت) ” بنیانا “۔ بنیان کے لفظی معنی عمارت کے ہیں، یہاں مراد آگ کی بھٹی ہے۔ اے موقع ایقادالنار (بحر) حائطا تو قدون فیہ النار (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا انبوا لہ بنیانا فالقوہ فی الجحیم وہ لوگ کہنے لگے کہ ابراہیم کیلئے ایک (آتش خانہ کی) عمارت تعمیر کرو اور اس دہکتی آگ میں اس کو ڈال دو ۔ یعنی جب قوم ابراہیم والے کسی صحیح دلیل کو پیش کرنے سے عاجز ہوگئے تو انہوں نے (مشورہ کے بعد) کہا : ابراہیم کو جلانے کیلئے ایک عمارت بناؤ اور اس کے اندر لکڑیاں بھر کر ان میں آگ لگا دو ۔ جب لکڑیاں بھڑک اٹھیں اور آگ کے شعلے اونچے ہوجائیں تو بھڑکتی آگ میں ابراہیم کو ڈال دو ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ قوم ابراہیم نے پتھروں کا ایک احاطہ تعمیر کیا ‘ دیواروں کی بلندی تیس ہاتھ اور چوڑائی دس ہاتھ رکھی ‘ پھر اس احاطہ میں لکڑیاں بھر دیں اور لکڑیوں میں آگ لگا دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 94–98

(94۔ 98) پھر وہ لوگ اپنے میلہ سے واپسی پر یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جن کو لکڑیوں اور پتھروں سے خود بناتے ہو اور اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑتے ہو کہ جس نے تمہیں اور تمہاری سب بنائی ہوئی چیزوں کو پیدا کیا ہے قوم کہنے لگی ان کے لیے ایک آتش خانہ تعمیر کرو اور ان کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ان لوگوں نے حضرت ابراہیم کو آگ میں جلانے کی تدبیر کی تھی۔ تو ہم نے اس تدبیر میں ان ہی کو نیچا دکھایا یا یہ کہ سزا کے اعتبار سے ان ہی کو ذلیل و خوار کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْيَانًا : ”بُنْيَانًا“ کی تنوین تعظیم کی ہے۔ ”الْجَــحِيْمِ“ خوب بھڑکائی ہوئی آگ، یہ ”حَجَمَ فُلَانٌ النَّارَ“ (ف) (فلاں نے آگ خوب بھڑکائی) سے مشتق ہے۔ دلیل میں لاجواب ہونے پر انھوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم ؑ کے لیے ایک بڑی عمارت بناؤ، اسے ایندھن سے بھر کر آگ لگاؤ اور جب وہ خوب بھڑک اٹھے تو ابراہیم ؑ کو اس میں پھینک دو۔ اس چار دیواری یا عمارت کا بلند اور بڑا ہونا تو ”بُنْيَانًا“ کے لفظ اور اس کی تنوین سے ظاہر ہو رہا ہے، مگر اس کی پیمائش کسی معتبر ذریعے سے ہم تک نہیں پہنچی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 97–98

97 ۔ 98:۔ جس طرح یہ بحث سورة الانبیاء میں گذر چکی ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان پر دلیل کے ساتھ غالب آگئے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا انہوں نے کہا : اس کے لئے ایک عمارت بنائو جس کو لکڑیوں سے بھر دو پھر اسے دہکائو پھر اسے اس آگ میں پھینک دو یہی حجیم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انہوں نے پتھر کی ایک دیوار بنائی اس کی اونچائی تیس ہاتھ تھی انہوں نے اسے آگ سے بھر دیا اور اس آگ میں پھینک دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا : جب آپ نے آگے میں پہنچے تو کہا : حسبی اللہ و نعم الوکیل۔ الحجیم میں الف لام ضمیر پر دلالت کرتا ہے تقدیر کام یوں ہوگی فی جحیمہ یعنی اس مکان کی آگ میں طبری نے یہ ذکر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوا [ان لوگوں نے کہا ] ابْنُوْا [تم لوگ تعمیر کرو ] لَهٗ [اس کے لئے ] بُنْيَانًا [ایک عمارت ] فَاَلْقُوْهُ [پھر ڈال دو اس کو ] فِي الْجَــحِيْمِ [آگ کے ڈھیر میں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–98

(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 96–97

43:۔ قالوا ابنوا لہ الخ : جب مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو سے لاجواب ہوگئے تو انہوں نے انتقام لینے اور عوام پر اثر ڈالنے کے لیے انہیں آگ میں جلانے کا فیصلہ کیا۔ لما قہرہم بالحجۃ قصدوا تعذیبہ بذلک لئلا یظہر لعامۃ عجزھم (روح ج 23 ص 126) ، چناچہ انہوں نے ایک سو بیس گز (ذراع) مربع چار دیوار بنائی جس کی بلندی تیس گز تھی (مدارک) اور اسے ایندھن سے بھر کر آگ لگا دی، جب آگ سلگ کر خواب انگارے بن گئے اور آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس بھڑکتی آگ میں پھینکدیا۔ وارادوا بہ کیدا الخ، انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس تدبیر سے ہلاک کرنا چاہا۔ لیکن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوا ابْنُوْا لَہٗ بُنْيَانًا فَاَلْقُوْہُ فِي الْجَــحِيْمِ۝ 97 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ ( ابْنُ ) أصله : بنو، لقولهم في الجمع : أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَـہٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْہُ فِی الْجَحِیْمِ ۔ فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰـھُمُ الْاَسْفَلِیْنَ ۔ (الصآفات : 97، 98) (انھوں نے کہا اس کے لیے ایک مکان بنائو، پس اس کو آگ میں جھونک دو ۔ انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی تو ہم نے انھیں کو نیچا دکھادیا۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کی سازش اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دلائل کا جب ان سے جواب نہ بن پڑا اور وہ آپ کی گفتگو کے سامنے بےبس ہو کے رہ گئے تو تب انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کے لیے ایک عمارت بنائی جائے اور اسے آگ سے بھر دیا جائے۔ یعنی ایک بڑا آتش کدہ تعمیر کیا جائے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–98

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف فیصلہ۔ (قَالُوْا مَنْ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰ لِہَتِنَا إِنَّہُ لَمِنَ الظَّالِمِیْنَ ۔ قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَذْکُرُہُمْ یُقَالُ لَہُ إِبْرَاہِیْمُ ۔ قَالُوْا فَأْتُوْا بِہِ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 59 تا 61] ” کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ جس نے یہ زیادتی کی ہے واقعتا وہ بڑا ظالم شخص ہے (مجمع سے آواز آئی) ہم نے سنا ہے ایک نوجوان ان بتوں کے خلاف گفتگو کرتا ہے۔ اس کا نام ابراہیم ہے۔ سردار کہنے لگے اس کو پکڑ کر لوگوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ لوگ بھی اس کی شکل دیکھ لیں۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آگ میں ڈالنے کا فیصلہ : 97: قَالُوا ابْنُوْا لَہٗ (وہ لوگ کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے تیار کرو) لامؔ اجلیہ ہے۔ بُنْیَا نًا (ایک آتش خانہ) پتھروں سے جس کی طوالت تیس ہاتھ اور عرض بیس ہاتھ ہو۔ فَاَلْقُوْہُ فِی الْجَحِیْمِ (پھر اس کو اس دہکتی آگ میں ڈال دو ) الجحیم سے سخت آگ مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے : ہر وہ آگ جو ایک دوسری کے اوپر جلائی جائے وہ جحیم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

97، قالوا ابنو لہ بنیانافالقوہ فی الجحیم، وہ کہنے لگے کہ ابراہیم کے لیے ایک آتش خانہ تعمیر کرو۔ اس میں اس کو ڈال دو ۔ مقاتل نے کہا کہ قوم ابراہیم نے پتھروں کا ایک احاطہ قائم کیا، دیواروں کی بلند ی تیس ہاتھ اور چوڑائی دس ہاتھ رکھی۔ پھر اس احاطہ میں لکڑیاں بھردیں اور لکڑیوں میں آگ لگادی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 96–101

96۔ 101 فرقہ قدریہ معتزلہ اور اہل سنت میں جس طرح اور چند مسئلوں میں بحث ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی بڑی بحث کا ہے۔ فرقہ قدریہ کا یہ مذہب ہے کہ بندہ جو کچھ کام کرتا ہے۔ وہ خود بندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ کام بندہ میں پیدا نہیں کئے۔ اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ بندہ کی ذات اور سب اچھے برے بندہ کے کام اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ لیکن برے کام جب بندہ کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتا ہے۔ اور اچھے کام کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی بحث ایک ایسی بڑی بحث ہے۔ کہ امام بخاری اور علم نے اس باب میں بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ آیت بھی علمائے اہل سنت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے کیونکہ اس آیت سے بندہ کا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 96–97

63 خالق سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو حضرت ابراہیم نے ان سے مزید فرمایا کہ حالانکہ اللہ ہی نے پیدا کیا تم کو بھی اور ان تمام چیزوں کو بھی جن کو تم لوگ بناتے ہو۔ اور دوسرا ترجمہ اسکا یہ بھی ہوسکتا ہے " ان تمام کاموں کو بھی جو تم لوگ کرتے ہو " اور جب ان تمام کا خالق اللہ پاک ہی ہے، تمہاری بنائی ہوئی تمام چیزوں کا بھی اور تمہاے کئے ہوئے سب کاموں کا بھی، تو پھر تمہارے ان خود تراشیدہ بتوں کے معبود اور حاجت روا و مشکل کشا ہونے کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ کیا تمہاری کھوپڑیوں میں اتنی موٹی بات بھی نہیں آتی کہ جن چیزوں کو تم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے اور بناتے تراشتے ہو آخر وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–102

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 97–98

ف 3 یعنی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو واقعی آگ میں ڈال دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ دیکھئے۔ ( سورة انبیاء آیت 69 و عنکبوت آیت 24)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 96–97

(37:96) واللہ خلقکم وما تعملون۔ یہ جملہ حالیہ ہے اور جملہ سابقہ اتعبدون۔ ما تنحتون جو جملہ انکاریہ ہے اس کی مزید تاکید کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–98

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 96–101

(ف 2) جب حضرت ابراہیم کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ دے سکے تو ان بت پرستوں نے یہ تجویز کہ ایک بڑا آتش خانہ بناکرحضرت ابراہیم کو اس میں ڈال دو اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی اور ان کے مخالف کا نجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے گا مگر اللہ نے ان کو ہی نیچا، دکھلایا اور حضرت ابراہیم پر آگ گلزار کردی اب حضرت اسماعیل نے الہام الٰہی کے موافق ملک شام کی طرف ہجرت کی اور ملک شام میں پہنچ کر نیک بیٹے کے عطا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–97

[18] اب صورت واقعہ یہ ہے کہ قوم کے سالانہ میلے کا وقت آگیا ہے اور لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم عقیدہ سمجھ کر ان کے ہمراہ چلنے کو کہتے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) عذر کر رہے ہیں۔ یہ بیان اسی موقع کا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 88–97

ف 2: فنظر نظر ذفی النجوم سے مراد ایک مستقل واقعہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایلدن بہ مشرکان بابل اپنے لسی مذہبی میلے میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے ۔ انہوں نے کہا ابراہیم کو بھی دعوت دی جائے ۔ شاید یہ وہاں کا ٹھاٹھ دیکھ کر اپنے خیالات سے باز آجائے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلنے کو کہا آپ نے غور وفکر کے بعد فرمایا میں تمہارے ان شاغوں سے قطعی بیزار ہوں اور مجھے تمہاری دینی ومذہبی تقریبات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ واضح رہے کہ فنظر نظرۃ فی النجوم محاورہ ہے جس کے معنے سوچنے اور غور وفکر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ عام طور پر آدمی سوچتے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھاتا ہے اور انی سقیم کے معنے یہ ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(97) قوم کے لوگ کہنے لگے ایک عمارت یعنی چاردیواری بنائو پھر ابراہیم کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ۔ یعنی ایک آتش کہ وہ بنائو اس چار دیواری کو آگ سے پر کردو اور اس میں ابراہیم کو ڈال دو تاکہ یہ جل کر راکھ ہوجائے۔ جیسا کہ سورة انبیاء میں تفصیل گزر چکی ہے۔ آگ میں ڈالتے وقت انہوں ے یہ کلمات کہے۔ اللھم انت الواحد فی السمآء واناالواحد فی الارض لیس فی الارض احد یعبدک غیری حسبی اللہ نعم الوکیل۔ یعنی تو جس طرح اللہ تعالیٰ بحیثیت معبود ہونے کے آسمانوں میں یکتا ہے اسی طرح میں بحیثیت عابد کے زمین میں اکیلا ہوں زمین اس وقت میرے سوا تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہے اللہ تعالیٰ مجھ کو کافی ہے اور وہی اچھا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 89–98

ف 5۔ یہ ستاروں کا دیکھنا بطور ایہام و توریہ کے تھا کہ وہ تو بوجہ اس کے کہ کواکب کو متصرف فی الحوادث سمجھتے تھے یوں سمجھے کہ کوئی فائدہ نجوم کے آتا ہوگا جس سے رفتار ستاروں کی دیکھ کر ان کو معلوم ہوگیا کہ میں تھوڑی دیر میں بیمار ہوجاوں گا۔ اور چونکہ وہ نجوم کے معتقد تھے اس لئے اصرار نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کے لیے اسی بات کو بنیاد بناؤ اور اس کو آگ میں ڈال دو : 97۔ جب قوم کے لوگوں کو کوئی جواب نہ آیا تو انہوں نے آپس میں طے کیا کہ جو ابراہیم کہہ رہا ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں پوری قوم کے عقیدہ ونظریہ کو پامال کرنا ہے اس لیے اب اس مسئلہ کو بنیاد بنا کر ابراہیم کے لیے ایک ایسی آگ جلاؤ جس میں وہ جل بھن کر رہ جائے لہذا انہوں نے اس مسئلہ کو کھڑا کرلیا اور ابراہیم کے لیے پورے علاقہ میں آگ لگا دی کہ ہر آدمی آپ کے خلاف بپھر گیا اور اس وقت آپ کا والد باوجود قوم کا پروہت ہونے کے آپ کو پتھر مار مار کر ہلاک کرنے کی دھمکی سنانے لگا کہ اس زمین کو چھوڑ دو ورنہ تمہارے خلاف ایسی سخت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–98

In verses 88 and 89, it was said: نَظَرَ‌ نَظْرَ‌ةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ. (Then, he cast a look at the stars, and then said, "I feel indisposed" 37:88-89). There is a background to these verses. The people of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) used to have a festival on a particular day. When that day came, they invited Sayyidna Ibrahim to go with them and enjoy the festival. Their purpose was that if he accompanies them in the festival, he might be impressed with them and forget about calling them to his faith. (ad-Durr-ul-Manthur, Ibn Jarir and others). But, Sayyidna Ibrahim…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 94–97

52 Here the story has been told in brief. According to the details given in Surah Ai-Anbiya`, when they returned and found all their idols broken to pieces in the temple, they started making investigations. Some people said that a young man, called Abraham, had been talking such and such things against idol-worship. At this the multitude demanded that he should be immediately seized and brought before them. Therefore, a group of the people went running to him and brought him before the multitude.

Read the full tafseer →