As-Saaffaat 37:96

As-Saaffaat · from ayah 96

37:96

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ۟وَاللّٰهُ خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ

حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

While Allah created you and that which you do?"

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:96

حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حالانکہ اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور جو کچھ تم بناتے ہو اس کو بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

حالانکہ اﷲ نے تمہیں اور تمہارے (سارے) کاموں کو خَلق فرمایا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جو تم بناتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تم کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جن کو تم بناتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حالانکہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تم کو بھی اور ان تمام چیزوں کو بھی جن کو تم لوگ بناتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

حالانکہ تم کو اور جو کچھ تم بناتے ہو (سب کو) اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جبکہ اللہ نے پیدا کیا ہے تمہیں بھی اور جو کچھ تم بناتے ہو (اس کو بھی)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

while it is Allah Who has created you and all that you make?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

while Allah has created you and what you make?

— Muhammad Taqi Usmani

while Allah has created you and what you make?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"While Allah has created you and what you make!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When Allah hath created you and what ye make?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

While Allah created you and that which you do?"

— Saheeh International

even though God created both you and that which you have made?"

— Muhammad Sarwar

And Allah has created you and what you make.

— Muhammad Habib Shakir

Whereas Allah hath created you and that which ye make?

— Abdul Majid Daryabadi

"But Allah has created you and your handwork!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:96

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–98

بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 94–97

سورة الصّٰٓفّٰت 52 یہاں قصہ مختصر کر کے بیان کیا گیا ہے۔ سورة انبیا میں اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب انہوں نے آ کر اپنے مندر میں دیکھا کہ سارے بت ٹوٹے پڑے ہیں تو پوچھ گچھ شروع کی۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ابراہیم نامی ایک نوجوان بت پرستی کے خلاف ایسی باتیں کرتا رہا ہے۔ اس پر مجمع نے کہا کہ پکڑ لاؤ اسے۔ چناچہ ایک گروہ دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا، اور انہیں مجمع کے سامنے لے آیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–98

فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ، ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ایک خاص دن میں تہوار منایا کرتی تھی، جب وہ دن آیا تو اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو دعوت دی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن میں شرکت کے لئے چلیں مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ اس جشن میں ہمارے ساتھ رہیں گے تو شاید ہمارے دین سے متاثر ہوجائیں، اور اپنے دین کی دعوت چھوڑ دیں۔ (درمنثور وابن جریر وغیرہ) لیکن ابراہیم ؑ اس موقع سے دوسرا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ تھا کہ جب ساری قوم جشن منانے چلی جائے گی تو میں ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالوں گا، تاکہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 95–96

قال اتعبدون ماتنحتون واللہ خلقکم وما تعملون (96-95) اتمام حجت کے بعد قوم کو ملامت حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو یہ ملامت اس وقت کی ہے جب انہوں نے ان پر، جیسا کہ م نے اشارہ کیا، حجت تمام کرلی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ شامت زودو ! تم اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی، لکڑی اور پتھر کی مورتوں کی پجاک رتے ہو ! اللہ کی پوجا تو اس لئے کی جاتی ہے کہ اس نے ہم کو پیدا کیا ہے لیکن تمہاری عقل اس طرح ماری گئی ہے کہ تم جن کو خود اپنے ہاتھوں تراشتے ہو انہی کی پوجا کرتے ہو۔ گویا اپنے خالقوں کے خالق تم خود ہو یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جس نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان لکڑیوں اور پتھروں و بھی پیدا کیا ہے جن سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 95–96

96۔ 1 یعنی وہ مورتیاں اور تصویریں بھی جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے اور انہیں معبود سمجھتے ہو، یا مطلق تمہارا عمل جو بھی تم کرتے ہو، ان کا خالق بھی اللہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے، جیسے اہل سنت کا عقیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 89–97

16: ان کی قوم کے لوگ انہیں اپنے ایک میلے میں لے جانا چاہتے تھے، حضرت ابراہیم ؑ ایک تو میلے میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، دوسرے ان کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ جب یہ سارے لوگ میلے میں چلے جائیں گے، اور مندر خالی ہوگا تو وہ وہاں جا کر بتوں کو توڑ پھوڑ دیں گے، تاکہ یہ لوگ آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھیں جنہیں انہوں نے خدا بنا رکھا ہے۔ اس لیے انہوں نے عذر کیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ واقعی ان کے مزاج ناساز ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ تمہارے کفر و شرک کی حرکتیں دیکھ کر میری طبیعت روحانی طور پر خراب ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واللہ خلقکم وما تعملون (37: 96) ” اللہ تو وہ ہے جس نے تمہیں بھی بنایا اور تمہاری مصنوعات کو بھی بنایا “۔ یہ صانع مطلق اس قابل ہے کہ اس کی پوجا کی جائے۔ اس استدلال کی سادگی اور واضح ہونے کے باوجود ، لوگوں نے اپنی غفلت اور غلط روش کی وجہ سے اس پر کان نہ دھرا۔ باطل کی روش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ سچائی کے نہایت ہی سادہ اور منطقی الاستدلال پر کان نہیں دھرتا۔ اور اللہ کی جانب سے جن لوگوں کے ذمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ اہل باطل کی طرف سے تشدد سہتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 95–96

2 یعنی جس کسی نے بھی توڑا۔ مگر تم یہ احمقانہ حرکت کرتے کیوں ہو ؟ کیا پتھر کی بیجان مورت جو خود تم نے اپنے ہاتھوں سے تراش کر تیار کی پرستش کے لائق ہوگی ؟ اور جو اللہ تمہارا اور تمہارے ہر ایک عمل و معمول کا نیز ان پتھروں کا پیدا کرنے والا ہے، اس سے کوئی سروکار نہ تھا ؟ پیدا تو ہر چیز کو وہ کرے اور بندگی دوسروں کی ہونے لگے، پھر دوسرے بھی کیسے جو مخلوق درمخلوق ہیں۔ آخر یہ کیا اندھیرا ہے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 96{ وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ } ”جبکہ اللہ نے پیدا کیا ہے تمہیں بھی اور جو کچھ تم بناتے ہو اس کو بھی۔“ یہ آیت حکمت اور فلسفہ قرآنی کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ انسان ”کا سب ِعمل“ تو ہے مگر ”خالق عمل“ نہیں ہے۔ مثلاً میں ارادہ کرتا ہوں کہ اپنے سامنے پڑا ہوا پیالہ اٹھائوں۔ اس میں ارادے کی حد تک تو مجھے اختیار ہے مگر اللہ کے اذن کے بغیر اس پیالے کو اٹھانا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ اس میں بہت سے دوسرے عوامل بھی کارفرما ہوسکتے ہیں۔ میرے اٹھانے سے پہلے اس پیالے پر کوئی دوسری قوت بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وجہ سے میرا دماغ میرے ارادے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 96–97

52 سیدنا ابراہیم سے قوم کا سوال و جواب :۔ میلہ سے واپسی پر قوم نے جب اپنے معبودوں کا یہ حشر دیکھا تو ان کا پارا بہت چڑھ گیا وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ ہمارے بتوں کی مخالفت صرف ابراہیم ہی کرتا رہتا تھا اور وہ پیچھے بھی رہ گیا تھا۔ لہذا یہ اسی کا کارنامہ ہوسکتا ہے۔ چناچہ ان کے پاس دوڑتے آئے اور معبودوں سے اس طرح کی بدسلوکی کی وجہ پوچھی تو آپ نے کہا کہ بڑے بت سے کیوں نہیں پوچھتے۔ جس کے کندھے پر کلہاڑا ہے۔ شاید اس نے ہی اپنے چھوٹوں سے ناراض ہو کر ان کا یہ حشر کردیا ہو۔ پھر ساتھ ہی کہہ دیا کہ یہ پتھر کے بےجان جو اپنی حفاظت نہیں کرسکتے تمہارا کیا سنوار سکتے ہیں اور تم لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہو اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

46۔ (اور مستحق عبادت صرف وہی ہے) متکلمین اہل سنت نے کہا ہے کہ یہ آیت اس باب میں نص ہے کہ انسان ہی کا نہیں، اس کے اعمال وافعال کا خالق بھی حق عالیٰ ہی ہے۔ اور یہ آیت صاف تردید کررہی ہے مسلک اہل اعتزال کی، جو اعمال کو غیر مخلوق سمجھتے ہیں۔ احتج جمھور الاصحاب علی ان فعل العبد مخلوق للہ تعالیٰ (کبیر) وھو دلیلنا فی خلق الافعال اے اللہ خالقکم و خالق اعمالکم (مدارک) وفی ھذا ابطال مذاھب القدریۃ والجبریۃ (قرطبی) (آیت) ” ماتعملون “ میں ما مصدریہ ہے۔ اس لئے (آیت) ” وما تعملون “ کے معنی وعملکم کے ہوئے اور تقدیر کلام یہ ہوئی۔ واللہ خلقکم وخلق عملکم، مامصدریۃ اے وخلق اعمالکم (مدارک) البتہ صاحب بحر نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وا اللہ خلقکم وما تعلمون حالانکہ اللہ ہی نے تم کو اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا۔ یہ جملہ انکاریہ ہے اور واللّٰہُ خَلَقَکُمْ جملہ حالیہ انکار کی مزید تاکید ہے ‘ ظاہر یہ ہے کہ مَا تَعْمَلُوْنَ میں مَا مصدریہ ہے ‘ یعنی اللہ نے تم کو اور تمہارے عمل کو پیدا کیا ‘ پھر کس طرح اپنے خالق کی عبادت چھوڑ کر ان بتوں کی پوجا کرتے ہو ‘ جو خود تمہارے محتاج ہیں۔ اشاعرہ کہتے ہیں کہ سارے آدمیوں کے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے ‘ اس آیت سے اسی کی تائید ہو رہی ہے۔ فرقۂ معتزلہ کہتا ہے کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے ‘ معتزلہ کے نزدیک مَا تَعْمَلُوْنَ میں مَا موصولہ ہے اور ضمیر محذوف ہے ‘ اصل کلام اسی طرح تھا : اللہ ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 94–98

(94۔ 98) پھر وہ لوگ اپنے میلہ سے واپسی پر یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جن کو لکڑیوں اور پتھروں سے خود بناتے ہو اور اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑتے ہو کہ جس نے تمہیں اور تمہاری سب بنائی ہوئی چیزوں کو پیدا کیا ہے قوم کہنے لگی ان کے لیے ایک آتش خانہ تعمیر کرو اور ان کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ان لوگوں نے حضرت ابراہیم کو آگ میں جلانے کی تدبیر کی تھی۔ تو ہم نے اس تدبیر میں ان ہی کو نیچا دکھایا یا یہ کہ سزا کے اعتبار سے ان ہی کو ذلیل و خوار کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ : ”مَا تَعْمَلُوْنَ“ کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ”مَا“ موصولہ ہو تو مطلب یہ ہے کہ کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور ان چیزوں کو بھی جو تم بناتے ہو، یعنی تم اور تمہارے بت دونوں اللہ کی مخلوق ہیں، پھر خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ اور ”مَا“ مصدریہ ہو تو معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور جو عمل تم کرتے ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندے کے تمام افعال کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے، بندہ صرف کا سب اور عامل ہے، اس کے عمل کا خالق وہ خود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 91–96

91 ۔ 96:۔ سدی نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے بتوں کی طرف گئے (2) ۔ ابو مالک نے کہا : حـضرت ابراہیم علیہ اسلام متوجہ ہوئے۔ قتادہ نے کہا : وہ ان کی طرف مائل ہوئے۔ کلبی نے کہا : ان کی طرف آئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : راغ کا معی ہے پھرے۔ سب کا معنی قریب قریب ہے راغ یروغ روغا و روغانا جب وہ جھکا۔ طریق رائغ یعنی ایسا راستہ جو ایک طرف جھکا ہوا ہو۔ شاعر نے کہا : و یریک من طرف اللسان حلاوۃ و یروغ عنک کما یروع الثعلب وہ زبان کی ایک جانب سے تیرے لئے مٹھاس دکھاتا ہے اور تم سے یوں مکر کرتا ہے جس طرح لومڑی کرتی ہے۔ الاتاکلون۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں سے یوں خطاب کیا جس طرح عقلاء کو خطاب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ [حالانکہ اللہ نے پیدا کیا تم کو ] وَمَا تَعْمَلُوْنَ [اور اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–98

(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 96–97

43:۔ قالوا ابنوا لہ الخ : جب مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو سے لاجواب ہوگئے تو انہوں نے انتقام لینے اور عوام پر اثر ڈالنے کے لیے انہیں آگ میں جلانے کا فیصلہ کیا۔ لما قہرہم بالحجۃ قصدوا تعذیبہ بذلک لئلا یظہر لعامۃ عجزھم (روح ج 23 ص 126) ، چناچہ انہوں نے ایک سو بیس گز (ذراع) مربع چار دیوار بنائی جس کی بلندی تیس گز تھی (مدارک) اور اسے ایندھن سے بھر کر آگ لگا دی، جب آگ سلگ کر خواب انگارے بن گئے اور آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس بھڑکتی آگ میں پھینکدیا۔ وارادوا بہ کیدا الخ، انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس تدبیر سے ہلاک کرنا چاہا۔ لیکن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاللہُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ۝ 96 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 95–96

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ۔ وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الصآفات : 95 تا 96) (حضرت ابراہیم نے کہا کہ تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو۔ حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جنھیں تم بناتے ہو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعریض بتوں کے پجاریوں کو ملامت کرتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ شامت زدو ! تم جن کو اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو اور جنھیں اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو انھیں کی پرستش کرتے ہو۔ اتنی موٹی سے بات تمہیں سمجھ نہیں آتی کہ انسان اپنے خالق کو تو اس لیے پوجتا ہے کہ اس نے اسے تخلیق کیا، لیکن تم ان کی پوجا کررہے ہوں جنھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 94–96

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا شدید ردعمل۔ قوم جب واپس پلٹی تو ان کی خوشی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے، چناچہ دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ (قَالُوْا فَاْتُوْا بِہٖ عَلٰٓی اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَشْھَدُوْنَ )[ الانبیاء : 61] ” انھوں نے کہا کہ ابراہیم کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ گواہ ہوں۔ “ (فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّونَ ) [ الصّٰفٰت : 94] ” وہ ابراہیم کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ کس غیظ وغضب کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

96: وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ (حالانکہ تمہیں اور تمہاری ان بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے) اور اس نے پیدا کیا جو تم بت وغیرہ بناتے ہو ؟ نمبر 2۔ ماؔ مصدریہ ہے اس نے تمہارے اعمال کو پیدا کیا۔ یہ آیت خلق افعال پر ہماری دلیل ہے یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے خالق اور تمہارے اعمال کے خالق ہیں پھر تم اس کے سوا اوروں کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

96، واللہ خلقکم وماتعملون، تمہارے ہاتھوں کا بتوں کو تراشنے والا عمل ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندوں کے افعال بھی اللہ تعالیٰ نے پیداکیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 96–101

96۔ 101 فرقہ قدریہ معتزلہ اور اہل سنت میں جس طرح اور چند مسئلوں میں بحث ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی بڑی بحث کا ہے۔ فرقہ قدریہ کا یہ مذہب ہے کہ بندہ جو کچھ کام کرتا ہے۔ وہ خود بندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ کام بندہ میں پیدا نہیں کئے۔ اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ بندہ کی ذات اور سب اچھے برے بندہ کے کام اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ لیکن برے کام جب بندہ کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتا ہے۔ اور اچھے کام کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی بحث ایک ایسی بڑی بحث ہے۔ کہ امام بخاری اور علم نے اس باب میں بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ آیت بھی علمائے اہل سنت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے کیونکہ اس آیت سے بندہ کا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 96–97

63 خالق سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو حضرت ابراہیم نے ان سے مزید فرمایا کہ حالانکہ اللہ ہی نے پیدا کیا تم کو بھی اور ان تمام چیزوں کو بھی جن کو تم لوگ بناتے ہو۔ اور دوسرا ترجمہ اسکا یہ بھی ہوسکتا ہے " ان تمام کاموں کو بھی جو تم لوگ کرتے ہو " اور جب ان تمام کا خالق اللہ پاک ہی ہے، تمہاری بنائی ہوئی تمام چیزوں کا بھی اور تمہاے کئے ہوئے سب کاموں کا بھی، تو پھر تمہارے ان خود تراشیدہ بتوں کے معبود اور حاجت روا و مشکل کشا ہونے کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ کیا تمہاری کھوپڑیوں میں اتنی موٹی بات بھی نہیں آتی کہ جن چیزوں کو تم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے اور بناتے تراشتے ہو آخر وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–102

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 95–96

ف 2 یا ” جو عمل تم کرتے ہو انہیں بھی اللہ نے پیدا کیا ہے “۔ معلوم ہوا کہ بندہ کے تمام افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 96–97

(37:96) واللہ خلقکم وما تعملون۔ یہ جملہ حالیہ ہے اور جملہ سابقہ اتعبدون۔ ما تنحتون جو جملہ انکاریہ ہے اس کی مزید تاکید کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–98

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 96–101

(ف 2) جب حضرت ابراہیم کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ دے سکے تو ان بت پرستوں نے یہ تجویز کہ ایک بڑا آتش خانہ بناکرحضرت ابراہیم کو اس میں ڈال دو اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی اور ان کے مخالف کا نجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے گا مگر اللہ نے ان کو ہی نیچا، دکھلایا اور حضرت ابراہیم پر آگ گلزار کردی اب حضرت اسماعیل نے الہام الٰہی کے موافق ملک شام کی طرف ہجرت کی اور ملک شام میں پہنچ کر نیک بیٹے کے عطا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–97

[18] اب صورت واقعہ یہ ہے کہ قوم کے سالانہ میلے کا وقت آگیا ہے اور لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم عقیدہ سمجھ کر ان کے ہمراہ چلنے کو کہتے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) عذر کر رہے ہیں۔ یہ بیان اسی موقع کا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 88–97

ف 2: فنظر نظر ذفی النجوم سے مراد ایک مستقل واقعہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایلدن بہ مشرکان بابل اپنے لسی مذہبی میلے میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے ۔ انہوں نے کہا ابراہیم کو بھی دعوت دی جائے ۔ شاید یہ وہاں کا ٹھاٹھ دیکھ کر اپنے خیالات سے باز آجائے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلنے کو کہا آپ نے غور وفکر کے بعد فرمایا میں تمہارے ان شاغوں سے قطعی بیزار ہوں اور مجھے تمہاری دینی ومذہبی تقریبات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ واضح رہے کہ فنظر نظرۃ فی النجوم محاورہ ہے جس کے معنے سوچنے اور غور وفکر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ عام طور پر آدمی سوچتے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھاتا ہے اور انی سقیم کے معنے یہ ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(96) حالانکہ تم اور جو کام تم کرتے ہو اس کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے - یعنی اللہ تعالیٰ جس طرح تمہارا خالق ہے اسی طرح تمہارے افعال کا خالق بھی وہی ہے لہٰذا عبادت پر پرستش کا بھی وہی حقدار ہے جس کی ہمہ گیر خالقیت کے تمام اعراض اور جواہر محتاج ہیں۔ غرض ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو اور ان کے مناظرانہ انداز سے لاجواب ہو کر حضرت ابراہیم کے خلاف دوسری تدبیریں کرنے لگے جو عام طور سے ذی اقتدار لوگ کیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 89–98

ف 5۔ یہ ستاروں کا دیکھنا بطور ایہام و توریہ کے تھا کہ وہ تو بوجہ اس کے کہ کواکب کو متصرف فی الحوادث سمجھتے تھے یوں سمجھے کہ کوئی فائدہ نجوم کے آتا ہوگا جس سے رفتار ستاروں کی دیکھ کر ان کو معلوم ہوگیا کہ میں تھوڑی دیر میں بیمار ہوجاوں گا۔ اور چونکہ وہ نجوم کے معتقد تھے اس لئے اصرار نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حالانکہ تم کو اور جن کے تم نے یہ بت تراشے ہیں سب کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے : 96۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ تم میری بات کان کھول کر سن لو کہ دراصل پیدا کرنے والا تو تمہارا بھی وہی ہے جو ان کا پیدا کرنے والا ہے جن کے تم نے بت تراش رکھے ہیں اور یہ بھی کہ اس پروردگار عالم کے بنائے ہوئے ان ہاتھوں سے تم نے ان کے بت تراش لیے اور اس کی دی ہوئی عقل اور اس کی عطا کردہ طاقت سے تم نے ان کو تراشا اور بنایا اور پھر اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر اس مخلوق کے پیچھے ہو لیے اور پھر وہ مخلوق بھی اپنے اپ کو بچا نہ سکی اور موت کا پیالہ منہ سے لگا لیا اور تم نے ان کے یہ تراشے تراش کر ان کا تصور قائم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–98

In verses 88 and 89, it was said: نَظَرَ‌ نَظْرَ‌ةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ. (Then, he cast a look at the stars, and then said, "I feel indisposed" 37:88-89). There is a background to these verses. The people of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) used to have a festival on a particular day. When that day came, they invited Sayyidna Ibrahim to go with them and enjoy the festival. Their purpose was that if he accompanies them in the festival, he might be impressed with them and forget about calling them to his faith. (ad-Durr-ul-Manthur, Ibn Jarir and others). But, Sayyidna Ibrahim…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 94–97

52 Here the story has been told in brief. According to the details given in Surah Ai-Anbiya`, when they returned and found all their idols broken to pieces in the temple, they started making investigations. Some people said that a young man, called Abraham, had been talking such and such things against idol-worship. At this the multitude demanded that he should be immediately seized and brought before them. Therefore, a group of the people went running to him and brought him before the multitude.

Read the full tafseer →