As-Saaffaat 37:95

As-Saaffaat · from ayah 95

37:95

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ۟ۙقَالَ اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَۙ

انہوں نے کہا کہ تم ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "Do you worship that which you [yourselves] carve,

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:95

اس نے کہا "کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ تم ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو آپ نے فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

ابراہیم نے کہا : کیا تم ان (بتوں) کو پوجتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا کیا اپنے ہاتھ کے تراشوں کو پوجتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ابراہیم ؑ نے (اُن سے) کہا: کیا تم اِن (ہی بے جان پتھروں) کو پوجتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہوں نے کہا : کیا تم ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جنہیں تم خود ہی تراشتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا کیا تم لوگ اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو آپ نے ان سے کہا کہ کیا تم لوگ ان چیزوں کی پوجا (اور بندگی) کرتے ہو جن کو تم خود (اپنے ہاتھوں سے تراش) تراش کر بناتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(ابراہیم ؑ نے) کہا کیا تم ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں (خودہی) تراشتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے کہا : کیا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں تم خود تراشتے ہو !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا تم ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جن کو خود بناتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Abraham said to them: “Do you worship what you yourselves have carved with your own hands

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Do you worship what is carved by yourselves,

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Do you worship what is carved by yourselves,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Worship you that which you (yourselves) carve"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Worship ye that which ye yourselves do carve

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "Do you worship that which you [yourselves] carve,

— Saheeh International

He said, "How can you worship what you yourselves have carved

— Muhammad Sarwar

Said he: What! do you worship what you hew out?

— Muhammad Habib Shakir

He said: worship ye that which carve.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Worship ye that which ye have (yourselves) carved?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:95

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–98

بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 94–97

سورة الصّٰٓفّٰت 52 یہاں قصہ مختصر کر کے بیان کیا گیا ہے۔ سورة انبیا میں اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب انہوں نے آ کر اپنے مندر میں دیکھا کہ سارے بت ٹوٹے پڑے ہیں تو پوچھ گچھ شروع کی۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ابراہیم نامی ایک نوجوان بت پرستی کے خلاف ایسی باتیں کرتا رہا ہے۔ اس پر مجمع نے کہا کہ پکڑ لاؤ اسے۔ چناچہ ایک گروہ دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا، اور انہیں مجمع کے سامنے لے آیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–98

فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ، ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ایک خاص دن میں تہوار منایا کرتی تھی، جب وہ دن آیا تو اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو دعوت دی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن میں شرکت کے لئے چلیں مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ اس جشن میں ہمارے ساتھ رہیں گے تو شاید ہمارے دین سے متاثر ہوجائیں، اور اپنے دین کی دعوت چھوڑ دیں۔ (درمنثور وابن جریر وغیرہ) لیکن ابراہیم ؑ اس موقع سے دوسرا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ تھا کہ جب ساری قوم جشن منانے چلی جائے گی تو میں ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالوں گا، تاکہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 95–96

قال اتعبدون ماتنحتون واللہ خلقکم وما تعملون (96-95) اتمام حجت کے بعد قوم کو ملامت حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو یہ ملامت اس وقت کی ہے جب انہوں نے ان پر، جیسا کہ م نے اشارہ کیا، حجت تمام کرلی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ شامت زودو ! تم اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی، لکڑی اور پتھر کی مورتوں کی پجاک رتے ہو ! اللہ کی پوجا تو اس لئے کی جاتی ہے کہ اس نے ہم کو پیدا کیا ہے لیکن تمہاری عقل اس طرح ماری گئی ہے کہ تم جن کو خود اپنے ہاتھوں تراشتے ہو انہی کی پوجا کرتے ہو۔ گویا اپنے خالقوں کے خالق تم خود ہو یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جس نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان لکڑیوں اور پتھروں و بھی پیدا کیا ہے جن سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 95–96

96۔ 1 یعنی وہ مورتیاں اور تصویریں بھی جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے اور انہیں معبود سمجھتے ہو، یا مطلق تمہارا عمل جو بھی تم کرتے ہو، ان کا خالق بھی اللہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے، جیسے اہل سنت کا عقیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 89–97

16: ان کی قوم کے لوگ انہیں اپنے ایک میلے میں لے جانا چاہتے تھے، حضرت ابراہیم ؑ ایک تو میلے میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، دوسرے ان کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ جب یہ سارے لوگ میلے میں چلے جائیں گے، اور مندر خالی ہوگا تو وہ وہاں جا کر بتوں کو توڑ پھوڑ دیں گے، تاکہ یہ لوگ آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھیں جنہیں انہوں نے خدا بنا رکھا ہے۔ اس لیے انہوں نے عذر کیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ واقعی ان کے مزاج ناساز ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ تمہارے کفر و شرک کی حرکتیں دیکھ کر میری طبیعت روحانی طور پر خراب ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال اتعبدون۔۔۔۔۔ وما تعملون (95 – 96) “۔ یہ ایک فطری استدلال تھا ، حضرت ابراہیم نے یبانگ دبل ان کے سامنے رکھ دیا کہ تم اپنی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو ، معبود حق تو وہ ہوسکتا ہے جو سب چیزوں کا بنانے والا ہو نہ کہ اسے کسی سنگ تراش نے تراشا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 95–96

2 یعنی جس کسی نے بھی توڑا۔ مگر تم یہ احمقانہ حرکت کرتے کیوں ہو ؟ کیا پتھر کی بیجان مورت جو خود تم نے اپنے ہاتھوں سے تراش کر تیار کی پرستش کے لائق ہوگی ؟ اور جو اللہ تمہارا اور تمہارے ہر ایک عمل و معمول کا نیز ان پتھروں کا پیدا کرنے والا ہے، اس سے کوئی سروکار نہ تھا ؟ پیدا تو ہر چیز کو وہ کرے اور بندگی دوسروں کی ہونے لگے، پھر دوسرے بھی کیسے جو مخلوق درمخلوق ہیں۔ آخر یہ کیا اندھیرا ہے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 95{ قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ } ”اس نے کہا : کیا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں تم خود تراشتے ہو !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 93–95

51 سیدنا ابراہیم کا بتوں کو توڑ پھوڑ دینا :۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدنا ابراہیم کتنی مدت سے ایسے موقعہ کے منتظر تھے۔ ادھر قوم کے لوگ میلہ منانے چلے گئے ادھر آپ سب سے بڑے مندر کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگئے۔ بتوں کی طرف غصہ سے متوجہ ہو کر کہنے لگے۔ بدبختو ! تمہارے سامنے مٹھائیاں اور کھانے پڑے ہیں انہیں کھاتے کیوں نہیں ؟ کچھ بولو تو سہی، کچھ جواب تو دو ؟ ان بےجان پتھروں نے کیا جواب دینا تھا۔ اس پر سیدنا ابراہیم کو اور بھی زیادہ غصہ آیا۔ ایک کلہاڑا لیا۔ اور سب بتوں کو خوب جی بھر کے ضربیں لگانا شروع کیں۔ سب کو توڑ پھوڑ دیا۔ البتہ سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال اتعبدون ما تنحتون۔ ابراہیم نے کہا : کیا جن کو تم خود تراشتے ہو ‘ انہی کی پوجا کرتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 94–98

(94۔ 98) پھر وہ لوگ اپنے میلہ سے واپسی پر یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جن کو لکڑیوں اور پتھروں سے خود بناتے ہو اور اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑتے ہو کہ جس نے تمہیں اور تمہاری سب بنائی ہوئی چیزوں کو پیدا کیا ہے قوم کہنے لگی ان کے لیے ایک آتش خانہ تعمیر کرو اور ان کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ان لوگوں نے حضرت ابراہیم کو آگ میں جلانے کی تدبیر کی تھی۔ تو ہم نے اس تدبیر میں ان ہی کو نیچا دکھایا یا یہ کہ سزا کے اعتبار سے ان ہی کو ذلیل و خوار کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ : کیا تم اپنے تراشے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 91–96

91 ۔ 96:۔ سدی نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے بتوں کی طرف گئے (2) ۔ ابو مالک نے کہا : حـضرت ابراہیم علیہ اسلام متوجہ ہوئے۔ قتادہ نے کہا : وہ ان کی طرف مائل ہوئے۔ کلبی نے کہا : ان کی طرف آئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : راغ کا معی ہے پھرے۔ سب کا معنی قریب قریب ہے راغ یروغ روغا و روغانا جب وہ جھکا۔ طریق رائغ یعنی ایسا راستہ جو ایک طرف جھکا ہوا ہو۔ شاعر نے کہا : و یریک من طرف اللسان حلاوۃ و یروغ عنک کما یروع الثعلب وہ زبان کی ایک جانب سے تیرے لئے مٹھاس دکھاتا ہے اور تم سے یوں مکر کرتا ہے جس طرح لومڑی کرتی ہے۔ الاتاکلون۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں سے یوں خطاب کیا جس طرح عقلاء کو خطاب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [انھوں نے کہا ] اَ تَعْبُدُوْنَ [کیا تم لوگ بندگی کرتے ہو ] مَا [اس کی جس کو ] تَنْحِتُوْنَ [تم لوگ (خود) تراشتے ہو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–98

(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

42:۔ قال اتعبدون الخ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا : کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے، جن ٹھاکروں کو اپنے ہاتھوں سے تراش کر بناتے ہو۔ اور جن کی شکل و صورت تمہاری تراش خراش اور تمہارے اوزاروں کی محتاج ہے پھر انہی کی عبادت کرتے ہو۔ حالانکہ عبادت تو اپنے خالق کی کرنی چاہئے اور خالق سب کا (تمہارا اور تمہارے ٹھاکروں کا) اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے ہر قسم کی عبادت کا مستحق بھی وہی ہے۔ ٹھاکروں کو تراشنے والے اگرچہ مشرکین ہیں، لیکن ان کے مادے کا خالق اللہ ہی ہے۔ اور ان کی اشکال و اوضاع جو مشرکین کے فعل و قوت سے حاصل ہوئی ہیں۔ اس فعل و قوت کا خالق بھی اللہ ہی ہے فان جو ھرھا بخلقہ و شکلہا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ۝ 95ۙ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 95–96

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ۔ وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الصآفات : 95 تا 96) (حضرت ابراہیم نے کہا کہ تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو۔ حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جنھیں تم بناتے ہو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعریض بتوں کے پجاریوں کو ملامت کرتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ شامت زدو ! تم جن کو اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو اور جنھیں اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو انھیں کی پرستش کرتے ہو۔ اتنی موٹی سے بات تمہیں سمجھ نہیں آتی کہ انسان اپنے خالق کو تو اس لیے پوجتا ہے کہ اس نے اسے تخلیق کیا، لیکن تم ان کی پوجا کررہے ہوں جنھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 94–96

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا شدید ردعمل۔ قوم جب واپس پلٹی تو ان کی خوشی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے، چناچہ دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ (قَالُوْا فَاْتُوْا بِہٖ عَلٰٓی اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَشْھَدُوْنَ )[ الانبیاء : 61] ” انھوں نے کہا کہ ابراہیم کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ گواہ ہوں۔ “ (فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّونَ ) [ الصّٰفٰت : 94] ” وہ ابراہیم کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ کس غیظ وغضب کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

95: قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ (کیا تم ان کی پوجا کرتے ہو جن کو خود تراشتے ہو) خود اپنے ہاتھوں سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

95، قال، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے دلیل بیان کرتے ہوئے کہا، اتعبدون ماتنحتون، کیا تم اہی کی پوجا کرتے ہو جن کو تم اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–95

83۔ 95۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے من شیعۃ کی تفسیر میں من اھل دینہ 2 ؎ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین والوں میں سے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو حنیف اور ملت ابراہیمی کو حنیفی کہتے ہیں۔ حنیف کے معنی ایک طرف کا ہوجانا حضرت ابراہیم نے شرک سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو، باپ کو اور قوم کو چھوڑا اور اللہ کی وحدانیت کو ہاتھ سے نہ دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا یہ لقب ہو۔ حضرت ابراہیم اور نبی آخر الزمان ﷺ کا قصہ ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم کی طرح نبی آخر الزمان ﷺ کو بھی توحید کی حفاظت میں وطن کو قوم کو سب کو چھوڑنا پڑا۔ اور پھر جس طرح ہجرت کے بعد ابراہیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

62 حضرت ابراہیم کی طرف سے مشرکوں کی تجہیل و تحمیق ان کے منہ پر : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لیے اور ان کے رو در رو ان کی تجہیل و تحمیق کرتے ہوئے ان سے کہا کہ کیا تم لوگ ان چیزوں کی پوجا کرتے ہو جنکو تم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو ؟۔ یعنی کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ اور تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ کہ اپنے ہاتھوں کی تراشی ہوئی ان مورتیوں کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر ان کو پوجتے پکارتے ہو۔ افسوس کہ آج کا کلمہ گو مشرک بھی اسی جہالت و حماقت میں مبتلا ہے۔ وہ بھی طرح طرح کی بےحقیقت اور بےبنیاد چیزوں کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر انکو پوجتا پکارتا اور ان کے آگے جھکتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–102

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 95–96

ف 2 یا ” جو عمل تم کرتے ہو انہیں بھی اللہ نے پیدا کیا ہے “۔ معلوم ہوا کہ بندہ کے تمام افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:95) ما تنحتون۔ ما موصولہ ہے تنحتون صیغہ جمع مذکر حاضر نحت (ضرب) سے مصدر۔ تم تراشتے ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–98

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–95

(ف 1) اور ان لوگوں کے بستی کے باہر چلے جانے کے بعد بت خانہ کو اکیلا پاکر بت خانہ میں گئے اور بتوں کے سامنے کھانا دھرا ہوا دیکھ کر پہلے تو دل لگی کے طور پر بتوں سے یہ کہا کہ تم یہ کھانا کیوں نہیں کھاتے ، جب بتوں نے اس کا جواب نہ دیا تو پھر ان بتوں سے یہ کہا کہ تم بولتے کیوں نہیں اس کے بعد سب سے بڑے بت کو ثابت چھوڑ دیا اور باقی سب چھوٹے بتوں کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا، جب یہ لوگ میلہ سے پلٹ کر آئے اور بت خانہ میں عادت کے موافق کھانا لینے گئے تو بتوں کو ٹوٹا ہوا پاکرآپس میں چرچا کرنے لگے کہ یہ کام کس نے کیا ہے حضرت ابراہیم نے جب دبی ہوئی آواز سے وہ قسم کھائی تو جس کا ذکر اوپر کی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–97

[18] اب صورت واقعہ یہ ہے کہ قوم کے سالانہ میلے کا وقت آگیا ہے اور لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم عقیدہ سمجھ کر ان کے ہمراہ چلنے کو کہتے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) عذر کر رہے ہیں۔ یہ بیان اسی موقع کا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 88–97

ف 2: فنظر نظر ذفی النجوم سے مراد ایک مستقل واقعہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایلدن بہ مشرکان بابل اپنے لسی مذہبی میلے میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے ۔ انہوں نے کہا ابراہیم کو بھی دعوت دی جائے ۔ شاید یہ وہاں کا ٹھاٹھ دیکھ کر اپنے خیالات سے باز آجائے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلنے کو کہا آپ نے غور وفکر کے بعد فرمایا میں تمہارے ان شاغوں سے قطعی بیزار ہوں اور مجھے تمہاری دینی ومذہبی تقریبات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ واضح رہے کہ فنظر نظرۃ فی النجوم محاورہ ہے جس کے معنے سوچنے اور غور وفکر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ عام طور پر آدمی سوچتے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھاتا ہے اور انی سقیم کے معنے یہ ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(95) ابراہیم نے کہا کیا تم ان بتوں کو پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو۔ یعنی خودہی تراشو اور اپنے ہی تراشوں کو پوجو جو تمہارے خود محتاج ہیں وہ کیا تمہارے کام آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 89–98

ف 5۔ یہ ستاروں کا دیکھنا بطور ایہام و توریہ کے تھا کہ وہ تو بوجہ اس کے کہ کواکب کو متصرف فی الحوادث سمجھتے تھے یوں سمجھے کہ کوئی فائدہ نجوم کے آتا ہوگا جس سے رفتار ستاروں کی دیکھ کر ان کو معلوم ہوگیا کہ میں تھوڑی دیر میں بیمار ہوجاوں گا۔ اور چونکہ وہ نجوم کے معتقد تھے اس لئے اصرار نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم ان کی پرستش کرتے ہو جن کو خود تراشتے ہو : 95۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے قوم کے لوگ جب آپ کے پاس آئے تو انہوں نے ان کو باتوں ہی باتوں میں خوب لاجواب کردیا کہ تعجب ہی نہیں تم پر افسوس بھی ہے کہ تم نے اپنے ہی ہاتھوں سے ان مجسموں کو گھڑ کر خود ہی ان کی پرستش شروع کردی اور اگر تم ان بتوں کی نہیں بلکہ ان کی جن کے یہ بت بنا رکھے ہیں پرستش کرتے ہو تو بھی آخر ان کو ان اپنی شبیہوں کی حفاظت تو کرنا چاہئے تھی تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ چلو بت تو پتھر ہیں لیکن جن کے یہ تراشے گئے ہی وہ تو بہت پہنچ والے ہیں انہوں نے دیکھو فورا اس شخص کو ڈھیر کردیا جس نے ان کے مجسموں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–98

In verses 88 and 89, it was said: نَظَرَ‌ نَظْرَ‌ةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ. (Then, he cast a look at the stars, and then said, "I feel indisposed" 37:88-89). There is a background to these verses. The people of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) used to have a festival on a particular day. When that day came, they invited Sayyidna Ibrahim to go with them and enjoy the festival. Their purpose was that if he accompanies them in the festival, he might be impressed with them and forget about calling them to his faith. (ad-Durr-ul-Manthur, Ibn Jarir and others). But, Sayyidna Ibrahim…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 94–97

52 Here the story has been told in brief. According to the details given in Surah Ai-Anbiya`, when they returned and found all their idols broken to pieces in the temple, they started making investigations. Some people said that a young man, called Abraham, had been talking such and such things against idol-worship. At this the multitude demanded that he should be immediately seized and brought before them. Therefore, a group of the people went running to him and brought him before the multitude.

Read the full tafseer →