As-Saaffaat 37:94

As-Saaffaat · from ayah 94

37:94

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ ۟فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ‏

تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then the people came toward him, hastening.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:94

(واپس آ کر) وہ لوگ بھاگے بھاگے اس کے پاس آئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه (بت پرست) دوڑے بھاگے آپ کی طرف متوجہ ہوئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس پر ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کافر اس کی طرف جلدی کرتے آئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر لوگ (میلے سے واپسی پر) دوڑتے ہوئے ان کی طرف آئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو وہ دوڑتے ہوئے اس کی طرف آئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(واپس آکر انہوں نے جو یہ صورت حال دیکھی) تو دوڑتے ہوئے ابراہیم کے پاس آئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس لوگ آئے اس کی طرف بھاگے ہوئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ادھر وہ لوگ (اپنے معبودوں کا یہ حشر معلوم ہونے پر) آپ کے پاس پہنچ گئے دوڑتے ہوئے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر وہ لوگ انکے پاس دوڑتے آئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو وہ اس کی طرف آئے دوڑتے ہوئے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

whereupon people came to him running.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, they (the idolaters) came to him rushing.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, they (the idolaters) came to him rushing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then they came hastily towards him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (his people) came toward him, hastening.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then the people came toward him, hastening.

— Saheeh International

Thereupon the people came running to him.

— Muhammad Sarwar

So they (people) advanced towards him, hastening.

— Muhammad Habib Shakir

Then they advanced toward him, hastening.

— Abdul Majid Daryabadi

Then came (the worshippers) with hurried steps, and faced (him).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:94

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–98

بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 94–97

سورة الصّٰٓفّٰت 52 یہاں قصہ مختصر کر کے بیان کیا گیا ہے۔ سورة انبیا میں اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب انہوں نے آ کر اپنے مندر میں دیکھا کہ سارے بت ٹوٹے پڑے ہیں تو پوچھ گچھ شروع کی۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ابراہیم نامی ایک نوجوان بت پرستی کے خلاف ایسی باتیں کرتا رہا ہے۔ اس پر مجمع نے کہا کہ پکڑ لاؤ اسے۔ چناچہ ایک گروہ دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا، اور انہیں مجمع کے سامنے لے آیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–98

فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ، ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ایک خاص دن میں تہوار منایا کرتی تھی، جب وہ دن آیا تو اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو دعوت دی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن میں شرکت کے لئے چلیں مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ اس جشن میں ہمارے ساتھ رہیں گے تو شاید ہمارے دین سے متاثر ہوجائیں، اور اپنے دین کی دعوت چھوڑ دیں۔ (درمنثور وابن جریر وغیرہ) لیکن ابراہیم ؑ اس موقع سے دوسرا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ تھا کہ جب ساری قوم جشن منانے چلی جائے گی تو میں ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالوں گا، تاکہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 88–94

فنظر نظرۃ فی النجوم فقال انی سقم فتولوا عنہ مدبرین فراغ الی الھتم فقال الا تاکلون، مالکم لاتنطقون، فراغ علیھم ضرابط بالیمین (93-88) قوم کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی کی وضاحت مذکورہ بالا تقریر حضرت ابراہیم ؑ نے معلوم ہوتا ہے، معبد میں یا کسی تقریب کے موقع پر کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ اسکیم بنائی کہ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی اچھی طرح واضح کردیں۔ اس کے لئے یہ طریقہ انہوں نے اختیار کیا کہ شب میں تقریب سے فارغ ہو کر جب لوگ وہاں سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے ایک نظر اس طرح ستاروں پر ڈالی گویا وقت کا اندازہ کرنا چاہتے ہوں اور لوگوں کے کانوں میں بات ڈالتے ہوئے فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

94۔ 1 یعنی جب میلے سے آئے تو دیکھا کہ ان کے معبود ٹوٹے پھوٹے پڑے ہیں تو فوراً ان کا ذہن حضرت ابراہیم ؑ کی طرف گیا، کہ یہ کام اسی نے کیا ہوگا، جیسا کہ سورة انبیاء میں تفصیل گزر چکی ہے چناچہ انہیں پکڑ کر عوام کی عدالت میں لے آئے۔ وہاں حضرت ابراہیم ؑ کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ ان پر ان کی بےعقلی اور ان کے معبودوں کی بےاختیاری واضح کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 89–97

16: ان کی قوم کے لوگ انہیں اپنے ایک میلے میں لے جانا چاہتے تھے، حضرت ابراہیم ؑ ایک تو میلے میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، دوسرے ان کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ جب یہ سارے لوگ میلے میں چلے جائیں گے، اور مندر خالی ہوگا تو وہ وہاں جا کر بتوں کو توڑ پھوڑ دیں گے، تاکہ یہ لوگ آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھیں جنہیں انہوں نے خدا بنا رکھا ہے۔ اس لیے انہوں نے عذر کیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ واقعی ان کے مزاج ناساز ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ تمہارے کفر و شرک کی حرکتیں دیکھ کر میری طبیعت روحانی طور پر خراب ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ لوگ واپس ہوئے انہیں علم ہوا کہ ان کے بتوں کے سر پاؤں اور ہاتھ کٹے ہوئے ہیں۔ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں کہ انہوں نے تفتیش کی کہ کس نے یہ کام کیا ہے۔ آخر وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ ابراہیم نام کا ایک شخص ان کے بارے میں بدگوئی کرتا ہے ، بہرحال یہاں اختصار کرکے فریقین کا آمنا سامنا دکھایا جاتا ہے۔ فاقبلوا الیہ یزفون (94) “۔ انہوں نے ایک دوسرے سے یہ خبر سن لی تھی۔ یہ بھی یقین ہوگیا تھا کہ کام کرنے والا کون ہے۔ لہٰذا سب لوگ دوڑ کر ابراہیم کے پاس پہنچے۔ سب اب کے اردگرد جمع ہوگئے۔ لوگوں کی بڑی تعداد بلکہ پورا میلہ اکٹھا ہوگیا۔ سب لوگ ایک طرف اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 لوگ جب اپنے میلے ٹھیلے سے واپس آئے، دیکھا بت ٹوٹے پڑے ہیں۔ قرائن سے سمجھا کہ ابراہیم کے سوا یہ کسی کا کام نہیں۔ چناچہ سب ان کی طرف جھپٹ پڑے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 94{ فَاَقْبَلُوْٓا اِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ } ”تو وہ اس کی طرف آئے ‘ دوڑتے ہوئے۔“ اس واقعہ کے بارے میں کچھ تفصیل سورة الانبیاء کے پانچویں رکوع میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ یہاں پر باقی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام نے تمام بتوں کو توڑ پھوڑ کر چورا کردیا ‘ سوائے ایک بڑے بت کے۔ صورتِ حال انتہائی نازک اور تشویشناک تھی اور اس غیر معمولی واقعہ کے بعد شہر میں تو گویا قیامت برپا ہوگئی ہوگی۔ لیکن جب قوم کے بہت سے لوگ غیظ و غضب اور اشتعال کی کیفیت میں بھاگم بھاگ آپ علیہ السلام تک پہنچے تو آپ علیہ السلام نے نہ صرف بلا خوف ان کا سامنا کیا بلکہ ان کے ساتھ مدلل مناظرہ بھی کیا :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 93–95

51 سیدنا ابراہیم کا بتوں کو توڑ پھوڑ دینا :۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدنا ابراہیم کتنی مدت سے ایسے موقعہ کے منتظر تھے۔ ادھر قوم کے لوگ میلہ منانے چلے گئے ادھر آپ سب سے بڑے مندر کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگئے۔ بتوں کی طرف غصہ سے متوجہ ہو کر کہنے لگے۔ بدبختو ! تمہارے سامنے مٹھائیاں اور کھانے پڑے ہیں انہیں کھاتے کیوں نہیں ؟ کچھ بولو تو سہی، کچھ جواب تو دو ؟ ان بےجان پتھروں نے کیا جواب دینا تھا۔ اس پر سیدنا ابراہیم کو اور بھی زیادہ غصہ آیا۔ ایک کلہاڑا لیا۔ اور سب بتوں کو خوب جی بھر کے ضربیں لگانا شروع کیں۔ سب کو توڑ پھوڑ دیا۔ البتہ سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44۔ اس کی خبر آپ کے ہم قوموں کو ہوئی ہے، اور وہ اب دوڑے گھبرائے ہوئے اور غصہ میں بھرے ہوئے آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاقبلوا الیہ یزفون پھر وہ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس دوڑتے آئے۔ یعنی ابراہیم کی قوم والے جب میلے سے لوٹے اور بتوں کو شکستہ دیکھا تو دریافت فرمایا : یہ حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ کس نے کی ‘ مَنْ فَعَلَ ھٰذَا بِاٰلِھَتِنَآ اِنَّہٗ لَمِنَ الظَّالِمِیْنَ ۔ پھر خود حضرت ابراہیم کی طرف ان کا خیال گیا اور کہنے لگے : سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُوْھُمْ یُقَالُ لَہٗٓ اِبْرَاھِیْمُ ۔ اس کے بعد تیزی کے ساتھ حضرت ابراہیم کے پاس آئے اور دریافت کیا : کیا تو نے ہمارے معبودوں سے یہ گستاخی کی ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 94–98

(94۔ 98) پھر وہ لوگ اپنے میلہ سے واپسی پر یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جن کو لکڑیوں اور پتھروں سے خود بناتے ہو اور اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑتے ہو کہ جس نے تمہیں اور تمہاری سب بنائی ہوئی چیزوں کو پیدا کیا ہے قوم کہنے لگی ان کے لیے ایک آتش خانہ تعمیر کرو اور ان کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ان لوگوں نے حضرت ابراہیم کو آگ میں جلانے کی تدبیر کی تھی۔ تو ہم نے اس تدبیر میں ان ہی کو نیچا دکھایا یا یہ کہ سزا کے اعتبار سے ان ہی کو ذلیل و خوار کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَقْبَلُوْٓا اِلَيْهِ يَزِفُّوْنَ : ”زَفَّ یَزِفُّ زَفًّا وَ زُفُوْفًا وَ زَفِیْفًا“ (ض) تیزی سے جانا، دوڑنا۔ یعنی بتوں کا یہ حال دیکھ کر قوم کو یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کہ ان کا یہ حال کس نے کیا ہے، کیونکہ ابراہیم ؑ انھیں پہلے ہی اپنے ارادے سے آگاہ کرچکے تھے، اس لیے وہ سب دوڑتے ہوئے ان کے پاس آئے اور انھیں پکڑ کر مجمع میں لے آئے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (59 تا 61)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 91–96

91 ۔ 96:۔ سدی نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے بتوں کی طرف گئے (2) ۔ ابو مالک نے کہا : حـضرت ابراہیم علیہ اسلام متوجہ ہوئے۔ قتادہ نے کہا : وہ ان کی طرف مائل ہوئے۔ کلبی نے کہا : ان کی طرف آئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : راغ کا معی ہے پھرے۔ سب کا معنی قریب قریب ہے راغ یروغ روغا و روغانا جب وہ جھکا۔ طریق رائغ یعنی ایسا راستہ جو ایک طرف جھکا ہوا ہو۔ شاعر نے کہا : و یریک من طرف اللسان حلاوۃ و یروغ عنک کما یروع الثعلب وہ زبان کی ایک جانب سے تیرے لئے مٹھاس دکھاتا ہے اور تم سے یوں مکر کرتا ہے جس طرح لومڑی کرتی ہے۔ الاتاکلون۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں سے یوں خطاب کیا جس طرح عقلاء کو خطاب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَقْبَلُوْٓا [تو وہ لوگ سامنے آئے ] اِلَيْهِ [ان (ابراہیم (علیہ السلام) ) کی طرف ] يَزِفُّوْنَ [بھاگتے ہوئے ] ۔ (ض) زفا تیز دوڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 94 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–98

(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

41:۔ فاقبلوا الخ : اس سے پہلے اندماج ہے۔ جب مشرکین عید منا کر واپس ٹھاکر دوارے میں آئے تو ٹھاکروں کو پاش پاش دیکھ کر آپس میں کہنے لگے یہ ناشائستہ حرکت کس نے کی ہے۔ انہی میں سے بعض نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ کام ابراہیم ہی کا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ ان معبودوں کو ہمیشہ برائی سے یاد کرتا ہے ؟ چناچہ وہ دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابراہیم ! ہم تو ان ٹھاکروں کی پوجا پاٹ کرتے تھے تم نے یہ کیا حرکت کی کہ ان کو توڑ پھوڑ دیا۔ ثم قالوا باجمعہم نحن نعبدھا وانت تکسرھا (مدارک ج 4 ص 19) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَقْبَلُوْٓا اِلَيْہِ يَزِفُّوْنَ۝ 94 إِقْبَالُ التّوجّه نحو الْقُبُلِ ، كَالاسْتِقْبَالِ. قال تعالی: فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] ، وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ [ الذاریات/ 29] اقبال اور استقبال کی طرح اقبال کے معنی بھی کسی کے رو برو اور اس کی طرف متوجہ ہو نیکے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] پھر لگے ایک دوسرے کو رو ور ود ملا مت کرنے ۔ وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، اور وہ ان کی طرف متوجہ ہوکر زف زَفَّ الإبل يَزِفُّ زَفّاً وزَفِيفاً ، وأَزَفَّهَا سائقها، وقرئ : إِلَيْهِ يَزِفُّونَ [ الصافات/ 94] ، أي : يسرعون،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَقْـبَلُوْٓا اِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ ۔ (الصآفات : 94) (پھر وہ لوگ آئے حضرت ابراہیم کے پاس بھاگے ہوئے۔ ) بت کدے کے ذمہ داروں کا تجسس میلے کی مصروفیت سے فارغ ہو کر معبد کے ذمہ دار جب واپس لوٹے اور انھوں نے بت کدے میں بتوں کی تباہی دیکھی تو سر جوڑ کر بیٹھے، تلاش شروع ہوئی کہ آخر یہ کس کی کارستانی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہاں شہر میں ایک نوجوان رہتا ہے وہ اکثر بت پرستی کی مذمت کرتے دیکھا گیا ہے یقینا یہ اسی کی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔ چناچہ لوگ بھاگے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو آپ نے سب سے پہلے ان لوگوں کا مذاق اڑایا اور بڑے بت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان سب میں بڑا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 94–96

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا شدید ردعمل۔ قوم جب واپس پلٹی تو ان کی خوشی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے، چناچہ دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ (قَالُوْا فَاْتُوْا بِہٖ عَلٰٓی اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَشْھَدُوْنَ )[ الانبیاء : 61] ” انھوں نے کہا کہ ابراہیم کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ گواہ ہوں۔ “ (فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّونَ ) [ الصّٰفٰت : 94] ” وہ ابراہیم کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ کس غیظ وغضب کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بت پرستوں کی کارروائی : 94: فَاَقْبَلُوْا اِلَیْہِ (پس وہ لوگ اس کے پاس آئے) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس یَزِفُّوْنَ (دوڑتے ہوئے) تیزی کے ساتھ یہ الزیف سے نکلا ہے اور وہ تیزی کو کہتے ہیں۔ قراءت : حمزہ نے یُزِفون پڑھا اس کو اَزفّ سے لیا۔ جبکہ وہ تیزی میں داخل ہو۔ مصدر ازفاف ہے۔ گویا معلوم ہوتا ہے کہ بعض نے توڑتے دیکھا تھا اور دوسروں نے نہ دیکھا تھا۔ جنہوں نے دیکھا تھا وہ جلدی سے آپ کی طرف متوجہ ہوئے پھر جنہوں نے توڑتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ وہ بھی پہنچ گئے اور کہنے لگے ہمارے ان معبودوں کے ساتھ کس نے یہ حرکت کی ہے۔ من فعل ھذا باٰلھتنا انہ لمن الظالمین ] الانبیاء : 59[ دوسروں نے تعریض کے انداز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

94، فاقبلوا الیہ، ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے ۔ ، یزفون، بھا گتے ہوئے جلدی سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تا کہ ان کو گرفتار کریں ۔ اعمش اور حمزہ نے یا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، دونوں لغات ہیں ۔ بعض نے کہا کہ یاء کے ضمہ کے ساتھ کہ وہ جلد ی سے بتوں کو جانوروں پر سوار کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–95

83۔ 95۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے من شیعۃ کی تفسیر میں من اھل دینہ 2 ؎ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین والوں میں سے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو حنیف اور ملت ابراہیمی کو حنیفی کہتے ہیں۔ حنیف کے معنی ایک طرف کا ہوجانا حضرت ابراہیم نے شرک سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو، باپ کو اور قوم کو چھوڑا اور اللہ کی وحدانیت کو ہاتھ سے نہ دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا یہ لقب ہو۔ حضرت ابراہیم اور نبی آخر الزمان ﷺ کا قصہ ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم کی طرح نبی آخر الزمان ﷺ کو بھی توحید کی حفاظت میں وطن کو قوم کو سب کو چھوڑنا پڑا۔ اور پھر جس طرح ہجرت کے بعد ابراہیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 92–94

61 حضرت ابراہیم کی طرف سے معبودان باطلہ کی زبانی تحقیر و تذلیل : سو حضرت ابراہیم نے انکے ان معبودان باطلہ کے خلاف دستی کارروائی سے پہلے ان کی زبانی کلامی تحقیر و تذلیل کیلئے ان سے کہا " کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟ "۔ یعنی ان کی تذلیل و تحقیر کے لئے فرمایا کہ یہ مٹھائیاں اور شیرینیاں جو تمہارے سامنے پڑی ہیں اور نذر و نیاز کے یہ مال اور میوے جو تمہارے آگے رکھے ہیں یہ یونہی پڑے ہیں تم کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ اور تم ان پر بیٹھنے والی مکھی کو بھی نہیں ہٹا سکتے۔ تو پھر کتنے احمق ہیں وہ لوگ جنہوں نے تم کو اپنا معبود قراردے کر خدائی کے منصب پر بٹھا رکھا ہے ؟۔ سو یہ مشرکوں کی مت ماری کا ایک کھلا اور واضح ثبوت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–102

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 91–94

ف 1 اور اسے کر مجمع کے سامنے لے آئے۔ تفصیل سورة انبیاء میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:94) اقبلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اقبال (افعال) مصدر۔ انہوں نے رخ کیا۔ وہ متوجہ ہوئے۔ یزقون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ دوڑتے ہوئے۔ زف یزف (باب ضرب) زف وزفیف وزفون مصدر۔ یزفون حال ہے اقبلوا کی ضمیر مرفوع متصل ذوالحال ہے یہ زف النعام سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے : شتر مرغ تیزی سے چلا۔ فائدہ : معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس فعل کی خبر اس کے ہم قوموں کو ہوگئی اور وہ تیزی سے گھبرائے ہوئے اور غصہ سے بھرے ہوئے واپس اس کی طرف آتے ہیں اور ان سے دریافت کرتے ہیں۔ ان کے درمیان اس بارہ میں گفتگو کی تفصیل الانبیاء میں ملاحظہ ہو۔ یا جب واپسی پر انہوں نے بتوں کی حالت غیر دیکھی اور دریافت پر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–98

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–95

(ف 1) اور ان لوگوں کے بستی کے باہر چلے جانے کے بعد بت خانہ کو اکیلا پاکر بت خانہ میں گئے اور بتوں کے سامنے کھانا دھرا ہوا دیکھ کر پہلے تو دل لگی کے طور پر بتوں سے یہ کہا کہ تم یہ کھانا کیوں نہیں کھاتے ، جب بتوں نے اس کا جواب نہ دیا تو پھر ان بتوں سے یہ کہا کہ تم بولتے کیوں نہیں اس کے بعد سب سے بڑے بت کو ثابت چھوڑ دیا اور باقی سب چھوٹے بتوں کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا، جب یہ لوگ میلہ سے پلٹ کر آئے اور بت خانہ میں عادت کے موافق کھانا لینے گئے تو بتوں کو ٹوٹا ہوا پاکرآپس میں چرچا کرنے لگے کہ یہ کام کس نے کیا ہے حضرت ابراہیم نے جب دبی ہوئی آواز سے وہ قسم کھائی تو جس کا ذکر اوپر کی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–97

[18] اب صورت واقعہ یہ ہے کہ قوم کے سالانہ میلے کا وقت آگیا ہے اور لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم عقیدہ سمجھ کر ان کے ہمراہ چلنے کو کہتے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) عذر کر رہے ہیں۔ یہ بیان اسی موقع کا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 88–97

ف 2: فنظر نظر ذفی النجوم سے مراد ایک مستقل واقعہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایلدن بہ مشرکان بابل اپنے لسی مذہبی میلے میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے ۔ انہوں نے کہا ابراہیم کو بھی دعوت دی جائے ۔ شاید یہ وہاں کا ٹھاٹھ دیکھ کر اپنے خیالات سے باز آجائے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلنے کو کہا آپ نے غور وفکر کے بعد فرمایا میں تمہارے ان شاغوں سے قطعی بیزار ہوں اور مجھے تمہاری دینی ومذہبی تقریبات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ واضح رہے کہ فنظر نظرۃ فی النجوم محاورہ ہے جس کے معنے سوچنے اور غور وفکر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ عام طور پر آدمی سوچتے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھاتا ہے اور انی سقیم کے معنے یہ ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(94) اس واقعہ کے بعد قوم کے لوگ ابراہیم کے پاس دوڑ کر گھبرائے ہوئے آتے۔ یعنی غصے میں بھرے ہوئے اور گھبرا کر دوڑے ہوئے آئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی الزام دینے لگے جب ثابت ہوچکا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 89–98

ف 5۔ یہ ستاروں کا دیکھنا بطور ایہام و توریہ کے تھا کہ وہ تو بوجہ اس کے کہ کواکب کو متصرف فی الحوادث سمجھتے تھے یوں سمجھے کہ کوئی فائدہ نجوم کے آتا ہوگا جس سے رفتار ستاروں کی دیکھ کر ان کو معلوم ہوگیا کہ میں تھوڑی دیر میں بیمار ہوجاوں گا۔ اور چونکہ وہ نجوم کے معتقد تھے اس لئے اصرار نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ازیں بعد قوم کے لوگ اس کے پاس دوڑتے ہوئے آئے : 94۔ قوم کے لوگ اپنے جلسہ ومیلہ سے جب واپس لوٹے اور بت خانہ کے مجاور اپنے بت خانہ میں داخل ہوئے تو ان کے اوسان خطا ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ انہوں نے خفیہ طور پر اپنی مجلس کی کہ اب قوم کو کیا کہنا ہے بہرحال ان کی مجلس کا فیصلہ یہی ہوا کہ یہ کارستانی ہو نہ ہو ابراہیم ہی کی ہے لیکن ابراہیم کچھ بھی ہو آخر ان کے ایک بہت بڑے پروہت کا بیٹا ہے اس لیے انہوں نے نہایت سوچ سمجھ کر یہی فیصلہ کیا ابراہیم کچھ بھی ہو آخر ان کے ایک بہت بڑے پروہت کا بیٹا ہے اس لیے انہوں نے نہایت سوچ سمجھ کر یہی فیصلہ کیا کہ اب جو کچھ بھی ہو ابراہیم کو پوری قوم کے سامنے بلانا چاہئے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–98

In verses 88 and 89, it was said: نَظَرَ‌ نَظْرَ‌ةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ. (Then, he cast a look at the stars, and then said, "I feel indisposed" 37:88-89). There is a background to these verses. The people of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) used to have a festival on a particular day. When that day came, they invited Sayyidna Ibrahim to go with them and enjoy the festival. Their purpose was that if he accompanies them in the festival, he might be impressed with them and forget about calling them to his faith. (ad-Durr-ul-Manthur, Ibn Jarir and others). But, Sayyidna Ibrahim…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 94–97

52 Here the story has been told in brief. According to the details given in Surah Ai-Anbiya`, when they returned and found all their idols broken to pieces in the temple, they started making investigations. Some people said that a young man, called Abraham, had been talking such and such things against idol-worship. At this the multitude demanded that he should be immediately seized and brought before them. Therefore, a group of the people went running to him and brought him before the multitude.

Read the full tafseer →