Explained with ayahs 88–98
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
سورة الصّٰٓفّٰت 51
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مندر میں بتوں کے سامنے طرح طرح کی کھانے کی چیزیں رکھی ہوئی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ، ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ایک خاص دن میں تہوار منایا کرتی تھی، جب وہ دن آیا تو اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو دعوت دی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن میں شرکت کے لئے چلیں مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ اس جشن میں ہمارے ساتھ رہیں گے تو شاید ہمارے دین سے متاثر ہوجائیں، اور اپنے دین کی دعوت چھوڑ دیں۔ (درمنثور وابن جریر وغیرہ) لیکن ابراہیم ؑ اس موقع سے دوسرا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ تھا کہ جب ساری قوم جشن منانے چلی جائے گی تو میں ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالوں گا، تاکہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
فنظر نظرۃ فی النجوم فقال انی سقم فتولوا عنہ مدبرین فراغ الی الھتم فقال الا تاکلون، مالکم لاتنطقون، فراغ علیھم ضرابط بالیمین (93-88)
قوم کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی کی وضاحت
مذکورہ بالا تقریر حضرت ابراہیم ؑ نے معلوم ہوتا ہے، معبد میں یا کسی تقریب کے موقع پر کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ اسکیم بنائی کہ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی اچھی طرح واضح کردیں۔ اس کے لئے یہ طریقہ انہوں نے اختیار کیا کہ شب میں تقریب سے فارغ ہو کر جب لوگ وہاں سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے ایک نظر اس طرح ستاروں پر ڈالی گویا وقت کا اندازہ کرنا چاہتے ہوں اور لوگوں کے کانوں میں بات ڈالتے ہوئے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
93۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ان کو زور سے مار مار کر توڑ ڈالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–97
16: ان کی قوم کے لوگ انہیں اپنے ایک میلے میں لے جانا چاہتے تھے، حضرت ابراہیم ؑ ایک تو میلے میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، دوسرے ان کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ جب یہ سارے لوگ میلے میں چلے جائیں گے، اور مندر خالی ہوگا تو وہ وہاں جا کر بتوں کو توڑ پھوڑ دیں گے، تاکہ یہ لوگ آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھیں جنہیں انہوں نے خدا بنا رکھا ہے۔ اس لیے انہوں نے عذر کیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ واقعی ان کے مزاج ناساز ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ تمہارے کفر و شرک کی حرکتیں دیکھ کر میری طبیعت روحانی طور پر خراب ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔
روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ…
Read the full tafseer →10 یعنی زور سے مار مار کر توڑ ڈالا۔ پہلے غالباً سورة انبیاء میں یہ قصہ مفصل گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 93{ فَرَاغَ عَلَیْہِمْ ضَرْبًام بِالْیَمِیْنِ } ”پھر وہ پل پڑا ان پر ضرب لگاتا ہوا داہنے ہاتھ سے۔“
یعنی پھر آپ علیہ السلام نے پوری قوت سے ان پر تیشے وغیرہ کے وار کرنے شروع کردیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
51 سیدنا ابراہیم کا بتوں کو توڑ پھوڑ دینا :۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدنا ابراہیم کتنی مدت سے ایسے موقعہ کے منتظر تھے۔ ادھر قوم کے لوگ میلہ منانے چلے گئے ادھر آپ سب سے بڑے مندر کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگئے۔ بتوں کی طرف غصہ سے متوجہ ہو کر کہنے لگے۔ بدبختو ! تمہارے سامنے مٹھائیاں اور کھانے پڑے ہیں انہیں کھاتے کیوں نہیں ؟ کچھ بولو تو سہی، کچھ جواب تو دو ؟ ان بےجان پتھروں نے کیا جواب دینا تھا۔ اس پر سیدنا ابراہیم کو اور بھی زیادہ غصہ آیا۔ ایک کلہاڑا لیا۔ اور سب بتوں کو خوب جی بھر کے ضربیں لگانا شروع کیں۔ سب کو توڑ پھوڑ دیا۔ البتہ سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا…
Read the full tafseer →43۔ (جس سے وہ مورتیاں ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئیں) (آیت) ” ضربا بالیمین “۔ یعنی بڑی شدت وقوت کے ساتھ۔ وتقیید الضرب بالیمین للدلالۃ علی شدتہ وقوتہ (روح) اے ضربا شدیدا قویا (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–113
آیت نمبر 85 تا 113
ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…
Read the full tafseer →فراغ علیہم ضربًا بالیمین پھر قوت کے ساتھ ان پر جا پڑے اور مارنے لگے۔
یعنی پوشیدہ طور پر بتوں کے پاس گئے۔ رَاغَ کے بعد علٰی کا استعمال ظاہر کر رہا ہے کہ ابراہیم نے ان پر تسلط پا لیا۔ یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ حضرت ابراہیم کا بتوں کے پاس جانا بتوں کیلئے ضرر رساں تھا (اول صورت میں علٰی استعلاء کیلئے ہوگا اور دوسری صورت میں ضرر کے مفہوم کو ظاہر کرنے کیلئے۔ مترجم)
ضَرْبًا یعنی ابراہیم نے اپنے دائیں ہاتھ سے زور کے ساتھ بتوں پر ضرب لگائی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیمین سے مراد قسم ہے ‘ یعنی اپنی قسم کی وجہ سے بتوں پر ضرب لگائی۔ حضرت ابراہیم نے پہلے قسم کھائی تھی اور کہا تھا : تَاللّٰہِ لَاَکِیْدَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
(88۔ 93) جب قوم نے میلہ میں چلنے کو کہا تو حضرت ابراہیم نے ستاروں کی طرف ایک نظر بھر کر دیکھی یا یہ کہ ذرا سوچ کر کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں تاکہ قوم کو چھوڑ دے۔
غرض وہ لوگ ان کو چھوڑ کر اپنے میلہ میں چلے گئے تو حضرت ابراہیم ان کے بتوں میں جا گھسے اور مذاق اڑا کر کہنے کہ یہ شہد وغیرہ کے چڑھاوے جو تمہارے سامنے رکھے ہیں یہ کھاتے کیوں نہیں ہو۔ چناچہ وہ جواب کہاں سے یتے تو حضرت ابراہیم نے کہا کہ تمہیں کیا ہوا تم بولتے بھی نہیں ہو پھر ان پر قوت کے ساتھ کدال لے کر جا پڑے اور ان کو مارنا شروع کردیا۔
Read the full tafseer →فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًۢـا بالْيَمِيْنِ : ”یَمِیْنٌ“ کا معنی دایاں ہاتھ بھی ہے اور قوت بھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (58) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–96
91 ۔ 96:۔ سدی نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے بتوں کی طرف گئے (2) ۔ ابو مالک نے کہا : حـضرت ابراہیم علیہ اسلام متوجہ ہوئے۔ قتادہ نے کہا : وہ ان کی طرف مائل ہوئے۔ کلبی نے کہا : ان کی طرف آئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : راغ کا معی ہے پھرے۔ سب کا معنی قریب قریب ہے راغ یروغ روغا و روغانا جب وہ جھکا۔ طریق رائغ یعنی ایسا راستہ جو ایک طرف جھکا ہوا ہو۔ شاعر نے کہا :
و یریک من طرف اللسان حلاوۃ و یروغ عنک کما یروع الثعلب
وہ زبان کی ایک جانب سے تیرے لئے مٹھاس دکھاتا ہے اور تم سے یوں مکر کرتا ہے جس طرح لومڑی کرتی ہے۔
الاتاکلون۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں سے یوں خطاب کیا جس طرح عقلاء کو خطاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔
اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں :
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…
Read the full tafseer →فَرَاغَ عَلَيْهِمْ [پھر وہ ٹوٹ پڑے ان پر ] ضَرْبًۢـا [مارتے ہوئے ] بِالْيَمِيْنِ [داہنے ہاتھ سے ] ۔
زف (2) کسی پر جھپٹ پڑنا۔ ٹوٹ پڑنا۔ اس کے لئے عموما علی کا صلہ آتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ۔ 93 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–98
(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–111
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔
نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
40:۔ فراغ علیہم الخ : اس کے بعد دونوں ہاتھوں کی پوری قوت سے کلہاڑے کے ساتھ ان پر چوٹیں لگانا اور انہیں توڑنا پھوڑنا شروع کردیا۔ الیمین قوت سے کنایہ ہے۔ بالیمین ای بالقوۃ علی ان الیمین مجاز عنہا روی انہ (علیہ السلام) کان یجمع یدیہ فی الاۃ التی یضربھا بھا وھی الف اس فیضربہا بکمال قوتہ (روح ج 3 ص 123) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–98
نوح (علیہ السلام) کی دعا
سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…
Read the full tafseer →فَرَاغَ عَلَيْہِمْ ضَرْبًۢـا بِالْيَمِيْنِ 93
فرغ
الفَرَاغُ : خلاف الشّغل، وقد فَرَغَ فَرَاغاً وفُرُوغاً ، وهو فَارِغٌ. قال تعالی: سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] ، وقوله تعالی: وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] ، أي : كأنّما فَرَغَ من لبّها لما تداخلها من الخوف وذلک کما قال الشاعر : كأنّ جؤجؤه هواء
«1» وقیل : فَارِغاً من ذكره، أي أنسیناها ذكره حتی سکنت واحتملت أن تلقيه في الیمّ ، وقیل : فَارِغاً ، أي : خالیا إلّا من ذكره، لأنه قال : إِنْ كادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] ، ومنه قوله تعالی: فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
فَرَاغَ اِلٰٓی اٰلِھَتِھِمْ فَقَالَ اَلاَ تَاْکُلُوْنَ ۔ مَالَـکُمْ لاَ تَنْطِقُوْنَ ۔ فَرَاغَ عَلَیْھِمْ ضَرْبًا م بِالْیَمِیْنِ ۔ (الصآفات : 91 تا 93)
(پس وہ نظر بچا کر چپکے سے ان کے معبودوں کی طرف گیا بولا تم کھاتے کیوں نہیں ہو۔ کیا بات ہے تم کچھ بولتے بھی نہیں ہو۔ پھر گھسا ان پر مارتا ہوا داہنے ہاتھ سے۔ )
بت خانے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ظرافت اور حمیت
رات کا ایک حصہ گزر جانے پر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ اب پہریدار سو چکے ہیں اور بیشتر لوگ میلے کی دلچسپیوں میں کھو چکے ہیں تو آپ نظر بچا کر اس جگہ تک پہنچ گئے جہاں چھوٹے بڑے بت رکھے ہوئے تھے آپ نے دیکھا کہ بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معبودان باطل کے خلاف اقدام۔
نہ معلوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کتنا عرصہ باپ اور قوم کو سمجھاتے رہے۔ طویل عرصہ تک سمجھانے کے باوجود جب قوم سمجھنے کے لئے تیار نہ ہوئی تو آپ نے سوچا کہ اگر دلائل انکی سمجھ میں نہیں آرہے اور یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان مورتیوں پر مرے جا رہے ہیں۔ تو اب ان کے معبودوں کی عملی طور پر خبر لینی چاہئے، تب بلا خوف وخطر فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ مجسمے میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئے ہیں۔ (الانبیاء : 57)
اتفاق کی بات دیکھیے اسی کشمکش میں قوم کا میلہ آجاتا ہے۔ مشرک قوم ایسے میلوں میں نہ صرف خود جاتی ہے۔ بلکہ…
Read the full tafseer →93: فَرَاغَ عَلَیْھِمْ ضَرْبًام (مخفی طور پر ان کی طرف متوجہ ہوئے گویا اس طرح کہا کہ آپ نے ان کو مارامارنا) کیونکہ فراغ علیہم بمعنی ضربہم ہے۔ یا راغ علیہم ان کی طرف خفیہ گئے اس حال میں کہ آپ ان پروار کررہے تھے۔ بِالْیَمِیْنِ (دائیں ہاتھ سے) زور دار قوی ضرب سے کیونکہ یمین دونوں ہاتھوں میں قوی تر اور مضبوط تر ہے۔ یا قوت ومتانت سے یا اس حلف کے سبب جو آپ نے اٹھایا تھا۔ جو اس قول میں مذکور ہے۔ تا اللّٰہ لا کی دن اصنامکم ] الانبیاء : 57[
Read the full tafseer →93، فراغ علیھم ضربا لیمین ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دائیں ہاتھ کے ساتھ ان کو شدید ضرب لگائی کیونکہ کام کاج میں دایاں ہاتھ بائیں سے زیادہ اقوی ہے۔ بعض نے کہا کہ بالیمین سے مراد ہے مضبوطی کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ یمین سے مراد قسم ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قسم کھائی تھی اور کہا تھا ، تاللہ لا کی دن اصنا مکم بعد ان تولوامدبرین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–95
83۔ 95۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے من شیعۃ کی تفسیر میں من اھل دینہ 2 ؎ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین والوں میں سے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو حنیف اور ملت ابراہیمی کو حنیفی کہتے ہیں۔ حنیف کے معنی ایک طرف کا ہوجانا حضرت ابراہیم نے شرک سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو، باپ کو اور قوم کو چھوڑا اور اللہ کی وحدانیت کو ہاتھ سے نہ دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا یہ لقب ہو۔ حضرت ابراہیم اور نبی آخر الزمان ﷺ کا قصہ ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم کی طرح نبی آخر الزمان ﷺ کو بھی توحید کی حفاظت میں وطن کو قوم کو سب کو چھوڑنا پڑا۔ اور پھر جس طرح ہجرت کے بعد ابراہیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–113
آیت 83
یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
61 حضرت ابراہیم کی طرف سے معبودان باطلہ کی زبانی تحقیر و تذلیل : سو حضرت ابراہیم نے انکے ان معبودان باطلہ کے خلاف دستی کارروائی سے پہلے ان کی زبانی کلامی تحقیر و تذلیل کیلئے ان سے کہا " کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟ "۔ یعنی ان کی تذلیل و تحقیر کے لئے فرمایا کہ یہ مٹھائیاں اور شیرینیاں جو تمہارے سامنے پڑی ہیں اور نذر و نیاز کے یہ مال اور میوے جو تمہارے آگے رکھے ہیں یہ یونہی پڑے ہیں تم کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ اور تم ان پر بیٹھنے والی مکھی کو بھی نہیں ہٹا سکتے۔ تو پھر کتنے احمق ہیں وہ لوگ جنہوں نے تم کو اپنا معبود قراردے کر خدائی کے منصب پر بٹھا رکھا ہے ؟۔ سو یہ مشرکوں کی مت ماری کا ایک کھلا اور واضح ثبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–102
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113:
اسرار و معارف :
یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
ف 1 اور اسے کر مجمع کے سامنے لے آئے۔ تفصیل سورة انبیاء میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →(37:93) راغ علیہم۔ وہ ان پر پل پڑا ۔ وہ ان پر ٹوٹ پڑا۔
ضربا۔ یا تو معنی کے اعتبار سے راغ علیہم کا مصدر ہے۔ یا فعل مضمر کا مصدر ہے ای فراغ علیہم یضربہم ضربا۔ وہ ان پر پل پڑا اور مارنے لگا۔ یا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے۔ ای ضاربا۔ اور اس صورت میں یہ ضمیر فاعل راغ سے حال ہے یا یہ مفعول لہ ہے ای لاجل ضرب۔ مارنے کے لئے۔
بالیمین۔ دائیں ہاتھ کے ساتھ ۔ پوری قوت کے ساتھ۔ فراغ علیہم ضربا بالیمین پھر وہ ان پر ٹوٹ پڑا اور اپنی پوری قوت کے ساتھ مارنے لگا۔
بعض کے نزدیک یمین سے مراد یہاں قسم ہے یعنی اپنی قسم کی وجہ سے بتوں پر ضرب لگائی۔ اس صورت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قسم کی طرف اشارہ ہے وت اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے)
تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–95
(ف 1) اور ان لوگوں کے بستی کے باہر چلے جانے کے بعد بت خانہ کو اکیلا پاکر بت خانہ میں گئے اور بتوں کے سامنے کھانا دھرا ہوا دیکھ کر پہلے تو دل لگی کے طور پر بتوں سے یہ کہا کہ تم یہ کھانا کیوں نہیں کھاتے ، جب بتوں نے اس کا جواب نہ دیا تو پھر ان بتوں سے یہ کہا کہ تم بولتے کیوں نہیں اس کے بعد سب سے بڑے بت کو ثابت چھوڑ دیا اور باقی سب چھوٹے بتوں کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا، جب یہ لوگ میلہ سے پلٹ کر آئے اور بت خانہ میں عادت کے موافق کھانا لینے گئے تو بتوں کو ٹوٹا ہوا پاکرآپس میں چرچا کرنے لگے کہ یہ کام کس نے کیا ہے حضرت ابراہیم نے جب دبی ہوئی آواز سے وہ قسم کھائی تو جس کا ذکر اوپر کی آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–97
[18] اب صورت واقعہ یہ ہے کہ قوم کے سالانہ میلے کا وقت آگیا ہے اور لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم عقیدہ سمجھ کر ان کے ہمراہ چلنے کو کہتے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) عذر کر رہے ہیں۔ یہ بیان اسی موقع کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
ف 2: فنظر نظر ذفی النجوم سے مراد ایک مستقل واقعہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایلدن بہ مشرکان بابل اپنے لسی مذہبی میلے میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے ۔ انہوں نے کہا ابراہیم کو بھی دعوت دی جائے ۔ شاید یہ وہاں کا ٹھاٹھ دیکھ کر اپنے خیالات سے باز آجائے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلنے کو کہا آپ نے غور وفکر کے بعد فرمایا میں تمہارے ان شاغوں سے قطعی بیزار ہوں اور مجھے تمہاری دینی ومذہبی تقریبات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ واضح رہے کہ فنظر نظرۃ فی النجوم محاورہ ہے جس کے معنے سوچنے اور غور وفکر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ عام طور پر آدمی سوچتے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھاتا ہے اور انی سقیم کے معنے یہ ہیں کہ…
Read the full tafseer →(93) پھران بتوں کو داہنے ہاتھ یعنی پوری قوت سے مارتا ہوا ان پر جاپڑا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی زور سے مار مار کر توڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–98
ف 5۔ یہ ستاروں کا دیکھنا بطور ایہام و توریہ کے تھا کہ وہ تو بوجہ اس کے کہ کواکب کو متصرف فی الحوادث سمجھتے تھے یوں سمجھے کہ کوئی فائدہ نجوم کے آتا ہوگا جس سے رفتار ستاروں کی دیکھ کر ان کو معلوم ہوگیا کہ میں تھوڑی دیر میں بیمار ہوجاوں گا۔ اور چونکہ وہ نجوم کے معتقد تھے اس لئے اصرار نہیں کیا۔
Read the full tafseer →پھر آپ نے داہنے ہاتھ سے پوری قوت کے ساتھ ضربیں لگائیں :
93۔ اس طرح اپنے ہی وہم میں باتیں کرتے کرتے آپ نے دل میں پختہ ارادہ کرلیا اور پوری قوت کے ساتھ ان پر ضربیں لگانا شروع کردیں ۔ آپ کے ہاتھ میں اس وقت یقینا کوئی ایسی چیز ضرور تھی جس سے پتھروں کو توڑا جاسکتا ہے چونکہ وہ پتھروں ہی سے گھڑے گئے تھے اور وہ جتنے تھے ان میں سے ایک بڑے کو چھوڑ کر سب کے سب فنا کردیئے کہ بت خانہ کے اندر ایک ڈھیر لگا دیا کسی کا بازو ‘ کسی کی ٹانگ اور کسی کا سر اور کسی کے سارے اعضاء کو توڑ پھوڑ دیا ، اس طرح سب پر ہاتھ صاف کر کے واپس آگئے کہ چلو اب جو ہو سو ہو اس طرح باپ بیٹے کی سرد جنگ اب پورے زور وشور سے آگ کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
In verses 88 and 89, it was said: نَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ. (Then, he cast a look at the stars, and then said, "I feel indisposed" 37:88-89). There is a background to these verses. The people of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) used to have a festival on a particular day. When that day came, they invited Sayyidna Ibrahim to go with them and enjoy the festival. Their purpose was that if he accompanies them in the festival, he might be impressed with them and forget about calling them to his faith. (ad-Durr-ul-Manthur, Ibn Jarir and others). But, Sayyidna Ibrahim…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
51 This shows that there were different kinds of food placed before the idols in the temple.
Read the full tafseer →