As-Saaffaat 37:100

As-Saaffaat · from ayah 100

37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۟رَبِّ هَبۡ لِىۡ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ

اے پروردگار مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو)

— Fateh Muhammad Jalandhari

My Lord, grant me [a child] from among the righteous."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:100

اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پروردگار مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرے پروردگار ! مجھے ایک ایسا بیٹا دیدے جو نیک لوگوں میں سے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

الٰہی مجھے لائق اولاد دے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(پھر اَرضِ مقدّس میں پہنچ کر دعا کی:) اے میرے رب! صالحین میں سے مجھے ایک (فرزند) عطا فرما،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میرے رب ! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے میرے پروردگار ! مجھے ایک صالح (بیٹا) عطا فرما

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے رب، مجھے اولاد صالح عطا فرما۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور آپ نے دعاء کی کہ) اے میرے رب عطا فرما دے مجھے ایک صالح (اور نیک) فرزند

— مولانا اسحاق مدنی

اے میرے پروردگار مجھے ایک صالح (فرزند) دے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(آپ ؑ نے دعا کی :) پروردگار ! مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے اللہ ! مجھے اولاد عطا فرما جو سعادت مندوں میں سے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Lord, grant me a righteous son.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O my Lord, bless me with a righteous son.

— Muhammad Taqi Usmani

O my Lord, bless me with a righteous son.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"My Lord! Grant me (offspring) from the righteous."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

My Lord! Vouchsafe me of the righteous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

My Lord, grant me [a child] from among the righteous."

— Saheeh International

Abraham prayed, "Lord, grant me a righteous son".

— Muhammad Sarwar

My Lord! grant me of the doers of good deeds.

— Muhammad Habib Shakir

My Lord! Bestow on me a son who will be of the righteous.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:100

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 99–113

ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 56 اس دعا سے خود بخود یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اس وقت بےاولاد تھے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک بیوی اور ایک بھتیجے (حضرت لوط علیہ السلام) کو لے کر ملک سے نکلے تھے۔ اس وقت فطرۃً آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ کوئی صالح اولاد عطا فرمائے جو اس غریب الوطنی کی حالت میں آپ کا غم غلط کرے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ (اے میرے پروردگار ! مجھے ایک نیک فرزند عطا فرما) چناچہ آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک فرزند کی پیدائش کی خوشخبری سنائی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رب ھب لی من الصلحین (100) اپنے ساتھیوں کی تمنا اپنے خویش و اقارب اور خاندان و قبیلہ سے کٹنے کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ اچھے ساتھی ہیں چناچہ ہجرت کے ساتھ ہی حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دعا فرمائی کہ اے رب ! ان برے لوگوں کی جگہ تو مجھے اچھے ساتھی دے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا میرے نزدیک صرف صالح اولاد ہی کے لئے نہیں بلکہ اچھے رفیقوں اور مددگاروں کے لئے بھی تھی جن میں صالح اولاد بدرجہ اولیٰ شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 100–101

11۔ 1 حَلِیْمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 99–100

18: حضرت ابراہیم ؑ کا اصل وطن عراق تھا، اس واقعے کے بعد آپ شام کی طرف ہجرت فرما گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

رب ھب لی من الصلحین (100) ” “۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مخلص بندے کی دعا مقبول کرلی۔ جس نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور قلب سلیم لے کر اللہ کے دربار میں آگیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کنبہ اور وطن چھوٹا تو اچھی اولاد عطا فرما، جو دینی کام میں میری مدد کرے اور اس سلسلہ کو باقی رکھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 100{ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ } ”آپ علیہ السلام نے دعا کی : پروردگار ! مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 99–100

54 شام کی طرف ہجرت :۔ جب آپ کا باپ اور آپ کی ساری قوم آپ کی جانی دشمن بن گئی تو آپ نے ترک وطن کا فیصلہ کرلیا کہ اب یہاں سے نکل جانا ہی بہتر ہے۔ نکلتے وقت یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے۔ فقط اتنا کہا کہ میں اللہ کی خاطر ہجرت پر روانہ ہوا ہوں۔ مجھے کہاں جانا چاہئے یہ بات میرا پروردگار مجھے خود ہی بتائے گا اور میری رہنمائی فرمائے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو شام کی طرف جانے کا حکم ہوا اور آپ اپنی بیوی اور بھتیجا یا چچا زاد بھائی سیدنا لوط سمیت شام کی طرف چلے گئے اس وقت تک صرف سیدنا لوط ہی آپ پر ایمان لائے تھے۔ اور آپ کی اس وقت تک کوئی اولاد بھی نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 100–101

49۔ مراد حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہیں۔ (آیت) ” حلیم “۔ لڑکے کے لئے یہ صفت حلم مزاجی کی تصریح یہود ونصاری کے رد میں ہے، جو آج تک حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو تند مزاجی وبدخوئی میں ضرب المثل کی شہرت دیئے ہوئے ہیں، (آیت) ” رب ھب لی من الصلحین “۔ فرزند صالح کی دعا مانگتے رہنا کسی کمال روحانی کے منافی ہونا الگ رہا۔ عین سنت انبیاء رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رب ھب لی من الصلحین اے میرے رب ! مجھے کوئی ایسا بچہ عنایت فرما جو نیکوں میں سے ہو۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ارض مقدس (شام) میں آنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی دعا کی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 100–101

(100۔ 101) پھر (شام پہنچ کر) یہ دعا کی کہ میرے پروردگار مجھے ایک نیک فرزند دے سو ہم نے ان کو ایک ایسے فرزند کی خوشخبری دی جو بچپن میں علم اور بڑے ہونے پر حلیم المزاج ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ : اس سے ظاہر ہے کہ اس وقت ابراہیم ؑ کی اولاد نہیں تھی۔ چناچہ جب وہ اپنی قوم سے مایوس ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ پروردگار ! مجھے اپنی قوم اور خاندان کے عوض صالح اولاد عطا فرما، جو غریب الوطنی میں میری مونس و غم خوار اور مددگار ہو۔ واضح رہے، صالح ہونا بندے کے مقامات میں سے بہت اونچا مقام ہے، جس کی ابراہیم ؑ نے اپنے لیے دعا کی : (رَبِّ هَبْ لِيْ حُكْمًا وَّاَلْـحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ) [ الشعراء : 83 ] ”اے میرے رب ! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔“ اور اس جگہ ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کے لیے دعا کی : (رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 99–101

99 ۔ 101:۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر -1 یہ آیت ہجرت میں اصل ہے۔ سب سے پہلے جس نے یہ عمل کیا وہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام ہیں یہ اس وقت ہوا جب حضرت ابرایم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے چھٹکارا دیا تو آپ نے کہا : میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں یعنی میں اپنی قوم کے شہر اور جائے پیدائش سے ہجرت کرنے والا ہوں جہاں میرے لئے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن ہوگا میں نے جب صحیح عمل کی نیت کی ہے ‘ اللہ تعالیٰ مجھے اس کی ہدایت دینے والا ہے۔ مقاتل نے کہا : یہ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مخلوقات میں سے حضرت طوط اور حضرت سارہ کے ساتھ ارض مقدس یعنی شام کے علاقہ کی طرف ہجرت کی (1) ایک قول یہ کیا گیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

رَبِّ [اے میرے رب ] هَبْ لِيْ [تو بخش دے مجھ کو ] مِنَ الصّٰلِحِيْنَ [نیکوں میں سے ] نوٹ۔ 1: آیات 100 ۔ 101 میں ہے کہ اپنے وطن سے ہجرت کرتے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک صالح بیٹے کی دعا کی تھی اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غلام حلیم کی بشارت دی جبکہ قرآن مجید میں جہاں حضرت اسحٰق (علیہ السلام) کی بشارت دی گئی ہے وہاں ان کے لئے غلام علیم کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو صاحبزادوں کی دو نمایاں صفات الگ الگ تھیں۔ آیات زیر مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ غلام حلیم یعنی اسماعیل (علیہ السلام) جب دوڑنے کے قابل ہوگئے تب ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب میں انھیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 99–103

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے علاقہ سے ہجرت کرنا پھر بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ملنا اور فرمانبرداری میں کامیاب ہونا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن بابل کے قریب تھا انہوں نے وہاں کے مشرکین کو شرک سے باز آنے اور خالق کائنات وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی، یہ لوگ شرک سے باز نہ آئے، آپ نے ہجرت کا اعلان کردیا اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں یعنی کسی ایسی جگہ جاکر آباد ہوتا ہوں جہاں اپنے رب کے احکام ادا کرسکوں اور دوسروں کو بھی راہ حق دکھا سکوں، میرا رب میری رہبری فرمائے گا اور مجھے ایسی جگہ پہنچا دے گا جہاں رہنے سے اس کی رضا مندی حاصل ہوگی، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

45:۔ رب ھب لی الخ : ملک شام میں پہنچنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے فرزند عطا کرنے کی دعا کی۔ فبشرنہ الخ، فرمایا ہم نے اسے ایک بلند حوصلہ فرزند کی خوشخبری دی۔ اس سے مراد حضرت اسمعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) ہیں۔ لیکن یہودی غلط بیانی اور تحریف سے کام لیتے ہوئے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح قرار دیتے ہیں۔ علماء اسلام میں بھی دونوں قول موجود ہیں۔ لیکن راجح یہی ہے کہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہی ذبیح ہیں۔ کیونکہ ہجرت کے بعد حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی بشارت دی گئی۔ اور واقعہ ذبح ذکر کرنے کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت ہوئی تو اس سے معلوم ہوا حضرت اسحاق (علیہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–113

ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبِّ ہَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۝ 100 وهب الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی: وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ [إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ( و ہ ب ) وھبتہ ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب ) بخشے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 100–101

رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ فَبَشَّرْنٰـہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ ۔ (الصآفات : 100، 101) (اے میرے رب ! مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحوں میں سے ہو۔ تو ہم نے اس کو ایک بردبار لڑکے کی بشارت دی۔ ) بیٹے کی دعا اور قبولیت قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ نے ہجرت کی ہے تو آپ کے ساتھ صرف آپ کی ایک بیوی اور ایک بھتیجے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کے نام سے معروف ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت عطا فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ تکالیف اور غربت میں یقینا بیوی انسان کا ایک بڑا سہارا ہوتی ہے لیکن بیٹا ایک ایسی ضرورت ہے جو اپنی ایک انفرادی حیثیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 99–100

فہم القرآن ربط کلام : آگ سے نکلنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہجرت کرنے کا فیصلہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ پہلے سے آپ کو معلوم نہ تھا کہ مجھے کدھر جانا ہے وطن چھوڑتے وقت آپ نے کہا۔ بس میں اللہ کے بھروسے پر نکل رہا ہوں وہ جدھر رہنمائی کرے گا میں چلا جاؤں گا۔ صاحب قصص القرآن نے لکھا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے دوران ہجرت پہلا قیام کلدانین میں فرمایا۔ کچھ عرصہ جہاں قیام کرنے کے بعد آپ ( علیہ السلام) بمعہ حضرت سارہ اور لوط (علیہ السلام) کے حاران نامی بستی میں قیام پذیر ہوئے۔ کچھ عرصہ تک حاران نامی بستی میں ٹھہرے۔ یہاں بھی دین حنیف کی دعوت کا کام جاری رکھا۔ بالآخر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بیٹے کے لئے دُعا : 100: رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (اے میرے رب مجھکو ایک نیک فرزند دے) صالحین میں سے ایک مراد اس سے بیٹا ہے۔ کیونکہ لفظ ہبہ کو ولدؔ پر غلبہ دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 96–101

96۔ 101 فرقہ قدریہ معتزلہ اور اہل سنت میں جس طرح اور چند مسئلوں میں بحث ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی بڑی بحث کا ہے۔ فرقہ قدریہ کا یہ مذہب ہے کہ بندہ جو کچھ کام کرتا ہے۔ وہ خود بندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ کام بندہ میں پیدا نہیں کئے۔ اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ بندہ کی ذات اور سب اچھے برے بندہ کے کام اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ لیکن برے کام جب بندہ کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتا ہے۔ اور اچھے کام کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی بحث ایک ایسی بڑی بحث ہے۔ کہ امام بخاری اور علم نے اس باب میں بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ آیت بھی علمائے اہل سنت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے کیونکہ اس آیت سے بندہ کا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

66 حضرت ابراہیم کی اولاد صالح کے لیے دعا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ابراہیم نے عرض کیا اے میرے رب مجھے ایک صالح فرزند عطا فرما دے "۔ کہ فرزند عطا کرنا اور اولاد سے نوازنا تیری ہی شان اور تیرا ہی کام ہے۔ اور جب حضرت ابراہیم خلیل جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اولاد دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے بلکہ وہ بھی اللہ پاک ہی کے حضور دست سوال دراز کرتے ہیں اور اسی سے مانگتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو کسی کو اولاد دے سکے ؟ اور جب حضرت ابراہیم جیسی ہستی اپنے لئے بھی اتنی حاجت روائی نہیں کرسکتی تو پھر اور کون ہے جو حاجت روا و مشکل کشا بن سکے اور لوگوں کو اولاد کی نعمت سے نواز سکے ؟ سو کتنے گمراہ اور کس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–102

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 مقاتل (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے یہ دعا شام پہنچ کر فرمائی۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:100) رب ھب لی من الصالحین۔ ای رب ھب لی ولدا صالحا اے میرے رب مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما۔ ای یا ربی اے میرے رب۔ ھب۔ وھب یھب (فتح) ھبۃ مصدر سے امر کا صیغہ واحد مذکر حضر ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–113

لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 96–101

(ف 2) جب حضرت ابراہیم کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ دے سکے تو ان بت پرستوں نے یہ تجویز کہ ایک بڑا آتش خانہ بناکرحضرت ابراہیم کو اس میں ڈال دو اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی اور ان کے مخالف کا نجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے گا مگر اللہ نے ان کو ہی نیچا، دکھلایا اور حضرت ابراہیم پر آگ گلزار کردی اب حضرت اسماعیل نے الہام الٰہی کے موافق ملک شام کی طرف ہجرت کی اور ملک شام میں پہنچ کر نیک بیٹے کے عطا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–101

ف 1: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منصوبہ یہ تھا ۔ کہ کس طریق سے ان لوگوں پر بتوں کی عاجزی اور بےبسی ثابت ہوجائے ۔ اور یہ دیکھ لیں کہ ان کے بت خود اپنی حفاظت پر قادر نہیں ہیں ۔ جہ جائیکہ کائنات کا انتظام وانصرام ان کے ہاتھ میں ہو ۔ جب یہ لوگ اپنی مذہبی تقریب میں چلے گئے ۔ تو ان کو یہ سوجھی کہ ان کے پاس کچھ کھانا لے کر گئے ۔ اور ان سے کھانے کی درخواست کی ۔ اور جب دیکھا کہ یہ کھانے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاتے ہیں ۔ تو کہا تم کیوں کھاتے نہیں ہو ۔ اور اگر بھوک نہیں ہے ۔ تو بولتے کیوں نہیں ۔ غرض یہ تھی کہ ان لوگوں کے اس عقیدہ کی تذلیل کی جائے ۔ اور بتایا جائے کہ جو بت نہ نذرانوں کو قبول کرتے ہیں ۔ نہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(100) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار مجھ کو کوئی شائستہ اور سعادت مند فرزند عطا فرما۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے بعد اللہ رب کریم سے نیک اولاد کی دعا کی : 100۔ ابراہیم (علیہ السلام) ہجرت کرنے کے بعد چلتے چلاتے کنعان کی طرف تشریف لے آئے ۔ سارہ ؓ کے ساتھ آپ کی شادی اپنے وطن میں ہی ہوچکی تھی جو آپ کی چچا زاد بھی تھیں اور دوران ہجرت اللہ نے مصر سے ایک اور بیوی عطا کردی جو مصر کی شہزادی تھیں جن کا نام بی بی ہاجرہ ؓ تھا اب دو بیویاں آپ کے پاس تھیں اور تیسری سے آپ نے وہاں پہنچ کر شادی کی جس کا نام قطورا تھا لیکن ابھی تک اولاد سے محروم تھے آپ نے اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد عطا کرنے کی اپیل کی کہ اے اللہ مجھے ایسی اولاد عطا فرما جو میری فرمانبردار بھی ہو اور تیرے احکام کی بھی پابند…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

He said: رَ‌بِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ (0 my Lord, bless me with a righteous son."- 100). His prayer was answered and Allah Ta’ ala gave him the good news of the birth of a son.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

56 This prayer by itself shows that the Prophet Abraham at that time was childless. From the details given at other places in the Qur'an, it becomes clear that he had left his country with only one wife and one nephew (the Prophet Lot). Therefore, he naturally desired that Allah should bless him with a righteous child, who could be a source of comfort and consolation for him in a foreign land.

Read the full tafseer →