Explained with ayahs 99–113
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔
خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 57
اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ دعا کرتے ہی یہ بشارت دے دی گئی۔ قرآن مجید ہی میں ایک دوسرے مقام پر حضرت ابراہیم ؑ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ " شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے " (سورة ابراہیم، آیت 39)۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم ؑ کی دعا اور اس بشارت کے درمیان سالہا سال کا فصل تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر 86 برس کی تھی (پیدائش 1616) ، اور حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش کے وقت سو برس کی (615)
Read the full tafseer →فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ (پس ہم نے ان کو ایک حلیم المزاج فرزند کی بشارت دی)
”حلیم المزاج“ فرما کر اشارہ کردیا گیا کہ یہ نومولود اپنی زندگی میں ایسے صبر وضبط اور بردباری کا مظاہرہ کرے گا کہ دنیا اس کی مثال نہیں پیش کرسکتی۔ اس فرزند کی ولادت کا واقعہ یہ ہوا کہ جب حضرت سارہ نے یہ دیکھا کہ مجھ سے کوئی اولاد نہیں ہو رہی تو وہ سمجھیں کہ میں بانجھ ہوچکی ہوں ادھر فرعون مصر نے حضرت سارہ کو اپنی بیٹی جن کا نام ہاجرہ تھا، خدمت گزاری کے لئے دے دی تھی، حضرت سارہ نے یہی ہاجرہ حضرت ابراہیم ؑ کو عطا کردیں اور حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے نکاح کرلیا، انہی ہاجرہ کے بطن سے یہ صاحبزادے پیدا ہوئے اور ان کا نام…
Read the full tafseer →فبشرنہ بغلام حلیم (101)
دعا کی قبولیت اور حضرت اسمعیل کی ولادت کی بشارت
یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور ان کو ایک فرزند کی ولادت کی خوش خبری دی گئی اس فرزند سے ظاہر ہے کہ حضرت اسماعیل مراد ہیں۔ اس کے بعض وجوہ بالکل واضح ہیں۔
-1 اس کی اول وجہ یہ ہے کہ یہی حضرت ابراہیم کی اس وقت اکلوتی اولاد تھے جس کے لئے انہوں نے دعا فرمائی تھی۔ حضرت اسحاق کے متعلق اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ان کے لئے دعا نہیں فرمائی تھی، بلکہ وہ حضرت اسماعیل کی قربانی کے انعام کے طور پر ان کو عطا ہوئے۔
-2 دوسری وجہ یہ ہے کہ اگٓے ان کی قربانی کا ذکر آ رہا ہے اور حضرت ابراہیم نے قربان حضرت اسماعیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
11۔ 1 حَلِیْمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔
Read the full tafseer →19: اس سے مراد حضرت اسماعیل ؑ ہیں۔
Read the full tafseer →فبشرنہ بغلم حلیم (101) “۔ یہ حضرت اسماعیل ہیں جس طرح اس سورت اور سیرت کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اللہ نے ان کے علم اور صبر اور بردباری کی تعریف کی۔ جبکہ وہ ابھی لڑکے تھے۔ ہمیں چاہئے کہ اس مقام پر حضرت ابراہیم کی تنہائی ، وطن سے جدائی اور اہل قرابت سے دوری کے بارے میں سوچیں اور پھر اس بچے کی خوشخبری پر خوشی کا تصور کریں جس کی تعریف رب تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یہ بچہ غلام حلیم ہوگا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کا وہ طرز عمل سامنے آتا ہے جو پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد طرز عمل ہے اور ان کی زندگی میں تو وہ بہرحال ایک یادگار طرز عمل ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو قیامت تک امت مسلمہ کے لیے…
Read the full tafseer →6 یہاں سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم نے اولاد کی دعا مانگی اور خدا نے قبول کی اور وہ ہی لڑکا قربانی کے لیے پیش کیا گیا۔ موجودہ تورات سے ثابت ہے کہ جو لڑکا حضرت ابراہیم کی دعا سے پیدا ہوا وہ حضرت اسماعیل ہیں۔ اور اسی لیے ان کا نام " اسماعیل " رکھا گیا۔ کیونکہ " اسماعیل " دو لفظوں سے مرکب ہے۔ " سمع " اور " ایل "، " سمع " کے معنی سننے کے اور " ایل " کے معنی خدا کے ہیں۔ یعنی خدا نے حضرت ابراہیم کی دعا سن لی۔ " تورات " میں ہے کہ خدا نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ اسماعیل کے بارے میں میں نے تیری سن لی اس بناء پر آیت حاضرہ میں جس کا ذکر ہے وہ حضرت اسماعیل ہیں۔ حضرت اسحاق نہیں۔ اور ویسے بھی ذبح وغیرہ کا…
Read the full tafseer →آیت 101{ فَـبَشَّرْنٰــہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ } ”تو ہم نے اسے بشارت دی ایک حلیم الطبع لڑکے کی۔“
اس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام مراد ہیں۔ -۔ ”حلیم“ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس حوالے سے قرآن میں یہ لفظ بار بار آیا ہے۔ ویسے تو اللہ کی صفات کا کچھ نہ کچھ عکس انسانوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے لیکن ”حلم“ اللہ کی وہ شان ہے جو انسانوں میں زیادہ عام نہیں ہے۔ لفظ ”حلیم“ غیر اللہ کے لیے قرآن میں صرف تین مرتبہ آیا ہے۔ دو مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے التوبہ : 114 اور ہود : 75 اور ایک مرتبہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے آیت زیر مطالعہ میں۔ یہاں ایک قابل توجہ نکتہ یہ بھی ہے کہ اس آیت میں حضرت…
Read the full tafseer →55 سیدنا اسماعیل کی بشارت :۔ آپ گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑ کر شام کے علاقہ میں آئے۔ کافی عمر ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد نہ تھی لہذا اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما جو میرے گھر کی رونق بنے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس بیٹے کی بشارت دی اس کی نمایاں صفت حلیم تھی اور اس صفت میں سیدنا اسماعیل کے قربانی کے واقعہ اور اس موقع پر ان کے بردبار ہونے کی طرف لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
49۔ مراد حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہیں۔ (آیت) ” حلیم “۔ لڑکے کے لئے یہ صفت حلم مزاجی کی تصریح یہود ونصاری کے رد میں ہے، جو آج تک حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو تند مزاجی وبدخوئی میں ضرب المثل کی شہرت دیئے ہوئے ہیں، (آیت) ” رب ھب لی من الصلحین “۔ فرزند صالح کی دعا مانگتے رہنا کسی کمال روحانی کے منافی ہونا الگ رہا۔ عین سنت انبیاء رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–113
آیت نمبر 85 تا 113
ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…
Read the full tafseer →فبشرنہ بغلام حلیم سو ہم نے ان کو ایک حلیم المزاج لڑکے کی بشارت دی۔
حلیم بردبار ‘ عقلمند (قاموس) غلام حلیم سے مراد ہیں اسمٰعیل۔ یہی قول صحیح ہے۔ حضرت ابن عمر کا یہی قول ہے۔ سعید بن مسیب ‘ شعبی ‘ حسن بصری ‘ مجاہد ‘ ربیع بن انس ‘ محمد بن کعب قرظی اور کلبی کے نزدیک یہی قول مختار ہے۔ عطاء اور یوسف بن مالک کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ جس کی جگہ (غیبی مینڈھے کی) قربانی کی گئی تھی ‘ وہ اسماعیل ہی تھے۔ واقدی ‘ ابن عساکر نے بطریق عامر بن سعید از سعید بیان کیا ہے کہ حضرت سارہ ‘ حضرت ابراہیم کی بی بی تھیں ‘ مدت تک آپ کے بطن سے حضرت ابراہیم کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت سارہ نے یہ دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
(100۔ 101) پھر (شام پہنچ کر) یہ دعا کی کہ میرے پروردگار مجھے ایک نیک فرزند دے سو ہم نے ان کو ایک ایسے فرزند کی خوشخبری دی جو بچپن میں علم اور بڑے ہونے پر حلیم المزاج ہیں۔
Read the full tafseer →فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ : یعنی ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں ایک بہت حلم والے لڑکے کی بشارت دی۔ حلم میں صبر، حسن خلق، حوصلے کی وسعت اور زیادتی کرنے والوں سے درگزر شامل ہے۔ عموماً اس کا ترجمہ بردباری کیا جاتا ہے۔ یہ بیٹا اسماعیل ؑ تھا۔ ابراہیم ؑ نے یا تو یہ دعا کافی عمر ہونے کے بعد کی، یا ان کی دعا اور اس کی قبولیت میں کئی سال کا وقفہ ہوا، کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ) [ إبراہیم : 39 ] ”سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔“ ابراہیم ؑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
99 ۔ 101:۔ اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر -1 یہ آیت ہجرت میں اصل ہے۔ سب سے پہلے جس نے یہ عمل کیا وہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام ہیں یہ اس وقت ہوا جب حضرت ابرایم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے چھٹکارا دیا تو آپ نے کہا : میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں یعنی میں اپنی قوم کے شہر اور جائے پیدائش سے ہجرت کرنے والا ہوں جہاں میرے لئے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن ہوگا میں نے جب صحیح عمل کی نیت کی ہے ‘ اللہ تعالیٰ مجھے اس کی ہدایت دینے والا ہے۔
مقاتل نے کہا : یہ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مخلوقات میں سے حضرت طوط اور حضرت سارہ کے ساتھ ارض مقدس یعنی شام کے علاقہ کی طرف ہجرت کی (1) ایک قول یہ کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔
اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں :
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…
Read the full tafseer →فَبَشَّرْنٰهُ [تو ہم نے خوشخبری دی ان (علیہ السلام) کو ] بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ [ایک برباد بار لڑکے کی ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے علاقہ سے ہجرت کرنا پھر بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ملنا اور فرمانبرداری میں کامیاب ہونا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن بابل کے قریب تھا انہوں نے وہاں کے مشرکین کو شرک سے باز آنے اور خالق کائنات وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی، یہ لوگ شرک سے باز نہ آئے، آپ نے ہجرت کا اعلان کردیا اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں یعنی کسی ایسی جگہ جاکر آباد ہوتا ہوں جہاں اپنے رب کے احکام ادا کرسکوں اور دوسروں کو بھی راہ حق دکھا سکوں، میرا رب میری رہبری فرمائے گا اور مجھے ایسی جگہ پہنچا دے گا جہاں رہنے سے اس کی رضا مندی حاصل ہوگی، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–111
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔
نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
46:۔ فلما بلغ الخ : جب بیٹا ذرا بڑا ہو کر کاموں میں والد گرامی کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اور سات آٹھ برس کا ہوگیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خوب میں دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ متواتر تین دن انہوں نے یہ خواب دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ چناچہ بیٹے سے فرمایا بیٹا ! میں نے خوب میں دیکھا ہے، کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ بتاؤ اب تمہاری کیا رائے ہے۔ بیٹا فورًا سمجھ گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے مجھے ذبح کرنے کا حکم ہے۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کے خواب وحی کا حکم رکھتے ہیں۔
47:۔ قال یا ابت الخ، چناچہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے جواب میں عرض کیا : اباجان ! اللہ نے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
ربط آیات
پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…
Read the full tafseer →فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ 101
بشر
واستبشر :
إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ فَبَشَّرْنٰـہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ ۔ (الصآفات : 100، 101)
(اے میرے رب ! مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحوں میں سے ہو۔ تو ہم نے اس کو ایک بردبار لڑکے کی بشارت دی۔ )
بیٹے کی دعا اور قبولیت
قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ نے ہجرت کی ہے تو آپ کے ساتھ صرف آپ کی ایک بیوی اور ایک بھتیجے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کے نام سے معروف ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت عطا فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ تکالیف اور غربت میں یقینا بیوی انسان کا ایک بڑا سہارا ہوتی ہے لیکن بیٹا ایک ایسی ضرورت ہے جو اپنی ایک انفرادی حیثیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
فہم القرآن
ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔
” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں…
Read the full tafseer →قبولیت دعا :
101: فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ (پس ہم نے ان کو حکیم المزاج فرزند عنایت کیا) ۔ بشارت تین چیزوں پر مشتمل ہے۔ نمبر 1۔ اولاد مذکر غلام ہوگا۔ نمبر 2۔ وہ بلوغت کی عمر پائے گا۔ کیونکہ صبی کی صفت حُلُمکے لفظ سے نہیں کی جاسکتی۔ نمبر 3۔ حوصلہ مند ہوگا۔ اور اس سے بڑا حوصلہ کیا ہوگا کہ جب اس کا والد اس پر ذبح کا معاملہ پیش کرتا ہے تو وہ یہ کہتا ہے۔ ستجدنی ان شاء اللّٰہ من الصابرین ] الصافات : 102[ پھر اس کے لئے کامل اطاعت گزاری کا اظہار کیا۔
Read the full tafseer →101، بشرناہ بغلام حلیم، وہ بچپن میں غلام اور بڑے ہونے کے وقت حلیم ہے۔ اس میں خوشخبری ہے کہ وہ نبی ہی ہوں گے اور وہ زندہ رہیں گے اور وہ بڑھاپے تک پہنچیں گے۔ یہاں کہ حلم تک پہنچ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
96۔ 101 فرقہ قدریہ معتزلہ اور اہل سنت میں جس طرح اور چند مسئلوں میں بحث ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی بڑی بحث کا ہے۔ فرقہ قدریہ کا یہ مذہب ہے کہ بندہ جو کچھ کام کرتا ہے۔ وہ خود بندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ کام بندہ میں پیدا نہیں کئے۔ اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ بندہ کی ذات اور سب اچھے برے بندہ کے کام اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ لیکن برے کام جب بندہ کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتا ہے۔ اور اچھے کام کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی بحث ایک ایسی بڑی بحث ہے۔ کہ امام بخاری اور علم نے اس باب میں بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ آیت بھی علمائے اہل سنت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے کیونکہ اس آیت سے بندہ کا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–113
آیت 83
یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…
Read the full tafseer →67 حضرت ابراہیم کو ایک نہایت ہی بردبار بیٹے کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو خوشخبری سنادی ایک بڑے ہی بردبار اور ہونہار بیٹے کی "۔ جب مانگنے والے حضرت ابراہیم جیسے موحد اعظم ہوں اور دینے والی اللہ پاک کی ذات اقدس و اعلیٰ ہو تو پھر قبولیت و عطا کے کیا کہنے ! ! { فَبَشَّرْنَاہُ } کی فاء تعقیب سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا فوری قبول ہوگئی اور وہ بھی اس شان سے کہ بیک وقت ایک ہی جملے میں تین خوشخبریوں سے نواز دیا گیا۔ کہ ایک تو یہ کہ پیدا ہونے والا وہ بچہ لڑکا ہوگا نہ کہ لڑکی۔ دوسرے یہ کہ وہ حلم و بلوغ کی عمر کو پہنچے گا۔ یعنی زندہ رہے گا اور بڑا ہوگا۔ اور تیسرے یہ کہ وہ بڑا ہی متحمل مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–102
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113:
اسرار و معارف :
یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →ف 6 ان سے مراد حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) ہیں اور یہ پہلے لڑکے ہیں۔ ان کے حضرت اسحاق ( علیہ السلام) سے بڑے ہونے پر تمام مسلمانوں اور اہل کتاب کا اتفاق ہے۔ قرآن کے انداز بیان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ پہلے غلام حلیم کی بشارت اور ان کے ذبح سے بچ جانے کا واقعہ نقل کیا ہے اور پھر اس کے بعد ( وبشرناہ باسحاق) ذکر کیا ہے اور ان کو ( نبی تا من الصالحین) کہا جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جوانی کو پہنچ کر نبی بنیں گے نیز حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کی خوشخبری کے ساتھ ان کے بعد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری ہے، اس لئے یہ نہیں ہوسکتا کہ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کے ذبح کا حکم دیا جائے۔ ( ابن…
Read the full tafseer →(37:101) غلم۔ لڑکا۔ بیٹا۔ نرینہ اولاد۔
حلیم۔ بردبار۔ تحمل والا۔ باوقار حلم سے جس کے معنی جوش غضب سے نفس اور طبیعت کو روکنے یعنی بردباری اور تحمل کرنے کے ہیں۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
(ف 2) جب حضرت ابراہیم کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ دے سکے تو ان بت پرستوں نے یہ تجویز کہ ایک بڑا آتش خانہ بناکرحضرت ابراہیم کو اس میں ڈال دو اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی اور ان کے مخالف کا نجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے گا مگر اللہ نے ان کو ہی نیچا، دکھلایا اور حضرت ابراہیم پر آگ گلزار کردی اب حضرت اسماعیل نے الہام الٰہی کے موافق ملک شام کی طرف ہجرت کی اور ملک شام میں پہنچ کر نیک بیٹے کے عطا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
[20] مراد ہیں اسماعیل علیہ السلام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ف 1: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منصوبہ یہ تھا ۔ کہ کس طریق سے ان لوگوں پر بتوں کی عاجزی اور بےبسی ثابت ہوجائے ۔ اور یہ دیکھ لیں کہ ان کے بت خود اپنی حفاظت پر قادر نہیں ہیں ۔ جہ جائیکہ کائنات کا انتظام وانصرام ان کے ہاتھ میں ہو ۔ جب یہ لوگ اپنی مذہبی تقریب میں چلے گئے ۔ تو ان کو یہ سوجھی کہ ان کے پاس کچھ کھانا لے کر گئے ۔ اور ان سے کھانے کی درخواست کی ۔ اور جب دیکھا کہ یہ کھانے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاتے ہیں ۔ تو کہا تم کیوں کھاتے نہیں ہو ۔ اور اگر بھوک نہیں ہے ۔ تو بولتے کیوں نہیں ۔ غرض یہ تھی کہ ان لوگوں کے اس عقیدہ کی تذلیل کی جائے ۔ اور بتایا جائے کہ جو بت نہ نذرانوں کو قبول کرتے ہیں ۔ نہ…
Read the full tafseer →(101) لہٰذا ہم نے اس کو ایک حلیم الطبع اور بردبار لڑکے کی بشارت اور خوشخبری دی۔ صالح لڑکے کی درخواست کی جو منظور ہوئی اور حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے ان کو بشارت بھی مل گئی وہ بچہ پیدا ہوا اور غالباً وہ بچہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جیسا کہ مشہور یہی ہے اور اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
ف 6۔ چناچہ ملک شام میں جا پہنچے۔
Read the full tafseer →پھر ہم نے اس کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی :
101۔ اس بات کی وضاحت بھی ہم پیچھے بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں کہ جہاں بھی (آیت) ” غلام حلیم “ کی خوشخبری اللہ نے بیان فرمائی اس سے مراد سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جو سیدہ ہاجرہ ؓ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے اور جہاں بھی (آیت) ” غلام علیم “ کی بشارت دی گئی اس سے مراد سیدنا اسحاق (علیہ السلام) ہیں جو سیدہ سارہ ؓ کے بطن سے پیدا ہوئے اور قطورا سے آپ کی اولاد زیادہ پیدا ہوئی لیکن وہاں کسی کی خوشخبری پہلے نہیں سنائی گئی تھی ۔ اس جگہ چونکہ (آیت) ” غلام حلیم “۔ کا ذکر ہے اس لیے اس سے مراد سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) ہی لیے گئے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Thus, by saying 'forbearing' in: فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ (So, We gave him the good news of a forbearing boy- 101), it was indicated that this newborn would demonstrate such patience, control and forbearance in his life as would be exemplary in the world. The birth of this son had a background of its own. When Sayyidah Sarah ؓ realized that she is not being blessed with children, she took herself to be barren. On the other hand, the Pharaoh had given his daughter named Hajirah ؓ as gift to Sayyidah Sarah ؓ ، so that she could help her in household chores. Sayyidah Sarah ؓ passed on…
Read the full tafseer →57 From this one should not understand that this good news was given him immediately following his prayer. In the Qur'an itself, at another place, this saying of the Prophet Abraham has been related: "All praise be to Allah Who has given me sons like Ishmael and Isaac in my old age." (Ibrahim: 39). This proves that there was an interval of many years between the prayer and this good news. The " Bible says that at the birth of the Prophet Ishmael, the Prophet Abraham was 86 years old (Gen. 16: 16) and at the birth of the Prophet Isaac a hundred years. (Gen. 21: 5).
Read the full tafseer →