Explained with ayahs 99–113
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔
خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 58
یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ابراہیم ؑ نے خواب میں یہ نہیں دیکھا تھا کہ انہوں نے بیٹے کو ذبح کردیا ہے، بلکہ یہ دیکھا تھا کہ وہ اسے ذبح کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس وقت وہ خواب کا مطلب یہی سمجھے تھے کہ وہ صاحبزادے کو ذبح کردیں۔ اسی بنا پر وہ ٹھنڈے دل سے بیٹا قربان کردینے کے لیے بالکل تیار ہوگئے تھے۔ مگر خواب دکھانے میں جو باریک نکتہ اللہ تعالیٰ نے ملحوظ رکھا تھا اسے آگے کی آیت نمبر 105 میں اس نے خود کھول دیا ہے۔
سورة الصّٰٓفّٰت 59
صاحبزادے سے یہ بات پوچھنے کا مدعا یہ نہ تھا کہ تو راضی ہو تو خدا کے فرمان کی تعمیل کروں۔ بلکہ حضرت ابراہیم ؑ دراصل یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ جس صالح اولاد کی…
Read the full tafseer →فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ (سو جب وہ فرزند ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے لگا تو ابراہیم نے فرمایابرخوردار میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواب حضرت ابراہیم ؑ کو تین روز متواتر دکھایا گیا (قرطبی) اور یہ بات طے شدہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا خواب وحی ہوتا ہے، اس لئے اس خواب کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم ؑ کو حکم ہوا ہے کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کردو۔ یوں یہ حکم براہ راست کسی فرشتے وغیرہ کے ذریعہ بھی نازل کیا جاسکتا تھا،…
Read the full tafseer →فلما بلغ معہ السعی قال یبنی انی اری فی المنام انی ادبحک فدخلوما ذاتری قارا یابت افعل ماتومر ستجد فی ان شآء اللہ من الصبرین (102)
حضرت اسمعیل کی قربانی کا واقعہ
سعی سے مراد یہاں دوڑنے پھرنے کی عمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فرزند عزیز جب باپ کے ساتھ دوڑنے پھرنے کی عمر کو پہنچا تو حضرت ابراہیم ؑ نے خاب میں دیکھا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت ہو رہی ہے کہ اس کو اپنے رب کی خاطر قربان کردیں۔ اوپر یہ اشارہ گزر چکا ہے کہ حضرت اسماعیل، حضرت ابراہیم کو ان کی دعا کے نتیجہ میں اس وقت ملے تھے جب وہ اپنے خاندان اور اپنی قوم کو چھوڑ کر ایک دوسرے ملک کو ہجرت فرما چکے تھے اور واحد چیز جو اس غربت میں ان…
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی دوڑ دھوپ کے لائق ہوگیا یا بلوغت کے قریب پہنچ گیا، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت یہ بچہ 13 سال کا تھا۔
12۔ 2 پیغمبر کا خواب، وحی اور حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امر الٰہی کے لئے کس حد تک تیار ہے۔
Read the full tafseer →20: یہ اگرچہ ایک خواب تھا، لیکن انبیائے کرام (علیہم السلام) کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، اس لیے حضرت اسماعیل ؑ نے اسے اللہ تعالیٰ کا حکم قرار دیا۔
Read the full tafseer →فلما بلغ معہ ۔۔۔۔۔۔ من الصبرین (102) “۔
یا اللہ ، کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم و رضا کا کیا اعلیٰ مقام ہے۔ یہ ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک بوڑھے ، اپنے اقرباء اور رشتہ داروں سے دور ، اپنے ملک اور وطن سے دور۔ ان کو بڑھاپے اور کبر سنی میں ایک بیٹا عطا ہوتا ہے۔ ایک طویل عرصہ تک انہوں نے اس بچے کا انتظار فرمایا۔ جب اللہ ان کو یہ ممتاز اور ذی صلاحیت بیٹا دیا اور ان کے مرتبہ و مقام کی شہادت دی۔ وہ ابھی ان کے ساتھ اچھی طرح مانوس بھی نہیں ہوا ، ابھی بچہ ہے۔ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے لگا ہے اور قریب ہے کہ اب وہ زندگی کا ساتھی بن جائے۔ غرض ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بچے سے امیدیں وابستہ ہی ہوئی تھیں…
Read the full tafseer →7 یعنی جب اسماعیل بڑا ہو کر اس قابل ہوگیا کہ اپنے باپ کے ساتھ دوڑ سکے اور اس کے کام آسکے اس وقت ابراہیم نے اپنا خواب بیٹے کو سنایا تاکہ اس کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتا ہے یا زبردستی کرنی پڑے گی۔ کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہ ہی خواب دیکھتے رہے۔ تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلا توقف قبول کیا کہنے لگا کہ ابا جان ! (دیر کیا ہے) مالک کا جو حکم ہو کر ڈالیے (ایسے کام میں مشورہ کی ضرورت نہیں۔ امر الٰہی کے امتثال میں شفقت پدری مانع نہ ہونی چاہیے) رہا میں ! سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبرو تحمل سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں ایسے بیٹے اور باپ پر۔
Read the full tafseer →آیت 102{ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ } ”پھر جب وہ پہنچا اس کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے کی عمر کو“
{ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ } ”اس نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں دیکھ رہا ہوں خواب میں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں“
اَرٰی فعل مضارع ہے جس میں استمرار کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ‘ یعنی میں بار بار خواب میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسلسل تین راتیں یہ خواب دیکھا تھا۔
{ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی } ”تو دیکھو ! تمہاری کیا رائے ہے ؟“
{ قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ } ”اس نے کہا : ابا جان ! آپ کر گزرئیے جس کا آپ کو حکم…
Read the full tafseer →56 بیٹے کو ذبح کرنے کے متعلق خواب :۔ سیدنا اسماعیل جب اس عمر کو پہنچے جب وہ اپنے باپ کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاسکتے تھے تو سیدنا ابراہیم کو ایک اور بہت بڑی آزمائش میں ڈالا گیا۔ آپ کو تین راتیں مسلسل خواب آتا رہا جس میں آپ دیکھتے تھے کہ آپ اسی بیٹے کو جسے آپ نے اللہ سے دعا کرکے لیا تھا اور جو آپ کے بڑھاپے میں آپ کا سہارا بن رہا تھا، ذبح کررہے ہیں چناچہ آپ نے سمجھ لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے۔
57 بیٹے سے سوال :۔ چناچہ سیدنا ابراہیم نے اپنے نوجوان بیٹے کو یہ خواب بتا کر ان کی رائے دریافت کی۔ آپ نے یہ رائے اس لئے دریافت نہیں کی تھی کہ اگر بیٹا اس بات پر آمادہ نہ ہو یا وہ انکار کردے تو آپ اللہ…
Read the full tafseer →50۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) جب سیانے ہو کر باپ کا ہاتھ بٹانے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عالم رؤیا میں دیکھا کہ آپ ان کو ذبح کررہے ہیں۔ حضرات انبیاء کا خواب بھی وحی ہی کی ایک قسم ہوتا ہے، آپ اسے امر الہی سمجھے اور تعمیل پر آمادہ ہوگئے۔ یہ گتفگو ایس وقت کی ہے۔ قصہ کی تفصیلات احادیث نبوی میں آئی ہیں۔ (آیت) ” فانظر ما ذا تری “۔ سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ آپ تعمیل ارشاد میں صاحبزادہ کی تائید کے محتاج تھے ..... آپ کا خیال ہوگا کہ لڑکا بھی اگر اس کی تائید کردے تو دل اور قوی ہوجائے گا اور اگر اسے تائید میں تامل ہوا تو مزید گفتگو کرکے اسے آمادہ کردیا جائے گا۔ (تھانوی (رح) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–113
آیت نمبر 85 تا 113
ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…
Read the full tafseer →فلما بلغ معہ السعی پھر وہ لڑکا جب ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔
اس جملہ کا عطف محذوف جملہ پر ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا کہ بشارت کے بعد حضرت ابراہیم کے لڑکا پیدا ہوگیا ‘ پھر اتنی عمر کو بھی پہنچ گیا کہ کام کاج میں حضرت ابراہیم کا ہاتھ بٹا سکے۔
سعی سے مراد ہے عملی کوشش۔ کلبی نے کہا : سعی سے مراد ہے اللہ کیلئے کچھ کام کرنا۔ قتادہ نے کہا : سعی سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے ساتھ وہ پہاڑ تک دوڑنے کے قابل ہوگیا۔ مجاہد نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ سعی کو پہنچنے سے مراد ہے جوان ہوجانا اور حضرت ابراہیم کی طرح عملی سعی کرنا۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ 13 سال کی عمر مراد…
Read the full tafseer →پھر جب وہ لڑکا ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم کے ساتھ وہ عبادت میں یا یہ کہ پہاڑ وغیرہ کی طرف جانے میں چلنے پھرنے لگا تو حضرت ابراہیم نے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل سے فرمایا بیٹے مجھے خواب میں تمہیں ذبح کرنے کا حکم ہوا ہے سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔
وہ بولے ابا جان آپ کو جو حکم ہوا ہے آپ بےفکر ہو کر کیجیے۔ آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ : ”يٰبُنَيَّ“ ”اِبْنٌ“ کی تصغیر ہے، اے میرے چھوٹے بیٹے ! مراد ہے اے میرے پیارے بیٹے ! ابراہیم ؑ وقتاً فوقتاً شام سے اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کی خبر گیری کے لیے آتے رہتے تھے۔ جب بیٹا اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا، یعنی اس قابل ہوگیا کہ باپ کا ہاتھ بٹا سکے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم ؑ کو ایک نیا امتحان پیش آیا۔ وہ یہ کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑی دعاؤں اور آرزؤوں کے بعد بڑھاپے میں ملنے والے نہایت عزیز بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، اس لیے انھوں نے اسے اللہ کا حکم سمجھ کر کسی بھی تردّد کے بغیر اس پر عمل کا پکا ارادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ میں ” السعی “ سے مراد عمل ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ (جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) یعنی جب ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔
4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب وہ چلے تو اپنے دل میں غم کو…
Read the full tafseer →فَلَمَّا [پھر جب ] بَلَــغَ [وہ (لڑکا) پہنچا ] مَعَهُ [ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] السَّعْيَ [دوڑنے کو ] قَالَ [تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] يٰبُنَيَّ [اے میرے بچے ] اِنِّىْٓ اَرٰى [میں دیکھتا ہوں ] فِي الْمَنَامِ [سونے کے وقت میں ] اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ [کہ میں ذبح کرتا ہوں تجھ کو ] فَانْظُرْ [پس تو دیکھ ] مَاذَا تَرٰى ۭ [تیری کیا رائے ہے ] قَالَ [اس (لڑکے) نے کہا ] يٰٓاَبَتِ [اے میرے والد ] افْعَلْ [آپ کر ئیے ] مَا [وہ جس کا ] تُــؤْمَرُ ۡ [آپ کو حکم دیا جاتا ہے ] سَتَجِدُنِيْٓ [آپ پائیں گے مجھ کو ] اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ [اگر چاہا اللہ نے ] مِنَ الصّٰبِرِيْنَ [ثابت قدم رہنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے علاقہ سے ہجرت کرنا پھر بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ملنا اور فرمانبرداری میں کامیاب ہونا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن بابل کے قریب تھا انہوں نے وہاں کے مشرکین کو شرک سے باز آنے اور خالق کائنات وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی، یہ لوگ شرک سے باز نہ آئے، آپ نے ہجرت کا اعلان کردیا اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں یعنی کسی ایسی جگہ جاکر آباد ہوتا ہوں جہاں اپنے رب کے احکام ادا کرسکوں اور دوسروں کو بھی راہ حق دکھا سکوں، میرا رب میری رہبری فرمائے گا اور مجھے ایسی جگہ پہنچا دے گا جہاں رہنے سے اس کی رضا مندی حاصل ہوگی، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–111
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔
نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
46:۔ فلما بلغ الخ : جب بیٹا ذرا بڑا ہو کر کاموں میں والد گرامی کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اور سات آٹھ برس کا ہوگیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خوب میں دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ متواتر تین دن انہوں نے یہ خواب دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ چناچہ بیٹے سے فرمایا بیٹا ! میں نے خوب میں دیکھا ہے، کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ بتاؤ اب تمہاری کیا رائے ہے۔ بیٹا فورًا سمجھ گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے مجھے ذبح کرنے کا حکم ہے۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کے خواب وحی کا حکم رکھتے ہیں۔
47:۔ قال یا ابت الخ، چناچہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے جواب میں عرض کیا : اباجان ! اللہ نے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
ربط آیات
پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…
Read the full tafseer →فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَہُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى 0 ۭ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ 0 ۡسَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللہُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ 102
بلغ
البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما يعبّر به عن المشارفة عليه وإن لم ينته إليه، فمن الانتهاء : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15]
( ب ل غ ) البلوغ
والبلاغ ( ن ) کے معنی مقصد اور متبٰی کے آخری حد تک پہنچے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–112
ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔
تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔
اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور…
Read the full tafseer →فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یٰـبُـنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْمَاذَا تَرٰی ط قَالَ یٰٓـاَبَتِ افْعَلْ مَاتُؤْمَرُ ز سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 102)
(پس جب وہ اس کے ساتھ دوڑدھوپ کرنے کی عمر کو پہنچا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا، اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں تو تو بتا تیری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے کہا، ابا جان ! آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اس کی تعمیل کیجیے، آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ )
آیت کی تشریح کے ضمن میں ایک ترتیب سے چند باتوں کی وضاحت
آیتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
فہم القرآن
ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔
” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں…
Read the full tafseer →بیٹا ہاتھ بٹانے کے قا بل ہوا تو ذبح کا حکم ہوا :
102: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ (جب وہ لڑکا اس کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا) وہ اس عمر کو پہنچا کہ والد محترم کے ساتھ ان کے کاموں میں ہاتھ بٹا سکے۔ معہؔ کا لفظ بلغؔ سے متعلق نہیں۔ کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے۔ کہ حد سعی کو وہ دونوں اکٹھے پہنچے ہوں۔ نہ کہ سعی کے ساتھ اس لئے کہ مصدر کا صلہ اس سے مقدم نہیں ہوتا۔ پس اب یہ ضرورت باقی رہی کہ وہ بیان بن جائے۔ گویا جب یہ کہا فلما بلغ السعی ای الحد الذی یقدرفیہ علی السعی۔ جب وہ دوڑنے کی عمر کو پہنچ گئے یعنی اس حد کو پالیا جس میں دوڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ کہا گیا کس کے ساتھ ؟ تو فرمایا اپنے والد کے…
Read the full tafseer →102، فلما بلغ معہ السعی ، ابن عباس ؓ و قتادہ کا بیان ہے کہ مطلب یہ ہے کہ میرے ساتھ پہاڑ کی طرف چلئے ۔ مجاہد نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جوان ہوئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ چلنے کے قابل ہوگئے۔ جب وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہاتھ بٹا نے لگے اور ان کے کاموں میں مدد گار ہونے لگے۔ کلبی کا بیان ہے کہ وہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے تھا ۔ یہی قول حسن مقاتل بن حیان اور ابن زید کا ہے ۔ وہ کہنے لگے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگے ۔ اس وقت ان کی عمر میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ اس وقت آپ کی عمرتیرہ ساتھی اور بعض نے کہا سات کی عمر تھی۔ ، قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–113
آیت 83
یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی
قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →68 بیٹے کی قربانی کی کڑی آزمائش کا ذکر : سو اس سے حضرت ابراہیم کے لیے بیٹے کی قربانی کے کڑے اور بےمثال امتحان کے مرحلہ کا ذکر فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " پھر وہ بیٹا جب آپکے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا "۔ اور روایت کے مطابق یہ کوئی تیرہ برس کی عمر تھی۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اس عمر میں انسان کو اپنا بچہ طبعی طور پر زیادہ پیارا لگتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ ضروری کام کاج میں باپ کی ڈھارس بنتا اور اس کا ہاتھ بٹانے لگتا ہے۔ سو ایسے میں حضرت ابراہیم کو سخت آزمائش میں ڈالا گیا کہ اس بچے کو ذبح کردینے کا ارشاد ہوا۔ سو یہ حضرت ابراہیم کا سب سے بڑا اور بےمثال و کٹھن امتحان تھا جس میں آنجناب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–102
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113:
اسرار و معارف :
یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
ف 7( فطھر صبر ھما) ( تو ان دونوں کا صبر ظاہر ہوگیا) یہ عبادت محذوف ہے جو ( لما) کا جواب ہے۔ حضرت ابراہیم نے بیٹے کو اوندھا اس لئے لٹایا کہ ذبح کرتے وقت اس کا چہرہ دیکھ کر کہیں رقت اور ہاتھ میں لرزش پیدانہ ہوجائے۔ عموماً مفسرین نے ” للجین “ کا یہی مفہوم بیان کیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض آثار بھی نقل کیے ہیں کہ حضرت اسماعیل نے اپنے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) کو اس طریق سے ذبح کرنے کی وصیت کی۔ ممکن ہے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) نے اپنے باپ سے یہ باتیں بطور احتیاط کہہ دی ہوں مگر آیت سے یہ مفہوم اخذ کرنا بعید ہے کیونکہ لفظ ” جبین “ کا معنی جبھۃ (ماتھا) کی ایک جانب کے آتے ہیں۔ پس اس کے معنی یہ ہیں…
Read the full tafseer →(37:102) بلغ معہ السعی۔ اس کے ساتھ دوڑنے بھاگنے کی عمر کو پہنچ گیا۔ ای یسعی معہ فی اعمالہ اس کے ساتھ کام کاج میں دوڑ دھوپ کرنے لگا۔ او یسعی معہ ویعینہ اس کے ساتھ دوڑنے پھیرنے اور اس کی مدد کرنے کے قابل ہوگیا اس جملہ کا عطف جملہ محذوف پر ہے پوری کلام یوں ہے :۔ بشارت کے بعد (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام ) کے ہاں لڑکا پیدا ہوا پھر جب وہ بڑا ہو کر اس کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔
قال : ای قال ابراہیم۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا۔
یبنی۔ یا حرف ندا ہے بنی۔ ابن سے اسم تصغیر ہو کر مضاف ہے ی ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ اضافت کے باعث واحد متکلم کی ی، ی میں مدغم ہوگئی۔ بنی (میرے پیارے بیٹے) مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
قربانی اسماعیل علیہ السلام۔
(ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
[20] مراد ہیں اسماعیل علیہ السلام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–112
ذبیح کون تھا ؟
1: ان آیات میں دین کے لئے اور خدا کی اطاعت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عدیم النظیر قربانی کا ذکر ہے ۔ کہ کیوں کر انہوں نے باوجود باپ ہونے کے اپنے بیٹے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری رکھ دی ۔ اور کس سعادت مندی سے ان کے بیٹے نے اپنے کو اس ایثار عظیم کے لئے پیش کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی تاریخ میں اس واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ کہ اللہ کے ایک اشارہ پر اپنے لخت جگر کو ذبح کردینے کا باپ تیہہ کرلے ۔ اور باپ کی فرمانبرداری میں بیٹا جانِ عزیز تک کی پرواہ نہ کرے ۔
حل لغات :۔ وتلہ ۔ التل کے اصل معنے اونچی جگہ کے ہیں ۔ اور فعل صورت میں یہ مقصد ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →(102) پھر جب وہ لڑکا ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے اور ہاتھ بٹانے لگے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھ کو ذبح کرتا ہوں سو تو بھی غور کرلے کہ تیری کیا رائے اور تیرا کیا مشورہ ہے۔
لڑکے نے کہا کہ اے میرے باپ جو حکم آپ کو دیا گیا ہے اسے کو ڈالئے انشاء اللہ تعالیٰ آپ مجھ کو صبر کرنے والوں اور سہار کرنے والوں میں سے پائیں۔ سعی کے معنی میں کئی قول ہیں ایک یہ کہ مردوں کے سے کام کرنے لگیں تو شاید عمر تیرہ سال ہو ایک یہ کہ دوڑنے اور چلنے لگیں تو عمر سات سال کی ہو ایک یہ عبادت الٰہی میں خوب کوشش اور جدوجہد کرنے لگے تو شاید بالغ ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–105
ف 1۔ اس میں اختلاف ہوا ہے کہ ذبیح اسماعیل (علیہ السلام) تھے یا اسحاق (علیہ السلام) ، روایات دونوں طرف متکلم فیہ ہیں، آیت کے سیاق سے ظاہرا اسماعیل (علیہ السلام) معلوم ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →اسمعیل (علیہ السلام) کے بردبار ہونے کا پہلا ثبوت جس کا قرآن کریم نے ذکر کیا :
102۔ بڑی امنگوں کے بعد پیدا ہونے والا بیٹا جس کی بشارت اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سنائی تھی جب بلوغت کے قریب پہنچ گیا تو اس کی بردباری کا امتحان ساتھ ہی شروع ہوگیا ۔ ایک رات ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں کیونکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے خواب بھی بمنزلہ وحی ہوتے ہیں اس لیے آپ سمجھ گئے کہ بیٹے کا امتحان شروع ہونے والا ہے بلکہ بیٹے کے ساتھ ہی میرا امتحان بھی ۔ قرآن کریم نے سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی عمر تو نہیں بتائی کہ اس وقت کتنی تھی لیکن جو ارشاد…
Read the full tafseer →In verse 102, it was said: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ (Thereafter, when he reached an age in which he could work with him, he said, "0 my little son, I have seen in a dream that I am slaughtering you, so consider, what do you think?" ). From some narrations, it appears that this dream was shown to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) for three consecutive days (Qurtubi). Then, it already stands settled that the dream of blessed prophets is a revelation (wahy). Therefore, this dream meant that Allah Ta'ala was asking Sayyidna…
Read the full tafseer →58 One should note that the Prophet Abraham had dreamt that he was sacrificing his son and not that he had sacrificed him. Although at that time he understood the dream to mean that he should sacrifice his son and on that very basis, he became ready to sacrifice him, with a cool mind, yet the fine point that Allah had in view in making him see the dream has been explained by Himself in verse 105 below.
59 The object of asking this of the son was not that he would carry out Allah's Command only if he agreed, otherwise not, but the Prophet Abraham, in fact, wanted to find out how righteous, in…
Read the full tafseer →