Explained with ayahs 99–113
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔
خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 61
یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے ذبح کرنے کے لیے بیٹے کو چت لٹایا بلکہ اوندھے منہ لٹایا تاکہ ذبح کرتے وقت بیٹے کا چہرہ دیکھ کر کہیں محبت و شفقت ہاتھ میں لرزش پیدا نہ کر دے۔ اس لیے وہ چاہتے تھے کہ نیچے کی طرف سے ہاتھ ڈال کر چھری چلائیں۔
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَسْلَمَا (پس جب وہ دونوں جھک گئے) اسلمہ کے معنی ہیں جھک جانا، مطیع ہوجانا، رام ہوجانا۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ اللہ کے حکم کے آگے جھک گئے، یعنی باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کا اور بیٹے نے ذبح ہوجانے کا ارادہ کرلیا، یہاں لما (جب) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، لیکن اس کا جواب مذکور نہیں ہے، یعنی آگے یہ نہیں بتایا گیا کہ جب یہ واقعات پیش آ چکے تو کیا ہوا ؟ اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ باپ بیٹے کا یہ اقدام فداکاری اس قدر عجیب و غریب تھا کہ الفاظ اس کی پوری کیفیت کو بیان کر ہی نہیں سکتے۔
بعض تاریخی اور تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے تین مرتبہ حضرت ابراہیم ؑ کو بہکانے کی کوشش کی، ہر…
Read the full tafseer →فلما اسلما وثلہ للجئین (103)
اصل مرحلہ
اب یہ اصل مرحلہ یعنی قربانی کا بیان ہو رہا ہے، اسلام کے معنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینے کے ہیں۔ یعنی باپ اور بیٹا دونوں امتحان کے لئے آمادہ ہوگئے۔ باپ نے بیٹے کو ذبح کردینے کے لئے چھری نکال لی اور بیٹے نے اپنے آپ کو ذبح کردینے کے لئے حوالے کردیا۔ تلہ للجبین اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا۔ پیشانی کے بل پچھاڑنے کی توجیہ بعض لوگوں نے یہ کی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے چاہا کہ ذبح کے وقت بیٹے کا محبوب چہرہ سامنے نہ ہوتا کہ رقت قلب چھری چلانے میں مانع نہ ہو لیکن یہ توجیہ میرے نزدیک صحیح نہیں ہے جو باپ اس طرح اپنے اکلوتے اور محبوب لخت جگر پر چھری…
Read the full tafseer →13۔ 1 ہر انسان کے منہ (چہرے) پر دو جبین (دائیں اور بائیں) ہوتی ہیں اور درمیان میں پیشانی اس لئے لِلْجَبِیْنِ کا صحیح ترجمہ (کروٹ پر) ہے یعنی اس طرح کروٹ پر لٹا لیا، جس طرح جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کروٹ پر لٹا یا جاتا ہے، مشہور ہے حضرت اسماعیل ؑ نے وصیت کی کہ انہیں اس طرح لٹایا جائے کہ چہرہ سامنے نہ رہے جس سے پیار اور شفقت کا جذبہ امر الٰہی پر غالب آنے کا امکان نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
21: باپ بیٹے دونوں نے تو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں یہی ٹھان لی تھی کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے گا، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا، تاکہ چھری پھیرتے وقت ان کی صورت دیکھ کر ارادے میں کوئی تزلزل نہ آجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین (37: 102) ” اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے “۔
ورنہ نہیں۔ کیا شان ہے اللہ کے جناب میں عاجزی کی۔ اور کس قدر روشن ایمان ہے کس قدر عالی شان اطاعت اور بےمثال تسلیم و رضا ہے یہ ! باتوں سے آگے اب اس منظر میں واقعات ایک قدم آگے بڑھتے ہیں۔ اب صرف مکالمہ نہیں ہے عمل شروع ہو رہا ہے
فلما اسلما وتلہ للجبین (103) ” “۔ ایک بار پھر یہاں اطاعت سر بلند ہوتی ہے اور عظمت ایمان کا اظہار ہوتا ہے اور تسلیم و رضا کی وہ مثال سامنے آتی ہے جو پوری انسانی تاریخ کا ایک جلی عنوان ہے۔ ایک انسان اپنے اکلوتے بیٹے کو منہ کے بل گراتا ہے تاکہ اسے ذبح کے لیے تیار کرلے۔ اور وہ…
Read the full tafseer →8 تاکہ بیٹے کا چہرہ سامنے ہو مبادا محبت پدری جوش مارنے لگے، کہتے ہیں یہ بات بیٹے نے سکھلائی۔ آگے اللہ نے نہیں فرمایا کہ کیا ماجرا گزرا۔ یعنی کہنے میں نہیں آتا جو حال گزرا اس کے دل پر اور فرشتوں پر۔
Read the full tafseer →آیت 103{ فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ } ”پھر جب دونوں نے فرمانبرداری کی روش اختیار کرلی اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے َبل لٹا دیا۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے پیشانی کے بل لٹایا تاکہ چہرہ سامنے نہ ہو اور اسی حالت میں گدی ّپر چھری چلانے کی کوشش کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
60 قربانی کا منظر :۔ سیدنا ابراہیم نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل اس لئے لٹایا کہ کہیں پدرانہ شفقت تعمیل حکم الٰہی میں آڑے نہ آجائے۔ اور چھری چلاتے وقت ہاتھ میں لغزش نہ واقع ہو۔ منہ کے بل لٹانے سے نہ بیٹے کا چہرہ نظر آئے گا نہ پدرانہ جذبات برانگیختہ ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ سیدنا اسماعیل نے اسی مصلحت کے پیش نظر خود اپنے والد محترم کو ایسا مشورہ دیا۔
Read the full tafseer →51۔ (جیسا کہ ذبح کے وقت جانور کو لٹاتے ہیں، اور گلے پر چھری پھیرا ہی چاہتے تھے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–113
آیت نمبر 85 تا 113
ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…
Read the full tafseer →فلما اسلما غرض دونوں نے اللہ کے حکم کو تسلیم کرلیا۔
یعنی دونوں نے اللہ کے حکم کو مان لیا اور امر خداوندی کے سامنے جھک گئے۔ قتادہ نے کہا : (اَسْلَمَ کا معنی ہے سپرد کرنا ‘ یعنی) ابراہیم نے اپنے بیٹے کو اور اسماعیل نے اپنی جان کو سپرد کردیا۔
وتلہ للجبین اور باپ نے بیٹے کو (ذبح کرنے کیلئے) کروٹ پر لٹایا۔
اور ابراہیم نے اسماعیل کو زمین پر پچھاڑ دیا (یعنی لٹا دیا) پیشانی کے بل۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ کروٹ سے لٹا دیا ‘ پیشانی دونوں پہلوؤں کے درمیان رہی۔ یہ واقعہ منیٰ میں صخرہ کے پاس ہوا۔ حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت عبد بن حمید ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور حاکم نے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–111
(103۔ 111) غرض کہ جب دونوں حکم الہی کی تعمیل کے لیے تیار ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے کروٹ پر لٹا دیا تو ہم نے آواز دی کہ ابراہیم آپ نے خواب کو سچا اور پورا کر کے دکھایا ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔
حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان اور ہم نے ایک موٹا مینڈھا اس کے بدلہ میں دیا اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔
بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ : عام طور پر مفسرین نے ”اَلْجَبِیْنُ“ کا ترجمہ پیشانی یا ماتھا کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے بیٹے کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ ذبح کرتے وقت اس کا چہرہ دیکھ کر کہیں دل میں رِقّت اور ہاتھ میں لرزش پیدا نہ ہوجائے۔ بعض نے کچھ آثار بھی نقل کیے ہیں کہ اسماعیل ؑ نے خود ابراہیم ؑ کو ایسا کرنے کی وصیت کی۔ بعض نے لکھا ہے کہ ابراہیم ؑ نے بیٹے کے کہنے پر اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیے اور اسے الٹا لٹا لیا اور چاہتے تھے کہ نیچے سے گردن پر چھری پھیریں۔ مگر یہ سب اسرائیلیات ہیں اور ان میں سے کوئی بات بھی ثابت نہیں۔ اس مقام پر جبین سے مراد ماتھا لینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ میں ” السعی “ سے مراد عمل ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ (جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) یعنی جب ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔
4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب وہ چلے تو اپنے دل میں غم کو…
Read the full tafseer →فَلَمَّآ [وہ جس کا ] اَسْلَمَا [وہ دونوں فرمانبردار ہوئے ] وَتَلَّهٗ [اور انھوں (علیہ السلام) نے لٹا دیا اس (لڑکے) کو ] لِلْجَبِيْنِ [پیشانی کے بل ] ۔
ت ل ل
(ن) تلا پچھاڑنا۔ لٹا دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 103 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے علاقہ سے ہجرت کرنا پھر بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ملنا اور فرمانبرداری میں کامیاب ہونا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن بابل کے قریب تھا انہوں نے وہاں کے مشرکین کو شرک سے باز آنے اور خالق کائنات وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی، یہ لوگ شرک سے باز نہ آئے، آپ نے ہجرت کا اعلان کردیا اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں یعنی کسی ایسی جگہ جاکر آباد ہوتا ہوں جہاں اپنے رب کے احکام ادا کرسکوں اور دوسروں کو بھی راہ حق دکھا سکوں، میرا رب میری رہبری فرمائے گا اور مجھے ایسی جگہ پہنچا دے گا جہاں رہنے سے اس کی رضا مندی حاصل ہوگی، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–111
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔
نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
48:۔ ان ھذا الخ یہ ایک ایسا ابتلاء وا متحان تھا کہ اس سے مخلص و غیر مخلص کا واضح طور سے امتیاز ہوسکتا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کا اخلاص وانقیاد ظاہر ہوا۔ و فدینہ الخ، اسمعیل (علیہ السلام) کی جگہ ہم نے ایک عظیم الشان جانور بطور فدیہ دے دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ ندا سنی یا ابراہیم قد صدق الرویا تو سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو جبرئیل (علیہ السلام) مینڈھا لے کر آرہے تھے۔ بیٹے کی جگہ اس کی قربانی دی۔ روی انہ لما سمع ابراہیم النداء نظر الی السماء فاذا ھو بجبریل و معہ کبش املح اقرن و قال ھذا فداء لابنک فاذبحہ دونہ (مظہری ج 8 ص 132) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
ربط آیات
پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِيْنِ 103ۚ
اسلما۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب ۔ دونوں نے حکم مانا۔ دونون نے سر تسلیم خم کردیا۔ دونوں ( امر خدا وندی کے آگے ) جھک گئ
تلَ
أصل التَّلِّ : المکان المرتفع، والتَّلِيل : العنق، وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] ، أسقطه علی التل، کقولک : ترّبه : أسقطه علی التراب، وقیل : أسقطه علی تلیله، والمِتَّل : الرمح الذي يتل به .
( ت ل ل ) التل : اصل میں تل کے معنی بلند جگہ یعنی ٹہلہ کے ہیں اور تلیل گردن کو کہتے ہیں : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] کے معنی ٹیلے پر لٹا دینے کے ہیں جیسے تربہ ( کسی کو زمین پر گرانا ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی تلیل یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–112
ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔
تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔
اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور…
Read the full tafseer →فَلَمَّـآ اَسْلَمَا وَتَلَّـہٗ لِلْجَبِیْنِ ۔ (الصآفات : 103)
(پس جب دونوں نے سرتسلیم خم کردیا اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا۔ )
تسلیم و اطاعت کا اصل مرحلہ
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے جواب کے بعد تسلیم و اطاعت کا وہ مرحلہ آیا جس کا تصور بھی پِتُّوں کو پانی کردینے کے لیے کافی ہے۔ دونوں باپ بیٹا منیٰ میں اس جگہ پہنچے جہاں آج کل ایام حج میں رمی جمرات کی جاتی ہے۔ باپ نے چھری نکال کر پتھر پر رگڑی اور بیٹے نے اطاعتِ امر کے لیے سر جھکا دیا۔ فرشتے یقینا سناٹے میں ہوں گے اور فضاء سہمی ہوئی ہوگی یا اللہ ! یہ کیا ماجرا ہے۔ باپ جو سرتاپا محبت و شفقت تھا اور بیٹا جو اطاعت و عقیدت کی تصویر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
فہم القرآن
ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔
” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں…
Read the full tafseer →103: فَلَمَّآ اَسْلَمَا (غرض جب دونوں نے تسلیم کرلیا) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرلی اور اس کے سامنے جھک گئے۔
قولِ قتادہ m :
اس نے اپنے بیٹے کو سپرد کیا اور بیٹے نے اپنے نفس کو وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ (اور باپ نے بیٹے کو کروٹ کے بل لٹادیا) اس کو لٹایا پیشانی کی جانب اور چاقو اسماعیل کے حلق پر رکھ کر چلایا۔ تو چاقو نہ چلا پھر چاقو اس کی گدی پر رکھ کرچلایا تو چاقو پلٹ گیا۔ اور آواز دی گئی۔ اے ابراہیم ! تم نے خواب سچا کردیا۔ روایت میں ہے کہ یہ مقام منٰی میں صخرہ کے پاس تھا۔
: لمّا کا جواب محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہے فلما اسلما وتلہ للجبین۔
Read the full tafseer →(103) ، فلما اسلما ، جب دونوں نے اللہ کے حکم کو مان لیا اور امر خداوندی کے سامنے جھک گئے ۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اور حضرت اسما عیل (علیہ السلام) نے اپنی جان کو اللہ کے سپرد کردیا۔
وتلہ للجبین کی تفسیر
، وتلہ للجبین ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل (علیہ السلام) کو زمین پر لٹا دیا۔ ابن عباس ؓ عنہماکا بیان ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو کروٹ کے بل لٹادیا۔ اسماعیل (علیہ السلام) نے باپ سے کہا : ابا ! میرے بندھن کس کر باندھنا تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے میرے طرف سے سمیٹے رکھنا تاکہ میراخون اچھل کر آپ کے کپڑوں پر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–113
آیت 83
یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی
قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
70 ذبح اسماعیل کا اصل مرحلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب وہ دونوں اپنے رب کے حکم وارشاد کے آگے سرتسلیم خم ہوگئے اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا "۔ یعنی بالکل اوندھے منہ یا کروٹ کے بل۔ دونوں قول ہیں۔ اور الفاظ میں دونوں کی گنجائش موجود ہے۔ اور یہ اس لئے کہا گیا کہ بوقت ذبح کہیں شفقتِ پدری آڑے نہ آجائے۔ اس ضمن میں باپ بیٹا دونوں کے درمیان ہونے والے کلام کے جو نمونے روایات میں ملتے ہیں وہ بڑے ہی رقت انگیز ہیں ۔ وَالتَّفْصِیْلُ فیِ الْمُطَوّل انشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سبحان اللہ ! بےمثال باپ اور بےمثال بیٹے نے اطاعت و فرمانبرداری کی کیسی نادر و بےمثال یادگاریں قائم فرمائیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–113
آزمائش اطاعت اور اس کا بدلہ
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے ناامید ہوگئے تو آپ عراق سے ہوتے ہوئے شام میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیک نیتی، عبادت، آزمائش میں پورا اترنے اور اللہ کی راہ میں ہر مشکل اٹھانے حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دینے کے بدلے میں آپ کو بےحد عزت عطا کی آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری کیا اور تمام اہل کتاب آپ کی عزت کرتے ہیں۔ مسلمان خاص طور سے درود شریف میں سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور تا قیامت بھیجتے رہیں گے۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے وہ عرب ہیں جن میں سیدنا محمد ﷺ آخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113:
اسرار و معارف :
یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
ف 7( فطھر صبر ھما) ( تو ان دونوں کا صبر ظاہر ہوگیا) یہ عبادت محذوف ہے جو ( لما) کا جواب ہے۔ حضرت ابراہیم نے بیٹے کو اوندھا اس لئے لٹایا کہ ذبح کرتے وقت اس کا چہرہ دیکھ کر کہیں رقت اور ہاتھ میں لرزش پیدانہ ہوجائے۔ عموماً مفسرین نے ” للجین “ کا یہی مفہوم بیان کیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض آثار بھی نقل کیے ہیں کہ حضرت اسماعیل نے اپنے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) کو اس طریق سے ذبح کرنے کی وصیت کی۔ ممکن ہے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) نے اپنے باپ سے یہ باتیں بطور احتیاط کہہ دی ہوں مگر آیت سے یہ مفہوم اخذ کرنا بعید ہے کیونکہ لفظ ” جبین “ کا معنی جبھۃ (ماتھا) کی ایک جانب کے آتے ہیں۔ پس اس کے معنی یہ ہیں…
Read the full tafseer →(37:103) اسلما۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب ۔ دونوں نے حکم مانا۔ دونون نے سر تسلیم خم کردیا۔ دونوں (امر خدا وندی کے آگے ) جھک گئے
قتادہ (رح) نے کہا ہے اسلم کا معنی ہے سپرد کردینا۔ یعنی (حضرت) ابراہیم ( (علیہ السلام) ) نے اپنے بیٹے کو اور (حضرت) اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنی جان کو اللہ کے سپرد کردیا۔
تلہ۔ تل ماضی واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل حضرت ابراہیم کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع (حضرت) اسماعیل ہے۔ اس کا معنی ہے زمین پر پچھاڑنا۔ (اور) حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو زمین پر لٹا دیا۔ للجبین۔ پیشانی کے بل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
قربانی اسماعیل علیہ السلام۔
(ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
[21] تاکہ بیٹے کا چہرہ سامنے نہ ہو، مبادا محبت پدری جوش مارنے لگے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ نیچے سے ہاتھ ڈال کر چھری چلائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–112
ذبیح کون تھا ؟
1: ان آیات میں دین کے لئے اور خدا کی اطاعت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عدیم النظیر قربانی کا ذکر ہے ۔ کہ کیوں کر انہوں نے باوجود باپ ہونے کے اپنے بیٹے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری رکھ دی ۔ اور کس سعادت مندی سے ان کے بیٹے نے اپنے کو اس ایثار عظیم کے لئے پیش کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی تاریخ میں اس واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ کہ اللہ کے ایک اشارہ پر اپنے لخت جگر کو ذبح کردینے کا باپ تیہہ کرلے ۔ اور باپ کی فرمانبرداری میں بیٹا جانِ عزیز تک کی پرواہ نہ کرے ۔
حل لغات :۔ وتلہ ۔ التل کے اصل معنے اونچی جگہ کے ہیں ۔ اور فعل صورت میں یہ مقصد ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →(103) پھر جب دونوں باپ بیٹے تعمیل حکم کے لئے آمادہ ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرا دیا۔ یعنی ابراہیم اور اسماعیل نے امر الٰہی کو تسلیم کرلیا اور باپ ذبح کرنے اور بیٹا ذبح ہونے کو آمادہ ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو اس مصلحت سے پیشانی کے بل گرادیا کہ مبادا بیٹے کی صورت دیکھ کر حضرت حق جل مجدہ کے حکم کی بجا آوری میں کچھ کوتاہی نہ ہوجائے۔
بعض کہتے ہیں کہ یہ تدبیر حضرت اسماعیل نے ہی بتائی تھی بہرحال لٹانے کے بعد چاہتے تھے کہ گلے پر اسماعیل کے چھری پھیردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–105
ف 1۔ اس میں اختلاف ہوا ہے کہ ذبیح اسماعیل (علیہ السلام) تھے یا اسحاق (علیہ السلام) ، روایات دونوں طرف متکلم فیہ ہیں، آیت کے سیاق سے ظاہرا اسماعیل (علیہ السلام) معلوم ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →پس جب دونوں فرمانبردار ہوگئے تو باپ نے بیٹے کو کن پٹی کے بل لٹا دیا :
103۔ دونوں باپ بیٹا اللہ تعالیٰ کے مطیع وفرمانبردار ہوگئے ‘ باپ وہ کچھ کرنے پر تیار ہوگیا جس کا خواب میں اشارہ پایا تھا اور بیٹا وہ کچھ کرنے کے لیے حاضر باش ہوا تو باپ نے بیٹے کو کن پٹی کے بل لٹا دیا اور بیٹے نے بخوشی اس حالت کو قبول فرمایا ۔
غور کرو کہ جس اسلام کی دعوت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) دیا کرتے تھے اس کا عملی مظاہرہ اسمعیل (علیہ السلام) کی اس ادا سے زیادہ حسین اور دلکش پیش کیا جاسکتا ہے ۔ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا :
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی :
بلاشبہ اللہ…
Read the full tafseer →The word: اَسلَمَ (aslama: both of them submitted) in verse 103: فَلَمَّا أَسْلَمَا means to submit, bow down, become obedient, rendered ready to carry out the command. Hence, it releases the sense of having bowed down before the Divine command, that is, in plain words, the father resolved to slaughter the son and the son, to be slaughtered by him. At this place, the word used is: لَمَّا (lamma: when), but its apodosis or the complement of the condition has not been mentioned - in other words, it has not been said later on as to what happened when this thing came to pass. This releases a hint…
Read the full tafseer →61 That is, "The Prophet Abraham did not make his son lit flat on his back but made him lie prostrate lest while slaughtering him the sight of his face should arouse compassion and lout and make him shaky. Therefore, he wanted to use the knife from under the throat" .
Read the full tafseer →