As-Saaffaat 37:104

As-Saaffaat · from ayah 104

37:104

وَنَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُ ۟ۙوَنَادَيۡنٰهُ اَنۡ يّٰۤاِبۡرٰهِيۡمُۙ

تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم

— Fateh Muhammad Jalandhari

We called to him, "O Abraham,

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:104

اور ہم نے ندا دی کہ "اے ابراہیمؑ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم!

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے انہیں آواز دی کہ : اے ابراہیم !

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اسے ندائی فرمائی کہ اے ابراہیم،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اسے ندا دی کہ اے ابراہیم!،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو ہم نے اسے پکارا : ابراہیم

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو آواز دی، اے ابراہیم

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو ہم نے پکار کر کہا اے ابراہیم

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے انہیں آواز دی کہ اے ابراہیم

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراہیم ؑ !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم !

— محترمہ رفعت اعجاز

and then We called out to him, :O Ibrahim,

— Muhammad Taqi Usmani

and then We called out to him, :O Ibrahim,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We called out to him: "O Ibrahim!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We called to him, "O Abraham,

— Saheeh International

We called to him, "Abraham,

— Muhammad Sarwar

And We called out to him saying: O Ibrahim!

— Muhammad Habib Shakir

We cried Unto him: O Ibrahim

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:104

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 99–113

ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 62 نحویوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ یہاں " اور " بمعنی " تو " ہے یعنی فقرہ یوں ہے کہ " جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیم ؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا تو ہم نے ندا دی "۔ لیکن ایک دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہاں لفظ " جب " کا جواب محذوف ہے اور اس کو ذہن سامع پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ بات اتنی بڑی تھی کہ اسے الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے تصور ہی کے لیے چھوڑ دینا زیادہ مناسب تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا ہوگا کہ بوڑھا باپ اپنے ارمانوں سے مانگے ہوئے بیٹے کو محض ہماری خوشنودی پر قربان کردینے کے لیے تیار ہوگیا ہے اور بیٹا بھی گلے پر چھری چلوانے کے لیے راضی ہے، تو یہ منظر دیکھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَ آ (اور ہم نے انہیں آواز دی کہ اے ابراہیم ! تم نے خواب سچ کر دکھایا) یعنی اللہ کے حکم کی تعمیل میں جو کام تمہارے کرنے کا تھا اس میں تم نے اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ (خواب میں بھی غالباً صرف یہی دکھایا گیا تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ انہیں ذبح کرنے کے لئے چھری چلا رہے ہیں) اب یہ آزمائش پوری ہوچکی اس لئے اب انہیں چھوڑ دو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 104–105

ونا دینہ ان یابراھیم قد صداقت الرئویا انا کذلک فجزی المحسنین (105-104) امتحان میں حضرت ابراہیم ؑ کی فیروز مندی قریب تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی چھری چل جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو آواز دی کہ اے ابراہیم ! تو نے خواب سچ کر دکھایا اور یہ فیروز مندی جو اس امتحان میں تم نے حاصل کی یہ تمہاری خوب کاری اور تمہارے اخلاص و احسان کا صلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے خوب کار بندوں کو اسی طرح اپنے امتحانوں میں سرفرازی بخشتا ہے۔ قدصداقت الرویا ہم اوپر یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ خواب میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ محتاج تاویل تعبیر ہوتا ہے حضرت ابراہیم ؑ کو یہ خواب جو دکھایا گیا اس کی اصل تعبیر یہ تھی کہ وہ اس بٹے کو خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 104–105

15۔ 1 یعنی دل کے پورے ارادے سے بچے کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹا دینے سے ہی تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہے کیونکہ اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں تجھے کوئی چیز عزیز تر نہیں حتٰی کہ اکلوتا بیٹا بھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 103–106

21: باپ بیٹے دونوں نے تو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں یہی ٹھان لی تھی کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے گا، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا، تاکہ چھری پھیرتے وقت ان کی صورت دیکھ کر ارادے میں کوئی تزلزل نہ آجائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 103–104

ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین (37: 102) ” اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے “۔ ورنہ نہیں۔ کیا شان ہے اللہ کے جناب میں عاجزی کی۔ اور کس قدر روشن ایمان ہے کس قدر عالی شان اطاعت اور بےمثال تسلیم و رضا ہے یہ ! باتوں سے آگے اب اس منظر میں واقعات ایک قدم آگے بڑھتے ہیں۔ اب صرف مکالمہ نہیں ہے عمل شروع ہو رہا ہے فلما اسلما وتلہ للجبین (103) ” “۔ ایک بار پھر یہاں اطاعت سر بلند ہوتی ہے اور عظمت ایمان کا اظہار ہوتا ہے اور تسلیم و رضا کی وہ مثال سامنے آتی ہے جو پوری انسانی تاریخ کا ایک جلی عنوان ہے۔ ایک انسان اپنے اکلوتے بیٹے کو منہ کے بل گراتا ہے تاکہ اسے ذبح کے لیے تیار کرلے۔ اور وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 104–105

9 یعنی بس بس ! رہنے دے۔ تو نے خواب سچا کر دکھایا۔ مقصود بیٹے کا ذبح کرانا نہیں۔ محض تیرا امتحان منظور تھا۔ سو اس میں پوری طرح کامیاب ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 104{ وَنَادَیْنٰہُ اَنْ یّٰٓاِبْرٰہِیْمُ } ”اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراہیم علیہ السلام !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 103–104

60 قربانی کا منظر :۔ سیدنا ابراہیم نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل اس لئے لٹایا کہ کہیں پدرانہ شفقت تعمیل حکم الٰہی میں آڑے نہ آجائے۔ اور چھری چلاتے وقت ہاتھ میں لغزش نہ واقع ہو۔ منہ کے بل لٹانے سے نہ بیٹے کا چہرہ نظر آئے گا نہ پدرانہ جذبات برانگیختہ ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ سیدنا اسماعیل نے اسی مصلحت کے پیش نظر خود اپنے والد محترم کو ایسا مشورہ دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 104–105

52۔ یعنی خواب میں جو حکم ملا، اس پر اپنی طرف سے تو پورا عمل کر ہی گزرے۔ اب ہم اس حکم کو منسوخ کرتے ہیں۔ محققین نے لکھا ہے کہ عزم فعل پر موقوف نہیں۔ 53۔ کہ انہیں راحت کونین سے مالامال کردیتے ہیں۔ اکابر اہل سنت نے (بخلاف معتزلہ کے) اس آیت اور واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ بالکل جائز ہے کوئی حکم نازل ہو اور قبل اس کے کہ اس پر عمل ہو، وہ منسوخ کردیا جائے، وقد استدل بھذہ الایۃ والقصۃ جماعۃ من علماء الاصول علی صحۃ النسخ قبل التمکن من الفعل خلافا لطائفۃ من المعتزلۃ والدلالۃ من ھذہ ظاہرۃ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونادینہ ان یابراھیم اس وقت ہم نے کو آواز دی : اے ابراہیم ! بغوی نے لکھا ہے : اس جملہ میں واؤ زائد ہے اور یہ کلام فَلَمَّا اَسْلَمَا کا جواب (جزاء) ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : لَمَّا اَسْلَمَا کی جزاء محذوف ہے ‘ کلام محذوف اس طرح تھا کہ جو کچھ واقع ہونا تھا ‘ وہ ہوگیا تو دونوں کی خوشی ناقابل بیان ہوئی۔ کوئی حالت یا مقامی وضاحت اس کا اظہار نہیں کرسکتی۔ آئی ہوئی مصیبت کو اللہ نے دور کردیا اور باپ بیٹے کو وہ توفیق عنایت کی جو کسی اور کو عنایت نہیں کی۔ سارے جہان پر ان کو برتری عطا فرمائی ‘ اور ثواب آخرت جو ان کیلئے مقرر فرمایا ‘ اس کا اظہار ہی نہیں ہوسکتا۔ ان تمام نعمتوں پر دونوں نے اپنے رب کا شکر ادا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 103–111

(103۔ 111) غرض کہ جب دونوں حکم الہی کی تعمیل کے لیے تیار ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے کروٹ پر لٹا دیا تو ہم نے آواز دی کہ ابراہیم آپ نے خواب کو سچا اور پورا کر کے دکھایا ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان اور ہم نے ایک موٹا مینڈھا اس کے بدلہ میں دیا اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 104–105

وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ : جب ان دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا (تو ہوا جو ہوا) اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم ! یقیناً تو نے خواب سچا کر دکھایا۔ مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا : ”اگر تم کہو کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو کیسے فرمایا کہ تو نے خواب سچا کر دکھایا، حالانکہ انھوں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، خواب سچا تو اسی صورت میں ہونا تھا کہ اسے ذبح کردیتے ؟ تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے خواب سچا کر دکھانے والا اس لیے فرمایا کہ انھوں نے اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کردی، جو کچھ کرسکتے تھے کیا، ذبح کرنے والا جو کچھ کرتا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 102–113

102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 102–111

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ میں ” السعی “ سے مراد عمل ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ (جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) یعنی جب ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب وہ چلے تو اپنے دل میں غم کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَنَادَيْنٰهُ [اور ہم نے پکارا ان (علیہ السلام) کو ] اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ [کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 104–105

(وَنَادَیْنَاہُ اَنْ یَّاِبْرٰھِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا) (اور ہم نے ابراہیم کو آواز دی کہ تم نے خواب کو سچا کر دکھایا) خواب میں جو حکم دیا گیا تھا اپنی طرف سے اس کا انجام دینے میں ذرا بھی کسر نہ چھوڑی۔ (اِِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور ہم مخلصین کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 103–106

48:۔ ان ھذا الخ یہ ایک ایسا ابتلاء وا متحان تھا کہ اس سے مخلص و غیر مخلص کا واضح طور سے امتیاز ہوسکتا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کا اخلاص وانقیاد ظاہر ہوا۔ و فدینہ الخ، اسمعیل (علیہ السلام) کی جگہ ہم نے ایک عظیم الشان جانور بطور فدیہ دے دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ ندا سنی یا ابراہیم قد صدق الرویا تو سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو جبرئیل (علیہ السلام) مینڈھا لے کر آرہے تھے۔ بیٹے کی جگہ اس کی قربانی دی۔ روی انہ لما سمع ابراہیم النداء نظر الی السماء فاذا ھو بجبریل و معہ کبش املح اقرن و قال ھذا فداء لابنک فاذبحہ دونہ (مظہری ج 8 ص 132) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–113

ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنَادَيْنٰہُ اَنْ يّٰٓــاِبْرٰہِيْمُ۝ 104ۙ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–112

ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔ تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔ اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 104–105

وَنَادَیْنٰـہُ اَنْ یّٰـاِبْرٰھِیْمُ ۔ قَدْصَدَّقْتَ الرُّئْ یَا ج اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 104 تا 105) (اور ہم نے اس کو آواز دی کہ اے ابراہیم۔ پس تم نے خواب سچ کر دکھایا، بیشک ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ ) نحوی تشریح اور امتحان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فیروزمندی اس سے پہلے کی آیت لَمَّاسے شروع ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ جملہ اس کا جواب ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا گمان یہ ہے کہ یہ جملہ اس کا جواب نہیں بلکہ لَمَّاکا جواب محذوف ہے اور اسے ذکر کرنے کی بجائے قاری اور سامع کے ذہن پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–111

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔ ” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 104–105

آزمائش میں کامیابی : 104، 105: وَنَادَیْنٰہُ اَنْ یّٰـاِبْرٰھِیْمُ ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْ یَا (اور ہم نے اس کو آواز دی اے ابراہیم تم نے خواب کو سچا کردیا) یعنی تم نے سچا کردکھایا جو ہم نے تمہیں خواب میں حکم دیا تھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کے حوالہ کردو۔ ہوا جو کچھ ہوا۔ حال خود اسپر دلالت کر رہا ہے۔ اور بیان میں لایا نہیں جاسکتا کہ ان کو کس قدرخوشی ہوئی۔ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتنی تعریفیں کیں اس پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ بہت بڑی مصیبت کو اترنے کے بعد دفع فرمایا نمبر 2۔ یا جواب قبلنا منہ ہے اور نادیناہ اس پر معطوف ہے۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم اسی طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–113

102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 103–104

70 ذبح اسماعیل کا اصل مرحلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب وہ دونوں اپنے رب کے حکم وارشاد کے آگے سرتسلیم خم ہوگئے اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا "۔ یعنی بالکل اوندھے منہ یا کروٹ کے بل۔ دونوں قول ہیں۔ اور الفاظ میں دونوں کی گنجائش موجود ہے۔ اور یہ اس لئے کہا گیا کہ بوقت ذبح کہیں شفقتِ پدری آڑے نہ آجائے۔ اس ضمن میں باپ بیٹا دونوں کے درمیان ہونے والے کلام کے جو نمونے روایات میں ملتے ہیں وہ بڑے ہی رقت انگیز ہیں ۔ وَالتَّفْصِیْلُ فیِ الْمُطَوّل انشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سبحان اللہ ! بےمثال باپ اور بےمثال بیٹے نے اطاعت و فرمانبرداری کی کیسی نادر و بےمثال یادگاریں قائم فرمائیں ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–113

آزمائش اطاعت اور اس کا بدلہ تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے ناامید ہوگئے تو آپ عراق سے ہوتے ہوئے شام میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیک نیتی، عبادت، آزمائش میں پورا اترنے اور اللہ کی راہ میں ہر مشکل اٹھانے حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دینے کے بدلے میں آپ کو بےحد عزت عطا کی آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری کیا اور تمام اہل کتاب آپ کی عزت کرتے ہیں۔ مسلمان خاص طور سے درود شریف میں سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور تا قیامت بھیجتے رہیں گے۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے وہ عرب ہیں جن میں سیدنا محمد ﷺ آخری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 104–105

ف 8 یعنی انہیں آزمائشوں سے اسی طرح سرخرو کر کے نکالتے ہیں اور ان کے درجات بلند کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–113

لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–113

قربانی اسماعیل علیہ السلام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 103–106

[21] تاکہ بیٹے کا چہرہ سامنے نہ ہو، مبادا محبت پدری جوش مارنے لگے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ نیچے سے ہاتھ ڈال کر چھری چلائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 102–112

ذبیح کون تھا ؟ 1: ان آیات میں دین کے لئے اور خدا کی اطاعت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عدیم النظیر قربانی کا ذکر ہے ۔ کہ کیوں کر انہوں نے باوجود باپ ہونے کے اپنے بیٹے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری رکھ دی ۔ اور کس سعادت مندی سے ان کے بیٹے نے اپنے کو اس ایثار عظیم کے لئے پیش کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی تاریخ میں اس واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ کہ اللہ کے ایک اشارہ پر اپنے لخت جگر کو ذبح کردینے کا باپ تیہہ کرلے ۔ اور باپ کی فرمانبرداری میں بیٹا جانِ عزیز تک کی پرواہ نہ کرے ۔ حل لغات :۔ وتلہ ۔ التل کے اصل معنے اونچی جگہ کے ہیں ۔ اور فعل صورت میں یہ مقصد ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 102–105

ف 1۔ اس میں اختلاف ہوا ہے کہ ذبیح اسماعیل (علیہ السلام) تھے یا اسحاق (علیہ السلام) ، روایات دونوں طرف متکلم فیہ ہیں، آیت کے سیاق سے ظاہرا اسماعیل (علیہ السلام) معلوم ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ہم نے اس کو ندا دی کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) ! شاباش ہے آپ کے لیے : 104۔ جو کچھ آپ نے خواب دیکھا اس کی جو تعبیر آپ کے دل میں اللہ نے ڈالی وہ وہی تھی جس کا ذکر اوپر کیا گیا کہ خواب جو کیف ذبح دکھائی گئی تھی بلاشبہ وہ کیف بھی آپ نے پوری کی اور اس کیف کی جو حقیقت تھی اس پر بھی جو انشراح آپ کو ہوا وہ وحی الہی کے مطابق تھا اور اس غیر ذی زرع وادی میں جہاں آبادی برائے نام اور پہاڑ ہی پہاڑ تھے اسمعیل (علیہ السلام) کو لابسایا گیا اور ابراہیم کے بیٹے نے اپنے باپ کی فرمانبرداری کے لیے ایسے مقام پر رہنا پسند کرلیا اس کا اجر آخرت میں جو ہوگا وہ آخرت ہی میں ہوگا لیکن جو دنیا میں شاباش ملی وہ بھی آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 104, 105, it was said: وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَ‌اهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّ‌ؤْيَا (and then We called out to him, "0 Ibrahim, you did make the dream come true." ), that is, in accomplishing the task entrusted with him in obedience to the command of Allah, he left nothing undone, in fact, did it perfectly to the letter (more likely so because in the dream too, it was shown that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) is simply moving his knife to slaughter his son). Now that test was over, so he should let him go.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

62 One section of the grammarians says that here "and" has been use to mean "then"; thus, the sentence would be: "When the two had submitted themselves (to Allah) and Abraham had flung his son down on his brow, then We called out. . . " But another section of them says that here the answer to the word "when" has been omitted and left for the listener to fill; for it was better w leave such an indescribable thing to the imagination instead of expressing it in words. When Allah amight have seen that the old father who had got a son after long earnest prayers, has become ready to sacrifice him…

Read the full tafseer →