As-Saaffaat 37:105

As-Saaffaat · from ayah 105

37:105

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا ۚ— اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۟قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا ‌ ‌ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ

تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

You have fulfilled the vision." Indeed, We thus reward the doers of good.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:105

تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

واقعی تم نے اپنا خواب (کیاخوب) سچا کر دکھایا۔ بے شک ہم محسنوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (سو تمہیں مقامِ خلّت سے نواز دیا گیا ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا تو نے خواب سچا کر دکھایا، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم نے خواب کو سچ کر دکھایا ہم یقینا نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی صلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بس تم نے خواب کو سچ کر دکھایا ! بیشک ہم خوب کاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک سچ کر دکھایا آپ نے اپنے خواب کو (اور کامیاب ہوگئے آپ اس آزمائش میں) بیشک ہم ایسے ہی (صلہ و) بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو

— مولانا اسحاق مدنی

تم نے خواب کو خوب سچ کردکھایا۔ (وہ وقت ہی عجب تھا) ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم نے خواب سچ کر دکھایا یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں محسنین کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو نے خواب کو سچا کر دکھایا ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

you have indeed fulfilled your dream. Thus do We reward the good-doers.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

you did make the dream come true. This is how We reward those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

you did make the dream come true. This is how We reward those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"You have fulfilled the dream!" Verily, thus do We reward the doers of good.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thou hast already fulfilled the vision. Lo! thus do We reward the good.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

You have fulfilled the vision." Indeed, We thus reward the doers of good.

— Saheeh International

you have fulfilled what you were commanded to do in your dream." Thus do We reward the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

You have indeed shown the truth of the vision; surely thus do We reward the doers of good:

— Muhammad Habib Shakir

Of a surety thou hast fulfilled the vision. Verily We! thus We recompense the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

"Thou hast already fulfilled the vision!" - thus indeed do We reward those who do right.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:105

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 99–113

ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 63 یعنی ہم نے تمہیں یہ تو نہیں دکھایا تھا کہ تم نے بیٹے کو ذبح کردیا ہے اور اس کی جان نکل گئی ہے، بلکہ یہ دکھایا تھا کہ تم ذبح کر رہے ہو۔ تو وہ خواب تم نے پورا کر دکھایا۔ اب ہمیں تمہارے بچے کی جان لینی مطلوب نہیں ہے۔ اصل مدعا جو کچھ تھا وہ تمہاری اس آمادگی اور تیاری سے حاصل ہوگیا ہے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 64 یعنی جو لوگ احسان کی روش اختیار کرتے ہیں ان کے اوپر آزمائشیں ہم اس لیے نہیں ڈالا کرتے کہ انہیں خواہ مخواہ تکلیفوں میں ڈالیں اور رنج و غم میں مبتلا کریں۔ بلکہ یہ آزمائشیں ان کی فضیلتوں کو ابھارنے کے لیے اور انہیں بڑے مرتبے عطا کرنے کے لیے ان پر ڈالی جاتی ہیں، اور پھر آزمائش کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–106

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ (ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں) یعنی جب کوئی اللہ کا بندہ اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر کے اپنے تمام جذبات کو قربان کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، تو ہم بالآخر اسے دنیوی تکلیف سے بھی بچا لیتے ہیں، اور آخرت کا اجر وثواب بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 104–105

ونا دینہ ان یابراھیم قد صداقت الرئویا انا کذلک فجزی المحسنین (105-104) امتحان میں حضرت ابراہیم ؑ کی فیروز مندی قریب تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی چھری چل جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو آواز دی کہ اے ابراہیم ! تو نے خواب سچ کر دکھایا اور یہ فیروز مندی جو اس امتحان میں تم نے حاصل کی یہ تمہاری خوب کاری اور تمہارے اخلاص و احسان کا صلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے خوب کار بندوں کو اسی طرح اپنے امتحانوں میں سرفرازی بخشتا ہے۔ قدصداقت الرویا ہم اوپر یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ خواب میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ محتاج تاویل تعبیر ہوتا ہے حضرت ابراہیم ؑ کو یہ خواب جو دکھایا گیا اس کی اصل تعبیر یہ تھی کہ وہ اس بٹے کو خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 104–105

15۔ 1 یعنی دل کے پورے ارادے سے بچے کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹا دینے سے ہی تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہے کیونکہ اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں تجھے کوئی چیز عزیز تر نہیں حتٰی کہ اکلوتا بیٹا بھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 103–106

21: باپ بیٹے دونوں نے تو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں یہی ٹھان لی تھی کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے گا، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا، تاکہ چھری پھیرتے وقت ان کی صورت دیکھ کر ارادے میں کوئی تزلزل نہ آجائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 105–107

ونادینہ ان یابراھیم ۔۔۔۔۔ بذبح عظیم (105 – 107) ” ۔ “۔ تمہارا خواب بھی سچا تھا ، تم نے اسے سچ کر دکھایا۔ عملاً سچا کردیا۔ اللہ تو تسلیم و رضا کا خواہش مند ہے۔ یوں کہ نفس کے اندر کوئی ایسی بات نہ رہے جو اللہ سے چھپائے ، جو اللہ کے حکم سے زیادہ عزیز ہو ، یا حکم الٰہی کے مقابلے میں کوئی تحفظ ہو۔ اگرچہ وہ اکلوتا بیٹا اور جگر گوشہ ہو۔ اگرچہ وہ جان اور روح ہو۔ اے ابراہیم تو نے تو یہ گویا کر دکھایا۔ تم تو ذبح عظیم کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ اگر اللہ ہاتھ کو نہ پکڑتا۔ تم نے عزیز ترین متاع قربان کردی تھی۔ اور تم نہایت ہی سنجیدگی ، دھیمے انداز اور پروقار طریقے سے ، اطمینان اور اعتماد کے ساتھ ، مشورے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 104–105

9 یعنی بس بس ! رہنے دے۔ تو نے خواب سچا کر دکھایا۔ مقصود بیٹے کا ذبح کرانا نہیں۔ محض تیرا امتحان منظور تھا۔ سو اس میں پوری طرح کامیاب ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 105{ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّئْ یَاج اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”تم نے خواب سچ کر دکھایا ‘ یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

61 باپ بیٹے کا امتحان میں سرفراز ہونا :۔ جب باپ اور بیٹا دونوں نے اللہ کی فرمانبرداری کی بےنظیر مثال قائم کردی تو اس وقت رحمت الٰہی جوش میں آگئی۔ اور فوراً سیدنا ابراہیم پر وحی ہوئی کہ بس بس اس سے زیادہ کچھ نہ کرو۔ ہمیں تو صرف تمہارا امتحان لینا مقصود تھا۔ اور وہ ہوچکا جس میں تم پوری طرح کامیاب اترے ہو۔ ہمارا یہ مقصود ہرگز نہ تھا کہ تم فی الواقع بیٹے کو ذبح کر ڈالو۔ واضح رہے کہ سیدنا ابراہیم نے جو خواب دیکھا تھا وہ یہ تھا کہ میں ذبح کر رہا ہوں یہ نہیں دیکھا تھا کہ میں نے ذبح کردیا ہے اور جتنا خواب آپ نے دیکھا تھا اتنا کام ہوچکا تو آگے ذبح کردینے سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا۔ 62 یعنی ہمارا دستور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 104–105

52۔ یعنی خواب میں جو حکم ملا، اس پر اپنی طرف سے تو پورا عمل کر ہی گزرے۔ اب ہم اس حکم کو منسوخ کرتے ہیں۔ محققین نے لکھا ہے کہ عزم فعل پر موقوف نہیں۔ 53۔ کہ انہیں راحت کونین سے مالامال کردیتے ہیں۔ اکابر اہل سنت نے (بخلاف معتزلہ کے) اس آیت اور واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ بالکل جائز ہے کوئی حکم نازل ہو اور قبل اس کے کہ اس پر عمل ہو، وہ منسوخ کردیا جائے، وقد استدل بھذہ الایۃ والقصۃ جماعۃ من علماء الاصول علی صحۃ النسخ قبل التمکن من الفعل خلافا لطائفۃ من المعتزلۃ والدلالۃ من ھذہ ظاہرۃ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قد صدقت الرؤیا تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ یعنی تمہارے اختیار میں جو کچھ تھا ‘ وہ تم نے پورا کردیا۔ کسی کام پر مامور کرنے کا مقصد صرف آزمائش اور اس امر کا امتحان ہے کہ بقدر اختیار بندہ حکم کی تعمیل کرتا ہے یا نہیں ‘ امر کی اس کے سوا کوئی غرض نہیں ہوتی (حضرت ابراہیم نے امر ذبح کی پوری تعمیل کی اور اپنی دانست میں ذبح کر ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ‘ لیکن اللہ نے حضرت اسماعیل کو بچا لیا۔ یہ کام اللہ کا تھا ‘ مترجم) بعض اقوال میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے خواب صرف یہ دیکھا تھا کہ میں بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں ‘ خون بہاتے نہیں دیکھا تھا۔ پس جو کچھ خواب میں دیکھا تھا ‘ بیداری میں اس کو پورا کردیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 103–111

(103۔ 111) غرض کہ جب دونوں حکم الہی کی تعمیل کے لیے تیار ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے کروٹ پر لٹا دیا تو ہم نے آواز دی کہ ابراہیم آپ نے خواب کو سچا اور پورا کر کے دکھایا ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان اور ہم نے ایک موٹا مینڈھا اس کے بدلہ میں دیا اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 104–105

وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ : جب ان دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا (تو ہوا جو ہوا) اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم ! یقیناً تو نے خواب سچا کر دکھایا۔ مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا : ”اگر تم کہو کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو کیسے فرمایا کہ تو نے خواب سچا کر دکھایا، حالانکہ انھوں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، خواب سچا تو اسی صورت میں ہونا تھا کہ اسے ذبح کردیتے ؟ تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے خواب سچا کر دکھانے والا اس لیے فرمایا کہ انھوں نے اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کردی، جو کچھ کرسکتے تھے کیا، ذبح کرنے والا جو کچھ کرتا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 102–113

102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 102–111

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ میں ” السعی “ سے مراد عمل ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ (جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) یعنی جب ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب وہ چلے تو اپنے دل میں غم کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَدْ صَدَّقْتَ [آپ سچ کرچکے ] الرُّءْيَا ۚ [خواب کو ] اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي [بیشک ہم اس طرح جزا دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [خوبکاروں کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 104–105

(وَنَادَیْنَاہُ اَنْ یَّاِبْرٰھِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا) (اور ہم نے ابراہیم کو آواز دی کہ تم نے خواب کو سچا کر دکھایا) خواب میں جو حکم دیا گیا تھا اپنی طرف سے اس کا انجام دینے میں ذرا بھی کسر نہ چھوڑی۔ (اِِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور ہم مخلصین کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 103–106

48:۔ ان ھذا الخ یہ ایک ایسا ابتلاء وا متحان تھا کہ اس سے مخلص و غیر مخلص کا واضح طور سے امتیاز ہوسکتا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کا اخلاص وانقیاد ظاہر ہوا۔ و فدینہ الخ، اسمعیل (علیہ السلام) کی جگہ ہم نے ایک عظیم الشان جانور بطور فدیہ دے دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ ندا سنی یا ابراہیم قد صدق الرویا تو سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو جبرئیل (علیہ السلام) مینڈھا لے کر آرہے تھے۔ بیٹے کی جگہ اس کی قربانی دی۔ روی انہ لما سمع ابراہیم النداء نظر الی السماء فاذا ھو بجبریل و معہ کبش املح اقرن و قال ھذا فداء لابنک فاذبحہ دونہ (مظہری ج 8 ص 132) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–113

ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا۝ 0 ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 105 صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–112

ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔ تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔ اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 104–105

وَنَادَیْنٰـہُ اَنْ یّٰـاِبْرٰھِیْمُ ۔ قَدْصَدَّقْتَ الرُّئْ یَا ج اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 104 تا 105) (اور ہم نے اس کو آواز دی کہ اے ابراہیم۔ پس تم نے خواب سچ کر دکھایا، بیشک ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ ) نحوی تشریح اور امتحان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فیروزمندی اس سے پہلے کی آیت لَمَّاسے شروع ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ جملہ اس کا جواب ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا گمان یہ ہے کہ یہ جملہ اس کا جواب نہیں بلکہ لَمَّاکا جواب محذوف ہے اور اسے ذکر کرنے کی بجائے قاری اور سامع کے ذہن پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–111

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔ ” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 104–105

آزمائش میں کامیابی : 104، 105: وَنَادَیْنٰہُ اَنْ یّٰـاِبْرٰھِیْمُ ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْ یَا (اور ہم نے اس کو آواز دی اے ابراہیم تم نے خواب کو سچا کردیا) یعنی تم نے سچا کردکھایا جو ہم نے تمہیں خواب میں حکم دیا تھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کے حوالہ کردو۔ ہوا جو کچھ ہوا۔ حال خود اسپر دلالت کر رہا ہے۔ اور بیان میں لایا نہیں جاسکتا کہ ان کو کس قدرخوشی ہوئی۔ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتنی تعریفیں کیں اس پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ بہت بڑی مصیبت کو اترنے کے بعد دفع فرمایا نمبر 2۔ یا جواب قبلنا منہ ہے اور نادیناہ اس پر معطوف ہے۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

105، قد صدقت الرؤیا، یہاں پر کلام تام ہوگیا ۔ پھر آگے ارشاد فرمایا : ، انا کذلک نجزی المحسنین، جس طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جزادی ثواب عظیم ذبح کا عطا کیا اور ذبح اسماعیل (علیہ السلام) سے درگزر کی اور سارے جہاں پر ان کی برتری عنایت کی ۔ اسی طرح ہم تمام نیکی کرنے والوں کو جزادیتے ہیں ، مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان کیا اور ان کے بیٹے کو ذبح کرنے سے معاف کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–113

102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

71 حضرت ابراہیم کی اس امتحان میں کامیابی کا اعلان : سو اس سے حضرت ابراہیم کی اس کڑے امتحان میں بھی کامیابی اور فیروزمندی کا صاف اور صریح طور پر اعلان فرما دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے پکار کر کہا اے ابراہیم بیشک آپ نے سچ کر دکھایا اپنے خواب کو "۔ کہ ہمیں آپ کے بیٹے کی جان لینا مطلوب نہ تھی بلکہ آپ کے دل کی آزمائش مطلوب تھی۔ اور اس میں آپ کامیاب ہوگئے۔ اور خواب میں بھی آپ کو یہ نہیں دکھلایا گیا تھا کہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو ذبح کردیا اور اس کی جان نکل گئی بلکہ یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ (علیہ السلام) اسے ذبح کر رہے ہیں۔ سو وہ آپ (علیہ السلام) نے کردیا۔ اور آپ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–113

آزمائش اطاعت اور اس کا بدلہ تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے ناامید ہوگئے تو آپ عراق سے ہوتے ہوئے شام میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیک نیتی، عبادت، آزمائش میں پورا اترنے اور اللہ کی راہ میں ہر مشکل اٹھانے حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دینے کے بدلے میں آپ کو بےحد عزت عطا کی آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری کیا اور تمام اہل کتاب آپ کی عزت کرتے ہیں۔ مسلمان خاص طور سے درود شریف میں سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور تا قیامت بھیجتے رہیں گے۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے وہ عرب ہیں جن میں سیدنا محمد ﷺ آخری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 104–105

ف 8 یعنی انہیں آزمائشوں سے اسی طرح سرخرو کر کے نکالتے ہیں اور ان کے درجات بلند کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:105) قد صدقت۔ قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ صدقت ماضی واحد مذکر حاضر۔ تصدیق (تفعیل) مصدر سے، بیشک تو نے سچ کر دکھایا۔ الرؤیا۔ واحد ۔ خواب۔ رؤی جمع۔ مادہ رء ی۔ یہ لفظ اکثر خواب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن کبھی جاگتے میں آنکھ سے یکھنے کے لئے بھی آتا ہے (ای بمعنی رؤیۃ ) مثلا وما جعلنا الرؤیا التی ارینک الا فتنۃ للناس (17:60) اور ہم نے جو منظر تجھ کو دکھایا تھا اسے ہم نے لوگوں کی آزمائش کا سبب بنادیا۔ یا متنبی کا شعر ہے :۔ ورؤیاک احلی فی العیون من الغمض۔ نیم باز آنکھوں کی نسبت تو تیرا (نگاہ بھر کر) دیکھنا آنکھون کو زیادہ بھلا معلوم ہوتا ہے۔ کذلک نجزی المحسنین۔ ہم مخلصوں کو ایسا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–113

لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–113

قربانی اسماعیل علیہ السلام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 103–106

[21] تاکہ بیٹے کا چہرہ سامنے نہ ہو، مبادا محبت پدری جوش مارنے لگے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ نیچے سے ہاتھ ڈال کر چھری چلائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 102–112

ذبیح کون تھا ؟ 1: ان آیات میں دین کے لئے اور خدا کی اطاعت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عدیم النظیر قربانی کا ذکر ہے ۔ کہ کیوں کر انہوں نے باوجود باپ ہونے کے اپنے بیٹے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری رکھ دی ۔ اور کس سعادت مندی سے ان کے بیٹے نے اپنے کو اس ایثار عظیم کے لئے پیش کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی تاریخ میں اس واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ کہ اللہ کے ایک اشارہ پر اپنے لخت جگر کو ذبح کردینے کا باپ تیہہ کرلے ۔ اور باپ کی فرمانبرداری میں بیٹا جانِ عزیز تک کی پرواہ نہ کرے ۔ حل لغات :۔ وتلہ ۔ التل کے اصل معنے اونچی جگہ کے ہیں ۔ اور فعل صورت میں یہ مقصد ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(105) تونے خواب کو پوری طرح سچ کر دکھایا کر دکھایا بلا شبہ ہم نیکوکار اور مخلفین کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔ یعنی جب چھری چلانی چاہی اس وقت عالم بالا کے ملائکہ پر کیا گزری اور زمین و آسمان پر کیا بیتی بہرحال ان دونوں کی قربانیوں کو ہم نے قبول کرلیا اور ابراہیم کو پکار کر کہا اے ابراہیم تونے اپنے خواب کو سچا کردیاہم مخلصین کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں کہ دونوں عالم میں ان کو بھلائی ملتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایسے مشکل حکم کر کر آزماتے ہیں پھر ان کو قائم رکھتے ہیں تب درجے بلند ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 102–105

ف 1۔ اس میں اختلاف ہوا ہے کہ ذبیح اسماعیل (علیہ السلام) تھے یا اسحاق (علیہ السلام) ، روایات دونوں طرف متکلم فیہ ہیں، آیت کے سیاق سے ظاہرا اسماعیل (علیہ السلام) معلوم ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں : 105۔ اے ابراہیم آپ نے خواب کو سچ کر دکھایا اللہ سے بڑی چاہت سے مانگا ہوا بیٹا اپنے سے جدا کردیا اور یہ جدائی تو نے ہماری خاطر قبول کی اور اسمعیل (علیہ السلام) نے بھی اپنے خاندان سے الگ تھلک ہو کر اس غیر ذی زرع وادی میں رہائش اختیار کرکے ہماری فرمانبردای کا ثبوت دیا اور غریب الوطنی اختیار کرکے شیطان کا ٹھوٹھا توڑ دیا اس نے نہ معلوم باپ بیٹے کو کتنے بہکاوے دیئے اور کیا کیا وسوسہ اندازیاں کیں لیکن بحمد اللہ باپ بیٹے نے اس کی ایک نہ سنی ، غور کرو کہ آج کل کی طرح وہ زمانہ نہیں تھا کہ ضرورت ہوگی تو بیٹا باپ کو یا باپ بیٹے کو جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 105–106

By saying: كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (This is how We reward those who are good in deeds - 110), the sense is, 'when a servant of Allah bows down before the command of Allah and is ready to sacrifice all personal thoughts and feelings, then, ultimately, We take care of him, so that he remains safe from whatever could have afflicted him here in this world, and as for the recompense and reward of the Hereafter, that We write down in his book of deeds.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

63 That is, "We did not make you see in the dream that you had actually slaughtered your son and he had died, but that you were slaughtering him. That Vision you have fulfilled. Now, it is not Our will w take the life of your child: the actual object of the vision has been fulfilled by your submission and preparation to sacrifice him for Our sake." 64 That is, "We do not subject the people who adopt the righteous way to trials in order to involve them in trouble and distress and affliction just for the sake of it, but these trials are meant to bring out their excellencies and to exalt them to…

Read the full tafseer →