As-Saaffaat 37:106

As-Saaffaat · from ayah 106

37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ ۟اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ

بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, this was the clear trial.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:106

یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ روشن جانچ تھی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک یہ بہت بڑی کھلی آزمائش تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک یہی تو یقینا کھلی آزمائش ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ یہ ایک صریح آزمائش تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک یہ کھلا ہوا امتحان تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ یہ ایک (بڑی بھاری اور) کھلی آزمائش تھی

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک یہ تھا بھی کھلا ہوا امتحان۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی

— محترمہ رفعت اعجاز

This was indeed a plain trial.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This was indeed a trial that clearly demonstrated (their obedience).

— Muhammad Taqi Usmani

This was indeed a trial that clearly demonstrated (their obedience).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, that indeed was a manifest trial.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, this was the clear trial.

— Saheeh International

It was certainly an open trial.

— Muhammad Sarwar

Most surely this is a manifest trial.

— Muhammad Habib Shakir

Verily that! that was a trial manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:106

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 99–113

ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 65 یعنی مقصود تمہارے ہاتھ سے تمہارے بچے کو ذبح کرا دینا نہ تھا، بلکہ اصل مقصود تمہارا امتحان لینا تھا کہ تم ہمارے مقابلے میں دنیا کی کسی چیز کو عزیز تر تو نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–106

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ (ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں) یعنی جب کوئی اللہ کا بندہ اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر کے اپنے تمام جذبات کو قربان کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، تو ہم بالآخر اسے دنیوی تکلیف سے بھی بچا لیتے ہیں، اور آخرت کا اجر وثواب بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان ھذا لھوا لبلوا المین (106) حضرت ابراہیم ؑ کو کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین یہ حضرت ابراہیم ؑ کو اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی طرف تے تحسین و آفرین ہے کہ یہ کوئی معمولی امتحان نہیں تھا بلکہ بہت بڑا امحتان تھا جس میں ابراہیم ؑ نے بازی جیتی ! جس امتحان کو خود اللہ تعالیٰ بڑا امتحان قرار دے اس کے بڑے ہنے میں کیا شبہ ہوسکتا یہ اور اگر اس میں حضرت ابراہیم ؑ نے ایسی کامیابی حاصل کی جس کی داد خود اللہ تعالیٰ نے قدصدقت الرویا کے شاندار الفاظ سے دی تو اس میں شبہ نہیں کہ اس آسمان کے نیچے نہ اس سے بڑا کوئی امتحان پیش آیا اور نہ اس سے زیادہ شادنار کامیابی کسی نے حاصل کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس پر میں تو سرخرو رہا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 103–106

21: باپ بیٹے دونوں نے تو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں یہی ٹھان لی تھی کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے گا، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا، تاکہ چھری پھیرتے وقت ان کی صورت دیکھ کر ارادے میں کوئی تزلزل نہ آجائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 105–107

ونادینہ ان یابراھیم ۔۔۔۔۔ بذبح عظیم (105 – 107) ” ۔ “۔ تمہارا خواب بھی سچا تھا ، تم نے اسے سچ کر دکھایا۔ عملاً سچا کردیا۔ اللہ تو تسلیم و رضا کا خواہش مند ہے۔ یوں کہ نفس کے اندر کوئی ایسی بات نہ رہے جو اللہ سے چھپائے ، جو اللہ کے حکم سے زیادہ عزیز ہو ، یا حکم الٰہی کے مقابلے میں کوئی تحفظ ہو۔ اگرچہ وہ اکلوتا بیٹا اور جگر گوشہ ہو۔ اگرچہ وہ جان اور روح ہو۔ اے ابراہیم تو نے تو یہ گویا کر دکھایا۔ تم تو ذبح عظیم کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ اگر اللہ ہاتھ کو نہ پکڑتا۔ تم نے عزیز ترین متاع قربان کردی تھی۔ اور تم نہایت ہی سنجیدگی ، دھیمے انداز اور پروقار طریقے سے ، اطمینان اور اعتماد کے ساتھ ، مشورے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی ایسے مشکل حکم کر کے آزماتے ہیں، پھر ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ تب درجے بلند دیتے ہیں۔ تورات میں ہے کہ جب ابراہیم نے بیٹے کو قربان کرنا چاہا اور فرشتہ نے ندا دی کہ ہاتھ روک لو، تو فرشتے نے یہ الفاظ کہے۔ " خدا کہتا ہے کہ چونکہ تو نے ایسا کام کیا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو بچا نہیں رکھا۔ میں تجھ کو برکت دوں گا۔ اور تیری نسل کو آسمان کے ستاروں اور ساحل بحر کی ریت کی طرح پھیلا دوں گا۔ " (تورات تکوین اصحاح 22، آیت 15)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 106{ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ } ”یقینا یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔“ گویا ممتحن خود کہہ رہا ہے کہ میں نے جو امتحان لیا وہ بہت سخت تھا۔ یہ تحسین اور شاباش کی انتہا ہے۔ میں نے اس موضوع پر ”حج اور عید الاضحی اور ان کی اصل روح : قرآن حکیم کے آئینے میں“ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جو میرے کتابچے ”عید الاضحی اور فلسفہ قربانی“ میں شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

63 بھلا جس آزمائش کے متعلق اللہ تعالیٰ خود فرمائیں کہ وہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی اس کے بڑی آزمائش ہونے میں کیا شک کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کا تصور یوں کیا جاسکتا ہے ایک بوڑھا باپ ہو جس کا ایک ہی نوجوان بچہ ہو۔ وہی اس کا سہارا ہو اور اسے بھی اس نے اللہ سے دعائیں کر کر کے لیا ہو۔ پھر اسے اضطراری موت نہ آئے بلکہ اس باپ سے کہا جائے کہ میری راہ میں قربان کردو تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

54۔ (جسے بجز مخلص کامل کے کوئی دوسرا برداشت نہیں کرسکتا تھا) خواب میں حکم ہونے کی شاید یہ حکمت ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا انقیاد زیادہ ظاہر ہو کہ خواب کو خیال نہیں سمجھا، اتنے بڑے کام پر آمادہ ہوگئے (تھانوی (رح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ھذا لھو البلؤ المبین (بیٹے کو ذبح کردینے کا) یہ حکم بلاشبہ کھلا ہوا امتحان تھا۔ اس سے مخلص اور غیر مخلص کی جانچ ہوجاتی تھی ‘ یا (بلاء کا معنی ہے) تکلیف اور کھلی ہوئی سختی تھی ‘ اس سے زیادہ سخت حکم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک بلاء سے مراد ہے نعمت ‘ یعنی بیٹے کی جگہ مینڈھے کو ذبح کردینے کا حکم اللہ کا بڑا انعام تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 103–111

(103۔ 111) غرض کہ جب دونوں حکم الہی کی تعمیل کے لیے تیار ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے کروٹ پر لٹا دیا تو ہم نے آواز دی کہ ابراہیم آپ نے خواب کو سچا اور پورا کر کے دکھایا ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان اور ہم نے ایک موٹا مینڈھا اس کے بدلہ میں دیا اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْبَلٰۗــــؤُا الْمُبِيْنُ : یعنی بوڑھے باپ کو اکلوتا بیٹا ذبح کرنے کا حکم، جو کام کاج میں اس کا مددگار بننے کی عمر کو پہنچ چکا ہے، یقیناً یہ باپ بیٹے دونوں کے لیے کھلی آزمائش اور بہت سخت امتحان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 102–113

102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 102–111

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ میں ” السعی “ سے مراد عمل ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ (جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) یعنی جب ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب وہ چلے تو اپنے دل میں غم کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ ھٰذَا [بیشک یہ ] لَهُوَ [یقینا یہی ] الْبَلٰۗــــؤُا الْمُبِيْنُ [صریح آزمائش تھی ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–107

(اِِنَّ ھٰذَا لَہُوَ الْبَلاَءُ الْمُبِیْنُ ) (بلاشبہ یہ کھلا امتحان ہے) (وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ) (اور ہم نے اس کے بدلہ ایک بڑا ذبیحہ دے دیا) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ (انہوں نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دی لیکن گلا نہ کٹا، مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گلے کو تانبے کا بنا دیا جس پر چھری نے کچھ کام نہ دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا ذبیحہ بھیج دیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 103–106

48:۔ ان ھذا الخ یہ ایک ایسا ابتلاء وا متحان تھا کہ اس سے مخلص و غیر مخلص کا واضح طور سے امتیاز ہوسکتا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کا اخلاص وانقیاد ظاہر ہوا۔ و فدینہ الخ، اسمعیل (علیہ السلام) کی جگہ ہم نے ایک عظیم الشان جانور بطور فدیہ دے دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ ندا سنی یا ابراہیم قد صدق الرویا تو سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو جبرئیل (علیہ السلام) مینڈھا لے کر آرہے تھے۔ بیٹے کی جگہ اس کی قربانی دی۔ روی انہ لما سمع ابراہیم النداء نظر الی السماء فاذا ھو بجبریل و معہ کبش املح اقرن و قال ھذا فداء لابنک فاذبحہ دونہ (مظہری ج 8 ص 132) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–113

ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ ھٰذَا لَہُوَالْبَلٰۗــؤُا الْمُبِيْنُ۝ 106 بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ( ب ل ی ) بلی الثوب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–112

ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔ تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔ اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ ھٰذَا لَھُوَالْـبَلٰٓـؤُا الْمُبِیْنُ ۔ (الصآفات : 106) (بےشک یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظیم قربانی کا صلہ دائمی قربانی یعنی باپ کو خواب میں یہ دکھانا کہ وہ بیٹے کو ذبح کررہے ہیں اور باپ اور بیٹے کا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کی تعمیل ازبس ضروری ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی آزمائش تھی جس میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) پورا اترے اور اللہ تعالیٰ نے قَدْصَدَّقْتَ الرُّئْ یَافرما کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کامیابی کا اعلان فرمایا۔ اندازہ کیجیے جس آزمائش اور امتحان کو اللہ تعالیٰ مبین قرار دے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–111

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔ ” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

106: اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ (حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان) وہ کھلا امتحان جس میں مخلصین دوسروں سے الگ ہوتے ہیں۔ یا واضح مشقت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

106، ان ھذالھوالبلاء المبین، ظاہرکو اختیار کیا چونکہ اس کے ذریعے سے ظاہر ہوجاتا ہے انسان کا مخلص وغیر مخلص ہونا۔ مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ بلاء سے مراد نعمت ہے۔ اللہ نے بیٹے کی جگہ مینڈھے کو ذبح کرنے کا حکم اللہ کا بڑا انعام ہے۔ شبہ اور اس کا ازالہ سوال : صدقت الرؤیاکی سے فرمادیا حالانکہ انہوں نے اس کو ذبح نہیں کیا ؟ جواب : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب کو بایں طور سچا کردکھایا کہ ان کے نزدیک جس کا اختیار تھا وہ پورا کرلیا اور مطلب یہاں ان دونوں کا تسلیم ہوجانا ہے اور وہ ان دونوں سے متحقق ہوگیا۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب صرف یہ دیکھا تھا کہ میں بیٹے کو ذبح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–113

102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 106–111

73 ایک عظیم الشان اور بےمثال امتحان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ ایک ۔ بڑی بھاری اور۔ کھلی آزمائش تھی "۔ اور اس سے بڑھ کر کھلی اور بڑی آزمائش اور کیا ہوگی کہ بیٹے کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے اور وہ بھی ایک ایسے بیٹے کا جو کہ نہایت ہونہار اور اطاعت گزارو صدق و فاشعار بیٹاہو۔ اور جو کہ خصوصی دعاؤں و التجاؤں سے اور بڑی امیدوں اور تمناؤں کے بعد بڑھاپے میں ملا ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب کہ وہ دوڑ دھوپ کرنے اور کام آنے کی عمر کو پہنچ چکا ہے۔ ایسے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہوجانا اور وہ بھی رب کی طرف سے محض خواب میں ملنے والے ایک اشارے کی بناء پر، جس کی کئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–113

آزمائش اطاعت اور اس کا بدلہ تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے ناامید ہوگئے تو آپ عراق سے ہوتے ہوئے شام میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیک نیتی، عبادت، آزمائش میں پورا اترنے اور اللہ کی راہ میں ہر مشکل اٹھانے حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دینے کے بدلے میں آپ کو بےحد عزت عطا کی آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری کیا اور تمام اہل کتاب آپ کی عزت کرتے ہیں۔ مسلمان خاص طور سے درود شریف میں سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور تا قیامت بھیجتے رہیں گے۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے وہ عرب ہیں جن میں سیدنا محمد ﷺ آخری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–113

لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–113

قربانی اسماعیل علیہ السلام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 103–106

[21] تاکہ بیٹے کا چہرہ سامنے نہ ہو، مبادا محبت پدری جوش مارنے لگے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ نیچے سے ہاتھ ڈال کر چھری چلائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 102–112

ذبیح کون تھا ؟ 1: ان آیات میں دین کے لئے اور خدا کی اطاعت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عدیم النظیر قربانی کا ذکر ہے ۔ کہ کیوں کر انہوں نے باوجود باپ ہونے کے اپنے بیٹے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری رکھ دی ۔ اور کس سعادت مندی سے ان کے بیٹے نے اپنے کو اس ایثار عظیم کے لئے پیش کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی تاریخ میں اس واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ کہ اللہ کے ایک اشارہ پر اپنے لخت جگر کو ذبح کردینے کا باپ تیہہ کرلے ۔ اور باپ کی فرمانبرداری میں بیٹا جانِ عزیز تک کی پرواہ نہ کرے ۔ حل لغات :۔ وتلہ ۔ التل کے اصل معنے اونچی جگہ کے ہیں ۔ اور فعل صورت میں یہ مقصد ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(106) بلا شبہ یہ کام تھا بھی ایک کھلا اور صریح امتحان یعنی یہ واقعہ ایک ایسا صریح امتحان اور آزمائش تھی کہ جس کو مخلصین ہی پورا کرسکتے ہیں ایسے سخت امتحان میں پورا ترنا ہر ایک کے بس کا کام نہیں ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اس میں ایک بہت بڑی آزمائش تھی جو پوری ہوئی : 106۔ دنیا اپنی اولاد کو دوردراز کے سفروں اور دوسرے ملکوں میں روانہ کرتی ہے اور اس وقت ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو دور دراز علاقوں میں چلے گئے ہیں لیکن وہ کیوں بھیجے گئے ہیں اور جانے والے کس شوق کے ساتھ جاتے ہیں ؟ سب کو معلوم ہے کہ دنیا کے مال کی خاطر کہ وہاں سے مال ملتا ہے اور وہ مال سب کے کام آتا ہے اور مال ہی کی خاطر جدائی برداشت کرلی جاتی ہے لیکن کہیں اللہ کی رضا کے لیے بھی ایسا ہوتا دیکھا ہے ؟ پھر اس کو آزمائش نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 105–106

By saying: كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (This is how We reward those who are good in deeds - 110), the sense is, 'when a servant of Allah bows down before the command of Allah and is ready to sacrifice all personal thoughts and feelings, then, ultimately, We take care of him, so that he remains safe from whatever could have afflicted him here in this world, and as for the recompense and reward of the Hereafter, that We write down in his book of deeds.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

65 That is, "The object was not to get yow son slaughtered through you but to test you to see that you did not hold anything of the world dearer than Us.

Read the full tafseer →