وَفَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ۟وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ
اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And We ransomed him with a great sacrifice,
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
وَفَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ۟وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ
اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And We ransomed him with a great sacrifice,
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا
اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا
اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے کر اس بچے کو بچا لیا۔
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا
اور ہم نے ایک بہت بڑی قربانی کے ساتھ اِس کا فدیہ کر دیا،
اور ہم نے اس کے فدیے میں ایک بہت بڑا ذبیحہ دیا۔
اور ہم نے ایک بڑی قربانی بطور فدیہ دے کر اسے (بیٹے کو) چھڑا لیا
اور ہم نے اس کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑا لیا
اور ہم نے ان کو ان کے بیٹے کے عوض ایک بڑی عظیم قربانی سے نواز دیا
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا۔
اور ہم نے ایک ذبح عظیم اس کا فدیہ دیا
اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ بنا یا
And We ransomed him with a mighty sacrifice,
And We ransomed him with a great sacrifice,
And We ransomed him with a great sacrifice,
And We ransomed him with a great sacrifice;
Then We ransomed him with a tremendous victim.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And We ransomed him with a great sacrifice,
We ransomed his son with a great sacrifice
And We ransomed him with a Feat sacrifice.
And We ransomed him with a mighty victim.
And We ransomed him with a momentous sacrifice:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 99–113
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
سورة الصّٰٓفّٰت 66 " بڑی قربانی " سے مراد، جیسا کہ بائیبل اور اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے، ایک مینڈھا ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے حضرت ابراہیم ؑ کے سامنے پیش کیا، تاکہ بیٹے کے بدلے اس کو ذبح کردیں۔ اسے بڑی قربانی کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ وہ ابراہیم ؑ جیسے وفادار بندے کے لیے فرزند ابراہیم ؑ جیسے صابر و جاں نثار لڑکے کا فدیہ تھا، اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک بےنظیر قربانی کی نیت پوری کرنے کا وسیلہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ اسے " بڑی قربانی " قرار دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کردی کہ اسی تاریخ کو تمام اہل ایمان دنیا بھر میں جانور قربان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–111
وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ (اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ آسمانی آواز سن کر اوپر کی طرف دیکھا تو حضرت جبرئیل ؑ ایک مینڈھا لئے کھڑے تھے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی مینڈھا تھا جس کی قربانی حضرت آدم ؑ کے صاحبزادے حضرت ہابیل نے پیش کی تھی۔ واللہ اعلم۔ بہرحال یہ جنتی مینڈھا حضرت ابراہیم ؑ کو عطا ہوا اور انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے کے بجائے اس کو قربان کیا۔ اس ذبیحہ کو ”عظیم“ اس لئے کہا گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا تھا اور اس کی قربانی کے مقبول ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ (تفسیر مظہری وغیرہ)
Read the full tafseer →وفدینہ بدیع عظیم (107) اس قربانی کی دائمی یادگار فرمایا کہ ہم نے اسمعیل کو ایک ذبح عظیم کے عوض چھڑا لیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے ابراہیم ؑ کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ اس بیٹے کی جگہ ایک مینڈھے کی قربانی کردیں اور یہ قربانی ایک عظیم قربانی کی شکل میں ہمیشہ ہمیشہ آئندہ نسلوں میں اس واقعہ کی یداگار کی حیثیت سے باقی رہے گی۔ یہی قربانی ہے جو مناسک حج میں شامل ہو کر حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے آج تک برابر چلی آرہی ہے اور قیام قیامت تک باقی رہے گی … یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ قربانی اگرچہ تمام ادیان میں حضرت آدم کے وقت سے چلی آرہی ہے لیکن دنیا میں کسی قربانی نے یہ عظمت و اہمیت اور یہ وسعت و ہمہ…
Read the full tafseer →17۔ 1 یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے سے بھیجا (ابن کثیر) اسماعیل ؑ کی جگہ اسے ذبح کیا گیا اور پھر سنت ابراہیمی کو قیامت تک قرب الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ اور عید الاضحٰی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–122
22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
ونادینہ ان یابراھیم ۔۔۔۔۔ بذبح عظیم (105 – 107) ” ۔ “۔ تمہارا خواب بھی سچا تھا ، تم نے اسے سچ کر دکھایا۔ عملاً سچا کردیا۔ اللہ تو تسلیم و رضا کا خواہش مند ہے۔ یوں کہ نفس کے اندر کوئی ایسی بات نہ رہے جو اللہ سے چھپائے ، جو اللہ کے حکم سے زیادہ عزیز ہو ، یا حکم الٰہی کے مقابلے میں کوئی تحفظ ہو۔ اگرچہ وہ اکلوتا بیٹا اور جگر گوشہ ہو۔ اگرچہ وہ جان اور روح ہو۔ اے ابراہیم تو نے تو یہ گویا کر دکھایا۔ تم تو ذبح عظیم کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ اگر اللہ ہاتھ کو نہ پکڑتا۔ تم نے عزیز ترین متاع قربان کردی تھی۔ اور تم نہایت ہی سنجیدگی ، دھیمے انداز اور پروقار طریقے سے ، اطمینان اور اعتماد کے ساتھ ، مشورے اور…
Read the full tafseer →11 یعنی بڑے درجہ کا جو بہشت سے آیا۔ یا بڑا قیمتی، فربہ، تیار۔ پھر یہ ہی رسم قربانی کی اسماعیل (علیہ السلام) کی عظیم الشان یادگار کے طور پر ہمیشہ کے لیے قائم کردی۔
Read the full tafseer →آیت 107{ وَفَدَیْنٰـہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ } ”اور ہم نے ایک ذبح عظیم اس کا فدیہ دیا۔“ اللہ کے حکم سے جنت سے ایک مینڈھا لایا گیا جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا۔ مسلمانوں کے ہاں عید الاضحی کے موقع پر ہر سال جانوروں کی قربانی پیش کر کے اسی قربانی کی یاد منائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
64 بیٹے کی قربانی کا فدیہ :۔ یہ ذبح عظیم ایک سینگ دار مینڈھا تھا جسے فرشتوں نے عین موقع پر لاکر حاضر کردیا اور کہا تھا کہ بیٹے کی جگہ اسے قربان کردو۔ یہی جانثار بیٹے کا فدیہ تھا جسے اللہ نے بھیجا تھا۔ اس لحاظ سے یہ عظیم قربانی تھی اور اس کے عظیم ہونے کی دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کردی کہ اسی تاریخ کو دنیا بھر کے اہل ایمان جانور قربان کریں۔ اور وفاداری اور جان نثاری کے اس عظیم واقعہ کی یاد تازہ کرتے رہیں۔ خ ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل تھے یا سیدنا اسحاق (علیہما السلام) :۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل نہیں بلکہ سیدنا اسحاق تھے۔ ان کا نظریہ…
Read the full tafseer →55۔ (آیت) ” عظیم “۔ یہاں بمعنی عظیم القدر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک دنبہ تھا جو جنت سے آیا تھا۔ اس پر یہ شبہ نہ ہو کہ جنت کی چیز نے فنا کیسے قبول کرلی، جب وہ ناسوت میں لایا گیا تو تاثیرات و خصوصیات بھی یہی کی پیدا ہوگئیں، اور ہوسکتا ہے کہ یہ جنت میں شروع سے اسی غرض مخصوص کے لئے رکھا گیا ہو۔ فقہاء نے یہاں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ آیا ذبح ولد کی نذر ماننا اور اس کا ایفاء بکری کے ذبح سے کرنا جائز ہے۔ ؟ اور پھر جواب دیا ہے کہ آیت کو نذر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو محض امتثال امر تھا نہ کہ ایفاء نذر۔ لڑکے کے ذبح کرنے کی نذر بہرصورت اور بالاتفاق ناجائز ہے۔ لیکن اگر کوئی بدعقل ایسی نذر مان لے تو امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–113
آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…
Read the full tafseer →وفدینہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دے دیا۔ روایت میں آیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے ایک آواز سنی تو نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا ‘ اوپر جبرئیل نظر آئے جن کے ساتھ ایک سینگوں والا مینڈھا تھا۔ جبرئیل نے کہا : یہ آپ کے بیٹے کا فدیہ ہے ‘ اس کی قربانی کر دیجئے۔ اس کے بعد جبرئیل نے تکبیر کہی اور مینڈھے نے بھی تکبیر کہی اور حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے نے بھی تکبیر کہی ‘ پھر منٰی کی قربان گاہ میں جا کر مینڈھے کو ذبح کردیا۔ بجائے بیٹے کے فدیہ پیش کرنے والے تو حقیقت میں حضرت ابراہیم تھے ‘ لیکن قربانی کا جانور اللہ کا عطا کردہ تھا اور اللہ ہی نے جانور کو بجائے اسماعیل کے ذبح کرنے کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–111
(103۔ 111) غرض کہ جب دونوں حکم الہی کی تعمیل کے لیے تیار ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے کروٹ پر لٹا دیا تو ہم نے آواز دی کہ ابراہیم آپ نے خواب کو سچا اور پورا کر کے دکھایا ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان اور ہم نے ایک موٹا مینڈھا اس کے بدلہ میں دیا اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔
Read the full tafseer →وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ : ”ذِبْحٌ“ (ذال کے کسرہ کے ساتھ) بمعنی ”مَذْبُوْحٌ“ یعنی ہم نے اسماعیل ؑ کے فدیے اور بدلے میں ایک عظیم ذبیحہ دیا۔ یہ ایک مینڈھا تھا جو ابراہیم ؑ نے اللہ کے حکم سے قربان کردیا۔ اسے عظیم اس لیے فرمایا کہ وہ اسماعیل ؑ جیسے عظیم شخص کا فدیہ تھا اور اس لیے کہ اس کی قربانی عظیم عبادت تھی، جو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے سنت قرار پائی۔ تفسیری روایات میں اس مینڈھے کا جنت سے آنے کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ یہ وہی مینڈھا تھا جو آدم ؑ کے بیٹے نے بطور قربانی دیا تھا۔ وہ جنت میں پلتا رہا اور اس موقع پر ابراہیم ؑ کے لیے اتارا گیا۔ بعض نے کہا کہ یہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو پہاڑ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ میں ” السعی “ سے مراد عمل ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ (جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) یعنی جب ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب وہ چلے تو اپنے دل میں غم کو…
Read the full tafseer →وَفَدَيْنٰهُ [اور ہم نے مشکل میں سے نکالا ان (علیہ السلام) کو ] بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ [ایک عظیم ذبیحہ کے بدلے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
(اِِنَّ ھٰذَا لَہُوَ الْبَلاَءُ الْمُبِیْنُ ) (بلاشبہ یہ کھلا امتحان ہے) (وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ) (اور ہم نے اس کے بدلہ ایک بڑا ذبیحہ دے دیا) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ (انہوں نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دی لیکن گلا نہ کٹا، مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گلے کو تانبے کا بنا دیا جس پر چھری نے کچھ کام نہ دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا ذبیحہ بھیج دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–111
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
49:۔ وترکنا علیہ الخ، اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…
Read the full tafseer →وَفَدَيْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ 107 فدی الفِدَى والفِدَاءُ : حفظ الإنسان عن النّائبة بما يبذله عنه، قال تعالی: فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِداءً [ محمد/ 4] ، يقال : فَدَيْتُهُ بمال، وفدیته بنفسي، وفَادَيْتُهُ بکذا، قال تعالی: إِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ [ البقرة/ 85] ، وتَفَادَى فلان من فلان، أي : تحامی من شيء بذله . وقال : وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] ، وافْتَدى: إذا بذل ذلک عن نفسه، قال تعالی: فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ [ البقرة/ 229] ، وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ [ البقرة/ 85] ، والمُفَادَاةُ : هو أن يردّ أسر العدی ويسترجع منهم من في أيديهم، قال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–112
ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔ تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔ اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور…
Read the full tafseer →وَفَدَیْنٰـہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ۔ (الصآفات : 107) (ہم نے ایک بڑی قربانی فدیہ میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ ) ذبحِ عظیم قرار دینے کی وجہ اسے بڑی قربانی دو وجہ سے قرار دیا گیا ہے ایک تو اس لئے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانی درحقیقت دو قربانیوں کا مجموعہ تھی۔ ایک قربانی یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ازاول تا آخر قربانی و ایثار کی داستان تھی۔ اور دوسری قربانی یہ کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) صبر و جانثاری کا ایک ایسا پیکر ثابت ہوئے کہ قیامت تک کے لیے وہ قربانی کا استعارہ بن گئے۔ تو وہ قربانی جو ان عظیم بندوں نے پیش کی اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک بینظیر قربانی کی نیت پورا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔ ” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں…
Read the full tafseer →عظیم فدیہ : 107: وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ (اور ہم نے اس کے عوض میں دیا ایک ذبیحہ) ذبحؔ جس کو ذبح کیا جاتا ہے۔ قول ابن عباس ؓ : وہ وہی دنبہ تھا جس کو قابیل نے قربت الٰہی کیلئے پیش کیا تھا۔ وہ جنت میں چرتا رہا یہاں تک کہ اسماعیل کے فدیہ میں دیا گیا۔ دوسری روایات میں ہے کہ اگر یہ ذبح ان سے مکمل ہوجاتا تو یہ سنت و طریقہ بن جاتا۔ اور لوگ اپنے بیٹوں کو ذبح کرتے۔ عَظِیْمٍ (بہت بڑا) بڑے جسم والا۔ فربہ۔ قربانیوں میں یہی سنت ہے۔ روایت میں ہے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) سے چھوٹ کر بھاگ گیا۔ اور جمرہ کے پاس پہنچا۔ تو آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں۔ یہاں تک کہ اس کو پکڑ لیا گیا۔ رمی میں یہ سنت قائم ہوگئی۔ ایک…
Read the full tafseer →تفسیر 107۔ ، وفدیناہ بذبح عظیم ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلانظر آئے جن کے ساتھ ایک سینگوں والا مینڈھا تھا ۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ آپ کے بیٹے کا فدیہ ہے اس کی قربانی کردیجئے ۔ اس کے بعد جبرئیل علیہ السلانے تکبیر کہی اور مینڈھے نے بھی تکبیر کہی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے نے بھی تکبیر کہی ۔ پھر منی کی قربان گاہ میں جاکرمینڈھے کو ذبح کردیا۔ بجائے کے فدیہ پیش کرنے والے تو حقیقت میں حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) تھے لیکن قربانی کا جانور اللہ عطاکردہ تھا اور اللہ ہی نے جانور کے بجائے اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبح کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–113
آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–111
73 ایک عظیم الشان اور بےمثال امتحان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ ایک ۔ بڑی بھاری اور۔ کھلی آزمائش تھی "۔ اور اس سے بڑھ کر کھلی اور بڑی آزمائش اور کیا ہوگی کہ بیٹے کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے اور وہ بھی ایک ایسے بیٹے کا جو کہ نہایت ہونہار اور اطاعت گزارو صدق و فاشعار بیٹاہو۔ اور جو کہ خصوصی دعاؤں و التجاؤں سے اور بڑی امیدوں اور تمناؤں کے بعد بڑھاپے میں ملا ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب کہ وہ دوڑ دھوپ کرنے اور کام آنے کی عمر کو پہنچ چکا ہے۔ ایسے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہوجانا اور وہ بھی رب کی طرف سے محض خواب میں ملنے والے ایک اشارے کی بناء پر، جس کی کئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–113
آزمائش اطاعت اور اس کا بدلہ تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے ناامید ہوگئے تو آپ عراق سے ہوتے ہوئے شام میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیک نیتی، عبادت، آزمائش میں پورا اترنے اور اللہ کی راہ میں ہر مشکل اٹھانے حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دینے کے بدلے میں آپ کو بےحد عزت عطا کی آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری کیا اور تمام اہل کتاب آپ کی عزت کرتے ہیں۔ مسلمان خاص طور سے درود شریف میں سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور تا قیامت بھیجتے رہیں گے۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے وہ عرب ہیں جن میں سیدنا محمد ﷺ آخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →ف 10 اکثر مفسرین (رح) کے نزدیک ” بڑی قربانی “ سے مراد ایک عظیم الشان مینڈھا ہے جو فرشتہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس بھیجاتا کہ وہ بیٹے کی بجائے اس کی قربانی کریں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر زور سے چھری چلائی، اللہ کے حکم سے گلا نہ کٹا۔ جبرئیل نے بیٹے کو سرکادیا ( اور) ایک ذنبہ رکھ دیا آنکھیں کھولیں تو دنبہ ذبح پڑا تھا۔ ( موضح)
Read the full tafseer →(37:107) فدینہ : فدینا ماضی جمع متکلم فدی یفدی (ضرب) فدی وفدی وفداء مصدر بمعنی مال وغیرہ دے کر قید وغیرہ سے چھڑانا۔ الفدی والفداء کے معنی ہیں کسی کی جانب سے کچھ دے کر اسے مصیبت سے بچا لینا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب (کا مرجع حضرت اسماعیل ہیں) ہم نے فدیہ دے کر اس کو بچا لیا۔ فدینہ بذبح عظیم ہم نے ایک بڑی قربانی کو اس کا فدیہ دے کر اسے بچا لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
قربانی اسماعیل علیہ السلام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
[22] حدیث میں آتا ہے کہ جنت سے ایک دنبہ بھیجا گیا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کے فدیے میں ذبح فرمایا۔ اسے بڑی قربانی اس لئے فرمایا کہ قربانی کی یہ رسم اسماعیل (علیہ السلام) کی عظیم الشان یادگار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے قائم کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–112
ذبیح کون تھا ؟ 1: ان آیات میں دین کے لئے اور خدا کی اطاعت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عدیم النظیر قربانی کا ذکر ہے ۔ کہ کیوں کر انہوں نے باوجود باپ ہونے کے اپنے بیٹے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری رکھ دی ۔ اور کس سعادت مندی سے ان کے بیٹے نے اپنے کو اس ایثار عظیم کے لئے پیش کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی تاریخ میں اس واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ کہ اللہ کے ایک اشارہ پر اپنے لخت جگر کو ذبح کردینے کا باپ تیہہ کرلے ۔ اور باپ کی فرمانبرداری میں بیٹا جانِ عزیز تک کی پرواہ نہ کرے ۔ حل لغات :۔ وتلہ ۔ التل کے اصل معنے اونچی جگہ کے ہیں ۔ اور فعل صورت میں یہ مقصد ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →(107) اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس لڑکے کے فدیہ میں دیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بڑے درجے کا بہشت سے آیا ایک دنبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی آنکھیں پٹی سے باندھ کرچھری چلائی زور سے اللہ کے حکم سے گلا نہ کٹا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کو سرکا دیا اور ایک دنبہ رکھ دیا آنکھیں کھولیں تو دنبہ ذبح پڑا تھا۔ خلاصہ : یہ ہے کہ ذبح کو عظیم فرمایا یا تو عظیم الجثہ مراد ہے۔ یا عظیم المرتبت ، یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا جہاں آج کل بھی حاجی قربانیاں کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
ف 3۔ ذبح عظیم کی تعیین میں بھی کلام ہے، بعض نے کہا ہے کہ معمولی دنبہ تھا، اور عظیم بمعنی عظیم الجثہ ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ جنت سے بھیجا گیا تھا، اور عظیم بمعنی عظیم القدر ہے، اور جب حجر اسود وغیرہ کا جنت سے آنا ثابت ہے تو ایک حیوان کا آنا کیا بعید ہے۔
Read the full tafseer →ہم نے ایک عظیم قربانی کو اس کا فدیہ بنا دیا : 107۔ اس طرح اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کو سنت خلیل قرار دے کرتا قیامت جاری کردیا کہ اس واقعہ کی یاد تازہ ہوتی رہے اور یہ بھی کہ اس قربانی کو مناسک حج میں لازم وضروری قرار دے دیا کہ اسماعیل کی آباد کردہ جگہ اور مقام کی طرف جو جائے گا وہ قربانی کا جانور ضرور قربان کرے گا اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری وساری رہے گا تاکہ باپ بیٹے کی فرمانبرداری کی یاد تازہ رہے اور لوگ قیامت تک اس خون بہا کر ادا کرتے ہی رہیں تاکہ ان کی محبت کا سب کو پتہ چلتا رہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–111
In verse 107, it was said: وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (And We ransomed him with a great sacrifice.). In Hadith reports, it is said that on hearing this voice from the heavens, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) looked up and saw Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) with a ram. From some reports, it appears that it was the same ram that was offered as sacrifice by Habil (Abel), the son of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) . Allah knows best. In short, a present of this ram of Paradise was made to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، and he sacrificed it in lieu of his son as commanded by Allah. This…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
66 "A great sacrifice" : A ram, as mentioned in the Bible and the Islamic traditions, that Allah's angel presented at the time before the Prophet Abraham, so that he should sacrifice it instead of his son. This has been called "a great sacrifice" because it was to serve as a ransom from a faithful servant like Abraham for a patient and obedient son like Ishmael, and Allah made it a means of fulfilling the intention of an unprecedented sacrifice. Another reason for calling it "a great" sacrifice is that AIlah made it a tradition till the Day of Resurrection that all the believers should offer…
Read the full tafseer →