As-Saaffaat 37:77

As-Saaffaat · from ayah 77

37:77

وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ ۟ؗۖوَجَعَلۡنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الۡبٰقِيۡنَ

اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We made his descendants those remaining [on the earth]

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:77

اور اسی کی نسل کو باقی رکھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس کی اوﻻد کو ہم نے باقی رہنے والی بنا دی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان کی نسل ہی کو باقی رکھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اسی کی اولاد باقی رکھی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے فقط اُن ہی کی نسل کو باقی رہنے والا بنایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اس کی اولاد ہی کو باقی رہنے والے بنادیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور صرف انہی کی اولاد کو باقی رکھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کی ذریت ہی کو باقی رہنے والا بنایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان کی نسل کو ہی کردیا (ہمیشہ) باقی رہنے والی

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے باقی انہیں کی نسل کو رہنے دیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے اس کی اولاد کو ہی باقی رہنے والابنایا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے

— محترمہ رفعت اعجاز

and made his offspring the only ones to survive,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and made his progeny the sole survivors (from the Deluge).

— Muhammad Taqi Usmani

and made his progeny the sole survivors (from the Deluge).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And, his progeny, them We made the survivors.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We made his descendants those remaining [on the earth]

— Saheeh International

and We made his offspring the only survivors.

— Muhammad Sarwar

And We made his offspring the survivors.

— Muhammad Habib Shakir

And his offspring! them We made the survivors.

— Abdul Majid Daryabadi

And made his progeny to endure (on this earth);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–82

نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 77–78

سورة الصّٰٓفّٰت 42 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ حضرت نوح کی مخالفت کر رہے تھے ان کی نسل دنیا سے ناپید کردی گئی اور حضرت نوح ؑ ہی کی نسل باقی رکھی گئی اور آگے صرف حضرت نوح ؑ ہی کی اولاد سے دنیا آباد کی گئی۔ عام طور پر مفسرین نے اسی دوسرے معنی کو اختیار کیا ہے، مگر قرآن مجید کے الفاظ اس معنی میں صریح نہیں ہیں اور حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ (اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رہنے دیا) اکثر حضرات مفسرین کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ کے زمانے میں جو طوفان آیا تھا اس میں دنیا کی اکثر آبادی ہلاک ہوگئی تھی، اور اس کے بعد ساری دنیا کی نسل حضرت نوح ؑ ہی کے تین بیٹوں سے چلی۔ ایک بیٹے کا نام سام تھا، اور ان کی اولاد سے اہل عرب اور اہل فارس وغیرہ کی نسل چلی۔ دوسرے بیٹے حام تھے اور ان سے افریقی ممالک کی آبادیاں دنیا میں پھیلیں، بعض حضرات نے ہندوستان کے باشندوں کو بھی اسی نسل میں شامل کیا ہے۔ اور تیسرے بیٹے یافث تھے، ان سے ترک، منگول اور یاجوج وماجوج کی نسلیں نکلی ہیں۔ جو لوگ حضرت نوح ؑ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 76–77

ونجینہ ودحلہ من الکرب العظیم، وجعلنا ذریتہ ھم الباقین (77-76) فرمایا کہ ہم نے نوح اور اس کے ساتھیوں کو اس عظیم آفت سے محفوظ رکھا جس میں نوح کی پوری قوم مبتلا ہوئی۔ اھل سے مراد ان کے تمام باایمان اہل و عیال ہیں اگرچہ اس لفظ کا اطلاق جیسا ہے اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، کسی شخص کے اتباع پر بھی ہوتا ہے لیکن حضرت نوح ؑ پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ذریت ہی کے کچھ لوگ ایمان لائے اور وہی لوگ باقی رہنے والے بنے جن سے از سر نو یہ دنیا آباد ہوئی۔ باقی سارے لوگ اپنی سرکشی کی پاداش میں غرق کردیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

77۔ 1 اکثر مفسرین کے قول کے مطابق حضرت نوح ؑ کے تین بیٹے تھے۔ عام، سام، یافث۔ انہی سے بعد کی نسل انسانی چلی۔ اسی لئے حضرت نوح ؑ کو آدم ثانی کہا جاتا ہے یعنی آدم ؑ کیطرح، آدم ؑ کے بعد یہ دوسرے ابو البشر ہیں۔ سام کی نسل سے عرب، فارس، روم اور یہود و نصاریٰ ہیں۔ عام کی نسل سے سوڈان (مشرق سے مغرب تک) یعنی سندھ، ہند، نوب، زنج، حبشہ، قبط اور بربر وغیرہ ہیں اور یافث کی نسل سے صقالہ، ترک، خزر اور یاجوج و ماجوج وغیرہ ہیں (فتح القدیر) واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–81

14: لپکنے کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور اشتیاق سے وہی راستہ اختیار کیا اور نہ خود اپنی عقل سے سوچا اور نہ پیغمبروں کی بات مانی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–77

ولقد نادنا نوح۔۔۔۔ اغرقنا الاخرین (75 –82) ” ۔ ۔ ۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے رب تعالیٰ سے کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی دعا کو پوری طرح قبول فرمایا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔ جواب دینے والا ہے۔ فلنعم المجیبون (37: 75) ” ہم کسے اچھے جواب دینے والے تھے “۔ اور اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو کرب عظیم سے نجات دی تھی۔ یعنی وہ کرب عظیم دراصل وہ طوفان تھا جس سے صرف وہی لوگ بچے جن کے بچانے کا اللہ نے ارادہ کرلیا تھا۔ اور جن کی زندگی ابھی باقی تھی اور اللہ کی تقدیر میں جن لوگوں کے بارے میں لکھا تھا کہ اللہ نوح کی اولاد سے ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جنہوں نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 75–82

3 تقریباً ہزار سال تک حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے اور نصیحت کرتے رہے۔ مگر ان کی شرارت اور ایذاء رسانی برابر بڑھتی رہی۔ آخر حضرت نوح نے مجبور ہو کر اپنے بھیجنے والے کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔ (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) اے پروردگار ! میں مغلوب ہوں آپ میری مدد کو پہنچئے۔ دیکھ لو کہ اللہ نے ان کی پکار کیسی سنی اور مدد کو کس طرح پہنچا۔ نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے گھرانے کے رات دن کی ایذاء سے بچایا۔ پھر ہولناک طوفان کے وقت ان کی حفاظت کی۔ اور تنہا اس کی اولاد سے زمین کو آباد کردیا۔ اور رہتی دنیا تک اس کا ذکر خیر لوگوں میں باقی چھوڑا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 77{ وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّـتَہٗ ہُمُ الْبٰقِیْنَ } ”اور ہم نے اس کی اولاد کو ہی باقی رہنے والابنایا۔“ یہ آیت فلسفہ قرآنی کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس میں اسلوبِ حصر کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ صرف نوح علیہ السلام ہی کی اولاد کو ہم نے باقی رہنے والا بنایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیلاب کے بعد دنیا میں بنی نوع انسان کی نسل صرف حضرت نوح کے بیٹوں سے ہی چلی تھی۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے رویے کے حوالے سے قرآن میں جا بجا جو اشارے ملتے ہیں اس سے تو یہی گمان ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں سے شاید کوئی بھی آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لایا تھا۔ بلکہ سورة ہود کے الفاظ : { وَمَآاٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلاَّ قَلِیْلٌ۔ } سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 کیا نوح آدم ثانی ہیں ؟ یہاں صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل انسانی صرف نوح کے تین بیٹوں (حام۔ سام اور یا فث) سے چلی (اور چوتھا بیٹا یام کافر تھا جو طوفان میں غرق ہوگیا تھا) اور اس کی تائید ترمذی کی درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ سیدنا سمرہ سے روایت ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ نوح کے تین بیٹے تھے۔ حام سام یافث حام حبش کا باپ سام عرب کا اور یافث روم کا (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) مگر بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل سیدنا نوح کی اولاد اور ان لوگوں کی اولاد سے چلی تھی جو کشتی میں آپ کے ساتھ سوار تھے۔ ( سورة بنی اسرائیل آیت نمبر 3) اس سے یہی معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 77–79

36۔ چناچہ آج تک ملائکہ ومومنین ان پر سلام بھیجتے اور ان کے حق میں رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” وجعلنا ..... ھم البقین “۔ چناچہ آج دنیا میں جتنی بھی آبادی ہے، سب حضرت نوح ہی کی نسل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجعلنا ذریتہ ھم البقین اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رہنے دیا۔ یعنی نوح کی قوم میں سے کسی کی نسل سوائے نوح کی نسل کے باقی نہیں رہی۔ ترمذی وغیرہ نے حضرت سمرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وہ) حام ‘ سام اور یافث (تین لڑکے باقی) رہ گئے تھے۔ دوسرے سلسلۂ روایت میں آیا ہے کہ سام عرب کے جد اعلیٰ اور حام حبش کے جد اعلیٰ اور یافث روم کے جد اعلیٰ تھے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ کشتی سے اترنے کے بعد حضرت نوح کے لڑکوں اور ان کی بیبیوں کے علاوہ سب لوگ مرگئے۔ بظاہر قرآنی بیان سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں : نمبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–79

(75۔ 79) نوح نے اپنی قوم کی ہلات کے لیے دعا کی کہ رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ ہم ان کی خوب فریاد سننے والے ہیں۔ چناچہ ہم نے ان کو اور ان کے پیروکاروں کو غرق ہونے سے بچا لیا اور قیامت تک ہم نے باقی ان ہی کی اولاد کو رہنے دیا، کیونکہ حضرت نوح کے تین لڑکے تھے، سام، حام، یافث سام تو ابو العرب ہیں اور تمام عربوں کے جزیروں میں رہنے والوں کے باپ ہیں اور حام حبش بر بر اور سندھ والوں کے باپ ہیں اور یافث تو تمام لوگوں کے باپ ہیں۔ اور ہم نے نوح کے لیے ان کے بعد والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ہماری طرف سے نوح پر سلام ہو تمام جہانوں والوں میں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ : اس سے صاف ظاہر ہے کہ طوفان کے بعد صرف نوح ؑ کی نسل آگے چلی، باقی ایمان والوں کی نسل ختم ہوگئی۔ اس آیت کے مطابق سورة بنی اسرائیل کی آیت (3) : (ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ) (اے ان لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا !) کا مطلب بھی یہی ہے کہ بعد میں نوح ؑ کے بیٹوں اور پوتوں کی نسل ہی چلی جو کشتی میں سوار تھے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ نوح ؑ کی اولاد کے سوا کوئی باقی نہیں رہا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–82

75 ۔ 82:۔ یہاں ندا سے مراد استغاثہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے دعا کی اور یوں عرض کی : رب الاتذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ ) نوح ( ہم کتنے ہی اچھے دعا قبول کرنے والے تھے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یوں ہے فلنعم المجیبون لہ کنا ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کی نجات دی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لا چکے تھے جس طرح پہلے گذر چکا ہے ان کی تعداد اسی تھی۔ الکرب العظیم۔ سے مراد غرق ہونا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی سے باہر نکلے تو جو مرد اور عورتیں آپ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ [اور ہم نے بنایا ان کی اولاد کو ] هُمُ الْبٰقِيْنَ [ہی باقی رہنے والے ] ۔ نوٹ۔ 1: اکثر مفسرین کے نزدیک آیت ۔ 77 کا مطلب یہ ہے کہ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد ساری دنیا کی نسل حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث سے چلی۔ جو لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار ہوکر طوفان سے بچ گئے تھے ان میں سے کسی اور سے کوئی نسل نہیں چلی۔ اس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سام اہل عرب کا باپ ہے، حام اہل حبشہ کا باپ ہے اور یافث اہل روم کا۔ (معارف القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–79

حضرت نوح (علیہ السلام) کا دعا کرنا اور ان کی قوم کا ہلاک ہونا اور ان کی ذریت کا نجات پانا حضرت نوح اپنی قوم میں ساڑھے نو سو برس رہے، انہیں سمجھایا، توحید کی دعوت دی غیر اللہ کی پرستش چھوڑنے کی تلقین کی، لیکن ان لوگوں نے نہ مانا بس تھوڑے سے ہی آدمی مسلمان ہوئے۔ اہل ایمان کی مختصر تعداد کے علاوہ جو دوسرے لوگ تھے وہ ضد پر اڑے رہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے رہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے تنگ آکر ان کے لیے بد دعا کردی (لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنِ دَیَّارًا) (کہ اے رب زمین میں ایک بھی کافر باشندہ مت چھوڑ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ کشتی بنالو، انہوں نے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

قصہ اول نوح (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون۔۔۔ الی۔۔۔ ثم اغرقنا الاخرین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں توحید اور جنت اور جہنم کا مضمون بیان فرمایا اور پھر اس کے ختم پر یہ فرمایا۔ ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب آگے چند پیغمبروں کے واقعات ذکر فرماتے ہیں جن سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد مخلصین کو اور ان کے پیروؤں کو دنیا کے عذاب سے بچا لیا اسی طرح وہ ان کو آخرت میں عذاب سے بچا لے گا اس سلسلہ میں سات قصے ذکر کئے سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اور البتہ تحقیق نوح جو ہمارے عباد مخلصین میں سے تھا جب وہ اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوا تو اس نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 76–78

34:۔ وترکنا الخ : ہم نے آئندہ نسلوں میں قیامت تک نوح (علیہ السلام) کی یادگار قائم کردی۔ سلام علی نوح فی العالمین، یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ یعنی ہم نے آئندہ نسلوں میں نوح (علیہ السلام) کے لیے یہ کلام جاری کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ساتھ طوفان سے سلامت رکھا آئندہ بھی جہاں یہ آیت آئے گی وہاں بھی اس کا یہی مفہوم ہوگا قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یا یہ جملہ دعائیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے لیے جن و انس اور فرشتوں میں یہ دعا تا قیامت جاری کردی۔ ای ثبت ھذہ التحیۃ فیہم جمیعا ولا یخلوا احد منہم منہا کانہ قیل ثبت اللہ التسلیم علی نوح وادامہ فی الملائکۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَہٗ ہُمُ الْبٰقِيْنَ۝ 77ۡۖ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی بقي البَقَاء : ثبات الشیء علی حاله الأولی، وهو يضادّ الفناء، وعلی هذا قوله : بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ [هود/ 86] ( ب ق ی ) البقاء کے معنی کسی چیز کے اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں یہ فناء کی ضد ہے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰـقِیْنَ ۔ (الصآفات : 77) (اور ہم نے اس کی نسل کو باقی رہنے والا بنایا۔ ) قرآن کریم نے سورة بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل اور بعد کی دنیا کی آبادی کو ان لوگوں کی اولاد قرار دیا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ اور کشتی میں صرف آپ کی اولاد نہیں بلکہ وہ لوگ بھی سوار تھے جو آپ پر ایمان لائے تھے۔ اس صورت میں پیش نظر آیت کریمہ میں ذُرِّیت سے مراد جسمانی اور ایمانی دونوں طرح کی ذُرِّیت مراد ہے۔ اور اگر اس سے مراد صرف نسبی ذُرِّیت ہی ہو تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ کی اولاد سے باہر کوئی اور شخص ایمان نہیں لایا جبکہ قرآن کریم نے جابجا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–82

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں مخلص بندوں کا انجام ان میں حضرت نوح (علیہ السلام) بھی شامل ہیں لہٰذا ان کا واقعہ سماعت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی اقوام میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ مگر لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کی انہیں دنیا کے عذاب سے بچا لیا گیا اور آخرت میں وہ کامیاب ٹھہریں گے۔ ان مخلصین میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے رفقائے کرام سر فہرست ہیں۔ جب نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے یکسر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

77: وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ (اور ہم نے باقی ہی ان کی اولاد کو رہنے دیا) ان کے علاوہ تمام فناء ہوگئے۔ قولِ قتادہ m : تمام لوگ اس وقت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے تھے۔ نمبر 1۔ سام، یہ عرب، فارس، روم کا جدامجد ہے۔ نمبر 2۔ حام یہ مشرق سے مغرب تک حبشیوں کا باپ ہے۔ نمبر 3۔ یافث یہ ترک اور یاجوج ماجوج کا باپ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

77، وجعلنا ذریتہ ھم الباقین، قوم نوح کی نسل کے علاوہ اور کوئی نسل باقی نہیں رہی ۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ کشتی سے اتر نے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کے لڑکوں اور ان کی بیبیوں کے علاوہ سب لوگ مرگئے۔ سعید بن مسیب کا قول ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے تھے۔ سام ، حام، یافث ۔ سام سے عرب، فارس ، روم کے جد اعلیٰ ہوئے۔ حام کی نسل میں سارے افریقن ہیں اور یافث کی اولا دمیں ترک ، خرزیا، یاجوج ماجوج اور بلاد شرقیہ کے رہنے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–82

75۔ 82۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جس طرح قریش اللہ کے رسول کی نصیحت نہیں مانتے اور شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوتے ہیں۔ اسی طرح قریش سے پہلے بھی بہت قومیں بہک چکی ہیں۔ اور اللہ کے رسولوں کی نصیحت کے نہ ماننے وہ قومیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ اب اس آیت سے آخر سورة تک اس ارشاد کی تائید میں حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت اسمعیل حضرت موسیٰ حضرت ہارون حضرت الیاس ‘ حضرت لوط حضرت یونس کے سات قصے ذکر فرمائے۔ ان میں سے یہ پہلا قصہ حضرت نوح سب سے پہلے صاحب شریعت نبی کا ہے مدت تک حضرت نوح نے اپنی قوم کو سمجھایا۔ جب ان لوگوں نے حضرت نوح کی نصیحت کو نہ مانا۔ اس وقت حضرت نوح نے اکتا کر رب انی مغلوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–82

آیت 75 اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول حضرت نوح کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ لوگ اس دعوت سے دور بھگاتے رہے۔ تب حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارتے وہئے دعا کی : (آیت) ” اے میرے رب ! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ “ اور فرمایا (آیت) ” اے میرے رب ! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فلنعم المجیبون) ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ وزاری کو سنتے ہیں اور خب جواب دیتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

52 نسل نوح کو باقی رکھنا بھی اللہ ہی کی شان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے ان ہی کی نسل کو باقی رکھا۔ یعنی حضرت نوح کی نسل کو اور آپ (علیہ السلام) کے مخالفین و معارضین سب مٹ کر رہے۔ نیز یہ کہ آئندہ جو نسل چلی وہ آپ ہی کے اہل و اَتباع سے چلی۔ اسی لئے آپ کو " ابوالبشر ثانی " بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے دعا کی تھی کہ " اے میرے رب ان کافروں میں سے کسی کو بھی روئے زمین پر زندہ نہیں چھوڑنا " (نوح : 26) ۔ سو ہم نے آپ (علیہ السلام) کی اس دعا و درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا کہ ہم اپنے بندوں کی دعاؤں کو بڑے ہی عمدہ طور پر قبول کرنے والے ہیں۔ سو حضرت نوح کے بعد تمام نسل انسانی آپ (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ ٔ خیر اور ان کی قوم کا انجام تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کا مکمل قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے یہاں ہلکا سا ذکر کیا جاتا ہے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھاتے رہے مگر وہ نہ مانے تو سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی ” میں مغلوب ہوں میری مدد کیجیے ـ“ ( سورة قمر) تو اللہ نے ان کی دعا سنی۔ پوری قوم طوفان میں غرق ہوگئی سوائے آپ کے اور آپ کے اہل و عیال کے۔ آپ کو آپ کی اطاعت گزاری کا انعام دنیا میں یہ دیا کہ آنے والی سب نسلیں آپ کا نام عزت و احترام سے لیتی ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ تمام مسلمان، یہودی اور نصرانی سب آپ کو اپنا پیشوا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 اکثر مفسرین (رح) نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کافر تو سب طوفان میں غرق ہوگئے تو حضرت نوح ( علیہ السلام) کے ساتھ جو اہل ایمان کشتی میں سوار ہوئے تھے وہ بھی بلا ولد گزر گئے۔ اس کے بعد دنیا میں جو نسل انسانی پھیلی وہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کے تین بیٹوں سام، حام، یافث سے پھیلی ( کذافی الموضح) اس لئے حضرت نوح ( علیہ السلام) کو آدمی ثانی کہا جاتا ہے۔ بعض مفسرین ؓ کہتے ہیں کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کے ساتھیوں کی نسل بھی پھیلی، جیسا کہ سورة اسراء کی آیت ( ذرتۃ من حملنا مع نوح) سے معلوم ہوتا ہے البتہ کافروں کی سب نسل غرق کردی گئی۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:77) ذریتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی ذریت۔ اس کی اولاد ۔ اس کی نسل۔ البقین : باقی رہنے والے۔ بچے ہوئے۔ باق کی جمع ہے۔ اصل میں فاعل کے وزن پر باقی تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا اس کو ساکن کیا۔ اب ی ساکن اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوئے ی اجتماع ساکنین سے گرگئی۔ باق ہوگیا۔ اسی طرح رمی یرمی۔ ناقص یائی سے اسم فاعل کا صیغہ رام واحد مذکر ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب اخصاص کے لئے ہے یعنی ہم نے صرف اسی کی اولاد کو باقی رکھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–82

لغات القرآن (آیت نمبر 75 تا 82) نادی (اس نے پکارا) نعم ( بہترین) مجیبون (قبول کرنے والے) کرب (مصیبت، مشکل) المحسینین (نیک کام کرنے والے) اغرقنا (ہم نے ڈبو دیا ، غرق کردیا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 :۔ ان آیات سے پہلے فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ اور ہر قوم کی ہدایت و رہنمائی اور برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا تھا ۔ جن لوگوں نے ان کے بتائے ہوئے راستے کو اپنایا اور اس پر پورے خلوص سے چلے تو اللہ نے ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو ان کی نجات کا ذریعہ بنا دیا لیکن جن بد نصیبوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری نہیں کی ان کی نہ صرف دنیا اجاڑدی گئی بلکہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–82

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو ساڑھے نوسوسال سمجھایارونصیحت کرتے رہے مگر ان کی شرارت اور ایذارسانی برابر بڑھتی رہی آخر حضرت نوح نے مجبورہوکر یہ دعامانگی ، یا اللہ اب میں قوم کے لوگوں کی سرکشی سے عاجز آگیا اس لیے ان سے ایسابدلہ لے کہ ان کا ایک گھر بھی زمین پر باقی نہ رہے ، طوفان کے بعد، سام ، حام اور یافث نوح کے تین بیٹے جو طوفان سے نچے ان کی نسل سے تمام دنیا چلی پھر فرمایا کہ رہتی دنیاتک نوح کا ذکر خیرلوگوں میں باقی چھوڑا، چناچہ آج تک خلقت ان پر سلام بھیجتی ہے اور سارے جہان میں نوح (علیہ السلام) کہہ کریاد کیے جاتے ہیں، پھر فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–78

[14] یعنی ہم نے اس درخت کو آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے کہ اس کا ذکر سن کر کفار بطور استہزا کہتے کہ فلاں لغت میں زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ پھر انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے کہ آؤ زقوم کھائیں۔ کوئی ٹھٹھا مار کر کہتا لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 75–81

حضرت نوح (علیہ السلام) 3: یعنی وہ لوگ جن میں اخلاص ہوتا ہے جو خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں ۔ وہ عذاب میں گرفتار نہیں ہوتے وہ اللہ کے غضب اور غصہ کا مورد نہیں بنتے اور اگلا انجام دنیا وعقبیٰ کے لحاظ سے دوسروں سے کہیں بہتر اور برتر ہوتا ہے اس کے بعد تذکیر یا نام اللہ کے اصول کے مطابق یہ فرمایا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) (آدم ثانی) نے قوم کی مخالفت عنایت تنگ آکر آخر دعا مانگی تو ہم نے قبول کرلی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(77) اور ہم نے صرف نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کشتی میں اسی یا تراسی آدمی بچے تھے ان کی اولاد نہیں چلی انہی کے تین بیٹوں سے چلی سام بسا بیچ زمین عرب کے اور ایرانی اور تورانی پیدا ہوئے یافث بسا شمال کو ترک خزرج اور یاجوج ماجوج پیدا ہوئے حام بسا جنوب کو ہند اور حبش پیدا ہوئے۔ خلاصہ : یہ کہ طوفان نوح کے بعد جب تمام دنیا غرق ہوگئی جیسا کہ عام مفسرین کی رائے ہے تو صرف حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں کی اولاد سے دنیا بسی۔ شاید جو لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کیساتھ تھے ان کا بھی انتقال ہوگیا اور ان کی اولاد بھی نہ رہی۔ بعض مفسرین کے نزدیک جن کی تعداد بہت ہی کم ہے یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے صرف اس کی ذریت ہی کو باقی رہنے دیا : 77۔ زیر نظر آیت میں زریت کا لفظ بھی اہل ہی کے لیے استعمال ہوا ہے نسل کے لحاظ سے ذریت کا لفظ استعمال نہیں ہوا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار ہوئے تھے ان کے سوا باقی اور کوئی نہیں بچا تھا وہی اور صرف وہی بچے تھے باقی رہنے سے مراد یہ نہیں کہ وہ باقی ہی نہیں رہے بلکہ اس وقت وہ لوگ بچ گئے اور بعد میں اپنے وقت پر مرے اور یقینا مرے اور یہی حالت بیان کرنے کے لیے اس جگہ (ذریتہ) کا لفظ استعمال ہوا اور ہمارے ہاں اس بات پر روحانی اولاد یا روحانی ذریت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

And in verse 77, it was said: وَجَعَلْنَا ذُرِّ‌يَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ (And [ We ] made his progeny the sole survivors.). According to most commentators, this verse means that the majority of world population was annihilated in the great flood during the time of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . After that, all races in the entire world originated from the three sons of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . Sam was one of his sons. His children were the forbears of the peoples of Arabia and Persia. The second son was named Ham. The populations in African countries came from him. Some scholars have…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 77–78

42 This can have two meanings: (1) That the progeny of the people who were opposing the Prophet Noah was made extinct and the Prophet Noah's progeny alone was allowed to survive; and (2) that the whole human race was made extinct, and only the Prophet Noah's progeny was allowed to inhabit the earth after that. The commentators generally have adopted this second meaning, but the words of the Qur'an are not explicit in this regard and no one knows the reality except Allah.

Read the full tafseer →