Explained with ayahs 75–82
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
سورة الصّٰٓفّٰت 42
اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ حضرت نوح کی مخالفت کر رہے تھے ان کی نسل دنیا سے ناپید کردی گئی اور حضرت نوح ؑ ہی کی نسل باقی رکھی گئی اور آگے صرف حضرت نوح ؑ ہی کی اولاد سے دنیا آباد کی گئی۔ عام طور پر مفسرین نے اسی دوسرے معنی کو اختیار کیا ہے، مگر قرآن مجید کے الفاظ اس معنی میں صریح نہیں ہیں اور حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ ، سَلٰمٌ عَلٰي نُوْحٍ فِي الْعٰلَمِيْنَ (اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ نوح ؑ پر سلام ہو عالم والوں میں) اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد جو لوگ پیدا ہوئے ان کی نظر میں حضرت نوح ؑ کو ایسا معزز و مکرم بنادیا کہ وہ قیامت تک حضرت نوح ؑ کے لئے سلامتی کی دعا کرتے رہیں گے چناچہ واقعہ بھی یہی ہے کہ تمام وہ مذاہب جو اپنے آپ کو آسمانی کتابوں سے منسوب کرتے ہیں سب کے سب حضرت نوح ؑ کی نبوت اور تقدس کے قائل ہیں، مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور نصرانی بھی آپ ﷺ کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔
Read the full tafseer →وشرکنا علیہ فی الاخسرین (78)
دعوت کے فرغ کی بشارت
اس ٹکڑے میں ایک مضاف اور ترکنا کا مفعول عربیت کے معرو قاعدے کے مطابق محذوف ہیں یہ محذوفات کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ ہم نے اس کی ملت پر پچھلوں میں سے ایک گروہ کو قائم رکھا یہ ان کی دعوت کی کامیابی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے دشمنوں کی تمام مخالفت کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت کو فروغ دیا۔ اخلاف میں ان کے حاملین پیدا ہوئے اور ان کے دشمن نیست و نابود ہوئے۔ اس میں بھی آنحضرت ﷺ کے لئے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری دعوت کو فروغ دے گا، آنے والی نسلوں میں یہ قائم و دائم رہے گی اور جو لوگ آج تمہاری مخالفت میں سرگرم ہیں ان کا کوئی نام…
Read the full tafseer →78۔ 1 یعنی قیامت تک آنے والے اہل ایمان میں ہم نے نوح ؑ کا ذکر خیر باقی چھوڑ دیا ہے اور وہ سب نوح ؑ پر سلام بھیجتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–81
14: لپکنے کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور اشتیاق سے وہی راستہ اختیار کیا اور نہ خود اپنی عقل سے سوچا اور نہ پیغمبروں کی بات مانی
Read the full tafseer →وترکنا علیہ فی الاخرین (37: 78) ” اور بعد کی نسلوں میں ان کی تعریف و توصیف چھوڑی “۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ دونوں جہانوں میں نوح پر سلامتی ہوگی اس لیے کہ انہوں نے نیک راہ اختیار کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
3 تقریباً ہزار سال تک حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے اور نصیحت کرتے رہے۔ مگر ان کی شرارت اور ایذاء رسانی برابر بڑھتی رہی۔ آخر حضرت نوح نے مجبور ہو کر اپنے بھیجنے والے کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔ (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) اے پروردگار ! میں مغلوب ہوں آپ میری مدد کو پہنچئے۔ دیکھ لو کہ اللہ نے ان کی پکار کیسی سنی اور مدد کو کس طرح پہنچا۔ نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے گھرانے کے رات دن کی ایذاء سے بچایا۔ پھر ہولناک طوفان کے وقت ان کی حفاظت کی۔ اور تنہا اس کی اولاد سے زمین کو آباد کردیا۔ اور رہتی دنیا تک اس کا ذکر خیر لوگوں میں باقی چھوڑا۔ چناچہ…
Read the full tafseer →آیت 78{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور ہم نے اسی کے طریقے پر بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو چھوڑا۔“
یعنی بعد میں آپ علیہ السلام کی نسل میں سے بھی لوگ آپ علیہ السلام کے راستے پر چلتے رہے۔ آپ علیہ السلام کے بیٹوں کی اولادیں کچھ عرصہ تک تو یقینا دین حق اور دین توحید پر چلتی رہی ہوں گی ‘ لیکن بالآخر شیطان نے انہیں بھی گمراہ کردیا اور مختلف قسم کے توہمات اور شرک میں مبتلا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
46 یعنی رہتی دنیا تک سیدنا نوح کا نام بھلائی سے لیا جاتا رہے گا۔ چناچہ اس وقت دنیا میں جتنی بھی قومیں آباد ہیں۔ سب اپنا سلسلہ نسب سیدنا نوح سے ملاتی اور اس میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ نیز اکثر اقوام انہیں اپنا مذہبی قائد تسلیم کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایران کے مجوسی اور صابی بھی انہیں اپنا نبی تسلیم کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
36۔ چناچہ آج تک ملائکہ ومومنین ان پر سلام بھیجتے اور ان کے حق میں رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” وجعلنا ..... ھم البقین “۔ چناچہ آج دنیا میں جتنی بھی آبادی ہے، سب حضرت نوح ہی کی نسل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
آیت نمبر 51 تا 84
ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…
Read the full tafseer →وترکنا علیہ فی الاخرین۔ اور ہم نے ان کیلئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
(75۔ 79) نوح نے اپنی قوم کی ہلات کے لیے دعا کی کہ رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ ہم ان کی خوب فریاد سننے والے ہیں۔ چناچہ ہم نے ان کو اور ان کے پیروکاروں کو غرق ہونے سے بچا لیا اور قیامت تک ہم نے باقی ان ہی کی اولاد کو رہنے دیا، کیونکہ حضرت نوح کے تین لڑکے تھے، سام، حام، یافث سام تو ابو العرب ہیں اور تمام عربوں کے جزیروں میں رہنے والوں کے باپ ہیں اور حام حبش بر بر اور سندھ والوں کے باپ ہیں اور یافث تو تمام لوگوں کے باپ ہیں۔
اور ہم نے نوح کے لیے ان کے بعد والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ہماری طرف سے نوح پر سلام ہو تمام جہانوں والوں میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ : یعنی بعد میں آنے والی تمام اقوام نوح ؑ پر سلام بھیجتی رہیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
75 ۔ 82:۔ یہاں ندا سے مراد استغاثہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے دعا کی اور یوں عرض کی : رب الاتذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ ) نوح (
ہم کتنے ہی اچھے دعا قبول کرنے والے تھے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یوں ہے فلنعم المجیبون لہ کنا ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کی نجات دی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لا چکے تھے جس طرح پہلے گذر چکا ہے ان کی تعداد اسی تھی۔ الکرب العظیم۔ سے مراد غرق ہونا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی سے باہر نکلے تو جو مرد اور عورتیں آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔
اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں :
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…
Read the full tafseer →وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ [اور ہم نے چھوڑی ان کے لئے ] فِي الْاٰخِرِيْنَ [آخری لوگوں میں (ان کی ثناء)] ۔
نوٹ۔ 2: آیت 78 میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کی کامیابی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے دشمنوں کی مخالفت کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت کو فروغ دیا۔ ان کے بعد ان ہی کی دعوت کو آگے بڑھانے والے انبیاء اور علماء پیدا ہوئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد سے زیادہ جلیل القدر نبی و رسول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ جس ملت کے داعی حضرت نوح (علیہ السلام) تھے اسی ملت کے داعی بن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اٹھے۔ (تدبر قرآن ماخوذ)
حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
حضرت نوح (علیہ السلام) کا دعا کرنا اور ان کی قوم کا ہلاک ہونا اور ان کی ذریت کا نجات پانا
حضرت نوح اپنی قوم میں ساڑھے نو سو برس رہے، انہیں سمجھایا، توحید کی دعوت دی غیر اللہ کی پرستش چھوڑنے کی تلقین کی، لیکن ان لوگوں نے نہ مانا بس تھوڑے سے ہی آدمی مسلمان ہوئے۔ اہل ایمان کی مختصر تعداد کے علاوہ جو دوسرے لوگ تھے وہ ضد پر اڑے رہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے رہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے تنگ آکر ان کے لیے بد دعا کردی (لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنِ دَیَّارًا) (کہ اے رب زمین میں ایک بھی کافر باشندہ مت چھوڑ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ کشتی بنالو، انہوں نے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
قصہ اول نوح (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون۔۔۔ الی۔۔۔ ثم اغرقنا الاخرین۔
(ربط) گذشتہ آیات میں توحید اور جنت اور جہنم کا مضمون بیان فرمایا اور پھر اس کے ختم پر یہ فرمایا۔ ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب آگے چند پیغمبروں کے واقعات ذکر فرماتے ہیں جن سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد مخلصین کو اور ان کے پیروؤں کو دنیا کے عذاب سے بچا لیا اسی طرح وہ ان کو آخرت میں عذاب سے بچا لے گا اس سلسلہ میں سات قصے ذکر کئے سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اور البتہ تحقیق نوح جو ہمارے عباد مخلصین میں سے تھا جب وہ اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوا تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
34:۔ وترکنا الخ : ہم نے آئندہ نسلوں میں قیامت تک نوح (علیہ السلام) کی یادگار قائم کردی۔ سلام علی نوح فی العالمین، یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ یعنی ہم نے آئندہ نسلوں میں نوح (علیہ السلام) کے لیے یہ کلام جاری کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ساتھ طوفان سے سلامت رکھا آئندہ بھی جہاں یہ آیت آئے گی وہاں بھی اس کا یہی مفہوم ہوگا قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یا یہ جملہ دعائیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے لیے جن و انس اور فرشتوں میں یہ دعا تا قیامت جاری کردی۔ ای ثبت ھذہ التحیۃ فیہم جمیعا ولا یخلوا احد منہم منہا کانہ قیل ثبت اللہ التسلیم علی نوح وادامہ فی الملائکۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–98
نوح (علیہ السلام) کی دعا
سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…
Read the full tafseer →وَتَرَكْنَا عَلَيْہِ فِي الْاٰخِرِيْنَ 78ۡۖ
ترك
تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله :
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25]
( ت ر ک) ترک
الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…
Read the full tafseer →وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 78)
(ہم نے اس کے طریقے پر پچھلوں کو چھوڑا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کے ذکرخیر اور آپ کے پیغام کو بعد والوں میں باقی رکھا
گزشتہ آیت کی وضاحت میں ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اس آیت نے اس پر مہرتصدیق ثبت کردی۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ و دعوت کے نتیجے میں بہت کم لوگ ایمان لائے۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی دعوت قبولیت سے محروم رہی۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بعد کے آنے والی دنیا میں چرچا آپ کے نام اور آپ کے دین کا رہا۔ مخالفین مٹ گئے اور ان کی مخالفت کی بنیادیں بھی ہل گئیں۔ لیکن حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام اور آپ کی دعوت آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں مخلص بندوں کا انجام ان میں حضرت نوح (علیہ السلام) بھی شامل ہیں لہٰذا ان کا واقعہ سماعت فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی اقوام میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ مگر لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کی انہیں دنیا کے عذاب سے بچا لیا گیا اور آخرت میں وہ کامیاب ٹھہریں گے۔ ان مخلصین میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے رفقائے کرام سر فہرست ہیں۔ جب نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے یکسر…
Read the full tafseer →78: وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ (اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں بات رہنے دی) آخرین سے مراد یہ پچھلی امتیں اور وہ بات یہ ہے۔ سلام علی نوح فی العالمین۔
Read the full tafseer →78، وترکنا علیہ فی الا خرین، ان کے اچھے تذکرے اور ان کی تعریف کو باقی رکھیں گے، آنے والے انبیاء اور امتوں میں ان کا تذکرہ باقی رکھیں گے قیامت تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
75۔ 82۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جس طرح قریش اللہ کے رسول کی نصیحت نہیں مانتے اور شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوتے ہیں۔ اسی طرح قریش سے پہلے بھی بہت قومیں بہک چکی ہیں۔ اور اللہ کے رسولوں کی نصیحت کے نہ ماننے وہ قومیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ اب اس آیت سے آخر سورة تک اس ارشاد کی تائید میں حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت اسمعیل حضرت موسیٰ حضرت ہارون حضرت الیاس ‘ حضرت لوط حضرت یونس کے سات قصے ذکر فرمائے۔ ان میں سے یہ پہلا قصہ حضرت نوح سب سے پہلے صاحب شریعت نبی کا ہے مدت تک حضرت نوح نے اپنی قوم کو سمجھایا۔ جب ان لوگوں نے حضرت نوح کی نصیحت کو نہ مانا۔ اس وقت حضرت نوح نے اکتا کر رب انی مغلوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
آیت 75
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول حضرت نوح کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ لوگ اس دعوت سے دور بھگاتے رہے۔ تب حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارتے وہئے دعا کی : (آیت) ” اے میرے رب ! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ “ اور فرمایا (آیت) ” اے میرے رب ! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔ “
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فلنعم المجیبون) ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ وزاری کو سنتے ہیں اور خب جواب دیتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوح کی…
Read the full tafseer →53 حضرت نوح کے لیے ذکر خیر کی عظیم الشان بشارت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے آپ (علیہ السلام) کا ذکر خیر چھوڑ دیا پچھلوں میں "۔ سو دشمنوں کی تمام تر مخالفت کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے حق کی اس دعوت کو فروغ بخشا جس کے لیے آنجناب نے زندگی بھر محنت فرمائی اور مشقت اٹھائی تھی۔ اور آپ کے اخلاف میں حق کے ایسے علمبردار اور مخلص و وفادار اور جاں نثار پیدا ہوئے جو حق کی دعوت ہمیشہ دیتے رہے اور آپ کا ذکر خیر باقی رہا۔ اور ایسا کہ آج تک دنیا آپ کا نام نامی عزت و احترام سے لیتی ہے اور قیامت تک لیتی رہے گی۔ اور صلوۃ وسلام کے تحفے بھی آپ (علیہ السلام) کی جناب میں برابر پیش کئے جاتے رہیں گے ۔ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ ٔ خیر اور ان کی قوم کا انجام
تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کا مکمل قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے یہاں ہلکا سا ذکر کیا جاتا ہے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھاتے رہے مگر وہ نہ مانے تو سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی ” میں مغلوب ہوں میری مدد کیجیے ـ“ ( سورة قمر)
تو اللہ نے ان کی دعا سنی۔ پوری قوم طوفان میں غرق ہوگئی سوائے آپ کے اور آپ کے اہل و عیال کے۔ آپ کو آپ کی اطاعت گزاری کا انعام دنیا میں یہ دیا کہ آنے والی سب نسلیں آپ کا نام عزت و احترام سے لیتی ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ تمام مسلمان، یہودی اور نصرانی سب آپ کو اپنا پیشوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113:
اسرار و معارف :
یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →ف 7 بعد میں آنے والے تمام انبیاء ( علیہ السلام) اپنے اپنے زمانہ میں ان کی تعریف و تصدیق کرتے رہے۔ یا پچھلوں میں ان کی ثناء و سفت چھوڑی کہ خیر کے ساتھ ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ( ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(37:78:79) وترکنا علیہ فی الاخرین سلام علی نوح فی العلمین ترکنا ماضی جمع متکلم ۔ ترک مصدر سے۔ ہم نے چھوڑا۔ علیہ اس کے لئے الاخرین اخر کی جمع ۔ پچھلے ۔ یعنی ان کے بعد آنے والے لوگ۔ ان کے بعد کی نسلیں۔ العلمین۔ تمام جہان ۔ تمام عالم۔ یہ عالم کی جمع ہے بحالت نصب وجر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا سب مخلوق کو عالم کہتے ہیں۔
ترکنا۔۔ العلمین کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) جملہ سلام علی نوح فی العلمین موضع نصب میں ہے اور یہ ترکنا کا مفعول ہے : مطلب ہوگا :۔ ہم نے (حضرت نوح) کے بعد میں آنے والی نسلوں میں حضرت نوح کے حق میں کلام سلام۔۔ العلمین چھوڑا۔ (یعنی کہ وہ ان کے حق میں یہ دعا پڑھا کریں) اس صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
لغات القرآن (آیت نمبر 75 تا 82) نادی (اس نے پکارا) نعم ( بہترین) مجیبون (قبول کرنے والے) کرب (مصیبت، مشکل) المحسینین (نیک کام کرنے والے) اغرقنا (ہم نے ڈبو دیا ، غرق کردیا)
تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 :۔ ان آیات سے پہلے فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ اور ہر قوم کی ہدایت و رہنمائی اور برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا تھا ۔ جن لوگوں نے ان کے بتائے ہوئے راستے کو اپنایا اور اس پر پورے خلوص سے چلے تو اللہ نے ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو ان کی نجات کا ذریعہ بنا دیا لیکن جن بد نصیبوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری نہیں کی ان کی نہ صرف دنیا اجاڑدی گئی بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو ساڑھے نوسوسال سمجھایارونصیحت کرتے رہے مگر ان کی شرارت اور ایذارسانی برابر بڑھتی رہی آخر حضرت نوح نے مجبورہوکر یہ دعامانگی ، یا اللہ اب میں قوم کے لوگوں کی سرکشی سے عاجز آگیا اس لیے ان سے ایسابدلہ لے کہ ان کا ایک گھر بھی زمین پر باقی نہ رہے ، طوفان کے بعد، سام ، حام اور یافث نوح کے تین بیٹے جو طوفان سے نچے ان کی نسل سے تمام دنیا چلی پھر فرمایا کہ رہتی دنیاتک نوح کا ذکر خیرلوگوں میں باقی چھوڑا، چناچہ آج تک خلقت ان پر سلام بھیجتی ہے اور سارے جہان میں نوح (علیہ السلام) کہہ کریاد کیے جاتے ہیں، پھر فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–78
[14] یعنی ہم نے اس درخت کو آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے کہ اس کا ذکر سن کر کفار بطور استہزا کہتے کہ فلاں لغت میں زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ پھر انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے کہ آؤ زقوم کھائیں۔ کوئی ٹھٹھا مار کر کہتا لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
حضرت نوح (علیہ السلام)
3: یعنی وہ لوگ جن میں اخلاص ہوتا ہے جو خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں ۔ وہ عذاب میں گرفتار نہیں ہوتے وہ اللہ کے غضب اور غصہ کا مورد نہیں بنتے اور اگلا انجام دنیا وعقبیٰ کے لحاظ سے دوسروں سے کہیں بہتر اور برتر ہوتا ہے اس کے بعد تذکیر یا نام اللہ کے اصول کے مطابق یہ فرمایا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) (آدم ثانی) نے قوم کی مخالفت عنایت تنگ آکر آخر دعا مانگی تو ہم نے قبول کرلی ۔
Read the full tafseer →(78) اور ہم نے پیچھے آنے والوں لوگوں کے لئے یہ بات رہنے دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ف 3۔ یعنی اور کسی کی نسل نہیں چلی۔
Read the full tafseer →ہم نے آنے والے لوگوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا :
78۔ کتنی قرنیں اور مدتیں گزر گئیں نوح (علیہ السلام) کو اس دنیا میں تشریف لائے ہوئے لیکن آپ کے بعد جتنی قومیں اس روئے زمین میں آئیں اور قیامت تک جو آئیں گی سب نے آپ کا ذکر کیا اور سب ہی آپ کا ذکر کریں گے اگرچہ اس ذکر میں وہ سارے نبی شامل ہیں جن کا ذکر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں کیا گیا ہے کیونکہ سب کا ذکر اپنے اپنے مقام پر ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت میں ان کا ذکر چھوڑا اور جب تک آپ کی امت اس روئے زمین پر موجود ہے اس وقت تک آپ کے ساتھ دوسرے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلامکا ذکر بھی بحمد اللہ جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
In verses 78 and 79, it was said: وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ (And We left for him (a word of praise) among the later people, (that is): Salam be on Nuh (علیہ السلام) among [ the people on all the worlds.). It means that, in the sight of those who were born after Sayyidna Nuh (علیہ السلام) he was made so revered that they would continue praying for his peace and well-being right through the last day of the Qiyamah. As such, this is how it actually happened. All religions with attribution to Divine Scriptures subscribe to the mission of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
42 This can have two meanings: (1) That the progeny of the people who were opposing the Prophet Noah was made extinct and the Prophet Noah's progeny alone was allowed to survive; and (2) that the whole human race was made extinct, and only the Prophet Noah's progeny was allowed to inhabit the earth after that. The commentators generally have adopted this second meaning, but the words of the Qur'an are not explicit in this regard and no one knows the reality except Allah.
Read the full tafseer →