As-Saaffaat 37:76

As-Saaffaat · from ayah 76

37:76

وَنَجَّیْنٰهُ وَاَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ ۟ؗۖوَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗ مِنَ الۡكَرۡبِ الۡعَظِيۡمِ

اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We saved him and his family from the great affliction.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:76

ہم نے اُس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے بچا لیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو اس زبردست مصیبت سے بچا لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑے کرب سے نجات دی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی تکلیف سے نجات دی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اُنہیں اور اُن کے گھر والوں کو سخت تکلیف سے بچا لیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انہیں اور ان کے گھر والوں کو شدید بےچینی سے نجات دی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو اور اس کے لوگوں کو بہت بڑی کلفت سے نجات دی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم ہی نے نجات دی (اور بچا لیا) ان کو بھی اور ان کے تعلق داروں کو بھی اس کرب عظیم سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑے بھاری غم سے نجات دی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی

— محترمہ رفعت اعجاز

We delivered him and his household from the great calamity;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We delivered him and his family from the great agony,

— Muhammad Taqi Usmani

And We delivered him and his family from the great agony,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We rescued him and his family from the great distress,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We saved him and his household from the great distress,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We saved him and his family from the great affliction.

— Saheeh International

We rescued him and his people from the greatest affliction

— Muhammad Sarwar

And We delivered him and his followers from the mighty distress.

— Muhammad Habib Shakir

And We delivered him and his people from the great affliction.

— Abdul Majid Daryabadi

And We delivered him and his people from the Great Calamity,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–82

نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 41 یعنی اس شدید اذیت سے جو ایک بد کردار اور ظالم قوم کی مسلسل مخالفت سے ان کو پہنچ رہی تھی۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ جس طرح نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو اس کرب عظیم سے بچایا گیا، اسی طرح آخر کار ہم محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو بھی اس کرب عظیم سے بچا لیں گے جس میں اہل مکہ نے ان کو مبتلا کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

خلاصہ تفسیر اور ہم کو نوح ؑ نے (نصرت کے لئے) پکارا (یعنی دعا کی) سو (ہم نے ان کی فریاد رسی کی اور) ہم خوب فریاد سننے والے ہیں اور ہم نے ان کو اور ان کے تابعین کو بڑے بھاری غم سے (جو کفار کی تکذیب اور ایذاء رسانی سے پیش آیا تھا) نجات دی (کہ طوفان سے کفار کو غرق کردیا اور ان کے تابعین کو بچا لیا) اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رہنے دیا (اور کسی کی نسل نہیں چلی) اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات (مدت دراز کے لئے) رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو عالم والوں میں (یعنی خدا کرے اپنے تمام اہل عالم جن و انس و ملائکہ سلام بھیجا کریں) ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں بیشک وہ ہمارے ایمان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 76–77

ونجینہ ودحلہ من الکرب العظیم، وجعلنا ذریتہ ھم الباقین (77-76) فرمایا کہ ہم نے نوح اور اس کے ساتھیوں کو اس عظیم آفت سے محفوظ رکھا جس میں نوح کی پوری قوم مبتلا ہوئی۔ اھل سے مراد ان کے تمام باایمان اہل و عیال ہیں اگرچہ اس لفظ کا اطلاق جیسا ہے اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، کسی شخص کے اتباع پر بھی ہوتا ہے لیکن حضرت نوح ؑ پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ذریت ہی کے کچھ لوگ ایمان لائے اور وہی لوگ باقی رہنے والے بنے جن سے از سر نو یہ دنیا آباد ہوئی۔ باقی سارے لوگ اپنی سرکشی کی پاداش میں غرق کردیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

76۔ 1 حضرت نوح پر ایمان لانے والے، جن میں ان کے گھر کے افراد بھی ہیں جو مومن تھے بعض مفسرین نے ان کی تعداد 80 بتلائی ہے۔ اس میں آپ کی بیوی اور ایک لڑکا شامل نہیں، جو مومن نہیں تھے، وہ بھی طوفان میں غرق ہوگئے۔ کرب عظیم (زبردست مصیبت) سے مراد وہی سیلاب عظیم ہے جس میں یہ قوم غرق ہوئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–81

14: لپکنے کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور اشتیاق سے وہی راستہ اختیار کیا اور نہ خود اپنی عقل سے سوچا اور نہ پیغمبروں کی بات مانی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–77

ولقد نادنا نوح۔۔۔۔ اغرقنا الاخرین (75 –82) ” ۔ ۔ ۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے رب تعالیٰ سے کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی دعا کو پوری طرح قبول فرمایا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔ جواب دینے والا ہے۔ فلنعم المجیبون (37: 75) ” ہم کسے اچھے جواب دینے والے تھے “۔ اور اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو کرب عظیم سے نجات دی تھی۔ یعنی وہ کرب عظیم دراصل وہ طوفان تھا جس سے صرف وہی لوگ بچے جن کے بچانے کا اللہ نے ارادہ کرلیا تھا۔ اور جن کی زندگی ابھی باقی تھی اور اللہ کی تقدیر میں جن لوگوں کے بارے میں لکھا تھا کہ اللہ نوح کی اولاد سے ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جنہوں نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 75–82

3 تقریباً ہزار سال تک حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے اور نصیحت کرتے رہے۔ مگر ان کی شرارت اور ایذاء رسانی برابر بڑھتی رہی۔ آخر حضرت نوح نے مجبور ہو کر اپنے بھیجنے والے کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔ (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) اے پروردگار ! میں مغلوب ہوں آپ میری مدد کو پہنچئے۔ دیکھ لو کہ اللہ نے ان کی پکار کیسی سنی اور مدد کو کس طرح پہنچا۔ نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے گھرانے کے رات دن کی ایذاء سے بچایا۔ پھر ہولناک طوفان کے وقت ان کی حفاظت کی۔ اور تنہا اس کی اولاد سے زمین کو آباد کردیا۔ اور رہتی دنیا تک اس کا ذکر خیر لوگوں میں باقی چھوڑا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 76{ وَنَجَّیْنٰہُ وَاَہْلَہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ } ”اور ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے۔“ یہ ”کربِ عظیم“ کیا تھا ؟ اس کو سمجھنے کے لیے حضرت نوح کی قوم اور معاشرے کے حالات کی تصویر ذہن میں لائیے۔ چشم تصور سے دیکھئے کہ کس طرح اللہ کا ایک بندہ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہے۔ اس کے لیے وہ دن دیکھتا ہے نہ رات۔ اجتماعی دعوت بھی دے رہا ہے ‘ انفرادی ملاقاتیں بھی کر رہا ہے ‘ ہر موقع آزما رہا ہے ‘ ہر ذریعہ اور ہر طریقہ بروئے کار لا رہا ہے ‘ جبکہ جواب میں اس کی اپنی قوم کے لوگ مسلسل اس سے استہزاء کر رہے ہیں ‘ اس کا تمسخر اڑا رہے ہیں اور اس پر پھبتیاں کس رہے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 75–76

43 نوح کی بددعا اور اس کی قبولیت :۔ سیدنا نوح نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم سے سر کھپایا۔ ان کو دلائل سے سمجھایا اور مختلف پیرایوں میں سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ مگر ان لوگوں نے ان کی ایک نہ مانی۔ الٹا ان کا مذاق اڑاتے اور ایذائیں پہنچاتے رہے۔ اس طویل عرصہ میں معدودے چند آدمی آپ پر ایمان لائے۔ پھر جب آپ اپنی قوم سے قطعی طور پر مایوس ہوگئے کہ اب باقی لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان لانے والا نظر نہیں آتا اور سب میرے اور میرے ساتھیوں کے درپے آزار ہیں تو اس وقت آپ نے اللہ کے حضور فریاد کی کہ یا اللہ ! مجھے ان لوگوں نے دبا لیا ہے اب تو ہی ان سے بدلہ لے اور مجھے ان ظالموں سے نجات دے۔ 44 یعنی ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

35۔ (اور کافروں کو غرق کردیا) (آیت) ” الکرب العظیم “ سے مراد ہے کافروں کی تکذیب وایذاء سے پیش آنے والا غم، قصہ نوح (علیہ السلام) پر حاشیے کئی بار گزر چکے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ طبعی غم کمال کے منافی نہیں، اقتضاء ات طبعی کاملین میں بھی باقی رہتے ہیں، اور اس کے خلاف جو کچھ منقول ہے وہ غلبہ حال۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونجینہ واھلہ من الکرب العظیم اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل (یعنی پیرو وں) کو بڑے دکھ سے نجات دی۔ کَرْبِ عَظِیْم سے مراد ہے قوم والوں کے ہاتھوں سے پہنچنے والا دکھ اور تکلیفیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–79

(75۔ 79) نوح نے اپنی قوم کی ہلات کے لیے دعا کی کہ رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ ہم ان کی خوب فریاد سننے والے ہیں۔ چناچہ ہم نے ان کو اور ان کے پیروکاروں کو غرق ہونے سے بچا لیا اور قیامت تک ہم نے باقی ان ہی کی اولاد کو رہنے دیا، کیونکہ حضرت نوح کے تین لڑکے تھے، سام، حام، یافث سام تو ابو العرب ہیں اور تمام عربوں کے جزیروں میں رہنے والوں کے باپ ہیں اور حام حبش بر بر اور سندھ والوں کے باپ ہیں اور یافث تو تمام لوگوں کے باپ ہیں۔ اور ہم نے نوح کے لیے ان کے بعد والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ہماری طرف سے نوح پر سلام ہو تمام جہانوں والوں میں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَنَجَّيْنٰهُ وَاَهْلَهٗ : ”الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ“ (بہت بڑی مصیبت) سے نجات سے مراد اس طوفان عظیم سے نجات ہے اور اس ہر وقت کی پریشانی سے بھی جو قوم کے جھٹلانے اور ستانے کی صورت میں سیکڑوں برس انھیں لاحق رہی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–82

75 ۔ 82:۔ یہاں ندا سے مراد استغاثہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے دعا کی اور یوں عرض کی : رب الاتذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ ) نوح ( ہم کتنے ہی اچھے دعا قبول کرنے والے تھے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یوں ہے فلنعم المجیبون لہ کنا ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کی نجات دی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لا چکے تھے جس طرح پہلے گذر چکا ہے ان کی تعداد اسی تھی۔ الکرب العظیم۔ سے مراد غرق ہونا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی سے باہر نکلے تو جو مرد اور عورتیں آپ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَنَجَّيْنٰهُ [اور ہم نے نجات دی نوح (علیہ السلام) کو ] وَاَهْلَهٗ [اور ان کے گھر والوں کو ] مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ [اس بڑے دکھ سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–79

حضرت نوح (علیہ السلام) کا دعا کرنا اور ان کی قوم کا ہلاک ہونا اور ان کی ذریت کا نجات پانا حضرت نوح اپنی قوم میں ساڑھے نو سو برس رہے، انہیں سمجھایا، توحید کی دعوت دی غیر اللہ کی پرستش چھوڑنے کی تلقین کی، لیکن ان لوگوں نے نہ مانا بس تھوڑے سے ہی آدمی مسلمان ہوئے۔ اہل ایمان کی مختصر تعداد کے علاوہ جو دوسرے لوگ تھے وہ ضد پر اڑے رہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے رہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے تنگ آکر ان کے لیے بد دعا کردی (لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنِ دَیَّارًا) (کہ اے رب زمین میں ایک بھی کافر باشندہ مت چھوڑ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ کشتی بنالو، انہوں نے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

قصہ اول نوح (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون۔۔۔ الی۔۔۔ ثم اغرقنا الاخرین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں توحید اور جنت اور جہنم کا مضمون بیان فرمایا اور پھر اس کے ختم پر یہ فرمایا۔ ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب آگے چند پیغمبروں کے واقعات ذکر فرماتے ہیں جن سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد مخلصین کو اور ان کے پیروؤں کو دنیا کے عذاب سے بچا لیا اسی طرح وہ ان کو آخرت میں عذاب سے بچا لے گا اس سلسلہ میں سات قصے ذکر کئے سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اور البتہ تحقیق نوح جو ہمارے عباد مخلصین میں سے تھا جب وہ اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوا تو اس نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 76–78

34:۔ وترکنا الخ : ہم نے آئندہ نسلوں میں قیامت تک نوح (علیہ السلام) کی یادگار قائم کردی۔ سلام علی نوح فی العالمین، یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ یعنی ہم نے آئندہ نسلوں میں نوح (علیہ السلام) کے لیے یہ کلام جاری کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ساتھ طوفان سے سلامت رکھا آئندہ بھی جہاں یہ آیت آئے گی وہاں بھی اس کا یہی مفہوم ہوگا قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یا یہ جملہ دعائیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے لیے جن و انس اور فرشتوں میں یہ دعا تا قیامت جاری کردی۔ ای ثبت ھذہ التحیۃ فیہم جمیعا ولا یخلوا احد منہم منہا کانہ قیل ثبت اللہ التسلیم علی نوح وادامہ فی الملائکۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنَجَّيْنٰہُ وَاَہْلَہٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ۝ 76ۡۖ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ كرب الكَرْبُ : الغمّ الشّديد . قال تعالی: فَنَجَّيْناهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ [ الأنبیاء/ 76] .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–76

وَلَقَدْ نَادٰنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ ۔ وَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗ مِنَ الْـکَرْبِ الْعَظِیْمِ ۔ (الصآفات : 75، 76) (ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو کیا ہی خوب ہیں ہم جواب دینے والے۔ اور ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو بہت بڑی کلفت سے نجات دی۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی مایوسی کے بعد دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت ہم اس سے پہلے سورة الشعراء آیات 17۔ 18 میں پڑھ چکے ہیں اور آگے سورة نوح میں مزید تفصیل سے پڑھیں گے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو صدیوں تک اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور خون جگر پی پی کر ان کی ہدایت کی کوشش کی۔ اس راہ کا کوئی دکھ ایسا نہیں جو آپ نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–82

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں مخلص بندوں کا انجام ان میں حضرت نوح (علیہ السلام) بھی شامل ہیں لہٰذا ان کا واقعہ سماعت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی اقوام میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ مگر لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کی انہیں دنیا کے عذاب سے بچا لیا گیا اور آخرت میں وہ کامیاب ٹھہریں گے۔ ان مخلصین میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے رفقائے کرام سر فہرست ہیں۔ جب نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے یکسر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

76: وَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَہٗ (اور ہم نے ان کو اور ان کے پیروکاروں کو نجات دی) اہل سے مراد ایمان والے اور ان کی اولاد مراد ہے۔ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ (بڑے بھاری غم سے) اس سے مراد غرق ہونے کا غم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

76، ونجیناہ واھلہ من الکرب العظیم، بڑے غم سے نجات دلائی ، غم سے مراد ہے قوم والوں کی طرف سے پہنچنے والا دکھ اور تکلیفیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–82

75۔ 82۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جس طرح قریش اللہ کے رسول کی نصیحت نہیں مانتے اور شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوتے ہیں۔ اسی طرح قریش سے پہلے بھی بہت قومیں بہک چکی ہیں۔ اور اللہ کے رسولوں کی نصیحت کے نہ ماننے وہ قومیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ اب اس آیت سے آخر سورة تک اس ارشاد کی تائید میں حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت اسمعیل حضرت موسیٰ حضرت ہارون حضرت الیاس ‘ حضرت لوط حضرت یونس کے سات قصے ذکر فرمائے۔ ان میں سے یہ پہلا قصہ حضرت نوح سب سے پہلے صاحب شریعت نبی کا ہے مدت تک حضرت نوح نے اپنی قوم کو سمجھایا۔ جب ان لوگوں نے حضرت نوح کی نصیحت کو نہ مانا۔ اس وقت حضرت نوح نے اکتا کر رب انی مغلوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–82

آیت 75 اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول حضرت نوح کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ لوگ اس دعوت سے دور بھگاتے رہے۔ تب حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارتے وہئے دعا کی : (آیت) ” اے میرے رب ! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ “ اور فرمایا (آیت) ” اے میرے رب ! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فلنعم المجیبون) ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ وزاری کو سنتے ہیں اور خب جواب دیتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

51 نجات دہندہ سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے نجات دی نوح کو بھی اور انکے تعلقداروں کو بھی اس کرب عظیم سے "۔ جس میں قوم کی تکذیب و انکار کی وجہ سے آنجناب ﷺ مبتلا تھے۔ سو درد و کرب سے بچانے والے ہم ہی ہیں اور حاجت روائی و مشکل کشائی ہماری ہی شان اور ہمارا ہی کام ہے۔ اور پیغمبروں اور حضرت نوح جیسے اولوا العزم پیغمبروں کے حاجت روا و مشکل کشا ہم ہی ہیں۔ اور یہ سب ہمارے ہی محتاج اور ہمارے ہی در کے سوالی ہیں۔ " اہل " سے مراد یہاں پر آنجناب کے ایماندار اہل و عیال اور دوسرے خاص متعلقین ہیں۔ سو حضرت نوح کو اور آپ کے ان ایماندار ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و عنایت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ ٔ خیر اور ان کی قوم کا انجام تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کا مکمل قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے یہاں ہلکا سا ذکر کیا جاتا ہے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھاتے رہے مگر وہ نہ مانے تو سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی ” میں مغلوب ہوں میری مدد کیجیے ـ“ ( سورة قمر) تو اللہ نے ان کی دعا سنی۔ پوری قوم طوفان میں غرق ہوگئی سوائے آپ کے اور آپ کے اہل و عیال کے۔ آپ کو آپ کی اطاعت گزاری کا انعام دنیا میں یہ دیا کہ آنے والی سب نسلیں آپ کا نام عزت و احترام سے لیتی ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ تمام مسلمان، یہودی اور نصرانی سب آپ کو اپنا پیشوا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 72–76

ف 5 حضرت نوح ( علیہ السلام) کے اپل ( گھر والوں) سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان پر ایمان لائے اور ’ ’ کرب عظیم “ ( بڑی مصیبت) سے مراد طوفان میں غرق ہونا بھی ہوسکتا ہے اور قوم کو جھٹلانا اور ستانا بھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:76) اہلہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے گھر والے۔ اس کے گھرانے کے۔ یہاں اھل سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان والے نہیں ہیں بلکہ ہم عقیدہ اور ایمان والے مرد لئے گئے ہیں۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :۔ قال ینوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح (11:46) خدا نے فرمایا اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے ۔ الکرب۔ اسم مصدر معرفہ۔ بڑی مصیبت، کرب سخت غم۔ دم گھونٹنے والا غم الکرب العظیم بہت بڑی مصیبت، اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم کے ہاتھوں پہنچنے والی تکلیفیں اور ایذا رسانی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–82

لغات القرآن (آیت نمبر 75 تا 82) نادی (اس نے پکارا) نعم ( بہترین) مجیبون (قبول کرنے والے) کرب (مصیبت، مشکل) المحسینین (نیک کام کرنے والے) اغرقنا (ہم نے ڈبو دیا ، غرق کردیا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 :۔ ان آیات سے پہلے فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ اور ہر قوم کی ہدایت و رہنمائی اور برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا تھا ۔ جن لوگوں نے ان کے بتائے ہوئے راستے کو اپنایا اور اس پر پورے خلوص سے چلے تو اللہ نے ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو ان کی نجات کا ذریعہ بنا دیا لیکن جن بد نصیبوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری نہیں کی ان کی نہ صرف دنیا اجاڑدی گئی بلکہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–82

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو ساڑھے نوسوسال سمجھایارونصیحت کرتے رہے مگر ان کی شرارت اور ایذارسانی برابر بڑھتی رہی آخر حضرت نوح نے مجبورہوکر یہ دعامانگی ، یا اللہ اب میں قوم کے لوگوں کی سرکشی سے عاجز آگیا اس لیے ان سے ایسابدلہ لے کہ ان کا ایک گھر بھی زمین پر باقی نہ رہے ، طوفان کے بعد، سام ، حام اور یافث نوح کے تین بیٹے جو طوفان سے نچے ان کی نسل سے تمام دنیا چلی پھر فرمایا کہ رہتی دنیاتک نوح کا ذکر خیرلوگوں میں باقی چھوڑا، چناچہ آج تک خلقت ان پر سلام بھیجتی ہے اور سارے جہان میں نوح (علیہ السلام) کہہ کریاد کیے جاتے ہیں، پھر فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–78

[14] یعنی ہم نے اس درخت کو آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے کہ اس کا ذکر سن کر کفار بطور استہزا کہتے کہ فلاں لغت میں زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ پھر انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے کہ آؤ زقوم کھائیں۔ کوئی ٹھٹھا مار کر کہتا لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 75–81

حضرت نوح (علیہ السلام) 3: یعنی وہ لوگ جن میں اخلاص ہوتا ہے جو خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں ۔ وہ عذاب میں گرفتار نہیں ہوتے وہ اللہ کے غضب اور غصہ کا مورد نہیں بنتے اور اگلا انجام دنیا وعقبیٰ کے لحاظ سے دوسروں سے کہیں بہتر اور برتر ہوتا ہے اس کے بعد تذکیر یا نام اللہ کے اصول کے مطابق یہ فرمایا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) (آدم ثانی) نے قوم کی مخالفت عنایت تنگ آکر آخر دعا مانگی تو ہم نے قبول کرلی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(76) اور ہم نے نوح کو اور اس کے متعلقین اور متبعین کو بڑے غم سے نجات دی - یعنی غرق کے عذاب سے مومنین کو جن کی تعداد تھوڑی تھی بچا لیا۔ کہتے ہیں کہ کشتی میں کل اسی یا تراسی آدمی تھے وہی محفوظ رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے نوح کو اور اس کے گھر والوں کو زبردست مصیبت سے نجات دی : 76۔ اہل سے مراد آپ پر ایمان لانے والے لوگ ہیں اور جو آپ پر ایمان نہ لائے خواہ وہ آپ کے کتنے ہی قریبی تھے لیکن وہ آپ کے اہل نہ رہے چناچہ قرآن کریم میں اس کی تفصیل دوسری جگہ کردی گئی ہے جب آپ نے اپنے بیٹے کو کشتی پر سوار ہونے کا کہا اور بیٹے نے اس کا جواب یہ دیا کہ بابا اپنا کام کرو میں آپ کی کشتی میں سوار نہیں ہوتا میں تو کسی پہاڑ پر چڑھ کر ہی اپنی جان بچا سکتا ہوں لیکن یہ بات ابھی اس کے منہ میں ہی تھی کہ ایک لہر اٹھی اور اس نے اس کے بیٹے کو اس کی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے غرق کر کے رکھ دیا پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے مالک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–76

Commentary In the previous verses, it was said that Allah had sent messengers to warn the earlier communities as well, but most of the people did not listen to them, therefore, they met a very sad end. Now, from here details of that brief statement made earlier are being given. As a corollary, events relating to several noble prophets have been narrated. Mentioned first in these verses was Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . The event relating to Sayyidna Nuh (علیہ السلام) has appeared in Surah Hud (11) with sufficient details. A few things connected with the explanation of these very verses…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

41 That is, from the severe distress that was being caused to him on account of the continuous opposition and antagonism of a wicked and cruel people. This also contains a subtle allusion that just as the Prophet Noah and his companions were saved from the great distress, so also shall We ultimately save the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace) and his Companions from the great distress that is being caused to them by the people of Makkah.

Read the full tafseer →