As-Saaffaat 37:75

As-Saaffaat · from ayah 75

37:75

وَلَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ ۟ؗۖوَلَقَدۡ نَادٰٮنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ

اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Noah had certainly called Us, and [We are] the best of responders.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:75

ہم کو (اِس سے پہلے) نوحؑ نے پکارا تھا، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہمیں نوح ؑ نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نوح نے ہمیں پکارا تھا تو (دیکھ لو کہ) ہم پکار کا کتنا اچھا جواب دینے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہمیں نوح نے پکارا تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہمیں نوح ؑ نے پکارا تو ہم کتنے اچھے فریاد رَس ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا نوح نے ہمیں پکارا تو یقینا ہم اچھے قبول کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہمیں نوح نے پکارا تو (دیکھو) ہم کیا خوب دعا قبول کرنے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نوح نے ہم سے فریاد کی پس کیا ہی خوب ہیں ہم فریاد سننے والے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ نوح نے بھی ہم ہی کو پکارا سو ہم کیا ہی خوب فریاد رسی کرنے والے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم کو نوح ؑ نے پکارا اور ہم خوب فریاد کے سننے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہمیں پکارا تھا نوح ؑ نے تو ہم کیا ہی اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم کو نوح نے پکارا سو دیکھ لو کہ ہم دعا کو کیسے اچھے قبول کرنے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Noah had called upon Us (earlier). See, how excellent We were in answering him!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And NuH did call Us (for help after he was disappointed with his people), so (We accepted his prayer, as) We are the best to respond.

— Muhammad Taqi Usmani

And NuH did call Us (for help after he was disappointed with his people), so (We accepted his prayer, as) We are the best to respond.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed Nuh invoked Us, and We are the best of those who answer.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Noah verily prayed unto Us, and gracious was the Hearer of his prayer

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Noah had certainly called Us, and [We are] the best of responders.

— Saheeh International

Noah called for help. How blessed was the answer which he received.

— Muhammad Sarwar

And Nuh did certainly call upon Us, and most excellent answerer of prayer are We.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly Nuh cried Unto us; and We are the Best of answerers!

— Abdul Majid Daryabadi

(In the days of old), Noah cried to Us, and We are the best to hear prayer.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–82

نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 39 اس مضمون کا تعلق پچھلے رکوع کے آخری فقروں سے ہے۔ ان پر غور کرنے سے سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ قصے یہاں کسی غرض سے سنائے جا رہے ہیں۔ سورة الصّٰٓفّٰت 40 اس سے مراد وہ فریاد ہے جو حضرت نوح ؑ نے مدتہائے دراز تک اپنی قوم کو دعوت دین حق دینے کے بعد آخر کار مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ سے کی تھی۔ اس فریاد کے الفاظ سورة قمر میں اس طرح آئے ہیں فَدَعَا رَبَّہ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ، " اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں، اب تو میری مدد کو پہنچ " (آیت 10)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

خلاصہ تفسیر اور ہم کو نوح ؑ نے (نصرت کے لئے) پکارا (یعنی دعا کی) سو (ہم نے ان کی فریاد رسی کی اور) ہم خوب فریاد سننے والے ہیں اور ہم نے ان کو اور ان کے تابعین کو بڑے بھاری غم سے (جو کفار کی تکذیب اور ایذاء رسانی سے پیش آیا تھا) نجات دی (کہ طوفان سے کفار کو غرق کردیا اور ان کے تابعین کو بچا لیا) اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رہنے دیا (اور کسی کی نسل نہیں چلی) اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات (مدت دراز کے لئے) رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو عالم والوں میں (یعنی خدا کرے اپنے تمام اہل عالم جن و انس و ملائکہ سلام بھیجا کریں) ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں بیشک وہ ہمارے ایمان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

-4 آگے کا مضمون۔ آیات 148-75 آگے اختصار کے ساتھ حضرت نوح، حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت موسیٰ ، حضرت ہ اورن، حضرت الیاس، حضرت لوط اور حضرت یونس علیہوم السلام کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں اور ہر سرگزشت کے آخر میں اس مضمون کی ترجیح ہے کہ اللہ نے اپنے یغمبر کو رحمت و سلامتی سے نوازا، اس کی دعوت کو فروغ بخشا اور اپنے خوب کار بندوں کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسی طرح صلہ دیتا ہے۔ یہی ترجیح درحقیقت ان سرگزشتوں کا لب لباب ہے۔ پیغمبروں کے ذکر میں ترتیب حضرت ہ اورن ؑ تک تو تاریخی ہے اس کے بعد ترتیب صفاتی ہوگئی ہے۔ اس کی وضاحت آیات کی تفسیر کے ذیل میں آئے گی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -5…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

75۔ 1 یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے باوجود جب قوم کی اکثریت نے ان کو جھٹلایا تو انہوں نے محسوس کرلیا کہ ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے تو اپنے رب کو پکارا (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) 54۔ القمر :10) یا اللہ میں مغلوب ہوں میری مدد فرما، چناچہ ہم نے نوح ؑ کی دعا قبول کی اور ان کی قوم کو طوفان بھیج کر ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–81

14: لپکنے کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور اشتیاق سے وہی راستہ اختیار کیا اور نہ خود اپنی عقل سے سوچا اور نہ پیغمبروں کی بات مانی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–77

ولقد نادنا نوح۔۔۔۔ اغرقنا الاخرین (75 –82) ” ۔ ۔ ۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے رب تعالیٰ سے کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی دعا کو پوری طرح قبول فرمایا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔ جواب دینے والا ہے۔ فلنعم المجیبون (37: 75) ” ہم کسے اچھے جواب دینے والے تھے “۔ اور اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو کرب عظیم سے نجات دی تھی۔ یعنی وہ کرب عظیم دراصل وہ طوفان تھا جس سے صرف وہی لوگ بچے جن کے بچانے کا اللہ نے ارادہ کرلیا تھا۔ اور جن کی زندگی ابھی باقی تھی اور اللہ کی تقدیر میں جن لوگوں کے بارے میں لکھا تھا کہ اللہ نوح کی اولاد سے ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جنہوں نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 75–82

3 تقریباً ہزار سال تک حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے اور نصیحت کرتے رہے۔ مگر ان کی شرارت اور ایذاء رسانی برابر بڑھتی رہی۔ آخر حضرت نوح نے مجبور ہو کر اپنے بھیجنے والے کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔ (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) اے پروردگار ! میں مغلوب ہوں آپ میری مدد کو پہنچئے۔ دیکھ لو کہ اللہ نے ان کی پکار کیسی سنی اور مدد کو کس طرح پہنچا۔ نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے گھرانے کے رات دن کی ایذاء سے بچایا۔ پھر ہولناک طوفان کے وقت ان کی حفاظت کی۔ اور تنہا اس کی اولاد سے زمین کو آباد کردیا۔ اور رہتی دنیا تک اس کا ذکر خیر لوگوں میں باقی چھوڑا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 75{ وَلَقَدْ نَادٰٹنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ } ”اور ہمیں پکارا تھا نوح علیہ السلام نے ‘ تو ہم کیا ہی اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں !“ حضرت نوح کی اس دعا کا ذکر سورة القمر میں ان الفاظ میں ہوا ہے : { فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ } یعنی اس نے ربّ سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں ‘ انہوں نے مجھے دبا لیا ہے ‘ اب ُ تو ہی میری مدد فرما اور تو ہی ان سے میرا بدلہ لے ! چناچہ اللہ کی مدد آگئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 75–76

43 نوح کی بددعا اور اس کی قبولیت :۔ سیدنا نوح نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم سے سر کھپایا۔ ان کو دلائل سے سمجھایا اور مختلف پیرایوں میں سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ مگر ان لوگوں نے ان کی ایک نہ مانی۔ الٹا ان کا مذاق اڑاتے اور ایذائیں پہنچاتے رہے۔ اس طویل عرصہ میں معدودے چند آدمی آپ پر ایمان لائے۔ پھر جب آپ اپنی قوم سے قطعی طور پر مایوس ہوگئے کہ اب باقی لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان لانے والا نظر نہیں آتا اور سب میرے اور میرے ساتھیوں کے درپے آزار ہیں تو اس وقت آپ نے اللہ کے حضور فریاد کی کہ یا اللہ ! مجھے ان لوگوں نے دبا لیا ہے اب تو ہی ان سے بدلہ لے اور مجھے ان ظالموں سے نجات دے۔ 44 یعنی ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ (چنانچہ ہم نے نوح کی بھی سن لی) (آیت) ” ولقد نادنا “۔ یعنی ہمیں اپنی نصرت اور کافروں سے انتقام کے لئے پکارا۔ (آیت) ’ ’ واھلہ “۔ اھل سے مراد حضرت نوح کے خاندان والے نہیں۔ بلکہ ہم عقیدہ اہم ایمان لئے گئے ہیں۔ یعنی اھل دینہ وھم من امن معہ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد نادانا نوح فلنعم الجیبون اور ہم کو نوح نے پکارا ‘ سو ہم خوب فریاد سننے والے ہیں۔ سابق آیت میں فرمایا تھا : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْھِمْ مُّنْذِرِیْنَ 5 اس میں عموماً سارے پیغمبروں کا ذکر ہوگیا ‘ اب خصوصیت کے ساتھ حضرت نوح کا ذکر شروع فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے ایک زمانہ میں قوم نوح گمراہ ہوگئی تھی ‘ ہم نے ان کو ہدایت کیلئے نوح کو بھیجا ‘ نوح نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ قوم نے دعوت نہیں مانی اور نوح کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا کہ جو لوگ ایمان لانے والے تھے ‘ وہ لا چکے ‘ آئندہ قوم کا کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا۔ نوح جب مایوس ہوگئے تو انہوں نے ہم سے دعا کی کہ ان کی قوم کو تباہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–79

(75۔ 79) نوح نے اپنی قوم کی ہلات کے لیے دعا کی کہ رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ ہم ان کی خوب فریاد سننے والے ہیں۔ چناچہ ہم نے ان کو اور ان کے پیروکاروں کو غرق ہونے سے بچا لیا اور قیامت تک ہم نے باقی ان ہی کی اولاد کو رہنے دیا، کیونکہ حضرت نوح کے تین لڑکے تھے، سام، حام، یافث سام تو ابو العرب ہیں اور تمام عربوں کے جزیروں میں رہنے والوں کے باپ ہیں اور حام حبش بر بر اور سندھ والوں کے باپ ہیں اور یافث تو تمام لوگوں کے باپ ہیں۔ اور ہم نے نوح کے لیے ان کے بعد والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ہماری طرف سے نوح پر سلام ہو تمام جہانوں والوں میں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ : پکارنے سے مراد وہ دعا ہے جو نوح ؑ نے ساڑھے نوسو سال تک صبرو استقامت کے ساتھ دعوت دینے کے بعد اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں آگاہ کیا کہ اب تمہاری قوم میں سے ان کے سوا کوئی ایمان نہیں لائے گا جو ایمان لا چکے۔ اس دعا کا ذکر سورة قمر (10) اور سورة نوح (26) میں ہے۔ فَلَنِعْمَ الْمُجِيْبُوْنَ : یہاں اس کے بعد مخصوص بالمدح ”نَحْنُ“ محذوف ہے، یعنی یقیناً ہم اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔ نوح ؑ کی دعا کی قبولیت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ہود (36 تا 48)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–82

75 ۔ 82:۔ یہاں ندا سے مراد استغاثہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے دعا کی اور یوں عرض کی : رب الاتذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ ) نوح ( ہم کتنے ہی اچھے دعا قبول کرنے والے تھے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یوں ہے فلنعم المجیبون لہ کنا ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کی نجات دی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لا چکے تھے جس طرح پہلے گذر چکا ہے ان کی تعداد اسی تھی۔ الکرب العظیم۔ سے مراد غرق ہونا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی سے باہر نکلے تو جو مرد اور عورتیں آپ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ نَادٰىنَا [اور بیشک پکار چکے ہم کو ] نُوْحٌ [نوح (علیہ السلام) ] فَلَنِعْمَ [تو یقینا کیا ہی اچھے ہیں (ہم)] الْمُجِيْبُوْنَ [قبول کرنے والے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–79

حضرت نوح (علیہ السلام) کا دعا کرنا اور ان کی قوم کا ہلاک ہونا اور ان کی ذریت کا نجات پانا حضرت نوح اپنی قوم میں ساڑھے نو سو برس رہے، انہیں سمجھایا، توحید کی دعوت دی غیر اللہ کی پرستش چھوڑنے کی تلقین کی، لیکن ان لوگوں نے نہ مانا بس تھوڑے سے ہی آدمی مسلمان ہوئے۔ اہل ایمان کی مختصر تعداد کے علاوہ جو دوسرے لوگ تھے وہ ضد پر اڑے رہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے رہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے تنگ آکر ان کے لیے بد دعا کردی (لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنِ دَیَّارًا) (کہ اے رب زمین میں ایک بھی کافر باشندہ مت چھوڑ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ کشتی بنالو، انہوں نے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

قصہ اول نوح (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون۔۔۔ الی۔۔۔ ثم اغرقنا الاخرین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں توحید اور جنت اور جہنم کا مضمون بیان فرمایا اور پھر اس کے ختم پر یہ فرمایا۔ ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب آگے چند پیغمبروں کے واقعات ذکر فرماتے ہیں جن سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد مخلصین کو اور ان کے پیروؤں کو دنیا کے عذاب سے بچا لیا اسی طرح وہ ان کو آخرت میں عذاب سے بچا لے گا اس سلسلہ میں سات قصے ذکر کئے سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اور البتہ تحقیق نوح جو ہمارے عباد مخلصین میں سے تھا جب وہ اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوا تو اس نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 72–75

33:۔ ولقد ناانا الخ :۔ زجر و شکوی اور تبشیر و تخویف کے بعد سات انبیاء (علیہم السلام) کے قصے ذکر کیے گئے جو اس پر دلالت کرتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) بھی خدا کے یہاں شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ تو خود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی عاجزی اور نیاز مندی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اور مصائب و بلیات میں اللہ تعالیٰ کو پکار رہے ہیں۔ پہلا قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہے۔ دیکھو ! نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت اور اپنی نجات کے لیے ہمیں پکارا۔ ہم کیسے ہی اچھے قبول کرنے والے ہیں چناچہ ہم نے اس کو اور اس کے متبعین کو بہت بڑی مصیبت (غرق) سے بچا لیا۔ اور تمام مشرکین کو طوفان میں غرق کردیا۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيْبُوْنَ۝ 75ۡۖ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–76

وَلَقَدْ نَادٰنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ ۔ وَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗ مِنَ الْـکَرْبِ الْعَظِیْمِ ۔ (الصآفات : 75، 76) (ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو کیا ہی خوب ہیں ہم جواب دینے والے۔ اور ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو بہت بڑی کلفت سے نجات دی۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی مایوسی کے بعد دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت ہم اس سے پہلے سورة الشعراء آیات 17۔ 18 میں پڑھ چکے ہیں اور آگے سورة نوح میں مزید تفصیل سے پڑھیں گے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو صدیوں تک اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور خون جگر پی پی کر ان کی ہدایت کی کوشش کی۔ اس راہ کا کوئی دکھ ایسا نہیں جو آپ نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–82

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں مخلص بندوں کا انجام ان میں حضرت نوح (علیہ السلام) بھی شامل ہیں لہٰذا ان کا واقعہ سماعت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی اقوام میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ مگر لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کی انہیں دنیا کے عذاب سے بچا لیا گیا اور آخرت میں وہ کامیاب ٹھہریں گے۔ ان مخلصین میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے رفقائے کرام سر فہرست ہیں۔ جب نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے یکسر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

منذرین کا گزشتہ زمانوں میں بھیجا جانا : 75: جب منذرین کا گزشتہ زمانوں میں بھیجا جانا اور ان کا بدترین انجام ذکر کیا تو اس کے بعد نوح (علیہ السلام) اور ان کی اس دعا کا ذکر کیا جو انہوں نے قوم سے مایوس ہونے کے بعد فرمائی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا تذکرہ : وَلَقَدْ نادٰنَا نُوْحٌ (اور نوح نے ہم کو پکارا) اس نے ہمیں پکاراتا کہ ہم غرق سے ان کو نجات دیں۔ ایک قول : یہ ہے اس سے ان کے اس قول کی طرف اشارہ ہے۔ انی مغلوب فانتصر ] القمر : 10[ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ (پس ہم خوب فریاد سننے والے ہیں) نِعم پر جو لام داخل ہے۔ یہ قسم محذوف کا جواب ہونے کی وجہ سے ہے۔ مخصوص بالمدح محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 75، ولقد نادانا نوح، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا، اپنی قوم کے بارے میں۔ انی مغلوب فانتصر (فلنعم المجیبون) ، ہم نے ان کی دعا کو سنا اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–82

75۔ 82۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جس طرح قریش اللہ کے رسول کی نصیحت نہیں مانتے اور شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوتے ہیں۔ اسی طرح قریش سے پہلے بھی بہت قومیں بہک چکی ہیں۔ اور اللہ کے رسولوں کی نصیحت کے نہ ماننے وہ قومیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ اب اس آیت سے آخر سورة تک اس ارشاد کی تائید میں حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت اسمعیل حضرت موسیٰ حضرت ہارون حضرت الیاس ‘ حضرت لوط حضرت یونس کے سات قصے ذکر فرمائے۔ ان میں سے یہ پہلا قصہ حضرت نوح سب سے پہلے صاحب شریعت نبی کا ہے مدت تک حضرت نوح نے اپنی قوم کو سمجھایا۔ جب ان لوگوں نے حضرت نوح کی نصیحت کو نہ مانا۔ اس وقت حضرت نوح نے اکتا کر رب انی مغلوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–82

آیت 75 اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول حضرت نوح کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ لوگ اس دعوت سے دور بھگاتے رہے۔ تب حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارتے وہئے دعا کی : (آیت) ” اے میرے رب ! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ “ اور فرمایا (آیت) ” اے میرے رب ! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فلنعم المجیبون) ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ وزاری کو سنتے ہیں اور خب جواب دیتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

49 حضرت نوح کے حاجت روا بھی اللہ تعالیٰ ہی : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ حضرت نوح نے بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اللہ ہی کو پکارا۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور " لقد " کی ڈبل تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ نوح نے بھی ہم ہی کو پکارا ۔ اپنی مشکل کشائی اور حاجت روائی کیلئے ۔ جبکہ انہوں نے ساڑھے نو سو برس کی اپنی پیہم اور بےمثال تبلیغ کے بعد اپنی ناہنجار قوم سے مایوس ہونے کے بعد کہا تھا ۔ { اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِر } ۔ ( القمر :10) ۔ نیز انہوں نے عرض کیا تھا ۔ { رَبِّ لا تَذَرْ عَلَی الاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا } ۔ (نوح : 26) ۔ تو جب حضرت نوح جیسا اولوا العزم رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ ٔ خیر اور ان کی قوم کا انجام تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کا مکمل قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے یہاں ہلکا سا ذکر کیا جاتا ہے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھاتے رہے مگر وہ نہ مانے تو سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی ” میں مغلوب ہوں میری مدد کیجیے ـ“ ( سورة قمر) تو اللہ نے ان کی دعا سنی۔ پوری قوم طوفان میں غرق ہوگئی سوائے آپ کے اور آپ کے اہل و عیال کے۔ آپ کو آپ کی اطاعت گزاری کا انعام دنیا میں یہ دیا کہ آنے والی سب نسلیں آپ کا نام عزت و احترام سے لیتی ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ تمام مسلمان، یہودی اور نصرانی سب آپ کو اپنا پیشوا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 72–76

ف 5 حضرت نوح ( علیہ السلام) کے اپل ( گھر والوں) سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان پر ایمان لائے اور ’ ’ کرب عظیم “ ( بڑی مصیبت) سے مراد طوفان میں غرق ہونا بھی ہوسکتا ہے اور قوم کو جھٹلانا اور ستانا بھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:75) یہاں بعض قصص کا تفصیلاً بیان شروع ہوتا ہے جن کا مجملاً پہلے بیان ہوچکا ہے۔ مولانا ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ سابق آیت میں فرمایا تھا :۔ ولقد ارسلنا فیہم منذرین۔ اس میں عموما سارے پیغمبروں کا ذکر ہوگیا۔ اب خصوصیت کے ساتھ حضرت نوع (علیہ السلام) کا ذکر شروع فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے ایک زمانہ میں قوم نوح گمراہ ہوگئی تھی۔ ہم نے ان کی ہدایت کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام ) کو بھیجا۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ قوم نے دعوت نہ مانی۔ اور (حضرت ) نوح (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا کہ جو لوگ ایمان لانے والے تھے وہ لا چکے۔ آئندہ قوم کا کوئی فرد ایمان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–82

لغات القرآن (آیت نمبر 75 تا 82) نادی (اس نے پکارا) نعم ( بہترین) مجیبون (قبول کرنے والے) کرب (مصیبت، مشکل) المحسینین (نیک کام کرنے والے) اغرقنا (ہم نے ڈبو دیا ، غرق کردیا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 :۔ ان آیات سے پہلے فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ اور ہر قوم کی ہدایت و رہنمائی اور برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا تھا ۔ جن لوگوں نے ان کے بتائے ہوئے راستے کو اپنایا اور اس پر پورے خلوص سے چلے تو اللہ نے ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو ان کی نجات کا ذریعہ بنا دیا لیکن جن بد نصیبوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری نہیں کی ان کی نہ صرف دنیا اجاڑدی گئی بلکہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–82

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو ساڑھے نوسوسال سمجھایارونصیحت کرتے رہے مگر ان کی شرارت اور ایذارسانی برابر بڑھتی رہی آخر حضرت نوح نے مجبورہوکر یہ دعامانگی ، یا اللہ اب میں قوم کے لوگوں کی سرکشی سے عاجز آگیا اس لیے ان سے ایسابدلہ لے کہ ان کا ایک گھر بھی زمین پر باقی نہ رہے ، طوفان کے بعد، سام ، حام اور یافث نوح کے تین بیٹے جو طوفان سے نچے ان کی نسل سے تمام دنیا چلی پھر فرمایا کہ رہتی دنیاتک نوح کا ذکر خیرلوگوں میں باقی چھوڑا، چناچہ آج تک خلقت ان پر سلام بھیجتی ہے اور سارے جہان میں نوح (علیہ السلام) کہہ کریاد کیے جاتے ہیں، پھر فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–78

[14] یعنی ہم نے اس درخت کو آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے کہ اس کا ذکر سن کر کفار بطور استہزا کہتے کہ فلاں لغت میں زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ پھر انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے کہ آؤ زقوم کھائیں۔ کوئی ٹھٹھا مار کر کہتا لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 75–81

حضرت نوح (علیہ السلام) 3: یعنی وہ لوگ جن میں اخلاص ہوتا ہے جو خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں ۔ وہ عذاب میں گرفتار نہیں ہوتے وہ اللہ کے غضب اور غصہ کا مورد نہیں بنتے اور اگلا انجام دنیا وعقبیٰ کے لحاظ سے دوسروں سے کہیں بہتر اور برتر ہوتا ہے اس کے بعد تذکیر یا نام اللہ کے اصول کے مطابق یہ فرمایا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) (آدم ثانی) نے قوم کی مخالفت عنایت تنگ آکر آخر دعا مانگی تو ہم نے قبول کرلی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(75) چونکہ اوپر ڈرانے والے اور ڈرائے گئے لوگوں کا ذکر آیا تھا اس لئے چند انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ توحید اور رسالت کا اثبات ہوجائے۔ اگرچہ تفصیل نہیں ہے تفصیل دوسری جگہ مذکور ہے مگر جس قدر یہاں مذکور ہے اس سے مدعاثابت ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے مرسل تھے اور توحید اور اخلاق عالیہ کی تعلیم دیتے تھے اور اسی بنا پر دین حق کے منکر ان کی مخالفت کرتے تھے اور بالآخر مستوجب سزا اقرار پاتے تھے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اور بلا شبہ ہم کو نوح نے پکارا اور ہم نے دعا کی سو ہم کیا خوب پکار پر پہنچنے اور دعا قبول کرنے والے ہیں - دعا کرنے والوں کی دعا کو قبول کرتے ہیں اور پکارنے والوں کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا پس ہم خوب فریاد کو پہنچنے والے ہیں : 75۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) اور آپکی قوم کے حالات گزشتہ سورتوں میں سورة الاعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة الانبیاء اور شعرا میں بہت تفصیل سے گزر چکے ہیں اور سورة ہود میں نوح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت میں بھی اس کی وضاحت بیان کی جا چکی ہے اور اس جگہ فرمایا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ہم کو پکارا اور ہم اچھے جواب دینے والے ہیں یعنی ہم نے اس کی بات سنی اور اس کی فریاد سن کر اس کی فریاد رسی بھی کی کہ جب طوفان آیا تو صرف آپ اور آپ پر ایمان لانے والوں ہی کو بچایا گیا باقی سب کو غرق کردیا گیا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–76

Commentary In the previous verses, it was said that Allah had sent messengers to warn the earlier communities as well, but most of the people did not listen to them, therefore, they met a very sad end. Now, from here details of that brief statement made earlier are being given. As a corollary, events relating to several noble prophets have been narrated. Mentioned first in these verses was Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . The event relating to Sayyidna Nuh (علیہ السلام) has appeared in Surah Hud (11) with sufficient details. A few things connected with the explanation of these very verses…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

39 This theme is related with the preceding sentences. A study of them shows why these stories are being narrated here. 40 This refers to the prayer that the Prophet Noah had at last made to Allah Almighty, being disappointed with his people, after having preached the true Faith to them for a very long period of time, without much success. This prayer has been related in Surah All-Qamar, thus: "He called out to his Lord, saying: I am overcome: take now Thy vengeance." (v. 10).

Read the full tafseer →