As-Saaffaat 37:74

As-Saaffaat · from ayah 74

37:74

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ۟۠اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ

ہاں خدا کے بندگان خاص (کا انجام بہت اچھا ہوا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

But not the chosen servants of Allah.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juzع

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:74

اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں خدا کے بندگان خاص (کا انجام بہت اچھا ہوا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

سوائے اللہ کے برگزیده بندوں کے

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ جو اللہ کے برگزیدہ بندے تھے (وہ محفوظ رہے)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سوائے اﷲ کے چنیدہ و برگزیدہ بندوں کے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر اللہ کے خالص کیے ہوئے بندے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(ان میں سے) صرف اللہ کے مخلص بندے ہی محفوظ رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

صرف ہمارے مخصوص بندے ہی اس انجام سے محفوظ رہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے اللہ کے ان خاص بندوں کے جن کو چن لیا گیا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

البتہ وہ نہیں جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سوائے اللہ کے خاص بندوں کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہاں اللہ کے خاص بندوں کا انجام بہت اچھا ہوا

— محترمہ رفعت اعجاز

except for the chosen servants of Allah?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

except Allah‘s chosen servants.

— Muhammad Taqi Usmani

except Allah‘s chosen servants.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except the chosen servants of Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But not the chosen servants of Allah.

— Saheeh International

Only Our sincere servants were saved.

— Muhammad Sarwar

Except the servants of Allah, the purified ones.

— Muhammad Habib Shakir

Save the bondmen of Allah sincere.

— Abdul Majid Daryabadi

Except the sincere (and devoted) Servants of Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:74

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–74

سابقہ آیتیں۔ گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کردیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟ تہس نہس کردئیے گئے تباہ برباد کردئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 68–74

سورة الصّٰٓفّٰت 37 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ جب بھوک پیاس سے بےتاب ہونے لگیں گے تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا جہاں زقوم کے درخت اور کھولتے ہوئے پانی کے چشمے ہوں گے۔ پھر جب وہ وہاں سے کھا پی کر فارغ ہوجائیں گے تو انہیں دوزخ کی طرف لایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–74

(آیت) طلعھا کانہ رءوس الشیاطین، اس آیت میں زقوم کے پھل کو ”شیاطین کے سروں“ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے تو یہاں ”شیاطین“ کا ترجمہ ”سانپوں“ سے کیا ہے، یعنی زقوم کا پھل ایسی شکل کا ہوتا ہے جیسے سانپ کا پھن، اردو میں اسے ”ناگ پھن“ اسی لئے کہتے ہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہاں ”شیاطین“ سے اس کے معروف معنی ہی مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ زقوم کا پھل اپنی بدصورتی میں شیطانوں کے سر کی طرح ہوتا ہے۔ اب یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ شیطان کو تو کسی نے دیکھا نہیں، پھر اس کے ساتھ تشبیہ کیوں دی گئی ؟ اس لئے کہ یہ ایک تخیلی تشبیہ ہے، محاورہ میں بدصورت اور بدہئیت اشیاء کو شیطان اور جن بھوت سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 71–74

ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین، ولقد ارسلنا فیھم منذرین، فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین، الاعباد اللہ المخلصین (74-71) قبلھم میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں۔ اب یہاں سے کلام کا رخ تاریخی دلائل کی طرف مڑ رہا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح کی گمراہی میں یہ (قریش) مبتلا ہیں اسی طرح کی گمراہی میں ان سے پہلے اکثر قومیں مبتلا ہو کر کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔ یہ اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کا ذکر تفصیل سے پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے اور وہ اس سورة میں بھی آگے آ رہا ہے۔ فرمایا کہ ان کی اصلاح کے لئے ہم نے ان کے اندر اپنے مذر بھیجے کہ وہ ان کی غلط روش کے انجام سے ان کو آگاہ کردیں لیکن انہوں نے انہی کی طرح باپ دادا کی تقلید…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 73–74

74۔ 1 یعنی عبرت ناک انجام سے صرف وہ محفوظ رہے جن کو اللہ نے ایمان و توحید کی توفیق سے نواز کر بچا لیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–81

14: لپکنے کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور اشتیاق سے وہی راستہ اختیار کیا اور نہ خود اپنی عقل سے سوچا اور نہ پیغمبروں کی بات مانی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 73–74

فانظر کیف کان۔۔۔۔ المخلصین (37: 73 – 74) ” اب دیکھ لو ، ان تنبیہہ کیے جانے والوں کا انجام کیا ہوا ، اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا “۔ اب قصہ نوح کا آغاز کیا جاتا ہے اور اس میں اللہ کے نیک بندوں کا انجام نہایت ہی تیزی سے بتا دیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کے انجام کا لحاظ رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 71–74

2 یعنی ہر زمانہ میں انجام سے آگاہ کرنے والے آخرت کا ڈر سنانے والے آتے رہے۔ آخر جنہوں نے نہ سنا اور نہ مانا دیکھ لو ! ان کا انجام کیسا ہوا۔ بس اللہ کے وہ ہی چنے ہوئے بندے محفوظ رہے جن کو خدا کا ڈر اور عاقبت کی فکر تھی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ڈر سب ہی کو سناتے ہیں ان میں نیک بچتے ہیں اور بدکھیتے ہیں۔ " آگے بعض منذرین (بالکسر) اور منذرین (بالفتح) کے قصے سنائے جاتے ہیں۔ مکذبین کی عبرت اور مومنین کی تسلی کے لیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 74{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے خاص بندوں کے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی ہر زمانے میں ہر جگہ پر مدد کی اور انہیں اس انجامِ بد سے بچالیا جس سے اللہ کے نافرمان لوگ دو چار ہوئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 70–74

42 تقلید آباد کی مذمت :۔ انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہ کی کہ جو کچھ ان کے آباء و اجداد کرتے آرہے ہیں۔ وہ درست ہے یا غلط ہے۔ جس راہ پر انہیں چلتے دیکھا اسی پر دوڑنے لگے، کنواں کھائی کچھ نہ دیکھا اور اگر ان کے پاس رسول آئے تو انہیں بھی جھٹلا دیا۔ اور اپنی آبائی رسوم کی حمایت میں رسولوں کی مخالفت پر اتر آئے حالانکہ اگر وہ سابقہ اقوام کی روش سے اور ان کے انجام سے کچھ سبق حاصل کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 71–74

33۔ (بلکہ وہ اس عذاب دنیوی سے بھی محفوظ نہ رہے) یعنی جنہوں نے پیغمبروں کی نہ سنی، ان پر دنیا میں بھی کیسے کیسے عذاب آئے۔ (آیت) ” عباد اللہ المخلصین “۔ یعنی اہل ایمان۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا عباد اللہ المخلصین۔ ہاں ‘ وہ بندے جو خالص کر لئے تھے ‘ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اَلْاَوَّلِیْنَ یعنی گذشتہ امتیں۔ مُنْذِرِیْنَ یعنی انبیاء جنہوں نے کافروں کو انجام دے ڈرایا تھا۔ فَانْظُرْ روئے خطاب رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے ‘ لیکن مرکز تخاطب قوم ہے ‘ جس نے گذشتہ اقوام کے واقعات سنے اور آثار باقیہ دیکھے تھے۔ کَیْفَ کَان میں استفہام تعجب آگیں ہے ‘ اس سے مقصود طلب علم نہیں ‘ بلکہ محقق طور پر یہ بتادینا مقصود ہے کہ دنیا اور آخرت میں یقینی طور پر کافروں کو سزا اور پاداش عمل ملتی ہے۔ اِلاَّ عِبَاد اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ یعنی وہ لوگ بدانجام سے مستثنیٰ ہیں جو پیغمبروں کے خوف دلانے سے متنبہ ہوگئے اور بغیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ہاں مگر جو کفر و شرک سے محفوظ یا یہ کہ توحید و عبادت میں مخلص تھے۔ انہوں نے انبیاء کرام کو نہیں جھٹلایا ہم نے ان کو ہلاک نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ : یعنی ہم نے تمام جھٹلانے والوں کو تباہ و برباد کردیا، مگر اللہ کے وہ بندے جو اس کی توحید و عبادت کے لیے چنے ہوئے تھے، وہی محفوظ رہے۔ آگے چند ”مُنْذِرِیْنَ“ (ڈرانے والوں) اور چند ”مُنْذَرِیْنَ“ (ڈرائے جانے والوں) کے قصے بیان فرمائے، تاکہ رسول اللہ ﷺ اور حق کے تمام داعی حضرات کے دلوں کو اطمینان حاصل ہو اور حق جھٹلانے والوں کو عبرت ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–74

69 ۔ 74:۔ یعنی انہوں نے آباء کو گمراہ پایا تو ان کی اقتدا کی تو یہ ان کے پیچھے تیزی سے بھاگے جا رہے ہیں ‘ یہ قتادہ سے مروی ہے مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے ہر ولہ) چال کا انداز ( کے انداز میں جا رہے ہیں۔ فراء نے کہا : امراع سے مراد کا نپتے ہوئے تیز چلنا۔ ابو عبیدہ نے کہا : یھرعون کا معنی ہے پیچھے سے ان پر مٹی ڈالی جا رہی ہوگی اسی کی مثل مبرد کا قول ہے۔ المھرع سے مراد ہے جس کو تیزی سے چلایا جا رہا ہو یہ جملہ کہا جاتا ہے : جاء فلان یھرع الی النار۔ فلاں آیا اسے اگ کی طرف تیزی سے لے جایا جا رہا ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب سردی اسے آگ کی طرف تیزی سے لے جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں تیزی کی سختی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 69–74

1:۔ ابن جریر (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم الفوا اباء اباء ھم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنے آباؤاجداد کو پایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم الفوا اباء اباء ھم “ یعنی انہوں نے پایا اپنے آباؤاجداد کو۔ (آیت ) ” ضآلین “ یعنی گمراہ (آیت ) ” فھم علی اثرھم یھرعون “ (کہ وہ ان کے نقش قدم پر تیزی سے دوڑے جارہے ہیں یعنی تیزی کے ساتھ۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم الفوا اباء اباء ھم ضآلین “ کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو جاہل پایا۔ (آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ [مگر ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے اللہ کے بندے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–74

(وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ ) (اور یہ بات واقعی ہے کہ ان موجود ظالموں یعنی کافروں سے پہلے گزشتہ امتوں میں سے اکثر لوگ گمراہ ہوچکے ہیں) (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ ) (اور یہ بات بھی واقعی ہی ہے کہ ہم نے ان میں ڈرانے والے بھیجے تھے) یعنی حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) حق کی دعوت لے کر پہنچے اور انہیں بتایا کہ اگر باطل میں لگے رہو گے، حق قبول نہ کرو گے تو تمہارا برا انجام ہوگا، لیکن وہ لوگ نہ مانے دنیا میں بھی ان پر عذاب آیا اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب ہے۔ (فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ) (سو دیکھ لیجیے جن لوگوں کو ڈرایا گیا ان کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–74

افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین۔ گذشتہ آیت میں اس جنتی قاتل کے کلام کا ذکر تھا جس نے اپنے ایک دنیاوی قرین (ساتھی) کو جہنم میں جھانک کر دیکھا تھا اب اس آیت میں (یعنی افما نحن بمیتین) میں پھر اسی کے کلام کا ذکر ہے۔ امام رازی (رح) اور امام قرطبی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں دو قول نقل کئے ہیں دیکھو تفسیر کبیر (ف 1) ص 138 ج 7۔ 1 قال الامام الرازی قولہ تعالیٰ افما نحن بمیتین فیہ قولان الاول ان اھل الجنۃ لا یعلمون فی اول دخولہم فی الجنۃ انہم لا یموتون فاذا جییء بالموت علی صورۃ کبش املح وذبح فعند ذلک یعلمون انہم لا یموتون والثانی ان الذی یتکامل خیرہ وسعادتہ فاذا عظم تعجبہ بھا قد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 72–75

33:۔ ولقد ناانا الخ :۔ زجر و شکوی اور تبشیر و تخویف کے بعد سات انبیاء (علیہم السلام) کے قصے ذکر کیے گئے جو اس پر دلالت کرتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) بھی خدا کے یہاں شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ تو خود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی عاجزی اور نیاز مندی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اور مصائب و بلیات میں اللہ تعالیٰ کو پکار رہے ہیں۔ پہلا قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہے۔ دیکھو ! نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت اور اپنی نجات کے لیے ہمیں پکارا۔ ہم کیسے ہی اچھے قبول کرنے والے ہیں چناچہ ہم نے اس کو اور اس کے متبعین کو بہت بڑی مصیبت (غرق) سے بچا لیا۔ اور تمام مشرکین کو طوفان میں غرق کردیا۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 62–74

توحید کے بیان کے بعد جزائے عمل کے سلسلے میں اللہ نے اپنے مخلص بندوں کا ذکر فرمایا اور ان کو جنت میں ملنے والے انعامات کی ایک جھلک پیش کی۔ اللہ نے ان کے سکون و راحت ، ان کی بیویوں اور ان کے عزت کے مقام کا ذکر کیا۔ اس عیش و آرام کی زندگی میں انہیں دنیا کے اپنے بعض ساتھیوں کی یاد بھی آئے گی اور وہ انہیں جہنم میں پا کر ان سے بات چیت کریں گے۔ انعامال الٰہیہ کا شکر ادا کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو آج ہم بھی تمہارے ساتھ جہنم میں ہوتے۔ اللہ کی رحمت سے ہم نے ایمان قبول کیا اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہزوئے تو اللہ نے ہمیں راحت کے اس مقام تک پہنچایا ، جہاں ہم ہمیشہ کی زندگی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا عِبَادَ اللہِ الْمُخْلَصِيْنَ۝ 74ۧ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–74

طلعہا کانہ رؤس الشیاطین طلع شگوفہ نخستیں بر درخت خرما (صراح) اس کا گابھا ایسا ہوگا کہ جیسا شیطان کا سر، عرف میں بری چیز کو شیطان سے تشبیہ دیا کرتے ہیں، اس لیے کہ اذہان بنی آدم میں شیطان نہایت مکروہ چیز ہے، یعنی اس پیڑ کی صورت بھی نہایت مکروہ ہوگی، جہنم میں جب کھانے کو اور کچھ نہ ملے گا تو بھوکا مرتا کیا نہ کرتا، اسی کو کھاویں گے۔ فانہم لاکلون منہا اور بھوک کے مارے ایسا کھاویں گے کہ فما لئون منہا البطون کہ پیٹ بھرلیں گے، پھر اس کی سوزش سے پانی کے لیے محتاج ہوں گے۔ ثم ان لہم تو کھولتا ہوا گرم پانی دیا جائے گا، اس کے بعد پھر جہنم کی کوٹھڑیوں میں بند کردیے جاویں گے۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی ثم ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 70–74

وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَھُمْ اَکْثَرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ ۔ فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ۔ اِلاَّ عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 71 تا 74) (حالانکہ اس سے پہلے بھی اگلوں میں بہت سے لوگ گمراہ ہوئے۔ ان میں ہم نے اپنے انذار کرنے والے بھیجے۔ پس دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جن کو انذار کیا گیا تھا۔ (اس بدانجامی سے) صرف وہی لوگ بچے جنھیں اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا تھا۔ ) گمراہی کا اصل سبب آباء پرستی ہے آبائواجداد کی تقلید سے تباہ ہونے والے صرف قریش ہی نہیں بلکہ تاریخ میں بار بار اس حادثہ کا ظہور ہوچکا ہے۔ ان سے پہلے گزرنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 62–74

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی نعمتوں اور عیش و عشرت کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزا اور ان کی بدترین خوراک۔ جنتیوں کی تکریم و تعظیم اور اس کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم کی بدترین خوراک بتلا کر استفسار فرمایا ہے کہ بتاؤ ! جنت کے انواع و اقسام کے کھانے اور پھل بہتر ہیں یا کہ تھوہر کا درخت ؟ جسے اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے یہ درخت جہنم کی تہہ سے اگے گا اس کے شگوفے شیطانوں کے سروں کی طرح ہوں گے۔ جہنمی اس کو کھائیں گے اور اپنے پیٹ بھرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کو نگلنے کے لیے ابلتا ہوا پانی دیا جائے گا اور پھر انہیں جہنم کے ایک اور گڑھے کی طرف دھکیلا جائے گا۔ یہ سزا اس لیے ہوگی کیونکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

74: اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ (مگر اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے) مگر وہ لوگ جو ان میں سے ایمان لائے اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کردیا یا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کیلئے خالص کرلیا۔ قراءت : لام کے فتحہ وکسرہ کی قراءت سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–74

62۔ 74۔ اوپر جنت کی نعمتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ کہ یہ جنت کی نعمتیں بہتر ہیں۔ یا دوزخیوں کی خوراک سینڈھ کا درخت بہتر ہے۔ ترمذی 1 ؎ نسانی ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے صحیح روایت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اس دوزخ کے سینڈھ کے عرق کا ایک قطرہ بھی اگر زمین پر ٹپک پڑے تو تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوجاوے۔ اور اگر دنیا کے دریاؤں میں وہ قطرہ پڑجاوے۔ تو دریاؤں کا پانی بالکل بگڑ جاوے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا افسوس ہے۔ ان لوگوں کے حال پر جن کی خوراک یہ سینڈھ کا پھل ہوگا۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ وہ سینڈھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–74

آیت 74 (اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

48 صدق و اخلاص ذریعہ نجات و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سوائے اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے " جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر چن لیا کہ وہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے اس انجام و عذاب سے محفوظ رہے کہ انہوں نے راہ حق و صواب کو پا لیا۔ اور اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفراز و بہرہ ور ہوگئے کہ ایسے خوش نصیب لوگ دنیاوی عذاب سے بھی محفوظ رہے اور اس کے بعد اخروی عذاب سے بھی۔ جبکہ اس کے برعکس ہٹ دھرم اور منکر لوگ اپنے کفر و انکار کے نتیجے میں دنیاوی عذاب میں بھی مبتلا ہوئے اور اس کے بعد آخرت کے دائمی عذاب میں بھی جو کہ دنیاوی عذاب سے کہیں زیادہ سخت، رسوا کن اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–74

برُے لوگوں کی سزا بہتر ہے یا جنت کا انعام تشریح : ان آیات میں جہنم کے عذاب کو بڑے درد ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر انسانی فطرت کا ذکر کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی ہے کہ لکیر کا فقیر بن کر اپنی عاقبت اور دنیا خراب نہیں کر لینی چاہیے بلکہ اپنی عقل سے کام لے کر صحیح راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ تو اس طرح گمراہی میں پڑے رہے کہ ان کے ماں باپ نے گمراہی میں زندگی گزاری وہ بھی اسی راستے پر چلتے رہے اور کچھ لوگ اس طرح گمراہ رہے کہ پیغمبر کی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔ الٹا اس کو ہی الزام دیا برا بھلا کہا اور بعضوں نے تو اپنے پیغمبروں کو قتل تک کردیا۔ تو ایسے لوگوں کا راستہ اختیار کرنا اچھا ہے یا کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 72–76

ف 5 حضرت نوح ( علیہ السلام) کے اپل ( گھر والوں) سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان پر ایمان لائے اور ’ ’ کرب عظیم “ ( بڑی مصیبت) سے مراد طوفان میں غرق ہونا بھی ہوسکتا ہے اور قوم کو جھٹلانا اور ستانا بھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:74) الا حرف استثناء ۔ اگر المنذرین سے مراد مخصوص گروہ مراد ہے تو یہ استثنائے منقطع ہے اور اگر اس کا اطلاق عمومی ہے تو یہ استثنائے متصل ہے ۔ المخلصین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ اخلاص (افعال) سے۔ خالص کئے گئے ، خالص کئے ہوئے۔ اور اخلاص کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو ہر ممکن ملاوٹ سے پاک وصاف کردینا اصطلاح شرع میں اخلاص کے معنی یہ ہیں کہ محض خداوند تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے عمل کیا جاوے اور اس کے علاوہ کسی اور جذبہ کی آمیزش نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–74

لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا) تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–74

(ف 2) قتادہ کا قول ہے کہ قرآن شریف میں تھوہر کے درخت کا ذکر آیا ہے تو مشرکین تعجب سے کہنے لگے کہ سبزدرخت دوزخ کی آگ میں کیونکر ہوسکتا ہے اس پر اللہ نے فرمایا یہ اللہ کی قدرت ہے کہ دوزخ کے کنارے پر نہیں بیچ دوزخ کی جڑ میں یہ درخت نکلے گا، جو آخرت میں ظالموں کے واسطے ایک بلا ہے کیونکہ جب دوزخی بھوک سے بےقرار ہوں گے تو یہ ہی کھانے کو دیاجائے گا، جہنمی تھوہر سے ان کے پیٹ پھریں گے وہ جلتا ہوگا پیٹوں کو جلائے گا اس کی سوزش سے پیاس کا غلبہ ہوگا اور مدت تک تو پیاس کی تکلیف میں رکھے جائیں گے پھر جب وہ پانی ان کو پلائے گا تو کٹ کر انتڑیاں نکل پڑیں گی اس کھولتے ہوئے پانی کو ملونی کا پانی جو فرمایا۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–78

[14] یعنی ہم نے اس درخت کو آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے کہ اس کا ذکر سن کر کفار بطور استہزا کہتے کہ فلاں لغت میں زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ پھر انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے کہ آؤ زقوم کھائیں۔ کوئی ٹھٹھا مار کر کہتا لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 72–74

ف 2: ان آیتوں میں حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ آپ سے پہلے بھی اللہ کے رسول (علیہ السلام) آئے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو معصیت سے روکا ہے اور لوگوں نے ان کی شدید مخالفت کی ہے ۔ پھر اللہ کا قانون غضب حرکت میں آیا اور ان تمام سرکشوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا آپ ان لوگوں کی مخالفت سے گھبرائیے نہیں منکرین کا انجام آپ کے سامنے ہے اگر ان لوگوں نے استہزا اور استخفاف کو اسی طرح جاری رکھا ۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کا غصہ بھڑکے گا اور یہ اس کے عذاب سے ہرگز نہ بچ سکیں گے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(74) مگر ہاں اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو مخلص اور چیدہ تھے۔ یعنی اہل ایمان اس برے انجام سے محفوظ رہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ڈر سبھی کو سناتے ہیں ان میں نیک بچتے ہیں اور بد کھپتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سوائے ان کے جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے تھے : 74۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو احکام الہی کی پابندی کرتے ہیں اور حق کے پیروکار ہوتے ہیں وہ اندھی تقلید نہیں کرتے ‘ نہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے آبائواجداد کیا کرتے ہیں وہ قرآن کریم پر غور وفکر کرتے ہیں اور یاد الہی میں دن رات بسر کرتے ہیں ‘ آسمان و زمین میں غور وفکر کرتے ہیں اور اگر ان کے آباء و اجداد سیدھی راہ پر نہ ہوں تو ان کی راہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور ان کا احترام واکرام رکھنے کے باوجود ان کا راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ ہر ممکن ان کی تفہیم کی جائز حد تک کوشش کرتے ہیں اور دنیوی زندگی میں ان کا تہ دل سے احترام کرتے ہوئے ان کا کہا مانتے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–74

By saying: طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُ‌ءُوسُ الشَّيَاطِينِ (Its fruits are like the heads of the shaitans.- 65), the fruits of zaqqum have been likened to the heads of the satans. Some commentators have translated the word: الشَّيَاطِينِ (ash-shayatin) in this verse as 'serpents' since the fruit of zaqqum resembles the hood of the serpent. Therefore, in Urdu and Hindi too, it is called 'nagphan' (hood of the serpent) for this very reason. But most commentators have said that the word: الشَّيَاطِينِ (ash-shayatin) here should be taken in its well-recognized sense. Thus, it would mean that, in its…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38 That is, they never used their own common sense to sec whether the way their forefathers had been following was right or wrong; they just blindly adopted the way that they found others following.

Read the full tafseer →