As-Saaffaat 37:48

As-Saaffaat · from ayah 48

37:48

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ ۟ۙوَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِيۡنٌۙ‏

اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And with them will be women limiting [their] glances, with large, [beautiful] eyes,

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:48

اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی، خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے پاس نیچی نظروں، بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے پاس وہ بڑی بڑی آنکھوں والی خواتین ہونگی جن کی نگاہیں (اپنے شوہروں پر) مرکوز ہوں گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے پاس ہیں جو شوہروں کے سوا دوسری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں گی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے پہلو میں نگاہیں نیچی رکھنے والی، بڑی خوبصورت آنکھوں والی (حوریں بیٹھی) ہوں گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے پاس نگاہ نیچے رکھنے والی، موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کے پاس نگاہیں نیچی رکھنے والی اور موٹی موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے پاس باحیا، غزال چشم حوریں ہوں گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی بڑی خوبصورت آنکھوں والی ایسی (عظیم الشان اور بےمثال) عورتیں ہونگی

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان کے پاس نیچی نگاہ والیاں بڑی آنکھ والیاں ہوں گی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہوں والی بڑی بڑی آنکھوں والی (بیویاں)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے پاس عورتیں ہو نگی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Theirs shall be wide-eyed maidens with bashful, restrained glances,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and by their side there will be females restricting their gazes (to their husbands), having pretty big eyes,

— Muhammad Taqi Usmani

and by their side there will be females restricting their gazes (to their husbands), having pretty big eyes,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And beside them will be Qasirat-At-Tarf with (wide and beautiful) eyes.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And with them are those of modest gaze, with lovely eyes,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And with them will be women limiting [their] glances, with large, [beautiful] eyes,

— Saheeh International

They will have with them loving wives with big black and white eyes

— Muhammad Sarwar

And with them shall be those who restrain the eyes, having beautiful eyes;

— Muhammad Habib Shakir

And with them shall be damsels of refraining looks, large- eyed

— Abdul Majid Daryabadi

And besides them will be chaste women, restraining their glances, with big eyes (of wonder and beauty).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–49

متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71؀ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 28 یعنی اپنے شوہر کے سوا کسی اور کی طرف نگاہ نہ کرنے والی۔ سورة الصّٰٓفّٰت 29 بعید نہیں ہے کہ یہ وہ لڑکیاں ہوں جو دنیا میں سن رشد کو پہنچنے سے پہلے مر گئی ہوں اور جن کے والدین جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوئے ہوں۔ یہ بات اس قیاس کی بنا پر کہی جاسکتی ہے کہ جس طرح ایسے لڑکے اہل جنت کی خدمت کے لیے مقرر کردیے جائیں گے اور وہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، اسی طرح ایسی لڑکیاں بھی اہل جنت کے لیے حوریں بنادی جائیں گی اور وہ ہمیشہ نو خیز لڑکیاں ہی رہیں گی۔ واللہ اعلم با لصواب۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(7) (آیت) قصرت الطرف، یہ جنت کی حوروں کی صفت ہے کہ وہ ”نگاہیں نیچی رکھنے والی ہوں گی“ مطلب یہ ہے کہ جن شوہروں کے ساتھ ان کا ازدواجی رشتہ اللہ تعالیٰ نے قائم کردیا، وہ ان کے علاوہ کسی بھی مرد کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ علامہ ابن جوزی نے نقل کیا ہے کہ یہ عورتیں اپنے شوہروں سے کہیں گی، ”میرے پروردگار کی عزت کی قسم ! جنت میں مجھے تم سے بہتر کوئی نظر نہیں آتا جس اللہ نے مجھے تمہاری بیوی اور تمہیں میرا شوہر بنایا تمام تعریفیں اسی کی ہیں“ ”نگاہیں نیچی رکھنے والی“ کا ایک اور مطلب علامہ ابن جوزی نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہیں نیچی رکھیں گی۔ یعنی وہ خود اتنی خوب صورت اور وفا شعار…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–49

وعندھم قصرت الطرف عین، کا نھن بیض مکنون (49-48) اہل جنت کی حوریں انسان کی کوئی لذت و خوشی بھی عورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اس وجہ سے جنت کی نعمتوں کے بعد یہ ان حوروں کا ذکر ہوا جو اہل جنت کو ملیں گی۔ جنت کے ذکر میں آپ نے دیکھا کہ عربوں کے خاص ذوق کا لحاظ ہے اس لئے کہ وہی قرآن کے مخاطب اول تھے اسی طرح حوروں کے ذکر میں بھی تشبیہ و تعریف کے وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو شعرائے عرب کنواریوں اور نازنینوں کے لئے استعمال کرتے تھے۔ قصرت الطرف کے اصل معنی ہیں نگاہیں نیچی رکھنے والیاں یہ ان کے باحیا ہونے کی تعبیر ہے۔ اہل عرب عورت کا سب سے بڑا حسن اس کی حیا کو قرار دیتے تھے۔ عین جمع ہے اعین کی یعنی وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 47–48

48۔ 1 بڑی اور موٹی آنکھیں حسن کی علامت ہے یعنی حسین آنکھیں ہونگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–62

9: یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وعندھم قصرت الطرف عین (37: 48) ” اور ان کے پاس نکا ہیں بچا بےوالی خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی “۔ نہایت حیادار ، نظریں اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نہ ڈالیں گی بوجہ حیادصفت ۔ اور ان کی آنکھیں بہت ہی خوبصورت ہوں گی ۔ وہ نہایت محفوظ ، نرم ونازک اور پتلی ہوں گی ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی شرم و ناز سے نگاہ نیچی رکھنے والی حوریں جو اپنے ازواج کے سوا کسی دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48{ وَعِنْدَہُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ} ”اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہوں والی بڑی بڑی آنکھوں والی بیویاں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 قصر کا لغوی مفہوم : قَصَرَ کے معنی کسی چیز کی لمبائی یا اس کی انتہا کو نہ پہنچنا۔ نیز کم کرنا، چھوٹا کرنا، یا کوئی کام جتنا کرنا تھا اتنا نہ کرنا اور قصر الطرف یعنی جتنی دور نگاہ جاسکتی ہے اتنی دور تک نہ دیکھنا، یا نظر بھر کر نہ دیکھنا بلکہ صرف نیچے نظر رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی اشیاء خوردونوش کے بعد ان کی عائلی زندگی کا ذکر فرمایا کہ انہیں عورتیں ایسی دی جائیں گی جو اپنے خاوندوں کے سوا کسی کو دیکھنے کی بھی روادار نہ ہوں گی۔ 27 عین بمعنی آنکھ اور عیناء اس عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھیں بڑی اور موٹی موٹی ہوں اور عیناء کی جمع عین آتی ہے۔ موٹی آنکھیں چہرے کی خوبصورت کو دوبالا کردیتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 48–49

20۔ (اور گرد و غبار وداغ سے بالکل محفوظ) تشبیہ صرف صفائی اور آب وتاب میں ہے، اردو خواہ اس پر حیرت نہ کریں، محاورہ عرب میں عورت کے گورے رنگ اور حسن کیلئے یہ تشبیہ عام ہے۔ کان ھذا اللون فی غایۃ الحسن والعرب کانوا یسمون النساء بیضات الخدور (کبیر) العرب تشبہ النساء ببیض النعام (ابن قیتبہ) والعرب تشبہ المراۃ بالبیضۃ الصفاءھا وبیاضھا (قرطبی) (آیت) ” عین “ خلاصہ آگیا ان کے حسن و جمال کا۔ اور قاصرات الطرف سے اشارہ ہوگیا کہ علاوہ حسن صورت کے غیرت وحسن عفت سے جنت میں بھی موصوف رہیں گی ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–50

آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وعندھم قاصرات الطرف عین۔ اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جنت میں ان کے پاس ان کی بیویوں کے علاوہ اور نیچی نگاہ والی بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی جو اپنے خاوندوں پر قناعت کرنے والی ہوں گی اور حسین ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِيْنٌ : ”عِيْنٌ“ ”عَیْنَاءُ“ کی جمع ہے، خوب صورت موٹی آنکھوں والی۔ کھانے پینے اور شراب کے ساتھ لذت کی تکمیل بیویوں کی صحبت سے ہوتی ہے، اس کے لیے ان کی بیویوں کا ذکر فرمایا، جو ہر قسم کے ظاہری و باطنی اور صوری و معنوی کمال سے آراستہ ہوں گی۔ معنوی کمال یہ کہ ایسی عفیف ہوں گی کہ ان کی نگاہیں اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی طرف نہیں اٹھیں گی اور ظاہری حسن کا یہ حال ہوگا کہ وہ گورے رنگ والی اور نہایت خوب صورت موٹی آنکھوں والی ہوں گی، جن کی آنکھوں کی سیاہی بہت سیاہ اور سفیدی بہت سفید ہوگی۔ سورة واقعہ میں ہے : (وَحُوْرٌ عِيْنٌ) [ الواقعۃ : 22 ] ”اور (ان کے لیے وہاں) سفید…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–49

لھم سے مراد مخلصین ہیں یعنی ان کے لئے معلوم عطیہ ہے جو ختم ہوگا۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد جنت ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اس سے مراد جنت کا رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ پھل ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ اس کی خواہش کریں گے۔ ابن سائب نے کہا : یہ صبح اور شام کے کھانے کے مقدار کے مطابق ہوں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و لھم رزقھم فیھا بکرۃ و عشیا۔ ) مریم ( فواکہ یہ فاکھۃ کی جمع ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و امدادنھم بفاکھۃ) طور (22: ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے درجات کی بلندی ‘ کلام کے سننے اور اس کی ملاقات کے ذریعے اکرام ہے۔ جنات نعیم سے مراد ایسے باغات ہیں جن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–49

1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر کاس جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا اس سے مراد شراب ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بک اس من معین “ سے مراد ہے شراب کا ایسا جام جسے نچوڑا نہ گیا ہو اور معین سے مراد جاری (آیت ) ” لافیھا غول ولا ھم عنھا ینزفون “ (اس سے نہ سر چکرائے گا نہ عقل میں فتور آئے گا) یعنی نہ ان کی عقلیں جائیں گی اور نہ ان کے سروں میں درد پڑے گا۔ اور نہ ان کے پیٹوں میں درد ہوگا۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَعِنْدَهُمْ [اور ان کے پاس ہوں گی ] قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ [آنکھ کی پلک نیچے رکھنے والیاں ] عِيْنٌ [بڑی آنکھوں والیاں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–49

کافر درد ناک عذاب میں ہوں گے اور اللہ کے مخلص بندے عزت کے ساتھ تختوں پر جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے اس میں منکرین اور معاندین کی تردید ہے، ارشاد فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ ہمارا رسول شاعر یا دیوانہ ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ حق لے کر آیا ہے اور آپ نے اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کی ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے آئے، ان کی دعوت حق تھی اور اس نبی (یعنی امام الانبیاء) کی دعوت بھی حق ہے، تم شرک پر اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو اور دعوت توحید قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہو، لا محالہ تمہیں درد ناک عذاب چکھنا ہی ہوگا اور تمہیں جو عذاب ہوگا وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–57

احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23:۔ و عندھم الخ :۔ سامانِ خوردو نوش کے علاوہ جنت میں جنسی جذبات کی تسکین کا بھی سامان موجود ہوگا۔ قصرات الطرف، موصوف مقدر کی صفت ہے ای ازواج (مظہری) اہل جنت کو جنت میں جو بیویاں (حوریں) ملیں گی وہ اپنی نگاہیں اپنے خاوندوں ہی پر مرکوز رکھیں گی۔ ان خاوندوں کو ایسا حسن و جمال عطا ہوگا کہ حوریں ان میں محو ہوں گی۔ اور ان کے سوا کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھیں گی۔ یہ ان کی عفت اور پاکدامنی کی علامت ہے۔ نساء عفیفات قصرن ابصارھن علی ازواجہن لا ینظرن الی غیرہم (جامع البیان ص 384) حابسات الا عین علی ازواجہن لا ینظرن الی غیرھم لحسنہم عندھن (جلالین) ۔ 24:۔ عین یہ عیناء کی جمع ہے اور مبتدا مقدر کی خبر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–61

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَعِنْدَہُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِيْنٌ۝ 48ۙ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ قصر القِصَرُ : خلاف الطّول، وهما من الأسماء المتضایفة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–62

الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔ فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–49

وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ۔ کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ۔ (الصآفات : 48، 49) (اور ان کے پاس باحیاء موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔ گویا کہ وہ محفوظ انڈے ہیں۔ ) اہلِ جنت کی نجی زندگی انسان کے لطف و لذت کے لمحات ہوں یا نہایت سنجیدہ غور و فکر کی ساعتیں، وہ اچھی بیوی کے بغیر نامکمل رہتی ہیں۔ یہ ضرورت ایسی فطری اور لازمی ہے کہ جنت میں جبکہ ہر جنتی ہر ضرورت اور احتیاج سے بےنیاز ہوچکا ہوگا ایک اچھی بیوی وہاں بھی اس کی چاہت ہوگی۔ عرب اپنی ساری گمراہیوں کے باوجود اپنے حرم میں شرم و حیاء کے قائل تھے۔ ان کے شعراء بھی ایسی کنواریوں اور نازنینوں کی تعریفیں کرتے تھے جو دوسرے لوگوں کی چشم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–49

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کی ازواج مطہرات کا ذکر۔ دنیا میں شراب اور شباب کا لفظ جب استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں بےحیائی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی شریف آدمی اپنے لیے ان الفاظ کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن جنت میں شراب اور شباب اپنی کامل اور اکمل پاکیزگی کے ساتھ جنتیوں کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔ شراب کے بارے میں پچھلی آیت میں ذکر ہوا کہ اس میں کسی قسم کی غنودگی اور تلخی نہیں پائی جائے گی۔ جنت کی ازواج کا تعارف ان الفاظ میں کروایا جارہا ہے کہ وہ اس قدر پاکباز اور شرم و حیا کا پیکر ہوں گی کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی دوسرے جنتی کی طرف نگاہ اٹھانے کا تصور بھی نہ کر پائیں گی۔ ان کے حسن و جمال…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48: وَ عِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہونگی) یعنی ان کی نگاہیں اپنے خاوندوں پر اکتفاء کرنے والی ہو نگی غیر کی طرف نگاہ نہ اٹھائیں گی۔ عِیْنٌ (بڑی بڑی آنکھ والی) یہ عیناء کی جمع ہے یعنی وسیع آنکھ والی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48، وعندھم قاصرات الطرف، یعنی ان حوروں کی نظریں صرف اپنے شوہروں پر مقصود ہوں گی وہ کسی اور کی طرف نہیں دیکھیں گی۔ وہ اپنی آنکھوں کو مجبوس کرنے والی ہوں گی جیسے چھپے ہوئے انڈے ہیں ۔ ، عین، وہ حسین آنکھوں والیاں ہوں گی، مرد کے لیے اعین اور لڑکی کے لیے عیناء بولا جاتا ہے اور عورت کے لیے ، عین، بولا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–50

35۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–49

آیت 40 (الا عباد اللہ المخلصمین) ” مگر اللہ تعالیٰ کے خلا برگزیدہ بندے “ بیشک وہ درد ناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کرلیا ان کو اپنی رحمت کے لئے مختص کیا اور انہیں اپنے لطف و کرم سے نوازا (اولئک لھم رزق معلوم) ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے رزق معلوم ہے۔ ‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہوگا۔ یہ رزق بہت عظیم اور جلی القدر ہوگا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جاسکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فواکہ) یعنی تمام اقسا مکہ پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

32 اہل جنت کی عورتوں اور ان کی عظمت شان کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انکے پاس اپنی نگاہوں کو بچائے رکھنے والی خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہونگی "۔ یعنی وہ حوریں اور اہل جنت کی دنیا والی وہ بیویاں جن کو جنت میں جانا نصیب ہوگا۔ وہ پاک دامن ایسی ہوں گی کہ اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔ اور روایات کے مطابق ان کے خاوندوں کو بھی ایسا حسن و جمال نصیب ہوگا کہ ان کی نظروں میں ان سے زیادہ کوئی جمال و کمال والا ہوگا ہی نہیں۔ نیز وہ حسن و جمال کے ایسے مقام پر ہوں گی کہ ان کے شوہروں کی نظریں بھی ان کے سوا کسی اور کی طرف اٹھنے ہی نہ پائیں گی۔ اس طرح وہ اپنی نگاہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–61

ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 2” قصرات الطرف “ یعنی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی اور کی طرف نگاہ نہ اٹھانے والی اور ” عین “ خوبصورت بڑی آنکھوں والی، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ” حور مقصورات فی الخیا “ ( سورة الرحمن : 72) 3 کہتے ہیں کہ شتر مرغ کے انڈے جو احتیاط سے ڈھانک کر رکھے جاتے ہیں وہ زردی مائل ہونے کی وجہ سے نہایت خوش رنگ ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے جنت کی حوروں کو ان سے تشبیہ دی۔ بعض مفسرین نے ” بیض فیکنون “ کی تفسیر ” انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی “ سے کی ہے اور اس کی یہی تفسیر حضرت ام سلمہ ؓ نتے نبی ﷺ سے نقل کی ہے اس لئے اس کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے ” بیص مکنون “…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:48) قصرت الطرف۔ مضاف مضاف الیہ (یہ حوروں کی صفت ہے ) اسم فاعل جمع مؤنث ۔ قصرۃ واحد۔ قصر یقصر (باب نصر) قصور۔۔ عن الشیء کسی چیز سے رک جانا۔ اور قصر یقصر (ضرب) فی بیتہ گھر میں روکے رکھنا۔ قصر نفسہ علی کذا۔ کسی چیز پر قناعت کرلینا اور دوسری چیز کی طرف نگاہ نہ اٹھانا۔ الطرف۔ نظر۔ نگاہ۔ قصرت الطرف۔ اپنی نگاہ کو روک رکھنے والیاں۔ نگاہوں کو نیچا رکھنے والیاں۔ جن کی نگاہیں غایت عفت کے سبب اوپر کو نہ اٹھیں، جو اپنے شوہروں کے بغیر کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتی ہوں۔ وعندہم قصرت الطرف۔ یہ جملہ معطوف ہے جس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے یا یہ موضع الحال میں ہے۔ یعنی شراب سے لبریز پیالے ان کے درمیان گردش…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–50

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جنت میں جنتی لوگ اس طرح جڑاؤ تختوں پر بیٹھیں گے کہ ایک کی پیشت دوسرے کی طرف نہ ہوگی۔ دنیا کی شراب سے دردسر ہوتا ہے طبعیت نالش کرتی ہے نشہ چڑھ کر عقل زائل ہوجاتی ہے اس واسطے فرمایا کہ جنت کی شراب میں کوئی بات نہ ہوگی نہروں میں جس طرح پانی بہتا ہے اس طرح جنت میں شراب اور دودھ اور شہد اور میٹھے پانی کی نہایت، صاف نہریں ہوں گی اس شراب کا رنگ ایسا ہوگا کہ جس کے دیکھنے سے رغبت آئے گی دودھ نہ کبھی جمے گا اور نہ کبھی کھٹا ہوگا، یہ شہد موم کے میل سے بالکل صاف ہوگا، جنت کی اور نعمتوں اور جنت کے میووں کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے مختصر سی بندوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–48

[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–48

عقیدت مندی کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے 1: قیامت میں یہ عجیب لطف کی بات ہوگی ۔ کہ معتقدین اپنے مقتداوں کو ڈھونڈنے جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تم لوگ ہماری نجات کی ذمہ داری لیتے تھے ۔ اور کھلے بندوں کہتے تھے ۔ کہ ہماری عقیدت مندی تمہارے لئے بمعنی میں مفید ثابت ہوگی ۔ اور بجز ہماری اطاعت کے نجات اور سعادت کی سب راہیں مسدود ہیں ۔ آج ہم تکلیف میں ہیں ۔ عذاب الٰہی کو اپنے روبرو دیکھ رہے ہیں ۔ تمہماری مدد کرو ۔ اور عذاب سے چھڑاؤ۔ کہ کہیں گے غلط ہے ۔ ہم تمہاری بدبختی اور محرومی کے ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں ۔ ہمارے پاس کوئی قرت نہیں تھی ۔ کہ ہم مجبور کرکے تم کو اپنے حلقہ اراوت میں داخل کرتے ۔ تم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–48

ف 7۔ مراد اس سے اہل ایمان ہیں کہ انہوں نے حق کا اتباع کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مقبول اور مخصوص فرمالیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے پاس بڑی آنکھوں والی ‘ نیچی نظریں رکھنے والی عورتیں ہوں گی : 48۔ عورت کے لیے مرد اور مرد کے لیے عورت تکمیل انسانیت کے لیے لازم وضروری ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے سکون و طمانیت کا باعث ہیں ، صنف نازک کے احترام کے لیے ادب کا تقاضا یہی ہے کہ مرد کے لیے عورت ایک غیر مترقبہ نعمت قرار دی جائے اور مرد کو محسوس بھی کرایا جائے کہ گویا عورت مرد کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے اور پھر یہ کہ عورت نیک خصال ہو اور صرف اور صرف اپنے ہی خاوند کو چاہنے والی ہو نظر کے لحاظ سے ‘ فکر کے لحاظ سے اور فطری تقاضوں کے لحاظ سے اور کسی دوسری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے والی ہی نہ ہو تو فی الواقع یہ بات عورت کے لیے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

7. In verse 48, it was said: قَاصِرَ‌اتُ الطَّرْ‌فِ (restricting their gazes). This is an attribute of the hurs or houris of Jannah - wide eyes with lowered gaze. It means that except for the mate to whom Allah Ta’ ala gives them in marital bond, they will not raise their eyes to cast a look at any other male. 'Allamah Ibn-ul-Jauzi reports: These women will tell their spouses, 'By the honor of our Lord, I see no one better than you in this Jannah. Praised be Allah who made me your spouse and made you, mine.' ` Allamah Ibn-ul-Jauzi has given yet another sense of 'those with lowered gaze' when…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

27 That is, the wide of Paradise will be free from both the evils which are found in the wine of the world. The wine of the world, first of All, afflicts man with its stink; then it embitters his taste, upsets his stomach, affects his mind and causes giddiness; then it affects the liver and spoils the health generally. Then, when the intoxication is gone, it leaves behind other ill-effects on the body. Its other evil is that man gets drunk with it, talks nonsense and brawls. This is how the wine affects man's mind and reason. Man suffers both these evil effects of the wine only for the sake…

Read the full tafseer →