As-Saaffaat 37:49

As-Saaffaat · from ayah 49

37:49

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ ۟كَاَنَّهُنَّ بَيۡضٌ مَّكۡنُوۡنٌ

گویا وہ محفوظ انڈے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

As if they were [delicate] eggs, well-protected.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:49

ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

گویا وہ محفوظ انڈے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایسی جیسے چھپائے ہوئے انڈے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان کا بےداغ وجود) ایسا لگے گا جیسے وہ (گرد و غبار سے) چھپا کر رکھے ہوئے انڈے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بڑی آنکھوں والیاں گویا وہ انڈے ہیں پوشیدہ رکھے ہوئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ سفید و دلکش رنگت میں ایسے لگیں گی) گویا گرد و غبار سے محفوظ انڈے (رکھے) ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جیسے وہ چھپا کر رکھے ہوئے انڈے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(ایسی نازک) جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلّی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

گویا کہ شتر مرغ کے محفوط انڈے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہ گویا کہ وہ انڈے ہیں پردوں میں رکھے ہوئے

— مولانا اسحاق مدنی

گویا وہ انڈے ہیں چھپے چھپائے (رکھے ہوئے)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

گویا وہ انڈے ہوں چھپا کر رکھے گئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

گویا وہ محفوظ انڈے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

so delicate as the hidden peel under an egg's shell.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

as if they were eggs hidden (under feathers, protected from pollution).

— Muhammad Taqi Usmani

as if they were eggs hidden (under feathers, protected from pollution).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

as if they were Bayd Maknun.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Pure) as they were hidden eggs (of the ostrich).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

As if they were [delicate] eggs, well-protected.

— Saheeh International

who are as chaste as sheltered eggs.

— Muhammad Sarwar

As if they were eggs carefully protected.

— Muhammad Habib Shakir

As though they were eggs hidden.

— Abdul Majid Daryabadi

As if they were (delicate) eggs closely guarded.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–49

متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71؀ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–51

سورة الصّٰٓفّٰت 30 اصل الفاظ ہیں کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ۔ " گویا وہ چھپے ہوئے یا محفوظ رکھے ہوئے انڈے ہیں " ان الفاظ کی مختلف تعبیرات اہل تفسیر نے بیان کی ہیں۔ مگر صحیح تفسیر وہی ہے جو حضرت ام سلمہ ؓ نے نبی ﷺ سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نرمی و نزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے اور اس کے گودے کے درمیان ہوتی ہے (ابن جریر)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(8) کانھن بیض مکنون، اس آیت میں جنت کی حوروں کو ”چھپے ہوئے انڈوں“ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اہل عرب کے یہاں یہ تشبیہ مشہور و معروف تھی جو انڈا پروں میں چھپا ہوا ہو اس پر بیرونی گرد و غبار کا اثر نہیں پہنچتا۔ اس لئے وہ نہایت صاف ستھرا ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس کا رنگ زردی مائل سفید ہوتا ہے جو اہل عرب کے یہاں عورتوں کے لئے دلکش ترین رنگ شمار ہوتا تھا، اس لئے اس سے تشبیہ دی گئی۔ اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہاں انڈوں سے تشبیہ نہیں ہے، بلکہ انڈوں کی اس جھلی سے ہے جو چھلکے کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ عورتیں اس جھلی کی طرح نرم و نازک اور گداز ہوں گی۔ (روح المعانی) واللہ سبحانہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–49

وعندھم قصرت الطرف عین، کا نھن بیض مکنون (49-48) اہل جنت کی حوریں انسان کی کوئی لذت و خوشی بھی عورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اس وجہ سے جنت کی نعمتوں کے بعد یہ ان حوروں کا ذکر ہوا جو اہل جنت کو ملیں گی۔ جنت کے ذکر میں آپ نے دیکھا کہ عربوں کے خاص ذوق کا لحاظ ہے اس لئے کہ وہی قرآن کے مخاطب اول تھے اسی طرح حوروں کے ذکر میں بھی تشبیہ و تعریف کے وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو شعرائے عرب کنواریوں اور نازنینوں کے لئے استعمال کرتے تھے۔ قصرت الطرف کے اصل معنی ہیں نگاہیں نیچی رکھنے والیاں یہ ان کے باحیا ہونے کی تعبیر ہے۔ اہل عرب عورت کا سب سے بڑا حسن اس کی حیا کو قرار دیتے تھے۔ عین جمع ہے اعین کی یعنی وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 یعنی شتر مرغ اپنے پروں کے نیچے چھپائے ہوئے ہوں، جس کی وجہ سے وہ ہوا اور گردو غبار سے محفوظ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–62

9: یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

کانھن بیض مکنون (37: 49) ” جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی “ یہ جھلی ایسی ہوتی ہے کہ نہ اس کو کسی کا ہاتھ لگ سکتا ہے اور نہ آنکھ دیکھ سکتی ہے اور ہوتی بھی نرم ونازک ہے ۔ یہ تصویر کشی ابھی جاری ہے ۔ اللہ کے یہ مخلص اور نیک بندے جو جنت کے متاع اور عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے ہیں ؛ نہایت ہی خوشگوار موذ میں باہم گفتگو بھی کرتے ہیں ۔ اس گفتگو میں اپنے ماضی اور حال پر بحث کرتے ہیں جبکہ اس سے قبل ہم پڑھ آئے ہیں کہ مجرمین بھی باہم لعن طعن کرتے تھے ۔ چنانچہ جنتیوں میں ایک شخص دوسروں کے سامنے اپنے حالات رکھتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی صاف و شفاف رنگ ہوگا جیسے انڈا جس کو پرند اپنے پروں میں نیچے چھپائے رکھے کہ نہ داغ لگے نہ گردو غبار پہنچے۔ یا انڈے کے اندر کی سفید تہ جو سخت چھلکے کے نیچے پوشیدہ رہتی ہے۔ اور بعض نے کہا کہ شتر مرغ کے انڈے مراد ہیں جو بہت خو شرنگ ہوتے ہیں۔ بہرحال تشبیہ صفائی یا خو شرنگ ہونے میں ہے سفیدی میں نہیں۔ چناچہ دوسری جگہ فرمایا۔ (كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ) 55 ۔ الرحمن :58)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49{ کَاَنَّہُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ} ”گویا وہ انڈے ہوں چھپا کر رکھے گئے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 49–50

28 بیض کی مختلف تعبیریں :۔ اس آیت کی کئی تعبیریں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ان کی رنگت سفید ہوگی یعنی گورے رنگ کی ہوں گی اور جلد بالکل بےداغ ہوگی۔ دوسری یہ کہ یہاں انڈوں سے مراد شتر مرغ کے انڈے ہیں جو نہایت خوش رنگ ہوتے ہیں۔ اور اس تعبیر کی تائید اس آیت سے بھی ہوجاتی ہے (کَأنَّھُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ) (55: 58) (یعنی اہل جنت کی عورتیں یاقوت اور مرجان کی طرح ہوں گی) اور تیسری تعبیر وہ ہے جو ماثور ہے۔ چناچہ سیدہ ام سلمہ ؓ نے جب اسی آیت کی تفسیر رسول اللہ سے پوچھی تو آپ نے فرمایا : کہ ان کی نرمی و نزاکت اس جھلیّ جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے اور اس کے گودے کے درمیان ہوتی ہے (ابن جریر) اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 48–49

20۔ (اور گرد و غبار وداغ سے بالکل محفوظ) تشبیہ صرف صفائی اور آب وتاب میں ہے، اردو خواہ اس پر حیرت نہ کریں، محاورہ عرب میں عورت کے گورے رنگ اور حسن کیلئے یہ تشبیہ عام ہے۔ کان ھذا اللون فی غایۃ الحسن والعرب کانوا یسمون النساء بیضات الخدور (کبیر) العرب تشبہ النساء ببیض النعام (ابن قیتبہ) والعرب تشبہ المراۃ بالبیضۃ الصفاءھا وبیاضھا (قرطبی) (آیت) ” عین “ خلاصہ آگیا ان کے حسن و جمال کا۔ اور قاصرات الطرف سے اشارہ ہوگیا کہ علاوہ حسن صورت کے غیرت وحسن عفت سے جنت میں بھی موصوف رہیں گی ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–50

آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کانھن بیض مکنون جو ایسے صاف رنگ کی ہوں گی جیسے چھپے ہوئے انڈے۔ قَاصِرَات الطَّرْفِ یعنی ان حوروں کی نظریں صرف اپنے شوہروں پر مقصور ہوں گی ‘ دوسرے لوگوں کے حسن کی طرف وہ نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے۔ عِیْنٌ وہ حسین آنکھوں والیاں ہوں گی۔ مرد کیلئے اَعْین اور عورت کیلئے عینائبولا جاتا ہے ‘ یعنی حسین چشم۔ عِیْنٌ کا اطلاق حسن چشم مردوں کیلئے بھی ہوتا ہے اور عورتوں کیلئے بھی۔ بَیْضٌ انڈے ‘ یعنی شتر مرغ کے انڈے۔ بیض ‘ بیضۃٌ کی جمع ہے۔ حسن نے کہا : شترمرغ اپنے انڈوں کو ہوا اور غبار سے محفوظ رکھنے کیلئے پروں میں چھپا لیتا ہے اور شترمرغ کے انڈوں کا رنگ سفید مائل بزردی ہوتا ہے۔ عرب کے نزدیک عورتوں کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) گویا کہ انڈوں کی طرح صاف ہیں جو پروں کے نیچے سردی و گرمی سے چھپے ہوئے رکھے ہیں پھر جنتی ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ: ”بَيْضٌ“ ”بَیْضَۃٌ“ کی جمع ہے، انڈے۔ انڈے کا رنگ عموماً سفید سرخی مائل ہوتا ہے، جس میں کچھ زردی کی آمیزش ہوتی ہے۔ یہ رنگ چھپا کر رکھنے سے قائم رہتا ہے، ورنہ اڑجاتا ہے۔ خصوصاً شتر مرغ کے انڈے اس رنگ کے ہوتے ہیں اور شتر مرغ انھیں اپنے ملائم اور نرم پروں کے ریشوں کے فرش پر رکھ کر انھی کے ساتھ ڈھانپ دیتا ہے۔ عرب لوگ عورتوں کے ایسے رنگ کو بہت پسند کرتے ہیں اور انھیں چھپائے ہوئے انڈوں کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ اشرف الحواشی میں ہے : ”بعض مفسرین نے ”بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ“ کی تفسیر ”انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی“ سے کی ہے اور اس کی یہی تفسیر ام سلمہ ؓ نے نبی ﷺ سے نقل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–49

لھم سے مراد مخلصین ہیں یعنی ان کے لئے معلوم عطیہ ہے جو ختم ہوگا۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد جنت ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اس سے مراد جنت کا رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ پھل ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ اس کی خواہش کریں گے۔ ابن سائب نے کہا : یہ صبح اور شام کے کھانے کے مقدار کے مطابق ہوں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و لھم رزقھم فیھا بکرۃ و عشیا۔ ) مریم ( فواکہ یہ فاکھۃ کی جمع ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و امدادنھم بفاکھۃ) طور (22: ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے درجات کی بلندی ‘ کلام کے سننے اور اس کی ملاقات کے ذریعے اکرام ہے۔ جنات نعیم سے مراد ایسے باغات ہیں جن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–49

1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر کاس جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا اس سے مراد شراب ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بک اس من معین “ سے مراد ہے شراب کا ایسا جام جسے نچوڑا نہ گیا ہو اور معین سے مراد جاری (آیت ) ” لافیھا غول ولا ھم عنھا ینزفون “ (اس سے نہ سر چکرائے گا نہ عقل میں فتور آئے گا) یعنی نہ ان کی عقلیں جائیں گی اور نہ ان کے سروں میں درد پڑے گا۔ اور نہ ان کے پیٹوں میں درد ہوگا۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–49

کافر درد ناک عذاب میں ہوں گے اور اللہ کے مخلص بندے عزت کے ساتھ تختوں پر جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے اس میں منکرین اور معاندین کی تردید ہے، ارشاد فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ ہمارا رسول شاعر یا دیوانہ ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ حق لے کر آیا ہے اور آپ نے اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کی ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے آئے، ان کی دعوت حق تھی اور اس نبی (یعنی امام الانبیاء) کی دعوت بھی حق ہے، تم شرک پر اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو اور دعوت توحید قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہو، لا محالہ تمہیں درد ناک عذاب چکھنا ہی ہوگا اور تمہیں جو عذاب ہوگا وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–57

احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:۔ کانہن الخ :۔ اس میں حور جنت کے رنگ روپ کا ذکر ہے۔ بیض، بیضۃ کی جمع ہے۔ اور اس سے شتر مرغ کا انڈا مراد ہے، جس کا رنگ سفید زردی مائل ہوتا ہے۔ مادہ شتر مرغ اپنے انڈوں کو بال و پر سے ڈھانک کر رکھتی ہے تاکہ وہ گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔ حورانِ جنت کا رنگ بیض نعام (شتر مرغ) کی مانند سفید زردی مائل ہوگا۔ اور ان کے چہروں کا رنگ نکھرا ہوا صاف شفاف ہوگا۔ عورتوں کا یہی رنگ مرغوب ومحمود شمار ہوتا ہے۔ شبہہن ببیض النعام المصئون عن الغبار و نحوہ فی الصفاء والبیاض المخلوط بادنی صفرۃ فانہ احسن الوان والابدان (بیضاوی) ۔ والبیاض المشوب بقلیل صفرۃ فی النساء مرغوب فیہ جدا (روح ج 23 ص 89) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–61

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَاَنَّہُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ۝ 49 بيض البَيَاضُ في الألوان : ضدّ السواد، يقال : ابْيَضَّ يَبْيَضُّ ابْيِضَاضاً وبَيَاضاً ، فهو مُبْيَضٌّ وأَبْيَضُ. قال عزّ وجل : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذابَ بِما كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَتِ اللَّهِ [ آل عمران/ 106- 107] . والأَبْيَض : عرق سمّي به لکونه أبيض، ولمّا کان البیاض أفضل لون عندهم كما قيل : البیاض أفضل، والسواد أهول، والحمرة أجمل، والصفرة أشكل، عبّر به عن الفضل والکرم بالبیاض، حتی قيل لمن لم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–62

الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔ فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–49

وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ۔ کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ۔ (الصآفات : 48، 49) (اور ان کے پاس باحیاء موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔ گویا کہ وہ محفوظ انڈے ہیں۔ ) اہلِ جنت کی نجی زندگی انسان کے لطف و لذت کے لمحات ہوں یا نہایت سنجیدہ غور و فکر کی ساعتیں، وہ اچھی بیوی کے بغیر نامکمل رہتی ہیں۔ یہ ضرورت ایسی فطری اور لازمی ہے کہ جنت میں جبکہ ہر جنتی ہر ضرورت اور احتیاج سے بےنیاز ہوچکا ہوگا ایک اچھی بیوی وہاں بھی اس کی چاہت ہوگی۔ عرب اپنی ساری گمراہیوں کے باوجود اپنے حرم میں شرم و حیاء کے قائل تھے۔ ان کے شعراء بھی ایسی کنواریوں اور نازنینوں کی تعریفیں کرتے تھے جو دوسرے لوگوں کی چشم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–49

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کی ازواج مطہرات کا ذکر۔ دنیا میں شراب اور شباب کا لفظ جب استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں بےحیائی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی شریف آدمی اپنے لیے ان الفاظ کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن جنت میں شراب اور شباب اپنی کامل اور اکمل پاکیزگی کے ساتھ جنتیوں کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔ شراب کے بارے میں پچھلی آیت میں ذکر ہوا کہ اس میں کسی قسم کی غنودگی اور تلخی نہیں پائی جائے گی۔ جنت کی ازواج کا تعارف ان الفاظ میں کروایا جارہا ہے کہ وہ اس قدر پاکباز اور شرم و حیا کا پیکر ہوں گی کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی دوسرے جنتی کی طرف نگاہ اٹھانے کا تصور بھی نہ کر پائیں گی۔ ان کے حسن و جمال…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49: کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ (گویا کہ وہ انڈے ہیں چھپے ہوئے) یہاں مکنون بمعنی محفوظ ہے ان کو شتر مرغ کے انڈے سے تشبیہ دی گئی جو چٹان میں چھپا ہوا ہو اور اہل عرب عورتوں کو اسی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اور عورتوں کو بیضات الخدور کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49، کانھن بیض، بیضہ کی جمع ہے۔ ، مکنون، چھپایا ہوا، مکنون اور بیض کو جمع لائے ہیں کیونکہ وہ لفظ کی طرف لوٹا رہے ہیں۔ حسن کا قول ہے ان کا شترمرغ کے ساتھ تشبیہ دی کیونکہ شتر مرغ بھی اپنے انڈوں کو اپنے پروں میں چھپالیتا ہے ، ہوا کے بچاؤ سے اور اگر دوغبار سے، اسی وجہ سے وہ انہتائی سفید ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ سب رنگوں میں خوبصورت رنگ سفیدہوتا ہے اور جس عورت کا رنگ سفید ہو وہ بہت خوبصورت ہوتی ہے۔ ، بیضائ، ان کے پینے کے پیالے سفید ہوتے ہیں اور عرب کے نزدیک سفیدی کا رنگ سفید ہو وہ بہت خوبصورت ہوتی ہے۔ ، بیضاء ، ان کے پینے کے پیالے سفید ہوتے ہیں اور عرب کے نزدیک سفیدی کو شترمرغ کے ساتھ تشبیہ دیتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–50

35۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–49

آیت 40 (الا عباد اللہ المخلصمین) ” مگر اللہ تعالیٰ کے خلا برگزیدہ بندے “ بیشک وہ درد ناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کرلیا ان کو اپنی رحمت کے لئے مختص کیا اور انہیں اپنے لطف و کرم سے نوازا (اولئک لھم رزق معلوم) ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے رزق معلوم ہے۔ ‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہوگا۔ یہ رزق بہت عظیم اور جلی القدر ہوگا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جاسکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فواکہ) یعنی تمام اقسا مکہ پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–53

33 حوران جنت کی ایک خاص صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " گویا کہ وہ انڈے ہیں پردوں میں رکھے ہوئے " رنگ کی صفائی اور عمدگی میں۔ اور بعض مفسرین نے اس سے شتر مرغ کا انڈہ مراد لیا ہے کہ اس میں یہ وصف زیادہ نمایاں اور واضح ہوتا ہے۔ (روح، قرطبی، کبیر وغیرہ) ۔ اور اس سے شترمرغ کے انڈے مراد لینے کے اس احتمال کی تایید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اہل عرب اپنے کلام میں نازنینوں کو اکثر و بیشتر شترمرغ کے انڈوں ہی سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ اور شترمرغ کے انڈے سے اس تشبیہہ میں ایک اور خاص پہلو یہ ہے کہ عرب لوگ اپنی کنواری لڑکیوں کی حفاظت اور پاکدامنی کے سلسلے میں انکو شترمرغ کے انڈوں سے تشبیہ اس لیے دیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–61

ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 2” قصرات الطرف “ یعنی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی اور کی طرف نگاہ نہ اٹھانے والی اور ” عین “ خوبصورت بڑی آنکھوں والی، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ” حور مقصورات فی الخیا “ ( سورة الرحمن : 72) 3 کہتے ہیں کہ شتر مرغ کے انڈے جو احتیاط سے ڈھانک کر رکھے جاتے ہیں وہ زردی مائل ہونے کی وجہ سے نہایت خوش رنگ ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے جنت کی حوروں کو ان سے تشبیہ دی۔ بعض مفسرین نے ” بیض فیکنون “ کی تفسیر ” انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی “ سے کی ہے اور اس کی یہی تفسیر حضرت ام سلمہ ؓ نتے نبی ﷺ سے نقل کی ہے اس لئے اس کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے ” بیص مکنون “…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:49) کانہن۔ کان حرف مشابہ بفعل ہن ضمیر جمع مؤنث غائب کان کا اسم ۔ گویا وہ سب۔ بیض مکنون۔ موصوف وصفت بیض بیضۃ کی جمع ہے بمعنی انڈے بیضہ کو بیضہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں بیاض (سفیدی) مکمل طور پر پائی جاتی ہے۔ الحسن کے قول کے مطابق بیض بمعنی شتر مرغ کے انڈے کے ہیں۔ شتر مرغ اپنے انڈوں کو ہوا اور غبار سے بچانے کے لئے پروں میں چھپا لیتا ہے اور شتر مرغ کے انڈوں کا رنگ سفید مائل بزردی ہوتا ہے اہل عرب کے نزدیک عورتون کا یہ رنگ حسین ترین رنگ ہے اسی لئے عورتوں کو شتر مرغ کے انڈوں سے تشبیہ دی ہے ۔ مکنون اسم مفعول واحد مذکر ہے۔ کن وکنون (باب نصر) مصدر سے ۔ چھپایا ہوا۔ محفوظ ۔ گویا کہ وہ سب شتر مرغ کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–50

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جنت میں جنتی لوگ اس طرح جڑاؤ تختوں پر بیٹھیں گے کہ ایک کی پیشت دوسرے کی طرف نہ ہوگی۔ دنیا کی شراب سے دردسر ہوتا ہے طبعیت نالش کرتی ہے نشہ چڑھ کر عقل زائل ہوجاتی ہے اس واسطے فرمایا کہ جنت کی شراب میں کوئی بات نہ ہوگی نہروں میں جس طرح پانی بہتا ہے اس طرح جنت میں شراب اور دودھ اور شہد اور میٹھے پانی کی نہایت، صاف نہریں ہوں گی اس شراب کا رنگ ایسا ہوگا کہ جس کے دیکھنے سے رغبت آئے گی دودھ نہ کبھی جمے گا اور نہ کبھی کھٹا ہوگا، یہ شہد موم کے میل سے بالکل صاف ہوگا، جنت کی اور نعمتوں اور جنت کے میووں کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے مختصر سی بندوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–57

[11] آیت ( كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37 ۔ الصافات :49) (گویا وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں) کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں لیکن صحیح تفسیر وہی ہے جو اُمّ سلمہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نرمی ونزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے کے نیچے ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–61

ف 2: ان آیات میں اللہ کے ان مخلص بندوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے وقت اور اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کیا ۔ اور اس کے پھیلانے میں ہر نوع کی مصیبتوں کو نجندہ پیشانی برداشت کیا ۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں ہر قسم کی آسودگی اور تنعم کا سامان ہوگا ان کو ایسی غذائیں ملیں گی ۔ جن کے متعلق اس سے پہلے آیات میں شاید جاچکا ہے ۔ یعنی میو وں سے ان کے کام وذہن کی تواضع کی جائے گیا ۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ آرام کے باغوں میں رہیں گے ۔ اور آراستہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے اللہ کی نعمتوں کا نظارہ کرینگے ۔ لطیف اور عمدہ جام ہائے شراب کی گردش ہوگی جو دودھ کی طرح سفید ہوگی ۔ اور نہایت لذیذ درد سر اور تکلیف دہ خمار سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) وہ حوریں صفائی میں ایسی ہونگی گویا وہ انڈے ہیں جو پروں کے نیچے چھپے رکھے ہیں۔ نیچی نگاہ والی یعنی پاک دامن اور عفت مآب بڑی بڑی آنکھوں والی یعنی خوش نما اور رنگت کی صفائی میں ایسی جیسے انڈے پروں میں چھپے رکھے ہیں۔ سورة رحمن میں یا قوت اور مرجان سے تشبیہ دی ہے یہاں شاید صفائی میں تشبیہ دی ہو۔ رنگ خواہ کیسا ہی ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کہتے ہیں مراد ہیں شتر مرغ کے انڈے بہت خوش رنگ ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آنکھیں ایسی ہیں جیسے محفوظ انڈے ہوتے ہیں : 49۔ یہ آنکھوں کی سفیدی کو ظاہر کرنے کے لیے استعارہ کیا گیا (بیض) انڈے کے ساتھ تشبیہہ اس لیے کہ میل کچیل سے محفوظ انڈے کا رنگ سفیدی اور بعض اوقات قدرے سرخی لیے ہوئے بہت ہی بھلا معلوم ہوتا ہے اور خوبصورت لگتا ہے ۔ (مکنون) اسم مفعول واحد مذکر کن کنون چھپایا ہوا صاف اور محفوظ ایسے جیسے کسی سیپ کے اندر محفوظ ہیں ۔ بعض نے شترمرغ کے انڈے سے تشبیہہ دینا پسند کیا ہے ۔ صاف ستھری اور تروتازہ آنکھ دیکھنے والوں کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہے ۔ اوپر جن انعامات کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے کہ انسان اس دنیا میں انہی چیزوں کو دیکھ کر استعمال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

8. In verse 49: كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ (as if they were hidden eggs). As obvious, the hurs of Jannah have been likened to hidden eggs in this verse. The simile was popularly recognized among the people of Arabia. The egg hidden under feathers remains safe from the pollution, therefore it is always neat and clean. Moreover, its color is yellowish white, which was deemed by the Arabs as the most attractive color for women. Then there are other commentators who say that this simile does not relate to eggs as such, instead, the simile relates to the membrane hidden in the egg, and the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–51

29 "Restraining their looks": Restraining their looks from everyone except their husbands. 30 The words of the Text actually mean this: "As if they were the hidden or well preserved eggs." The commentators have given different interpretations of these words, but the correct commentary is the one which Hadrat Umm Salamah has related from the Holy Prophet. She says that when she asked the meaning of this verse from the Holy Prophet, he said: "Their delicacy and elegance and tenderness will be like the thin skin which is there between the shell of the egg and its fleshy part." (Ibn Jarir).

Read the full tafseer →