Explained with ayahs 38–49
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔
اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 27
یعنی وہ شراب ان دونوں قسم کی خرابیوں سے خالی ہوگی جو دنیا کی شراب میں ہوتی ہیں۔ دنیا کی شراب میں ایک قسم کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے قریب آتے ہی پہلے تو اس کی بدبو اور سڑاند ناک میں پہنچتی ہے پھر اس کا مزا آدمی کے ذائقے کو تلخ کرتا ہے۔ پھر حلق سے اترتے ہی وہ پیٹ پکڑ لیتی ہے۔ پھر وہ دماغ کو چڑھتی ہے اور دوران سر لاحق ہوتا ہے۔ پھر وہ جگر کو متاثر کرتی ہے اور آدمی کی صحت پر اس کے برے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ پھر جب اس کا نشہ اترتا ہے تو آدمی خمار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ سب جسمانی ضرر ہیں۔ دوسری قسم کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اسے پی کر آدمی بہکتا ہے، اَول فول بکتا ہے اور عَزْبدہ…
Read the full tafseer →(6) (آیت) لا فیھا غول، غول کے معنی کسی نے ”درد سر“ بیان کئے ہیں۔ کسی نے ”پیٹ کا درد“ کسی نے ”بدبو دار گندگی“ اور کسی نے ”عقل کا بہک جانا“ درحقیقت لفظ ”غول“ ان سبھی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور حافظ ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہاں ”غول“ آفت کے معنی میں ہے، اور مطلب یہ ہے کہ جنت کی شراب میں ایسی کوئی آفت نہیں ہوگی جیسی دنیا کی شرابوں میں پائی جاتی ہے، نہ درد سر ہوگا نہ درد شکم نہ بدبو کا بھبکارہ، نہ عقل کا بہک جانا (تفسیر ابن جریر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
یطاف علیھم بک اس من معین، بیضآء لذۃ للشربین، لافیھا غول ولا ھم عنھا ینزقون (47-45)
اہل جنت کی شراب
کاس عربی میں ظرف اور مظروف یعنی پیالہ اور شراب دونوں کے لئے آتا ہے۔ معین خالص اور بےآمیز کو کہتے ہیں۔ سورة ملک آیت 30 میں اس معنی کے لئے نظیر موجود ہے غرل خفیہ طور پر ہلاک کرنے کے معنی میں آتا ہے اور یہیں سے یہ کسی مخفی ضرر کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ینزقون نڈھال ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے اور تعطل عقل کے معنی میں بھی یہاں یہ دونوں معنی بنتے ہیں۔ شراب کا ردعمل خمار، اعضاء شکنی اور شدید اضمحلال کی شکل میں بھی ظاہر ہوتا ہے اور تعطل عقل کی صورت میں بھی پہلی صورت جسمانی اذیت کی ہے اور دوسری صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
48۔ 1 بڑی اور موٹی آنکھیں حسن کی علامت ہے یعنی حسین آنکھیں ہونگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
8: مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ خود بہکے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے تمہیں بہکایا ضرور، لیکن ہمارے بہکانے سے تم کفر پر مجبور نہیں ہوگئے تھے، اگر تم ہمارے بہکائے میں نہ آتے تو ہمارا تم پر کوئی زور نہ چلتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
یطاف علیھم ۔۔۔۔۔۔ عنھا ینزفون (37: 45-47) ” شران کے چشموں سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان بھرائے جائیں گے چمکتی ہوئی شراب جو پینے والوں کے لیے لذت ہوگی ۔ نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی “۔ یہ جنت کی شراب کی نہایت ہی خوبصورت تعریف ہے کہ اس سے شراب کی لذت تو ہوگی لیکن شراب کے مضرات اس میں نہ ہوں گے ۔ اس میں نشہ نہ ہوگا جس سے سرچکراجائیں گے ۔ اور نہ اس میں کمی ہوگی کہ کبھی ملے اور کبھی نہ ملے مزہ جاتا رہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
9 یعنی مزہ اور نشاط پورا ہوگا۔ اور دنیا کی شراب میں جو خرابیاں ہوتی ہیں ان کا نام و نشان نہ ہوگا نہ سرگرانی ہوگی نہ نشہ چڑھے گا، نہ قے آئے گی، نہ پھیپھڑے وغیرہ خراب ہوں گے، نہ اس کی نہریں خشک ہو کر ختم ہو سکیں گی۔
Read the full tafseer →آیت 47{ لَا فِیْہَا غَوْلٌ وَّلَا ہُمْ عَنْہَا یُنْزَفُوْنَ } ”اس میں نہ تو سرگرانی کی کیفیت ہوگی اور نہ ہی وہ اس سے بہکیں گے۔“
اس مشروب کو پی کر ایک سرور کی کیفیت تو ہوگی مگر نہ تو اس سے سر بھاری ہوگا اور نہ ہی وہ مدہوشی لائے گا اور فتورِ عقل کا باعث ہوگا۔
Read the full tafseer →25 شراب کے تین نقصان اور ایک فائدہ :۔ دنیا میں جو شراب تیار کی جاتی ہے۔ وہ کچھ مخصوص پھلوں یا غلوں کو گلا سڑا کر اور ان میں خمیر اٹھا کر بنائی جاتی ہے۔ اور ایسی شراب میں تین نقص ہوتے ہیں اور ایک فائدہ ہوتا ہے۔ نقص یہ ہیں کہ وہ پینے کے بعد کڑوی محسوس ہوتی ہے، دوسرا یہ کہ وہ سر کو چڑھ جاتا ہے جس سے بعض دفعہ سر چکرانے لگتا ہے اور تیسرا یہ کہ اسی وجہ سے انسان بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے۔ اور نشہ زیادہ چڑھ جائے تو کئی طرح کے غلط کام بھی کر بیٹھتا ہے۔ شراب کے ساتھ اول فول بکنا اور فحاشی کے کام عموماً لازم و ملزوم بن جاتے ہیں اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ پینے والے کو وقتی طور پر کچھ سرور حاصل ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
19۔ یعنی اس میں صرف سرور ہی سرور، لذت ہی لذت، لطافت ہی لطافت ہوگی۔ نشہ، خمار دوران سر، وغیرہ کی ساری تکلیف دہ کیفیات سے جو دنیا کی لطیف سے لطیف شرابوں کا بھی جزوہوتی ہیں، وہ یکسر خالی ہوگی، غرض یہ کہ دنیا کی شرابوں اور اس شراب طہور کے درمیان بجز نام کے اور کوئی چیز مشترک نہ ہوگی۔ (آیت) ” من معین “۔ اشارہ کثرت کی جانب ہے۔ یعنی شراب کے دریابہ رہے ہوں گے۔ معین وہ چیز ہے جو پانی کی طرح چشمہ سے ابل رہی ہو۔ المعین ماخوذ من عین الماء اے یخرج من العیون کما یخرج الماء (کبیر) لذۃ میں حذف مضاف ہے، یعنی ذات لذۃ۔ قال الزجاج اے ذات لذۃ وعلی ھذا حذف مضاف (کبیر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وصف لذت کی زیادتی کے اظہار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →لا فیھا غول ولا ھم عنھا ینزفون اس سے نہ سر چکرائے گا ‘ نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا۔
لَا فِیْھاَ غَوْلٌ۔ غال ‘ یغول سے ہے خرابی۔ غَال تباہ کردیا ‘ بگاڑ دیا۔ مطلب یہ ہے کہ دنیوی شراب کی طرح جنت کی شراب میں کوئی خرابی نہیں ہوگی ‘ نہ پیٹ میں اینٹھن ہوگی ‘ نہ درد سر ‘ نہ قے ‘ نہ پیشاب ‘ نہ ہوش و خرد کا بگاڑ۔
یُنْزَفُوْنَ - نَزِف الشارب پینے والے کی عقل جاتی رہی۔ اَنْزَفَ الشارب (باب افعال سے) پینے والے کی عقل یا شراب ختم ہوگئی۔ نَزْفٌکا اصل لغوی ترجمہ ہے کسی چیز کا ختم ہوجانا ‘ یہ لازم بھی ہے اور متعدی بھی ‘ کذا فی القاموس۔ نزف سے باب افعال کا وزن معنی کی کثرت اور شدت پر دلالت کرتا ہے ‘ یعنی خمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
(40۔ 47) سوائے ان لوگوں کے جو کفر و شرک سے محفوظ تھے۔
یا یہ کہ عبادت و توحید کے ساتھ اللہ کے خاص کیے ہوئے بندے ہیں۔
ان کے لیے صبح و شام کے اندازہ کے مطابق ایسی غذائیں ہیں جن کا حال معلوم ہوچکا ہے۔ یعنی میوے وہ لوگ بڑی عزت سے ایسے باغوں میں جن کی نعمتیں ختم نہ ہوں گی تختوں پر آمنے سامنے زیارت کے لیے بیٹھے ہوں گے۔
ان کے پاس پاکیزہ جام شراب لایا جائے گا جو سفید ہوگی اور پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی۔
نہ اس کے پینے سے پیٹ میں درد ہوگا نہ عقل میں فتور آئے گا نہ اور کسی قسم کی تکلیف ہوگی نہ گناہ ہوگا اور نہ اس سے نشہ آئے گا اور نہ سر میں درد ہوگا۔
Read the full tafseer →لَا فِيْهَا غَوْلٌ وَّلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُوْنَ : ”غَوْلٌ“ کا معنی خرابی، سر درد، پیٹ کا درد اور ہلاکت ہے۔ ”يُنْزَفُوْنَ“ ”نَزَفَ“ (مجرد) اور ”أَنْزَفَ“ (مزیدفیہ) معروف و مجہول کا معنی عقل زائل ہونا ہے۔ دنیا کی شراب میں پائی جانے والی خرابیوں میں سے اس کے بدرنگ، بد ذائقہ اور بدبو دار ہونے کی نفی تو ”ۙبَيْضَاۗءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ“ سے ہوگئی تھی، اب اس میں پائی جانے والی مزید خرابیوں کی بھی نفی فرما دی۔ دنیا کی شراب پینے کے بعد الٹیاں آتی ہیں، خمار کی صورت میں سر، پیٹ اور سارے جسم میں درد ہوتا ہے جو بعض اوقات ہلاکت تک پہنچا دیتا ہے اور عقل جو انسان کا شرف ہے، جاتی رہتی ہے۔ جنت کی شراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
لھم سے مراد مخلصین ہیں یعنی ان کے لئے معلوم عطیہ ہے جو ختم ہوگا۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد جنت ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اس سے مراد جنت کا رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ پھل ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ اس کی خواہش کریں گے۔ ابن سائب نے کہا : یہ صبح اور شام کے کھانے کے مقدار کے مطابق ہوں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و لھم رزقھم فیھا بکرۃ و عشیا۔ ) مریم ( فواکہ یہ فاکھۃ کی جمع ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و امدادنھم بفاکھۃ) طور (22:
ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے درجات کی بلندی ‘ کلام کے سننے اور اس کی ملاقات کے ذریعے اکرام ہے۔ جنات نعیم سے مراد ایسے باغات ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر کاس جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا اس سے مراد شراب ہے۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بک اس من معین “ سے مراد ہے شراب کا ایسا جام جسے نچوڑا نہ گیا ہو اور معین سے مراد جاری (آیت ) ” لافیھا غول ولا ھم عنھا ینزفون “ (اس سے نہ سر چکرائے گا نہ عقل میں فتور آئے گا) یعنی نہ ان کی عقلیں جائیں گی اور نہ ان کے سروں میں درد پڑے گا۔ اور نہ ان کے پیٹوں میں درد ہوگا۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے…
Read the full tafseer →لَا فِيْهَا [نہیں ہوگی اس میں ] غَوْلٌ [کوئی سرگرانی ] وَّلَا هُمْ عَنْهَا [اور نہ وہ اس سے ] يُنْزَفُوْنَ [بدمست کئے جائیں گے ] ۔
غ و ل
(ن) غولا اچانک پکڑ لینا۔ شراب سے مدہوش ہوجانا ۔
غول اسم ذات ہے۔ مدہوشی۔ دردسر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 47 ۔
ن ز
(ض) نزفا کنویں کا سارا پانی نکال لینا۔ کسی کو بےعقل کرنا۔ بدمست کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 47 ۔
(افعال) انزافا کنویں کا سارا پانی نکل جانا۔ بےعقل ہونا۔ بدمست ہونا۔ وَلَا يُنْزِفُوْنَ اور نہ وہ لوگ بدمست ہوں گے) 56/19 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–49
کافر درد ناک عذاب میں ہوں گے اور اللہ کے مخلص بندے عزت کے ساتھ تختوں پر جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے
اس میں منکرین اور معاندین کی تردید ہے، ارشاد فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ ہمارا رسول شاعر یا دیوانہ ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ حق لے کر آیا ہے اور آپ نے اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کی ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے آئے، ان کی دعوت حق تھی اور اس نبی (یعنی امام الانبیاء) کی دعوت بھی حق ہے، تم شرک پر اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو اور دعوت توحید قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہو، لا محالہ تمہیں درد ناک عذاب چکھنا ہی ہوگا اور تمہیں جو عذاب ہوگا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–57
احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید
فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔
فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
22:۔ لا فیہا غول الخ :۔ یہ جنت کی شراب کے امتیازی اوصاف ہیں۔ دنیا کی شراب میں بظاہر لذت و سرور ہے لیکن اس میں ایک خطرناک پوشیدہ ضرور بھی ہے۔ شراب دماغی اور دیگر بدنی اعصاب کے لیے سخت مضر ہے اور یہ ضرر اکثر ہلاکت کا سبب بنتا ہے لیکن جنت کی شراب ہر قسم کے ضرر اور مفاسد سے پاک ہوگی۔ قال الراغب الغول اھلاک الشیء من حیث لا یحس بہ (روح ج 23 س 88) ، اسی طرح دنیا کی شراب نشہ لا کر عقل کو مختل اور ذہن کو پریشان کردیتی ہے۔ لیکن جنت کی شراب ہر قسم کے نشے سے مبرا ہوگی۔ ای لاتذھب عقولہم بشربہا (قرطبی ج 15 ص 78) ، عن ابن عباس فی الخمر اربع خصال السکر والصداع والقیئ والبول فذکر اللہ خمر الجنۃ فنزہہا عن ھذہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–61
اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…
Read the full tafseer →لَا فِيْہَا غَوْلٌ وَّلَا ہُمْ عَنْہَا يُنْزَفُوْنَ 47
غول
الغَوْلُ : إهلاک الشیء من حيث لا يحسّ به، يقال : غَالَ يَغُولُ غَوْلًا، واغْتَالَهُ اغْتِيَالًا، ومنه سمّي السّعلاة غُولًا . قال في صفة خمر الجنّة : لا فِيها غَوْلٌ [ الصافات/ 47] ، نفیا لكلّ ما نبّه عليه بقوله : وَإِثْمُهُما أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما [ البقرة/ 219] ، وبقوله : رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطانِ فَاجْتَنِبُوهُ [ المائدة/ 90] .
( غ ول ) الغول کسی کو اس طرح ہلاک کردینا کہ اس کا پتہ بھی نہ چل سکے غال یغول غولا واغتالہ اغتیالا اس نے اسے ہلاک کردیا اسی سے سعلاۃ ( چڑیل ) کو غول کہاجاتا ہے ( غول درد سر سے مستی ) قرآن پاکنے جنت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–62
الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔
فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍم۔ بَیْضَآئَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ ۔ لاَفِیْھَا غَوْلٌ وَّلاَ ھُمْ عَنْھَا یُنْزَفُوْنَ ۔ (الصآفات : 65 تا 47)
(پھرائے جائیں گے ان پر شراب معین کے جام۔ چمکتی ہوئی شراب، پینے والوں کے لیے لذت ہی لذت۔ نہ اس میں کوئی ضرر ہوگا اور نہ اس کو پی کر بہکیں گے۔ )
اہلِ جنت کی مجلسی زندگی
مجلسی زندگی کا لازمی حصہ اہل عرب میں تمام اہل مجلس کی شراب نوشی تھی۔ قیمتی سے قیمتی شراب مجلسوں میں مہیا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور پھر نہایت اہتمام سے شراب کے جام گردش میں لائے جاتے تھے۔ اسلام نے عربوں کی زندگی میں جو تبدیلیاں پیدا کیں اور جسے انسانی زندگی کے لیے نمونہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنت میں داخل ہونے والوں کا مقام اور احترام۔
قرآن مجیدنے اپنے دلنشین اسلوب کے تحت یہاں بھی دو قسم کے افراد اور ان کے انجام کا تقابل پیش کیا ہے۔ جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کے لیے اللہ کے مخلص بندوں کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے۔ مخلصین کے القاب سے یہ ثابت کیا ہے کہ جنت میں وہی لوگ داخل ہو پائیں گے جن کے عقیدہ اور کردار میں شرک کی ملاوٹ نہ ہوگی اور نہ ہی وہ نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کے مرتکب ہوں گے بلکہ یہ لوگ انتہائی فرمانبردار اور آپ ﷺ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ ان کے لیے انواع و اقسام کا رزق ہوگا جو بڑے اہتمام اور تکریم کے ساتھ انہیں پیش کیا جائے گا۔ وہ…
Read the full tafseer →شرابِ جنت فتورِ عقل سے خالی :
47: لَا فِیْھَا غَوْلٌ (نہ اس میں دردسر ہوگا) یعنی دنیا کی شراب کی طرح اس سے عقل میں فتور نہ آئے گا۔ غول کا لفظ ہلاک کرنے اور بگاڑنے کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ وَّ لَا ھُمْ عَنْھَا یُنْزَفُوْنَ (نہ اس سے ان کو نشہ چڑھے گا) یہ نزف الشارب سے لیا گیا ہے جبکہ اس کی عقل چلی جائے۔ نشے والے کو نزیف اور منزوف یعنی مسلوب العقل کہا جاتا ہے۔
قراءت : ینزفون علی اور حمزہ نے اسی طرح پڑھا ہے۔ یعنی ان کو نشہ نہیں چڑھے گا۔ یا ان کی شراب نشہ نہیں لائے گی اس صورت میں یہ انزف الشارب سے لیا گیا ہے۔ جبکہ اس کی عقل چلی جائے یا اس کی شراب چلی جائے۔
Read the full tafseer →47(لافیھا غول) امام شعبی فرماتے ہیں کہ اس کے پینے سے ان کی عقل پر پردہ نہیں پڑے گا ۔ کلبی کا قول ہے کہ جنت کی شراب بی کر کوئی گناہ نہیں کرسکے گا۔ قتادہ نے اس کا معنی کیا ہے کہ اس کو پیٹ کی بیماری نہیں لگے گی۔
حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد کہ سر میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوگی ۔
اہل معانی نے قول کا ترجمہ کیا ہے جو پوشیدہ بیماری کا لگ جانا ہے جیسے کہ کہا جاتا ہے ، اغتالہ اغتیالا ، جس کے کام میں خفیہ طور پر فسادبرپاکیاجائے اور دنیا کے شراب میں مختلف قسم کی انواع میں فسادہوتا ہے۔ ان میں سے نشہ ، عقل کا زائل ہوجانابطن کا جاری ہونا، قے کا آنا، بارپیشاب کا آنا، جب کہ جنت کی شراب سے کسی قسم کی کوئی تکلیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–50
35۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
آیت 40
(الا عباد اللہ المخلصمین) ” مگر اللہ تعالیٰ کے خلا برگزیدہ بندے “ بیشک وہ درد ناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کرلیا ان کو اپنی رحمت کے لئے مختص کیا اور انہیں اپنے لطف و کرم سے نوازا (اولئک لھم رزق معلوم) ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے رزق معلوم ہے۔ ‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہوگا۔ یہ رزق بہت عظیم اور جلی القدر ہوگا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جاسکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فواکہ) یعنی تمام اقسا مکہ پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
29 اہل جنت کی باہمی محبت اور خوش دلی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ عظیم الشان تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے "۔ یعنی وہاں کی نعمتوں، راحتوں اور باہمی محبت و الفت کا یہ عالم ہوگا کہ ایک دوسرے کی طرف پیٹھ بھی نہیں کی جائے گی۔ (جامع، قرطبی، صفوۃ وغیرہ) ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی شان ہوگی اس جنت کی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ سو آمنے سامنے بیٹھنے میں باہمی محبت اور خوش دلی کا اظہار ہوتا ہے۔ کیونکہ جہاں ایک دوسرے کیخلاف دل میں رنجش اور کدورت ہوتی ہے وہاں آدمی ایک دوسرے سے منہ پھیر کر بیٹھتا ہے۔ مگر اہل جنت کے دل چونکہ ایک دوسرے سے بالکل صاف ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَنَزَعْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–61
ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ
تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
ف 1 یعنی نہ نشہ ہوگا جیسے دنیا کی شراب پینے سے نشہ ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(37:47) لا فیھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب خمر کی طرف راجع ہے (جو پیالہ میں ہوگی) ۔
غول۔ غال یغول سے مصدر ہے بمعنی شراب میں مدہوش ہونا۔ درد سر مدہوشی۔ لا فیھا غول۔ اس شراب میں نہ کوئی مدہوشی ہوگی نہ درد سر نہ کوئی اور بگاڑ جنت کی شراب کے متعلق تو اور جگہ ارشاد الٰہی ہے :۔
وسقہم ربہم شرابا طھورا (76:21) اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔
ینزفون عنھا۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب نزف مصدر (باب ضرب) نہ اس (شراب) سے ان کی عقل ماری جائے گی۔ نزف الماء کے معنی کنویں سے تدریجا سارا پانی کھینچ لینے کے ہیں۔ اسی سے نزف (مجہول ) عقل کا بتدریج زائل ہونا۔ بیہوش ہوجانا۔ خبطی ہوجانا ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جنت میں جنتی لوگ اس طرح جڑاؤ تختوں پر بیٹھیں گے کہ ایک کی پیشت دوسرے کی طرف نہ ہوگی۔ دنیا کی شراب سے دردسر ہوتا ہے طبعیت نالش کرتی ہے نشہ چڑھ کر عقل زائل ہوجاتی ہے اس واسطے فرمایا کہ جنت کی شراب میں کوئی بات نہ ہوگی نہروں میں جس طرح پانی بہتا ہے اس طرح جنت میں شراب اور دودھ اور شہد اور میٹھے پانی کی نہایت، صاف نہریں ہوں گی اس شراب کا رنگ ایسا ہوگا کہ جس کے دیکھنے سے رغبت آئے گی دودھ نہ کبھی جمے گا اور نہ کبھی کھٹا ہوگا، یہ شہد موم کے میل سے بالکل صاف ہوگا، جنت کی اور نعمتوں اور جنت کے میووں کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے مختصر سی بندوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–48
[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے
لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
عقیدت مندی کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے
1: قیامت میں یہ عجیب لطف کی بات ہوگی ۔ کہ معتقدین اپنے مقتداوں کو ڈھونڈنے جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تم لوگ ہماری نجات کی ذمہ داری لیتے تھے ۔ اور کھلے بندوں کہتے تھے ۔ کہ ہماری عقیدت مندی تمہارے لئے بمعنی میں مفید ثابت ہوگی ۔ اور بجز ہماری اطاعت کے نجات اور سعادت کی سب راہیں مسدود ہیں ۔ آج ہم تکلیف میں ہیں ۔ عذاب الٰہی کو اپنے روبرو دیکھ رہے ہیں ۔ تمہماری مدد کرو ۔ اور عذاب سے چھڑاؤ۔ کہ کہیں گے غلط ہے ۔ ہم تمہاری بدبختی اور محرومی کے ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں ۔ ہمارے پاس کوئی قرت نہیں تھی ۔ کہ ہم مجبور کرکے تم کو اپنے حلقہ اراوت میں داخل کرتے ۔ تم…
Read the full tafseer →(47) اس شراب سے نہ دوران سرہو اور نہ وہ اس عقل کھو بیٹھیں۔ یعنی اس شراب سے نہ خمار ہو نہ عقل میں فتور آئے ، بہتی ہوئی کا مطلب یہ ہے جنت کی نہروں میں جاری ہوگی ہم نے محاوروں کی رعایت سے جام پیش کئے جائیں گے ترجمہ کیا ہے ورنہ لیطاف کے معنی شاہ صاحب نے لئے پھرتے ہوں گے لوگ کیا ہے لوگ سے مراد غلمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
ف 7۔ مراد اس سے اہل ایمان ہیں کہ انہوں نے حق کا اتباع کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مقبول اور مخصوص فرمالیا۔
Read the full tafseer →اس کے پینے والوں کا نہ تو سر چکرائے گا اور نہ ہی وہ بہکیں گے :
47۔ (غول) اسم فعل اور مصدر جس کی اصل غ و ل ہی ہے صرف قرآن کریم میں اس جگہ ایک ہی بار استعمال ہوا ہے اس مادہ کا کوئی اور لفظ قرآن کریم میں بیان نہیں کیا گیا ۔ اس کے معنی نشہ ‘ درد سر ‘ مستی ‘ طبیعت میں بگاڑ پیدا ہونا اچانک ہلاک کردینے کی صفت سے متصف ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی شراب میں اس طرح کی صفات پائی جاتی ہے کہ وہ بدمزہ نشہ دینے والی ‘ مستی پیدا کرنے والی اور طبیعت میں بگاڑ پیدا کرنے والی ہوتی ہے لیکن جنت کی شراب میں ایسی کوئی صفت نہیں پائی جائے گی جس سے غل غپاڑہ کی کوئی صورت پیدا ہوجائے ۔ (ینزفون) کی اصل ن زہے کنوئیں میں سے سب…
Read the full tafseer →6. 'The word: غَوْلٌ (ghaul) in verse 47: لَا فِيهَا غَوْلٌ la fiha ghaulun) has been explained variously as 'headache' or 'abdominal pain' or 'smell or corruption' or 'muddling of reason'. The fact is that the word: غَوْلٌ (ghaul) is used to convey all these meanings, while Hafiz Ibn Jarir says that 'ghaul' appears here in the sense of bane, trouble or unwelcome consequences which makes it mean that the drink offered in Jannah will have no such evil consequences as are found in wines consumed in the mortal world - no hangovers of headache, stomach pain, bad breath or loss of reason. (Tafsir…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
26 Here it has not been mentioned as to who will take these cups of wine round to the dwellers of Paradise. This has been stated at other places: `And there will go round to them young boys, exclusively appointed for their service, who will be as lovely as well-guarded pearls." (At-Tur :24). `They will be attended by brisk-moving boys who will for ever remain boys. If you saw them, you would think they were pearls, scattered." (Ad-Dahr: 19). Then, its further details are found in the traditions related by Hadrat Anas and Hadrat Samurah bin Jundub from the Holy Prophet, according to which:…
Read the full tafseer →