اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ۟اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ
مگر جو خدا کے بندگان خاص ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
But not the chosen servants of Allah.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz
اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ۟اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ
مگر جو خدا کے بندگان خاص ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
But not the chosen servants of Allah.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
مگر اللہ کے چیدہ بندے (اس انجام بد سے) محفوظ ہوں گے
مگر جو خدا کے بندگان خاص ہیں
مگر اللہ تعالیٰ کے خالص برگزیده بندے
البتہ جو اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں۔
مگر جو اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہیں
(ہاں) مگر اللہ کے وہ (برگزیدہ و منتخب) بندے جنہیں (نفس اور نفسانیت سے) رہائی مل چکی ہے،
مگر اللہ کے خالص کیے ہوئے بندے۔
مگر اللہ کے مخلص بندے (اس انجام سے محفوظ رہیں گے)
بس اللہ کے مخصوص بندے ہی اس سے محفوظ رہیں گے۔
بجز اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے (کہ وہ انجام سے محفوظ رہیں گے)
مگر ہاں جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے ہیں
سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے
مگر جو اللہ کے بندگان خاص ہیں۔
But Allah's chosen servants (shall be spared this woeful end).
unlike Allah‘s chosen servants.
unlike Allah‘s chosen servants.
Save the chosen servants of Allah.
Save single-minded slaves of Allah;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
But not the chosen servants of Allah.
But the sincere servants of God
Save the servants of Allah, the purified ones.
But the bondmen of Allah, the sincere ones -
But the sincere (and devoted) Servants of Allah,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 38–49
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
سورة الصّٰٓفّٰت 21 رسولوں کی تصدیق کے تین معنی ہیں اور تینوں ہی یہاں مراد بھی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے کسی سابق رسول کی مخالفت نہ کی تھی کہ اس رسول کے ماننے والوں کے لیے اس کے خلاف تعصب کی کوئی معقول وجہ ہوتی، بلکہ وہ خدا کے تمام پچھلے رسولوں کی تصدیق کرتا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ کوئی نئی اور نرالی بات نہیں لایا تھا بلکہ وہی بات پیش کرتا تھا جو ابتدا سے خدا کے تمام رسول پیش کرتے چلے آ رہے تھے۔ تیسرے یہ کہ وہ ان تمام خبروں کا صحیح مصداق تھا جو پچھلے رسولوں نے اس کے بارے میں دی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
(2) (آیت) فانھم یومئذ فی العذاب مشترکون سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ناجائز کام کی دعوت دے اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو اسے دعوت گناہ کا عذاب تو بیشک ہوگا، لیکن جس شخص نے اس کو دعوت کو اپنے اختیار سے قبول کرلیا وہ بھی اپنے عمل سے بری نہیں ہو سکتا۔ وہ آخرت میں یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں پاسکتا کہ مجھے تو فلاں شخص نے گمراہ کیا تھا، ہاں اگر اس نے گناہ کا ارتکاب اپنے اختیار سے نہ کیا ہو بلکہ جبر واکراہ کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لئے کرلیا ہو تو انشاء اللہ اس کی معافی کی امید ہے۔
Read the full tafseer →الا عباد اللہ المخلصین (40) عذاب سے محفوظ رہنے والے استثناء یہاں منقطع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس انجام سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اللہ کے وہی بندے اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ نے اپنی رحمت کے لئے خاص کرلیا ہو۔ یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت کے لئے انہی بندوں کو خاص کرتا ہے جو اپنے ایمان و عمل سے اس کا استقحقا پیدا کرتے ہیں۔ لفظ مخلص صرف اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے کہ جس کو جو کچھ بھی ملے گا خدا ہی کے فضل و رحمت سے ملے گا، کسی دوسرے کے امکان میں یہ نہیں ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے دلا سکے جیسا کہ مشرکین نے گمان کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →40۔ 1 یعنی عذاب سے محفوظ ہونگیں، ان کی کوتاہیوں سے بھی درگزر کردیا جائے گا، اگر کچھ ہونگی اور ایک ایک نیکی کا اجر کئی کئی گنا دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
8: مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ خود بہکے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے تمہیں بہکایا ضرور، لیکن ہمارے بہکانے سے تم کفر پر مجبور نہیں ہوگئے تھے، اگر تم ہمارے بہکائے میں نہ آتے تو ہمارا تم پر کوئی زور نہ چلتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
بل جآء بالحق ۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (37 – 40) ” مجرموں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اوپر اللہ کی مخلص بندوں کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا کہ وہ عذاب الیم سے بچ گئے تھے۔ اس مناسبت سے قیامت میں ان کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھا دی جاتی ہے۔ ان مجرموں کے عذاب الیم کے بالمقابل وہ انعامات بھی رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن میں وہ مزے لے رہے ہوں گے۔ انداز یوں ہے کہ ایک منظر کے بالمقابل دوسرا منظر۔
Read the full tafseer →6 یعنی ان کا کیا ذکر۔ وہ تو ایک قسم ہی دوسری ہے جس پر حق تعالیٰ نوازش و کرم فرمائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 40{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔“ آج اللہ کے چیدہ بندے ہی اس انجامِ بد سے محفوظ رہیں گے۔ مُخلَص لام کی زبر کے ساتھ کے معنی ہیں ”خالص کیا گیا“۔ یہاں وہ بندے مراد ہیں جنہیں اللہ نے خاص کرلیا ہو ‘ جنہیں اپنے لیے ُ چن کر الگ کرلیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
20 بعُد زمانی کے باوجود مماثلت نبی کی تعلیم کے برحق ہونے کا ثبوت ہے :۔ رسول جو کچھ کلام پیش کرتا ہے وہ نہ طلسماتی باتیں ہیں اور نہ افسانے اور تمثیلی داستانیں ہیں بلکہ اس کی تعلیم ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ نبی اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کرتا ہے اور ان کی تعلیم کی بھی حالانکہ ان کے زمانہ میں سینکڑوں سال کی مدت حائل ہوتی ہے۔ اس بعد زمانی کے باوجود رسولوں کی تعلیم میں مماثلت ہی ان کی اور ان کی تعلیم کے حق ہونے کا بڑا قوی ثبوت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
18۔ چناچہ یہ سارے ماکولات ان کے سامنے عزت واحترام کے ساتھ پیش کئے جائیں گے، یہ نہیں کہ جیسے گداگر کی جھولی میں کچھ ڈال دیا گیا۔ (آیت) ” فواکہ “۔ عربی میں یہ لفظ بڑی وسعت رکھتا ہے اور اردو کے کسی ایک لفظ سے اس کا ترجمہ ممکن نہیں۔ عربی میں فاکھہ سے مراد صرف میوے ہی نہیں۔ بلکہ ہر وہ لذیذ نفیس چیز ہے جو انسان پیٹ بھرنے کے لئے نہیں، بلکہ ذائقہ کے لئے کھاتا ہے۔ جنت میں اہل جنت کے جسم کو تغذیہ کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہوگی اس لئے کہ وہاں جسم فنا پذیر نہ ہوں گے۔ اہل جنت تو جو کچھ کھائیں پئیں گے صرف مزے اور لطف ہی کیلئے۔ وھی کل مایتلذذ بہ ولا یتقوت کحفظ الصحۃ یعنی ان رزقھم کلہ فواکہ لانھم مستغنون عن حفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →الا عباد اللہ المخلصین مگر اللہ کے مخلص (منتخب ‘ پسندیدہ) بندے (ان کو بدلہ سینکڑوں گنا زائد دیا جائے گا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
(40۔ 47) سوائے ان لوگوں کے جو کفر و شرک سے محفوظ تھے۔ یا یہ کہ عبادت و توحید کے ساتھ اللہ کے خاص کیے ہوئے بندے ہیں۔ ان کے لیے صبح و شام کے اندازہ کے مطابق ایسی غذائیں ہیں جن کا حال معلوم ہوچکا ہے۔ یعنی میوے وہ لوگ بڑی عزت سے ایسے باغوں میں جن کی نعمتیں ختم نہ ہوں گی تختوں پر آمنے سامنے زیارت کے لیے بیٹھے ہوں گے۔ ان کے پاس پاکیزہ جام شراب لایا جائے گا جو سفید ہوگی اور پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی۔ نہ اس کے پینے سے پیٹ میں درد ہوگا نہ عقل میں فتور آئے گا نہ اور کسی قسم کی تکلیف ہوگی نہ گناہ ہوگا اور نہ اس سے نشہ آئے گا اور نہ سر میں درد ہوگا۔
Read the full tafseer →اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ : مگر اللہ کے وہ بندے جنھیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا، جن کے متعلق ابلیس نے بھی اقرار کیا کہ وہ انھیں گمراہ نہیں کرسکے گا (دیکھیے سورة ص : 83) وہ عذاب الیم نہیں چکھیں گے، نہ ان کے حساب میں شدت ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو دس گنا سے سات سو گنا، بلکہ بےحساب گنا تک بڑھائے گا اور برائیوں سے، اگر کوئی ہوئیں، درگزر فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
کیا ہم شاعرو مجنوں کے کہنے سے اپنے معبودوں کو ترک کردیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان پر اس قول کو رد کردیا۔ حق سے مراد قرآن اور توحید ہے بلکہ وہ تو قران لایا اور توحید کا سبق دیا اور رسول جو توحید کا پیغام ائے تھے ان کی تصدیق کی انکم لذائقوا الغذب الالیم تم عذاب الیم چکھنے والے ہو۔ لذابقوا اصل میں لذاتون تھا نون استخفاف کے لئے حذف کردی گئی اور اضافت کی وجہ سے ما بعد کو العذاب الالیم کسرہ دیا گیا۔ اس میں نصب پڑھنا بھی جائز ہے جس طرح سیبویہ نے شعر کو پڑھا : ٖٖفالفیتہ غیر مستعتب ولا ذاکر اللہ الا قلیلا ” میں نے اسے پایا کہ وہ رضامندی کا طالب نہیں تھا اور وہ اللہ کا زکر بھی تھوڑا کرتا تھا “ سیبویہ نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…
Read the full tafseer →اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ [مگر ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے اللہ کے بندے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–49
کافر درد ناک عذاب میں ہوں گے اور اللہ کے مخلص بندے عزت کے ساتھ تختوں پر جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے اس میں منکرین اور معاندین کی تردید ہے، ارشاد فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ ہمارا رسول شاعر یا دیوانہ ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ حق لے کر آیا ہے اور آپ نے اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کی ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے آئے، ان کی دعوت حق تھی اور اس نبی (یعنی امام الانبیاء) کی دعوت بھی حق ہے، تم شرک پر اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو اور دعوت توحید قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہو، لا محالہ تمہیں درد ناک عذاب چکھنا ہی ہوگا اور تمہیں جو عذاب ہوگا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–57
احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
20:۔ اولئک الخ :۔ اللہ کے ان مقبول بندوں کے لیے ایسی روزی ہوگی جس کی صفتیں معرف ہیں۔ یعنی وہ منقطع نہیں ہوگی۔ خوش ذائقہ اور خوش رائحہ ہوگی۔ ایسی خوبیوں والی روزی نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھ نہ کسی کان نے کبھی سنی۔ فواکہ یہ رزق سے بدل ہے۔ جنت کی خوراک میووں اور پھلوں کی صورت میں ہوگی۔ وھم مکرمون الخ، اور وہ خدا کے یہاں معزز و مکرم ہوں گے۔ گوناگوں نعمتوں کے باغات ان کے مسکن ہوں گے۔ جنت جو مومنوں کا مسکن ہوگا وہ نعمتوں کا گھر ہوگا۔ اس میں ہر نعمت ایک سے ایک بڑھ کر ہوگی۔ وہ لعل و جواہر سے مرصع تختوں پر فروکش ہوں گے اور آمنے سامنے بیٹھ کر خوش و خرم ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–61
اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…
Read the full tafseer →اِلَّا عِبَادَ اللہِ الْمُخْلَصِيْنَ 40 عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–62
الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔ فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
اِنَّـکُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ ۔ وَمَا تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ اِلاَّ عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 38 تا 40) (بےشک تم دردناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور تم اسی کا بدلہ دیے جاؤ گے جو تم کرتے رہے ہو۔ مگر اللہ کے خالص بندے ہی اس سے محفوظ رہیں گے۔ ) مجرمینِ قریش کا انجام تم نے اب تک ہمارے رسول کی دعوت کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کے دین کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم ایک دردناک عذاب کا استحقاق پیدا کرچکے ہو۔ وہ عذاب دنیا میں بھی اتر سکتا ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کی داعی نہ ہوئی تو آخرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنت میں داخل ہونے والوں کا مقام اور احترام۔ قرآن مجیدنے اپنے دلنشین اسلوب کے تحت یہاں بھی دو قسم کے افراد اور ان کے انجام کا تقابل پیش کیا ہے۔ جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کے لیے اللہ کے مخلص بندوں کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے۔ مخلصین کے القاب سے یہ ثابت کیا ہے کہ جنت میں وہی لوگ داخل ہو پائیں گے جن کے عقیدہ اور کردار میں شرک کی ملاوٹ نہ ہوگی اور نہ ہی وہ نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کے مرتکب ہوں گے بلکہ یہ لوگ انتہائی فرمانبردار اور آپ ﷺ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ ان کے لیے انواع و اقسام کا رزق ہوگا جو بڑے اہتمام اور تکریم کے ساتھ انہیں پیش کیا جائے گا۔ وہ…
Read the full tafseer →40: اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ (ہاں مگر جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے ہیں) یعنی لیکن اللہ کے بندے۔ نحو : گویا الا بمعنی لکن استثناء منقطع ہے۔ قراءت : کوفی اور مدنی نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →40، الا عباد اللہ المخلصین ، اس سے مراد مؤ حدین ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–50
35۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
آیت 40 (الا عباد اللہ المخلصمین) ” مگر اللہ تعالیٰ کے خلا برگزیدہ بندے “ بیشک وہ درد ناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کرلیا ان کو اپنی رحمت کے لئے مختص کیا اور انہیں اپنے لطف و کرم سے نوازا (اولئک لھم رزق معلوم) ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے رزق معلوم ہے۔ ‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہوگا۔ یہ رزق بہت عظیم اور جلی القدر ہوگا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جاسکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فواکہ) یعنی تمام اقسا مکہ پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں…
Read the full tafseer →26 عذاب سے محفوظ رہنے والوں کی نشاندہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے چنے ہوئے بندے اس عذاب سے محفوظ رہیں گے کہ ان کا انجام و معاملہ اور ہوگا کہ عذاب تو درکنار ان سے حساب کتاب میں مناقشہ بھی نہیں ہوگا۔ سیئات سے ۔ اگر ان کی کچھ سیئات ہوں گی ۔ عفو و درگزر فرما لیا جائے گا۔ اور حسنات پر ان خوش نصیبوں کو دس گنا، سو گنا اور سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھا کر اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو اس ہولناک انجام سے وہی لوگ بچ سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کیلئے خاص کرلیا ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کیلئے خاص ان ہی لوگوں کو کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
میدان حشر میں کفار کا آپس میں جھگڑا تشریح : آیات مذکورہ سے کفار کی فضول بحث مباحثہ کا پتہ چلتا ہے۔ اس کو ہم اس طرح واضح کرسکتے ہیں کہ ایک شخص کسی کے کہنے سے چوری کرلیتا ہے پکڑے جانے پر یہ عذر پیش کرتا ہے کہ ” فلاں کے کہنے سے میں نے چوری کی “۔ یہ عذر اس کو سزا سے تو نہ بچا سکے گا۔ بس یہی حال ان منکرین کا ہوگا جو ہدایت دینے والے کا مذاق اڑاتے رہے اور مسلسل شیطان کی فرمانبرداری کرتے رہے تو نتیجہ یہی ہوگا کہ دونوں ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور پیغمبر کا یہ کہنا بالکل سچ ہوجائے گا کہ ” تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے “۔ (آیت 39ـ الصافات) مگر اللہ کے مقبول بندے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
ف 15 یعنی ایسی روزی جو ان کے لئے مقرر ہوچکی ہے ہمیشہ ملتی رہے گی اور کبھی منقطع نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →(37:40) الا عباد اللہ المخلصین۔ الا حرف علت۔ عباد اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر مستثنیٰ منقطع ضمیر تجزون سے۔ المخلصین اسم مفعول جمع مذکر حاضر عباد اللہ کی صفت ہے “ (مستثنیٰ منقطع ہمیشہ منصوب ہوتا ہے بدیں وجہ عباد منصوب ہے) معنی کلام ہوں گے :۔ ولکن عباد اللہ المخلصین یجزون اضعافا مضاعفۃ بالنسبۃ الی ما عملوا۔ لیکن اللہ کے مخلص بندے اپنے اعمال کی نسبت سے کئی گنا اجر دئیے جائیں گے ! ”(مگر اللہ کے مخلص (منتخب پسندیدہ ) بندے (ان کو بدلہ سینکڑوں گنا زائد دیا جائے گا) “ تفسیر مظہری۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عباد اللہ ضمیر ذائقوا سے مستثنیٰ منقطع ہے اور درمیانی جملہ وما تجزون الا ما کنتم تعملون جملہ معترضہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
(ف 1) قیامت کے دن جب ان لوگوں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا، جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے تو اس وقت ان کو یاد دلایا جائے گا کہ تم پر عذاب اسی سبب سے ہے کہ تم توحید کی باتیں اللہ کے رسول سے سن کر نخوت اور تکبر سے ان حق باتوں کو نہیں سنتے تھے اور رسول کریم کو شاعر اور دیوانہ بتلاتے تھے کیا ایک دیوانے کے کہنے ہم اپنے باپ دادا کے زمانہ کے معبودوں کو چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کا جواب دیا کہ ہمارے رسول کو شاعر کیسے کہتے ہیں جو دنیا میں خالص سچائی لے کر آیا ہے اور سارے جہان کے سچوں کی تصدیق کرتے ہیں یا مجنون اور دیوانے ایسے سچے صحیح اور پختہ اصول پیش کیا کرتے ہیں پس انکار توحید اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–48
[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
عقیدت مندی کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے 1: قیامت میں یہ عجیب لطف کی بات ہوگی ۔ کہ معتقدین اپنے مقتداوں کو ڈھونڈنے جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تم لوگ ہماری نجات کی ذمہ داری لیتے تھے ۔ اور کھلے بندوں کہتے تھے ۔ کہ ہماری عقیدت مندی تمہارے لئے بمعنی میں مفید ثابت ہوگی ۔ اور بجز ہماری اطاعت کے نجات اور سعادت کی سب راہیں مسدود ہیں ۔ آج ہم تکلیف میں ہیں ۔ عذاب الٰہی کو اپنے روبرو دیکھ رہے ہیں ۔ تمہماری مدد کرو ۔ اور عذاب سے چھڑاؤ۔ کہ کہیں گے غلط ہے ۔ ہم تمہاری بدبختی اور محرومی کے ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں ۔ ہمارے پاس کوئی قرت نہیں تھی ۔ کہ ہم مجبور کرکے تم کو اپنے حلقہ اراوت میں داخل کرتے ۔ تم…
Read the full tafseer →(40) لیکن ہاں اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو مخصوص اور چیدہ ہیں۔ مخلص بندے وہی ہیں جو شرک و معاصی سے خالص ہوں ان کا کوئی تعلق ان لوگوں سے نہیں ہوگا بلکہ ان کے ساتھ معاملہ دوسری قسم کا ہوگا جو آگے مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کے کیوں کا بدلا نہیں معاف ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
ف 7۔ مراد اس سے اہل ایمان ہیں کہ انہوں نے حق کا اتباع کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مقبول اور مخصوص فرمالیا۔
Read the full tafseer →اللہ کے خالص بندوں کو اس سے مستثنی کردیا جائے گا : 40۔ مگر ہاں ! اللہ کے وہ بندے جو نیک کام کرتے اور شرک کے قریب نہیں جاتے ان کو دوزخ سے الگ کردیا جائے گا اور ان کے نیک اعمال کا بدلہ بھی کم از کم دس گنا اور زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں کہ کتنا بڑھا کردیا جائے گا کیونکہ اللہ کے بندے خود بھی شرک کے قریب نہیں جاتے اور ان لوگوں کو بھی حتی المقدور روکتے اور منع کرتے ہیں اس لیے بلاشبہ وہ دوسروں کو منع کرنے کا اجر بھی پائیں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
2. From verse 33: فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ (So, this day, they will be sharers in the punishment.), we learn that should a certain person invite someone else to participate in what is impermissible and use his clout to coax him into sin, then, he will certainly incur the punishment of so inviting that person to sin. But, a person who accepts his invitation of his volition and choice, he too cannot be absolved from the sin of his deed. He cannot appear in the Hereafter and get away by saying that he was made to go astray by this or that person. Yes, if he has not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
21 Confirmation of the Messengers has three meanings and all the three are implied here: (1) That he had not opposed any former Messenger so that the believers of that Messenger could have a rational ground of prejudice against him; he had rather confirmed all the former Messengers sent by God; (2) that he had not brought any new or novel thing, but he had presented the same that the former Messengers of God had been presenting from the very beginning; and (3) that he truly fulfilled and corresponded to the predictions that the former Messengers had made concerning him.
Read the full tafseer →