اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ ۟ۙاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌۙ
یہی لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Those will have a provision determined -
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz
اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ ۟ۙاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌۙ
یہی لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Those will have a provision determined -
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
ان کے لیے جانا بوجھا رزق ہے
یہی لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے
انہیں کے لئے مقرره روزی ہے
ان کے لیے طے شدہ رزق ہے۔
ان کے لیے وہ روزی ہے جو ہمارے علم میں ہیں،
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (صبح و شام) رزقِ خاص مقرّر ہے،
یہی لوگ ہیں جن کے لیے مقرر رزق ہے۔
ان کے لئے ایسا رزق ہوگا جو انہیں معلوم ہے۔
یہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے معلوم رزق ہوگا۔
ان کے لئے ایک ایسا رزق ہوگا جو کہ معلوم ہے
انکے لئے غذائے معلوم ہے
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے طے شدہ رزق ہے۔
یہی لوگ ہیں جن کے لیے روزی مقرر ہے
For them awaits a known provision,
Those are the people for whom there is a known provision,
Those are the people for whom there is a known provision,
For them there will be a known provision,
For them there is a known provision,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Those will have a provision determined -
will have their determined sustenance
For them is a known sustenance,
Those! theirs shall be a provision known:
For them is a Sustenance determined,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 38–49
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 22 یعنی ایسا رزق جس کی تمام خوبیاں بتائی جاچکی ہیں، جس کے ملنے کا انہیں یقین ہے، جس کے متعلق انہیں یہ بھی اطمینان ہے کہ وہ ہمیشہ ملتا رہے گا، جس کے بارے میں یہ خطرہ لگا ہوا نہیں ہے کہ کیا خبر، ملے یا نہ ملے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر ان (اللہ کے مقبول بندوں) کے واسطے ایسی غذائیں ہیں جن کا حال (دوسری سورتوں میں) معلوم (ہو چکا) ہے یعنی میوے (جن کا ملنا سورة یٰسین آیت (آیت) لہم فیہا فاکہتہ میں اور جن کی صفات سورة واقعہ آیت (آیت) وفاکہتہ کثیرة لا مقطوعة ولا ممنوعہ میں اس کے قبل نازل ہوچکی ہیں، کیونکہ یٰسین اور واقعہ سورة صفٰت سے نزول میں مقدم ہیں۔ کذا فی الاتقان) اور وہ لوگ بڑی عزت سے آرام کے باغوں میں تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے (اور) ان کے پاس ایسا جام شراب لایا جائے گا (یعنی غلمان لائیں گے) جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا (اس سے شراب کی کثرت اور لطافت معلوم ہوئی اور دیکھنے میں) سفید ہوگی (اور پینے میں)…
Read the full tafseer →اولئک لھم رزق معلوم (41) رزق معلوم کا مفہوم فرمایا کہ بیشک یہ لوگ ہیں جن کے لئے خدا کے ہاں معلوم و متعارف رزق ہو گ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے کھانے پینے کے اوقات کا پروگرام بھی ان کے منشاء کے مطابق معین ہوگا اور جو چیزیں ان کے سامنے پیش کی جانے والی ہوں گی وہ بھی ان کی پسند اور ان کے انتخاب کے موافق ہوں گی۔ دوزخیوں کا حال تو یہ ہوگا کہ دوزخ کے داروغے ان کے آگے، جب ان کے جی میں آئے گا، کچھ پھینک ماریں گے اور جو چیزیں بھی پھینکیں گے وہ بالکل اجنبی اور ایک سے ایک بڑھ کر بری ہوں گی لیکن اہل جنت کے سامنے جو چیزیں بھی پیش کی جائیں گی ان کی طلب، ان کی پسند اور ان کے پروگرام کے مطابق پیش کی جائیں گی۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
45۔ 1 کَاْسً شراب کے بھرے ہوئے جام کو اور قدح خالی جام کو کہتے ہیں مَعِیْن کے معنی ہیں، جاری چشمہ۔ مطلب یہ ہے کہ جاری چشمے کی طرح، جنت میں شراب ہر وقت میسر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
8: مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ خود بہکے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے تمہیں بہکایا ضرور، لیکن ہمارے بہکانے سے تم کفر پر مجبور نہیں ہوگئے تھے، اگر تم ہمارے بہکائے میں نہ آتے تو ہمارا تم پر کوئی زور نہ چلتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
اولئک لھم رزق۔۔۔۔۔۔ کانھن بیض مکنون (41 – 49 “۔ جنت کی نعمتیں کیسی ہوں گی ؟ اس میں نعمتوں کا ہر رنگ ہوگا جس میں نفس انسانی کی غذا بھی ہوگی اور انسانی احساسات اور انسانی جسم سب کے لیے متاع ہوگا ۔ مزید یہ کہ وہاں جو نفس جو کچھ چاہے گا وہ اسے ملے گا ۔ قسماقسم انعامات ، اس لیے کہ یہ لوگ سب سے پہلے تو اللہ کے مکرم بندے ہیں ، اللہ کی بندگی انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔ پھر عالم بالا میں وہ معزز ترین مہمان ہوں گے ۔ یہ ان کے آرام کی جگہ ہوگی اور وہاں ان کو کوئی مشقت اور ذیوئی نہ کرنا ہوگی ۔ پھر مزید یہ کہ آرام کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی انہیں حاصل ہوگی ۔ جو سب سے بڑی نعمت ہوگی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
7 یعنی عجیب و غریب میوے کھانے کو ملیں گے۔ جن کی پوری صفت تو اللہ ہی کو معلوم ہے ہاں کچھ مختصر سی بندوں کو بھی بتلا دی ہے جیسے فرمایا " (لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّلَا مَمْنُوْعَةٍ ) 56 ۔ واقعہ :33) 8 خدا ہی جانے کیا کیا اعزازو اکرام ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت 41{ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ} ”یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے طے شدہ رزق ہے۔“
Read the full tafseer →21 جنت کے رزق کی خصوصیات :۔ یعنی وہ رزق جو کتاب و سنت میں جابجا مذکور ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ ہر قسم کے اور آپس میں ملتے جلتے پھلوں پر مشتمل ہوگا۔ جبکہ ان کا مزا بالکل ایک دوسرے سے جداگانہ ہوگا۔ نیز انہیں ہر وہ چیز مہیا کی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ اس رزق کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ باعزت طور پر دیا جائے گا۔ ایک یہ ہے کہ وہ کبھی ختم نہ ہوگا نہ اس کا سلسلہ منقطع ہوگا۔ ایک یہ کہ جو زرق انہیں دیا جائے گا اسے اس دنیا میں پوری طرح سمجھا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ ویسی چیزیں نہ کسی نے دیکھی ہیں، نہ سنی ہیں اور نہ کسی کے حاشیہ خیال میں آسکتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ رزق صرف لذت حاصل کرنے کے لئے کھایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
18۔ چناچہ یہ سارے ماکولات ان کے سامنے عزت واحترام کے ساتھ پیش کئے جائیں گے، یہ نہیں کہ جیسے گداگر کی جھولی میں کچھ ڈال دیا گیا۔ (آیت) ” فواکہ “۔ عربی میں یہ لفظ بڑی وسعت رکھتا ہے اور اردو کے کسی ایک لفظ سے اس کا ترجمہ ممکن نہیں۔ عربی میں فاکھہ سے مراد صرف میوے ہی نہیں۔ بلکہ ہر وہ لذیذ نفیس چیز ہے جو انسان پیٹ بھرنے کے لئے نہیں، بلکہ ذائقہ کے لئے کھاتا ہے۔ جنت میں اہل جنت کے جسم کو تغذیہ کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہوگی اس لئے کہ وہاں جسم فنا پذیر نہ ہوں گے۔ اہل جنت تو جو کچھ کھائیں پئیں گے صرف مزے اور لطف ہی کیلئے۔ وھی کل مایتلذذ بہ ولا یتقوت کحفظ الصحۃ یعنی ان رزقھم کلہ فواکہ لانھم مستغنون عن حفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →اولئک لھم رزق معلوم۔ ان کیلئے (ایسی) غذائیں ہیں (جن کا حال دوسری آیات سے) معلوم (ہو چکا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
(40۔ 47) سوائے ان لوگوں کے جو کفر و شرک سے محفوظ تھے۔ یا یہ کہ عبادت و توحید کے ساتھ اللہ کے خاص کیے ہوئے بندے ہیں۔ ان کے لیے صبح و شام کے اندازہ کے مطابق ایسی غذائیں ہیں جن کا حال معلوم ہوچکا ہے۔ یعنی میوے وہ لوگ بڑی عزت سے ایسے باغوں میں جن کی نعمتیں ختم نہ ہوں گی تختوں پر آمنے سامنے زیارت کے لیے بیٹھے ہوں گے۔ ان کے پاس پاکیزہ جام شراب لایا جائے گا جو سفید ہوگی اور پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی۔ نہ اس کے پینے سے پیٹ میں درد ہوگا نہ عقل میں فتور آئے گا نہ اور کسی قسم کی تکلیف ہوگی نہ گناہ ہوگا اور نہ اس سے نشہ آئے گا اور نہ سر میں درد ہوگا۔
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ : یعنی ایسی روزی جو ان کے لیے مقرر ہوچکی ہے، جس کے ملنے کا انھیں یقین ہے کہ ہمیشہ ملتی رہے گی، کبھی روکی نہیں جائے گی۔ اگلی آیت میں اس کی کچھ تفصیل بیان فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
لھم سے مراد مخلصین ہیں یعنی ان کے لئے معلوم عطیہ ہے جو ختم ہوگا۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد جنت ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اس سے مراد جنت کا رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ پھل ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ اس کی خواہش کریں گے۔ ابن سائب نے کہا : یہ صبح اور شام کے کھانے کے مقدار کے مطابق ہوں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و لھم رزقھم فیھا بکرۃ و عشیا۔ ) مریم ( فواکہ یہ فاکھۃ کی جمع ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و امدادنھم بفاکھۃ) طور (22: ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے درجات کی بلندی ‘ کلام کے سننے اور اس کی ملاقات کے ذریعے اکرام ہے۔ جنات نعیم سے مراد ایسے باغات ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ] رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ [ایک معلوم رزق ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–49
کافر درد ناک عذاب میں ہوں گے اور اللہ کے مخلص بندے عزت کے ساتھ تختوں پر جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے اس میں منکرین اور معاندین کی تردید ہے، ارشاد فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ ہمارا رسول شاعر یا دیوانہ ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ حق لے کر آیا ہے اور آپ نے اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کی ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے آئے، ان کی دعوت حق تھی اور اس نبی (یعنی امام الانبیاء) کی دعوت بھی حق ہے، تم شرک پر اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو اور دعوت توحید قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہو، لا محالہ تمہیں درد ناک عذاب چکھنا ہی ہوگا اور تمہیں جو عذاب ہوگا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–57
احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
20:۔ اولئک الخ :۔ اللہ کے ان مقبول بندوں کے لیے ایسی روزی ہوگی جس کی صفتیں معرف ہیں۔ یعنی وہ منقطع نہیں ہوگی۔ خوش ذائقہ اور خوش رائحہ ہوگی۔ ایسی خوبیوں والی روزی نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھ نہ کسی کان نے کبھی سنی۔ فواکہ یہ رزق سے بدل ہے۔ جنت کی خوراک میووں اور پھلوں کی صورت میں ہوگی۔ وھم مکرمون الخ، اور وہ خدا کے یہاں معزز و مکرم ہوں گے۔ گوناگوں نعمتوں کے باغات ان کے مسکن ہوں گے۔ جنت جو مومنوں کا مسکن ہوگا وہ نعمتوں کا گھر ہوگا۔ اس میں ہر نعمت ایک سے ایک بڑھ کر ہوگی۔ وہ لعل و جواہر سے مرصع تختوں پر فروکش ہوں گے اور آمنے سامنے بیٹھ کر خوش و خرم ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–61
اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ 41ۙ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–62
الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔ فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ۔ فَوَاکِہُ ج وَھُمْ مُّکْرَمُوْنَ ۔ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ عَلٰی سُرُرٍمُّتَقٰبِلِیْنَ ۔ (الصآفات : 41 تا 44) (یہ لوگ ہیں جن کے لیے روزی ہے جانی پہچانی۔ میوے، اور وہ عزت سے رکھے جائیں گے۔ نعمت کے باغوں میں۔ تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ) اہلِ جنت کا تذکرہ اہلِ جہنم کے حالات بیان کرنے کے بعد اہل جنت کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ پہلی دس آیتوں میں عام اہل جنت کا اکرام اور ان کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد کی آیات میں ایک خاص جنتی کا عبرت آموز واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ عام اہل جنت کے بارے میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنت میں داخل ہونے والوں کا مقام اور احترام۔ قرآن مجیدنے اپنے دلنشین اسلوب کے تحت یہاں بھی دو قسم کے افراد اور ان کے انجام کا تقابل پیش کیا ہے۔ جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کے لیے اللہ کے مخلص بندوں کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے۔ مخلصین کے القاب سے یہ ثابت کیا ہے کہ جنت میں وہی لوگ داخل ہو پائیں گے جن کے عقیدہ اور کردار میں شرک کی ملاوٹ نہ ہوگی اور نہ ہی وہ نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کے مرتکب ہوں گے بلکہ یہ لوگ انتہائی فرمانبردار اور آپ ﷺ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ ان کے لیے انواع و اقسام کا رزق ہوگا جو بڑے اہتمام اور تکریم کے ساتھ انہیں پیش کیا جائے گا۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
تمام رزق فواکہ ہوگا : 41، 42: اُو لٰٓپکَ لَھُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ۔ فَوَاکِہُ (ان کے واسطے ایسی غذائیں ہیں جن کا حال معلوم ہے یعنی میوے) رزق معلوم کی تفسیر فواکہ سے کی گئی ہے فاکھہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو بطور لذت استعمال کی جائے نہ کہ حفاظت صحت کے لئے بطور خوراک کھائی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا تمام رزق وہ فواکہ ہی ہوگا۔ کیونکہ خوراک کے ساتھ حفاظت صحت کی ان کو ضرورت نہ ہوگی اس وجہ سے کہ ان کے جسم مضبوط ہمیشگی کے لیے پیدا کئے گئے ہونگے۔ پس جو کچھ بھی وہ کھائیں گے وہ لذت کے لیے ہی ہوگا۔ اور یہ بھی درست ہے کہ رزق معلوم سے مراد بعض خصوصیتوں کا حامل رزق ان کو دیا جائے۔ مثلاً ذائقے اور خوشبو کی…
Read the full tafseer →41، اولئک لھم رزق معلوم ، اس سے صبح وشام ہے۔ ، ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا،۔۔۔۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–50
35۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
آیت 40 (الا عباد اللہ المخلصمین) ” مگر اللہ تعالیٰ کے خلا برگزیدہ بندے “ بیشک وہ درد ناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کرلیا ان کو اپنی رحمت کے لئے مختص کیا اور انہیں اپنے لطف و کرم سے نوازا (اولئک لھم رزق معلوم) ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے رزق معلوم ہے۔ ‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہوگا۔ یہ رزق بہت عظیم اور جلی القدر ہوگا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جاسکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فواکہ) یعنی تمام اقسا مکہ پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
27 جنتیوں کے لیے رزق معلوم کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں کیلئے رزق معلوم ہوگا "۔ یعنی اس کی اصل اور حقیقت تو اللہ پاک ہی کے علم میں ہے کہ جنت کی تعریف میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنِْ قُرَّۃِ اَعْیُن } ۔ مگر اس کی کچھ صفات و خصوصیات قرآن و سنت میں بتادی گئی ہیں تاکہ اہل جنت کو وہاں پر توحش نہ ہو انس ہو۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِہَا } ۔ بطور مثال اس کی صفات و خصوصیات میں سے یہ ہے کہ وہاں کا کھانا پینا بھوک پیاس رفع کرنے کے لئے نہیں بلکہ محض تلذذ کے طور پر ہوگا۔ اسی لئے اس کو " فَاکِہَۃ " اور " فَوَاکِہ " کے الفاظ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–61
ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
ف 15 یعنی ایسی روزی جو ان کے لئے مقرر ہوچکی ہے ہمیشہ ملتی رہے گی اور کبھی منقطع نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →(37:41) رزق معلوم۔ موصوف وصفت۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) ایسا رزق جس کی مقدار معلوم ہو۔ لیکن اور جگہ ارشاد ہے :۔ یرزقون فیھا بغیر حساب (40:40) ان کو بیشمار رزق ملے گا۔ لہٰذا جو رزق بغیر حساب و شمار ہو اس کی مقدار مقرر نہیں کی جاسکتی۔ اور جس رزق کی مقدار متعین کی جاسکے وہ بغیر حساب کے کیسا ؟ (2) ایسا رزق کہ جس کی خصوصیات بلحاظ لذت و کیفیت معلوم ہوں جیسا کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وفاکھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ (56:32:33) اور میوہ ہائے کثیر جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ کوئی ان سے روکے یا۔ وفاکھۃ مما یتخیرون ولحم طیر مما یشتھون۔ (56:20:21) اور میوے جن کو وہ پسند کریں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جنت میں جنتی لوگ اس طرح جڑاؤ تختوں پر بیٹھیں گے کہ ایک کی پیشت دوسرے کی طرف نہ ہوگی۔ دنیا کی شراب سے دردسر ہوتا ہے طبعیت نالش کرتی ہے نشہ چڑھ کر عقل زائل ہوجاتی ہے اس واسطے فرمایا کہ جنت کی شراب میں کوئی بات نہ ہوگی نہروں میں جس طرح پانی بہتا ہے اس طرح جنت میں شراب اور دودھ اور شہد اور میٹھے پانی کی نہایت، صاف نہریں ہوں گی اس شراب کا رنگ ایسا ہوگا کہ جس کے دیکھنے سے رغبت آئے گی دودھ نہ کبھی جمے گا اور نہ کبھی کھٹا ہوگا، یہ شہد موم کے میل سے بالکل صاف ہوگا، جنت کی اور نعمتوں اور جنت کے میووں کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے مختصر سی بندوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–48
[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
عقیدت مندی کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے 1: قیامت میں یہ عجیب لطف کی بات ہوگی ۔ کہ معتقدین اپنے مقتداوں کو ڈھونڈنے جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تم لوگ ہماری نجات کی ذمہ داری لیتے تھے ۔ اور کھلے بندوں کہتے تھے ۔ کہ ہماری عقیدت مندی تمہارے لئے بمعنی میں مفید ثابت ہوگی ۔ اور بجز ہماری اطاعت کے نجات اور سعادت کی سب راہیں مسدود ہیں ۔ آج ہم تکلیف میں ہیں ۔ عذاب الٰہی کو اپنے روبرو دیکھ رہے ہیں ۔ تمہماری مدد کرو ۔ اور عذاب سے چھڑاؤ۔ کہ کہیں گے غلط ہے ۔ ہم تمہاری بدبختی اور محرومی کے ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں ۔ ہمارے پاس کوئی قرت نہیں تھی ۔ کہ ہم مجبور کرکے تم کو اپنے حلقہ اراوت میں داخل کرتے ۔ تم…
Read the full tafseer →(41) ان مخلصین کے لئے روزی معلوم اور مقرر ہے۔ یعنی یہ لوگ اہل ایمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مخصوص اور چیدہ بندے ہیں ان کی روزی معلوم ہے یعنی قرآن کریم کی کئی سورتوں میں ذکر ہوچکا ہے یا یہ کہ مقررہ ہے جو صبح اور شام ان کو پہنچائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
ف 7۔ مراد اس سے اہل ایمان ہیں کہ انہوں نے حق کا اتباع کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مقبول اور مخصوص فرمالیا۔
Read the full tafseer →یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے روزی مقرر و متعین ہے : 41۔ ان کا رزق معلوم یہی ہے کہ جو وہ خواہشیں کریں گے ان کو ان کی خواہشات کے مطابق رزق پیش کردیا جائے گا بلاشبہ انسان کی خواہشات اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں اور وہ زندگی بھی اس زندگی سے لاریب مختلف ہوگی اس لیے قرآن کریم نے جو رزق دینے کا وعدہ کیا ہے اس میں انہی چیزوں کا نام لیا گیا ہے جو چیزیں اس دنیوی زندگی میں ملنے سے آدمی خوش وخرم ہو کر ان کو لینے اور حاصل کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے لیکن کیا اس وقت انہی کے حاصل کرنے کی خواہش ہوگی اللہ ہی اس بات کو جانتا ہے ہاں ! ہمارا ایمان ہے کہ اس وقت اہل جنت کی جو خواہش ہوگی اس کو بغیر کسی روک ٹوک…
Read the full tafseer →Commentary After having described the condition of the people of Jahannam (Hell), the verses cited above have mentioned the condition of the people of Jannah (Paradise). This description is in two parts. The initial ten verses describe the comforts the people of Jannah will be blessed with. After that, the verses that follow take up an event relating to a particular inmate of Jannah which has lessons of guidance. Out of what has been said in the first ten verses, a few things are worth mentioning. These are as follows: 1. It was said in the first verse (41): أُولَـٰئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ…
Read the full tafseer →22 "A known provision" : A provision All of whose characteristics have been made known to them, which they are sure to receive, about which they have also the full satisfaction that they will continue to receive it for ever, and about which there is no apprehension that they may or may not get it at some time.
Read the full tafseer →