Explained with ayahs 38–49
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔
اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
سورة الصّٰٓفّٰت 21
رسولوں کی تصدیق کے تین معنی ہیں اور تینوں ہی یہاں مراد بھی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے کسی سابق رسول کی مخالفت نہ کی تھی کہ اس رسول کے ماننے والوں کے لیے اس کے خلاف تعصب کی کوئی معقول وجہ ہوتی، بلکہ وہ خدا کے تمام پچھلے رسولوں کی تصدیق کرتا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ کوئی نئی اور نرالی بات نہیں لایا تھا بلکہ وہی بات پیش کرتا تھا جو ابتدا سے خدا کے تمام رسول پیش کرتے چلے آ رہے تھے۔ تیسرے یہ کہ وہ ان تمام خبروں کا صحیح مصداق تھا جو پچھلے رسولوں نے اس کے بارے میں دی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
(2) (آیت) فانھم یومئذ فی العذاب مشترکون سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ناجائز کام کی دعوت دے اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو اسے دعوت گناہ کا عذاب تو بیشک ہوگا، لیکن جس شخص نے اس کو دعوت کو اپنے اختیار سے قبول کرلیا وہ بھی اپنے عمل سے بری نہیں ہو سکتا۔ وہ آخرت میں یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں پاسکتا کہ مجھے تو فلاں شخص نے گمراہ کیا تھا، ہاں اگر اس نے گناہ کا ارتکاب اپنے اختیار سے نہ کیا ہو بلکہ جبر واکراہ کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لئے کرلیا ہو تو انشاء اللہ اس کی معافی کی امید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
انکم لذآئقوا لعذاب الادیم، وما تجزون الا ما کنتم تعملون (39-38)
یعنی اللہ کا رسول تمہیں جس عذاب کی خبر دے رہا ہے اس کو خبط و جنون پر محمول نہ کرو بلکہ وہ ایک حقیقت ہے۔ اگر تم نے اس کی تکذیب کردی تو تمہیں لازماً اس درد ناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا اور یہ تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی بلکہ یہ ٹھیک ٹھیک تمہارے اعمال کا بدلہ ہوگا جو تمہارے سامنے آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
39۔ 1 یہ جہنمیوں کو اس وقت کہا جائے گا جب وہ کھڑے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہونگے اور ساتھ ہی وضاحت کردی جائے گی کہ یہ ظلم نہیں ہے بلکہ عین عدل ہے کیونکہ یہ سب تمہارے اپنے عملوں کا بدلہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
8: مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ خود بہکے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے تمہیں بہکایا ضرور، لیکن ہمارے بہکانے سے تم کفر پر مجبور نہیں ہوگئے تھے، اگر تم ہمارے بہکائے میں نہ آتے تو ہمارا تم پر کوئی زور نہ چلتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
بل جآء بالحق ۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (37 – 40) ”
مجرموں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اوپر اللہ کی مخلص بندوں کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا کہ وہ عذاب الیم سے بچ گئے تھے۔ اس مناسبت سے قیامت میں ان کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھا دی جاتی ہے۔ ان مجرموں کے عذاب الیم کے بالمقابل وہ انعامات بھی رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن میں وہ مزے لے رہے ہوں گے۔ انداز یوں ہے کہ ایک منظر کے بالمقابل دوسرا منظر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
5 یعنی انکار توحید اور ان گستاخیوں کا مزہ چکھو گے جو بارگاہ رسالت میں کر رہے ہو۔ جو کچھ کرتے تھے ایک دن سب سامنے جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 39{ وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”اور تمہیں بدلہ نہیں مل رہا مگر اسی کا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
20 بعُد زمانی کے باوجود مماثلت نبی کی تعلیم کے برحق ہونے کا ثبوت ہے :۔ رسول جو کچھ کلام پیش کرتا ہے وہ نہ طلسماتی باتیں ہیں اور نہ افسانے اور تمثیلی داستانیں ہیں بلکہ اس کی تعلیم ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ نبی اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کرتا ہے اور ان کی تعلیم کی بھی حالانکہ ان کے زمانہ میں سینکڑوں سال کی مدت حائل ہوتی ہے۔ اس بعد زمانی کے باوجود رسولوں کی تعلیم میں مماثلت ہی ان کی اور ان کی تعلیم کے حق ہونے کا بڑا قوی ثبوت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
17۔ یعنی اس عام ومشترک سزا کے باب میں کوئی ظلم کسی قسم کا نہیں۔ نفس کفر و انکار میں تم سب شریک تھے، اس لئے لازم ہے کہ آج سزائے کفر میں بھی سب شریک ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →وما تجزون الا ما کنتم تعلمون اور تم کو بدلہ انہی اعمال کا دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
(36۔ 39) اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کی عبادت کو ایک شاعر دیوانہ یعنی رسول اکرم کی وجہ سے چھوڑ دیں بلکہ آپ تو قرآن کریم اور توحید کا حکم لے کر آئے ہیں اور پہلے پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں۔
اے مکہ والو تم سب کو دوزخ کا دردناک عذاب چکھنا پڑے گا اور تمہیں آخرت میں اسی چیز کا بدلہ ملے گا جو تم دنیا میں کفر و شرک کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ : یعنی ہم نے تم پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ تمہیں اسی کفرو شرک اور رسولوں کو جھٹلانے کی جزا مل رہی ہے جس کا ارتکاب تم کرتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
کیا ہم شاعرو مجنوں کے کہنے سے اپنے معبودوں کو ترک کردیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان پر اس قول کو رد کردیا۔ حق سے مراد قرآن اور توحید ہے بلکہ وہ تو قران لایا اور توحید کا سبق دیا اور رسول جو توحید کا پیغام ائے تھے ان کی تصدیق کی انکم لذائقوا الغذب الالیم تم عذاب الیم چکھنے والے ہو۔ لذابقوا اصل میں لذاتون تھا نون استخفاف کے لئے حذف کردی گئی اور اضافت کی وجہ سے ما بعد کو العذاب الالیم کسرہ دیا گیا۔ اس میں نصب پڑھنا بھی جائز ہے جس طرح سیبویہ نے شعر کو پڑھا :
ٖٖفالفیتہ غیر مستعتب ولا ذاکر اللہ الا قلیلا
” میں نے اسے پایا کہ وہ رضامندی کا طالب نہیں تھا اور وہ اللہ کا زکر بھی تھوڑا کرتا تھا “ سیبویہ نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…
Read the full tafseer →وَمَا تُجْزَوْنَ [اور تم کو بدلہ نہیں دیا جائے گا ] اِلَّا مَا [سوائے اس کے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–49
کافر درد ناک عذاب میں ہوں گے اور اللہ کے مخلص بندے عزت کے ساتھ تختوں پر جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے
اس میں منکرین اور معاندین کی تردید ہے، ارشاد فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ ہمارا رسول شاعر یا دیوانہ ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ حق لے کر آیا ہے اور آپ نے اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کی ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے آئے، ان کی دعوت حق تھی اور اس نبی (یعنی امام الانبیاء) کی دعوت بھی حق ہے، تم شرک پر اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو اور دعوت توحید قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہو، لا محالہ تمہیں درد ناک عذاب چکھنا ہی ہوگا اور تمہیں جو عذاب ہوگا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–57
احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید
فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔
فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
20:۔ اولئک الخ :۔ اللہ کے ان مقبول بندوں کے لیے ایسی روزی ہوگی جس کی صفتیں معرف ہیں۔ یعنی وہ منقطع نہیں ہوگی۔ خوش ذائقہ اور خوش رائحہ ہوگی۔ ایسی خوبیوں والی روزی نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھ نہ کسی کان نے کبھی سنی۔ فواکہ یہ رزق سے بدل ہے۔ جنت کی خوراک میووں اور پھلوں کی صورت میں ہوگی۔ وھم مکرمون الخ، اور وہ خدا کے یہاں معزز و مکرم ہوں گے۔ گوناگوں نعمتوں کے باغات ان کے مسکن ہوں گے۔ جنت جو مومنوں کا مسکن ہوگا وہ نعمتوں کا گھر ہوگا۔ اس میں ہر نعمت ایک سے ایک بڑھ کر ہوگی۔ وہ لعل و جواہر سے مرصع تختوں پر فروکش ہوں گے اور آمنے سامنے بیٹھ کر خوش و خرم ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–61
اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…
Read the full tafseer →وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 39ۙ
جزا
الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ،
( ج ز ی ) الجزاء ( ض )
کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
4 ؎ شاعر دیوانہ جاہل کو کہتے تھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
اِنَّـکُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ ۔ وَمَا تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ اِلاَّ عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 38 تا 40)
(بےشک تم دردناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور تم اسی کا بدلہ دیے جاؤ گے جو تم کرتے رہے ہو۔ مگر اللہ کے خالص بندے ہی اس سے محفوظ رہیں گے۔ )
مجرمینِ قریش کا انجام
تم نے اب تک ہمارے رسول کی دعوت کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کے دین کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم ایک دردناک عذاب کا استحقاق پیدا کرچکے ہو۔ وہ عذاب دنیا میں بھی اتر سکتا ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کی داعی نہ ہوئی تو آخرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کا سب سے بڑا جرم۔
جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کا سب سے بڑا جرم یہ ہوگا کہ وہ ” لَا اِلٰٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کے منکر ہوں گے۔ دنیا میں جب بھی ایسے لوگوں کو انبیائے کرام یا ان کے سچے جانشینوں نے ” لَا اِلٰٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کی دعوت دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ لوگوں کی غالب اکثریت نے اس دعوت کے ساتھ تکبر کا مظاہرہ کیا۔ مشرک کی عادت ہے کہ جوں ہی اسے توحیدِخالص کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ منہ بسوڑتا اور تکبر کا اظہار کرتا ہے۔ دعوت توحید کے ساتھ تکبر کرنے والوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور نبی آخر الزّماں کی دعوت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38، 39: اِنَّکُمْ لَذَآ ئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ ۔ وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تم سب کو دردناک عذاب چکھنا پڑے گا۔ اور تم کو اسی کا بدلہ ملے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے) بغیر کسی اضافے کے۔
Read the full tafseer →39، وما تجزون الاما کنتم تعملون، دنیا میں شرک سے ۔۔۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–50
35۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–39
آیت 28
جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے رساتوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤسا سے کہیں گے : (انکم کنتم تاتوننا عن الیمین) ” تمہیں ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ “ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔ (قالوا) سردار ان کو جواب دیں گے : (بل لم تکونوا مومنین) ” بلکہ تم خود ایمان والے نہیں تھے۔ “ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی…
Read the full tafseer →25 انسان کو اپنے عمل کا بھگتان بھگتنا ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا " تم لوگوں کو بدلہ نہیں دیا جا رہا مگر تمہارے انہی کاموں کا جو تم خود کرتے رہے تھے "۔ پس کسی ظلم و زیادتی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ خود تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے اور۔ خود کردہ را علاجے نیست ۔ تو مشہور ہے ہی۔ یہیں سے علماء نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ وہ بچے جو چھوٹی عمر میں ہی مرجائیں وہ دوزخ میں نہیں جائیں گے اگرچہ وہ کفار ہی کے بچے کیوں نہ ہوں کہ انہوں نے ایسے کسی جرم و گناہ کا ارتکاب نہیں کیا تھا کہ انہوں نے گناہ کرنے کی عمر پائی ہی نہیں۔ سو رسول کی دعوت کا انکار کرنے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
میدان حشر میں کفار کا آپس میں جھگڑا
تشریح : آیات مذکورہ سے کفار کی فضول بحث مباحثہ کا پتہ چلتا ہے۔ اس کو ہم اس طرح واضح کرسکتے ہیں کہ ایک شخص کسی کے کہنے سے چوری کرلیتا ہے پکڑے جانے پر یہ عذر پیش کرتا ہے کہ ” فلاں کے کہنے سے میں نے چوری کی “۔ یہ عذر اس کو سزا سے تو نہ بچا سکے گا۔ بس یہی حال ان منکرین کا ہوگا جو ہدایت دینے والے کا مذاق اڑاتے رہے اور مسلسل شیطان کی فرمانبرداری کرتے رہے تو نتیجہ یہی ہوگا کہ دونوں ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور پیغمبر کا یہ کہنا بالکل سچ ہوجائے گا کہ ” تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے “۔ (آیت 39ـ الصافات) مگر اللہ کے مقبول بندے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
ف 15 یعنی ایسی روزی جو ان کے لئے مقرر ہوچکی ہے ہمیشہ ملتی رہے گی اور کبھی منقطع نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →(37:39) تجزون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ جزاء (باب ضرب) مصدر سے۔ تم جزا دئیے جائو گے۔ تم بدلہ دئیے جائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
(ف 1) قیامت کے دن جب ان لوگوں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا، جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے تو اس وقت ان کو یاد دلایا جائے گا کہ تم پر عذاب اسی سبب سے ہے کہ تم توحید کی باتیں اللہ کے رسول سے سن کر نخوت اور تکبر سے ان حق باتوں کو نہیں سنتے تھے اور رسول کریم کو شاعر اور دیوانہ بتلاتے تھے کیا ایک دیوانے کے کہنے ہم اپنے باپ دادا کے زمانہ کے معبودوں کو چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کا جواب دیا کہ ہمارے رسول کو شاعر کیسے کہتے ہیں جو دنیا میں خالص سچائی لے کر آیا ہے اور سارے جہان کے سچوں کی تصدیق کرتے ہیں یا مجنون اور دیوانے ایسے سچے صحیح اور پختہ اصول پیش کیا کرتے ہیں پس انکار توحید اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–48
[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے
لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
عقیدت مندی کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے
1: قیامت میں یہ عجیب لطف کی بات ہوگی ۔ کہ معتقدین اپنے مقتداوں کو ڈھونڈنے جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تم لوگ ہماری نجات کی ذمہ داری لیتے تھے ۔ اور کھلے بندوں کہتے تھے ۔ کہ ہماری عقیدت مندی تمہارے لئے بمعنی میں مفید ثابت ہوگی ۔ اور بجز ہماری اطاعت کے نجات اور سعادت کی سب راہیں مسدود ہیں ۔ آج ہم تکلیف میں ہیں ۔ عذاب الٰہی کو اپنے روبرو دیکھ رہے ہیں ۔ تمہماری مدد کرو ۔ اور عذاب سے چھڑاؤ۔ کہ کہیں گے غلط ہے ۔ ہم تمہاری بدبختی اور محرومی کے ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں ۔ ہمارے پاس کوئی قرت نہیں تھی ۔ کہ ہم مجبور کرکے تم کو اپنے حلقہ اراوت میں داخل کرتے ۔ تم…
Read the full tafseer →(39) اور تم کو بدلا نہیں دیا جائے گا مگر انہی اعمال کا جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی تابع اور متبوع سب عذاب درد ناک کا مزہ چکھنے والے ہیں اور تم کو صرف انہی اعمال کفریہ اور شرکیہ کا بدلہ ملنا ہے جن کا تم ارتکاب کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
ف 6۔ یعنی ایسے اصول بتلاتے ہیں جن میں سب مرسلین متفق ہیں۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ نے واضح کردیا کہ لوگو ! تم کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے تم اعمال کرو گے :
39۔ آپ ﷺ نے واضح کردیا کہ عمل اور اس کا نتیجہ لازم وملزوم ہیں جیسا تمہارا عمل ہوگا ویسا ہی اس کا نتیجہ ہوگا اور وہی عمل صحیح شمار ہوگا جو ان حدود وقیود کے اندر رہ کر کیا جائے گا جو اسلام نے مقرر کردی ہیں اور یہ کہ شرک سے بڑی کوئی برائی نہیں اس لیے مشرک کو اگر وہ شرک پر ہی مر گیا تو یقینا دوزخ رسید کردیا جائے گا اور مرنے کے بعد اس کے جتنے نیک اعمال ہوں گے ان کو بھی ضائع کردیا جائے گا اور قیامت کے روز اس کو اس کا کوئی عوض نہیں چکایا جائے گا بلکہ دنیوی زندی ہی میں اس کو اس کا اجر وصول ہوجائے گا کہ اس کے شرک کے باوجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
2. From verse 33: فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ (So, this day, they will be sharers in the punishment.), we learn that should a certain person invite someone else to participate in what is impermissible and use his clout to coax him into sin, then, he will certainly incur the punishment of so inviting that person to sin. But, a person who accepts his invitation of his volition and choice, he too cannot be absolved from the sin of his deed. He cannot appear in the Hereafter and get away by saying that he was made to go astray by this or that person. Yes, if he has not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
21 Confirmation of the Messengers has three meanings and all the three are implied here: (1) That he had not opposed any former Messenger so that the believers of that Messenger could have a rational ground of prejudice against him; he had rather confirmed all the former Messengers sent by God; (2) that he had not brought any new or novel thing, but he had presented the same that the former Messengers of God had been presenting from the very beginning; and (3) that he truly fulfilled and corresponded to the predictions that the former Messengers had made concerning him.
Read the full tafseer →