As-Saaffaat 37:35

As-Saaffaat · from ayah 35

37:35

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ یَسْتَكْبِرُوْنَ ۟ۙاِنَّهُمۡ كَانُوۡۤا اِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُۙ يَسۡتَكۡبِرُوۡنَۙ

ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed they, when it was said to them, "There is no deity but Allah," were arrogant

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:35

یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے" تو یہ گھمنڈ میں آ جاتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کا حال یہ تھا کہ جب ان سے یہ کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ اکڑ دکھاتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اونچی کھینچتے (تکبر کرتے) تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یقیناً وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں تو وہ تکبّر کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تکبر کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہیں جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ اکڑ بیٹھتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کا حال یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو یہ اکڑتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ حقیقت امر میں کوئی معبود نہیں سوائے اللہ (وحدہ لاشریک) کے تو یہ بڑائی کے گھمنڈ میں آ (کر بپھر) جاتے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ لوگ تکبر کیا کرتے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کا معاملہ یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ استکبار کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ تو غرور کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Whenever it was said to them: “There is no true deity apart from Allah,” they waxed proud

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They were those to whom when it was said: :There is no god but Allah , they waxed proud,

— Muhammad Taqi Usmani

They were those to whom when it was said: :There is no god but Allah , they waxed proud,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, when it was said to them: "La ilaha illallah," they puffed themselves up with pride.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For when it was said unto them, There is no Allah save Allah, they were scornful

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed they, when it was said to them, "There is no deity but Allah," were arrogant

— Saheeh International

They were the ones, who on being told, "God is only One," become puffed-up with pride

— Muhammad Sarwar

Surely they used to behave proudly when it was said to them: There is no god but Allah;

— Muhammad Habib Shakir

Verily when it was said Unto them: there is no god but Allah, they ever grew stiff-necked.

— Abdul Majid Daryabadi

For they, when they were told that there is no god except Allah, would puff themselves up with Pride,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–37

دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–36

سورة الصّٰٓفّٰت 20 یعنی پیرو بھی اور پیشوا بھی، گمراہ کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی، ایک ہی عذاب میں شریک ہوں گے۔ نہ پیروؤں کا یہ عذر مسموع ہوگا کہ وہ خود گمراہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کیا گیا تھا۔ اور نہ پیشواؤں کی اس معذرت کو قبول کیا جائے گا کہ گمراہ ہونے والے خود ہی راہ راست کے طالب نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–40

(2) (آیت) فانھم یومئذ فی العذاب مشترکون سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ناجائز کام کی دعوت دے اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو اسے دعوت گناہ کا عذاب تو بیشک ہوگا، لیکن جس شخص نے اس کو دعوت کو اپنے اختیار سے قبول کرلیا وہ بھی اپنے عمل سے بری نہیں ہو سکتا۔ وہ آخرت میں یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں پاسکتا کہ مجھے تو فلاں شخص نے گمراہ کیا تھا، ہاں اگر اس نے گناہ کا ارتکاب اپنے اختیار سے نہ کیا ہو بلکہ جبر واکراہ کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لئے کرلیا ہو تو انشاء اللہ اس کی معافی کی امید ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 34–36

انا کذلک نفعل بالمجرمین، انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون، وقولون اینا لتارکوآ ایھتینا لشاء مجنون (36-34) مجرمین قریش کا انجام آخرت میں پیش آنے والا ماجرن سکر اب یہ کلام کو مطابق حال کردیا کہ یہ صرف دوسروں ہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ تمام مجرموں کے ساتھ ہوگا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ جب ان کو دعوت دی جاتی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو وہ غرور سے اکڑتے اور کہتے کہ بھلا ہم ایک خبطی شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں ! تو جب یہی بات آج کے لوگ اپنے رسول کو کہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہی صورت ان کو پیش نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو تمام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

35۔ 1 یعنی دنیا میں ان سے کہا جاتا تھا کہ جس طرح مسلمانوں نے یہ کلمہ پڑھ کر شرک سے توبہ کرلی ہے، تم بھی یہ پڑھ لو، تاکہ تم دنیا میں بھی مسلمانوں کے قہر و غضب سے بچ جاؤ اور آخرت میں بھی عذاب الٰہی سے تمہیں دو چار نہ ہونا پڑے، تو تکبر کرتے اور انکار کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–47

8: مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ خود بہکے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے تمہیں بہکایا ضرور، لیکن ہمارے بہکانے سے تم کفر پر مجبور نہیں ہوگئے تھے، اگر تم ہمارے بہکائے میں نہ آتے تو ہمارا تم پر کوئی زور نہ چلتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–36

فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا : فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔ اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 34–35

3 یعنی ان کا کبرو غرور مانع ہے کہ نبی کے ارشاد سے یہ کلمہ (لا الہ الا اللہ) زبان پر لائیں جس سے ان کے جھوٹے معبودوں کی نفی ہوتی ہے خواہ دل میں اسے سچ ہی سمجھتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 35{ اِنَّہُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلََ لَہُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ } ”ان کا معاملہ یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ استکبار کرتے تھے۔“ جب بھی ان کے سامنے کلمہ توحید لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ کا ذکر کیا جاتا تو وہ اپنے گھمنڈ میں اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 خوشحال لوگوں کے اکڑنے کی تین وجوہ :۔ ان کے تکبر کی کئی وجوہ تھیں، ایک یہ کہ جب انہیں یہ بتایا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو تم اس میں اپنے بتوں اور معبودوں کی بھی توہین سمجھتے تھے، اپنی بھی اور اپنے آباء واجداد کی بھی لہذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے دوسری یہ کہ مشرکانہ رسوم کے رواج سے جو کچھ دنیوی مفادات حاصل کر رہے تھے اس سے انہیں دستبردار ہونا پڑتا تھا لہذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے، تیسری یہ کہ اگر وہ لا الہ الا اللہ کا دل سے اقرار کرتے تو انہیں اپنی چودھراہٹوں اور سرداریوں سے دستبردار ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا پڑتا تھی۔ لہذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–36

15۔ مشرکین عرب کا بیان ہورہا ہے کہ وہ دین جاہلیت کی ” تہذیب اعلی و برتر “ (SUPERIOR, CULTURE) پر نازاں ہیں، اور جب خالص اور کھری توحید ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو اسے قبول کرنے میں اور اپنے مشرکانہ عقائد سے دستبر دار ہونے میں اپنی کسر شان سمجھتے ہیں، اور پیغمبر کیلئے یہ نظریہ قائم کئے ہوئے کہ یہ تو ایک محض خیالی منصوبہ باز شخص ہے، اس کے کہے سے اپنے عقائد قدیم کیونکر بدل دیں۔ (آیت) ” بالمجرمین “۔ مجرمین سے مراد عام گنہگار نہیں، بلکہ جرم کفر کے مرتکبین مراد ہیں۔ اے بالمشرکین (بیضاوی۔ روح) اور صرف یہیں نہیں۔ بلکہ یہ لفظ اپنی مطلق صورت میں جہاں جہاں بھی قرآن مجید میں آیا ہے مراد کافر ہی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–50

آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون۔ ان کی حالت یہ تھی کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو بڑے بننے لگتے تھے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جب ان سے دنیا میں کہا جاتا تھا کہ اس بات کا اقرار کرلو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں تو یہ اس کے ماننے سے تکبر کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّهُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ : یہاں ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ سے پہلے ”قُوْلُوْا“ (کہو) محذوف ہے۔ ”إِنَّ“ تعلیل یعنی عذاب کی وجہ بیان کرنے کے لیے ہے۔ یعنی ان کے عذاب کی وجہ یہ ہے کہ جب انھیں کہا جاتا ہے کہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کہو اور توحید کا اقرار کرو تو اس سے تکبر کرتے تھے، یعنی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھی ماننے سے انکار کردیتے تھے اور اصل تکبر یہی ہے کہ حق بات کا انکار کردیا جائے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : (لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُوْنَ ثَوْبُہُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–35

احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–44

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّهُمْ [بیشک وہ لوگ ] كَانُوْٓا [(ایسے) تھے ] اِذَا [(کہ) جب کبھی ] قِيْلَ لَهُمْ [کہا جاتا تھا ان سے ] لَآ اِلٰهَ [کوئی الٰہ نہیں ہے ] اِلَّا اللّٰهُ ۙ [سوائے اللہ کے ] يَسْتَكْبِرُوْنَ [تو وہ تکبر کرتے تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–36

اتباع اور تابعین سب عذاب میں مشترک ہوں گے (فَاِِنَّہُمْ یَوْمَءِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ ) (ارشاد خداوندی ہے کہ وہ سب لوگ تابع اور متبوع، بڑے اور چھوٹے اس دن عذاب میں شریک ہوں گے) (اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بالْمُجْرِمِیْنَ ) (بلاشبہ ہم مجرمین کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں) مشرکوں اور کافروں کے لیے عذاب طے شدہ ہے جس میں وہ ضرور مبتلا ہوں گے۔ (اِِنَّہُمْ کَانُوْا اِِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ ) (بےشک جب ان کے سامنے معبود برحق کی الوہیت کی دعوت دی جاتی تھی اور ان کے سامنے مضمون لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ بیان کیا جاتا تھا تو تکبر کرتے تھے یعنی اس کلمہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–57

احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17:۔ انھم کانوا الخ :۔ یہ زجر ہے مع شکوی۔ ان مجرمین کا جرم کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا ؟ ان کا جرم یہ ہے کہ دنیا میں جب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی اور ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ کے سوا کوئی کارساز، حاجت روا، مشکل کشا اور متصرف و مختار نہیں۔ ہر قسم کی عبادت اور دعا پکار کے لائق بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو یہ اس دعوت کو نہیں مانتے تھے اور اس کے قبول کرنے سے استکبار کرتے تھے۔ ویقولون ائنا لتارکوا الہتنا الخ، نیز یہ مجرمین کہا کرتے تھے کیا ہم اس دیوانے شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھور دیں ؟ مشرکین کا آنحضرت ﷺ کے حق میں، شاعر مجنون، کہنا سراسر ہذہان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَہُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ۝ 0 ۙ يَسْتَكْبِرُوْنَ۝ 35ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 34–36

اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ۔ اِنَّہُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ لا یَسْتَـکْبِرُوْنَ ۔ وَیَـقُوْلُوْنَ اَئِنَّالَتَا رِکُوْٓا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍمَّجْنُوْنٍ ۔ (الصآفات : 34 تا 36) (ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ ) گزشتہ آیت کی مزید وضاحت گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے دین سے برگشتگی اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 35–39

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا سب سے بڑا جرم۔ جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کا سب سے بڑا جرم یہ ہوگا کہ وہ ” لَا اِلٰٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کے منکر ہوں گے۔ دنیا میں جب بھی ایسے لوگوں کو انبیائے کرام یا ان کے سچے جانشینوں نے ” لَا اِلٰٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کی دعوت دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ لوگوں کی غالب اکثریت نے اس دعوت کے ساتھ تکبر کا مظاہرہ کیا۔ مشرک کی عادت ہے کہ جوں ہی اسے توحیدِخالص کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ منہ بسوڑتا اور تکبر کا اظہار کرتا ہے۔ دعوت توحید کے ساتھ تکبر کرنے والوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور نبی آخر الزّماں کی دعوت کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

35: اِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ (وہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو تکبر کیا کرتے تھے) بلاشبہ یہ کلمہ توحید سن کر تکبر کرتے اور شرک کے علاوہ ہر چیز کا انکار کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35، انھم کانو ا اذاقیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون، وہ کلمہ توحید سے تکبر کرتے اور اسی سے لوگوں کو روکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–50

35۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–39

آیت 28 جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے رساتوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤسا سے کہیں گے : (انکم کنتم تاتوننا عن الیمین) ” تمہیں ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ “ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔ (قالوا) سردار ان کو جواب دیں گے : (بل لم تکونوا مومنین) ” بلکہ تم خود ایمان والے نہیں تھے۔ “ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 35–36

23 استکبار خرابیوں کی خرابی اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی تو یہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر بپھر جاتے۔ سو یہ ہے وہ اصل سبب جو ان کے اس انجام بد کا باعث بنا کہ عقیدئہ توحید قبول کرنا اور صرف ایک خدا کا ہو کر رہنا، اسی کی بندگی کرنا اور ہر حاجت میں صرف اسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ان مشرکوں کو منظور نہیں تھا۔ کل کا کھلا مشرک بھی اسی مرض میں مبتلا تھا اور آج کے کلمہ گو مشرک کا بھی یہی حال ہے۔ توحید کا عقیدئہ صافیہ نہ اسے گوارا تھا نہ اسے برداشت ہے۔ اپنی سیادت و قیادت اور اپنی بڑائی اور کھڑ پنچی کے زعم فاسد اور جھوٹے گھمنڈ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–40

میدان حشر میں کفار کا آپس میں جھگڑا تشریح : آیات مذکورہ سے کفار کی فضول بحث مباحثہ کا پتہ چلتا ہے۔ اس کو ہم اس طرح واضح کرسکتے ہیں کہ ایک شخص کسی کے کہنے سے چوری کرلیتا ہے پکڑے جانے پر یہ عذر پیش کرتا ہے کہ ” فلاں کے کہنے سے میں نے چوری کی “۔ یہ عذر اس کو سزا سے تو نہ بچا سکے گا۔ بس یہی حال ان منکرین کا ہوگا جو ہدایت دینے والے کا مذاق اڑاتے رہے اور مسلسل شیطان کی فرمانبرداری کرتے رہے تو نتیجہ یہی ہوگا کہ دونوں ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور پیغمبر کا یہ کہنا بالکل سچ ہوجائے گا کہ ” تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے “۔ (آیت 39ـ الصافات) مگر اللہ کے مقبول بندے !

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:35) انہم میں ضمیر جمع مذکر غائب مشترکون کی طرف راجع ہے۔ کانوا یستکبرون۔ ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ وہ تکبر کیا کرتے تھے۔ وہ بڑے بنتے تھے۔ وہ استکبار کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–40

(ف 1) قیامت کے دن جب ان لوگوں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا، جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے تو اس وقت ان کو یاد دلایا جائے گا کہ تم پر عذاب اسی سبب سے ہے کہ تم توحید کی باتیں اللہ کے رسول سے سن کر نخوت اور تکبر سے ان حق باتوں کو نہیں سنتے تھے اور رسول کریم کو شاعر اور دیوانہ بتلاتے تھے کیا ایک دیوانے کے کہنے ہم اپنے باپ دادا کے زمانہ کے معبودوں کو چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کا جواب دیا کہ ہمارے رسول کو شاعر کیسے کہتے ہیں جو دنیا میں خالص سچائی لے کر آیا ہے اور سارے جہان کے سچوں کی تصدیق کرتے ہیں یا مجنون اور دیوانے ایسے سچے صحیح اور پختہ اصول پیش کیا کرتے ہیں پس انکار توحید اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–48

[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–38

ف 1: مکہ والوں میں یہ مسئلہ ہمیشہ حیرت واستعجاب کا موجب رہا ۔ کہ انسان مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجائیں گے وہ بار بار یہ کہتے تھے ۔ کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی ۔ کہ کیونکر بوسیدہ ہڈیوں میں جان ڈال دی جائے گی ۔ قرآن نے اس حقیقت نفس الامرکو ایمان کا ایک جزو قرار دیا ۔ اور کہا کہ اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے ۔ اللہ جب چاہے گا ۔ ایک ادنیٰ اشارے میں ساری کائنات کا اٹھا کھڑا کرے گا ۔ جب یہ لوگ اپنے کو اللہ کے سامنے موجود پائیں گے ۔ عجیب حالت میں ہوں گے ۔ تب ان کی آنکھیں کھلیں گی ۔ اور دیکھیں گے کہ آہ یہ تو وہی دن ہے جس کا ہم انکار کرتے تھے ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ ہاں یہ وہی روز مکافات ہے ۔ جس کی تکذیب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(35) یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی حقیقی معبود نہیں تو یہ تکبر کا اظہار کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–35

ف 4۔ یعنی ہم پر خوب زور ڈال کر ہمارے اضلال کا اہتمام اور اس میں سعی کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کا حال تو یہ تھا کہ جب کہا جاتا کہ اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے ۔ 35۔ ہاں : بلاشبہ جب ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام توحید لے کر آتے تھے اور ان کے ہاں آکر کلمہ توحید کی صدا بلند کرتے تھے تو یہ و ڈیرے تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے تھے اور ان کے ھواری کلمہ طیبہ کی صدا کو روکنے کے لیے ان کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے اور ان کو ڈرا دھمکا کر وہاں سے بھگا دیتے تھے اور یہی حال ان وڈیروں کا تھا کہ وہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے کہ ہمارے گماشتے نے ان کی خوب خبر لی ان مشرکوں کو اگر یہ کہا جاتا کہ شرک کرنا چھوڑ دو اور صرف ایک الہ کو مانو اور لا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–40

2. From verse 33: فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِ‌كُونَ (So, this day, they will be sharers in the punishment.), we learn that should a certain person invite someone else to participate in what is impermissible and use his clout to coax him into sin, then, he will certainly incur the punishment of so inviting that person to sin. But, a person who accepts his invitation of his volition and choice, he too cannot be absolved from the sin of his deed. He cannot appear in the Hereafter and get away by saying that he was made to go astray by this or that person. Yes, if he has not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–36

20 That is, the followers as well as the guides, misleaders as well as the misled, All shall suffer the same torment. Neither will the followers' excuse be heeded that they did not go astray but had been led astray, nor the guides' excuse accepted that the people themselves were not desirous of following the right way.

Read the full tafseer →