Explained with ayahs 27–37
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔
کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
سورة الصّٰٓفّٰت 20
یعنی پیرو بھی اور پیشوا بھی، گمراہ کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی، ایک ہی عذاب میں شریک ہوں گے۔ نہ پیروؤں کا یہ عذر مسموع ہوگا کہ وہ خود گمراہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کیا گیا تھا۔ اور نہ پیشواؤں کی اس معذرت کو قبول کیا جائے گا کہ گمراہ ہونے والے خود ہی راہ راست کے طالب نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
(2) (آیت) فانھم یومئذ فی العذاب مشترکون سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ناجائز کام کی دعوت دے اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو اسے دعوت گناہ کا عذاب تو بیشک ہوگا، لیکن جس شخص نے اس کو دعوت کو اپنے اختیار سے قبول کرلیا وہ بھی اپنے عمل سے بری نہیں ہو سکتا۔ وہ آخرت میں یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں پاسکتا کہ مجھے تو فلاں شخص نے گمراہ کیا تھا، ہاں اگر اس نے گناہ کا ارتکاب اپنے اختیار سے نہ کیا ہو بلکہ جبر واکراہ کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لئے کرلیا ہو تو انشاء اللہ اس کی معافی کی امید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
انا کذلک نفعل بالمجرمین، انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون، وقولون اینا لتارکوآ ایھتینا لشاء مجنون (36-34)
مجرمین قریش کا انجام
آخرت میں پیش آنے والا ماجرن سکر اب یہ کلام کو مطابق حال کردیا کہ یہ صرف دوسروں ہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ تمام مجرموں کے ساتھ ہوگا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ جب ان کو دعوت دی جاتی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو وہ غرور سے اکڑتے اور کہتے کہ بھلا ہم ایک خبطی شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں ! تو جب یہی بات آج کے لوگ اپنے رسول کو کہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہی صورت ان کو پیش نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو تمام…
Read the full tafseer →34۔ 1 یعنی ہر قسم کے گناہ گاروں کے ساتھ ہمارا یہی معاملہ ہے اور اب وہ سب ہمارا عذاب بھگتیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
8: مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ خود بہکے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے تمہیں بہکایا ضرور، لیکن ہمارے بہکانے سے تم کفر پر مجبور نہیں ہوگئے تھے، اگر تم ہمارے بہکائے میں نہ آتے تو ہمارا تم پر کوئی زور نہ چلتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا :
فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔
اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
3 یعنی ان کا کبرو غرور مانع ہے کہ نبی کے ارشاد سے یہ کلمہ (لا الہ الا اللہ) زبان پر لائیں جس سے ان کے جھوٹے معبودوں کی نفی ہوتی ہے خواہ دل میں اسے سچ ہی سمجھتے ہوں۔
Read the full tafseer →آیت 34{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ } ”یقینا ہم مجرموں کے ساتھ ایسے ہی کیا کرتے ہیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
17 اس کے جواب میں ان کے قائد، لیڈر اور پیشوا حضرات یہ جواب دیں گے کہ تم خود مجرم ضمیر تھے تم نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا تھا کہ ہمارے ساتھ لگ جاؤ۔ ہم نے زبردستی تمہیں اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کیا تھا نہ ہم میں کوئی ایسا زور اور طاقت تھی۔ آج تم خواہ مخواہ ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہو۔ لہذا جیسے مجرم ہم ہیں ویسے ہی تم بھی مجرم ہو۔ اگر ہم گمراہ تھے تو ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہوسکتی ہے ہم نے وہی کچھ کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا۔ مگر تمہیں اپنی عقل اور عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہئے تھا۔ آج تو ہم سب کو اپنی غلط کاریوں کا مزہ چکھنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
15۔ مشرکین عرب کا بیان ہورہا ہے کہ وہ دین جاہلیت کی ” تہذیب اعلی و برتر “ (SUPERIOR, CULTURE) پر نازاں ہیں، اور جب خالص اور کھری توحید ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو اسے قبول کرنے میں اور اپنے مشرکانہ عقائد سے دستبر دار ہونے میں اپنی کسر شان سمجھتے ہیں، اور پیغمبر کیلئے یہ نظریہ قائم کئے ہوئے کہ یہ تو ایک محض خیالی منصوبہ باز شخص ہے، اس کے کہے سے اپنے عقائد قدیم کیونکر بدل دیں۔ (آیت) ” بالمجرمین “۔ مجرمین سے مراد عام گنہگار نہیں، بلکہ جرم کفر کے مرتکبین مراد ہیں۔ اے بالمشرکین (بیضاوی۔ روح) اور صرف یہیں نہیں۔ بلکہ یہ لفظ اپنی مطلق صورت میں جہاں جہاں بھی قرآن مجید میں آیا ہے مراد کافر ہی ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →انا کذلک نفعل بالمجرمین بلاشبہ ہم تمام مجرموں (اور مشرکوں) کے ساتھ ایسا ہی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
(31۔ 34) ہم سب پر ہمارے رب کا عذاب و ناراضگی ثابت ہوچکی ہے اب ہم سب کو دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھنا ہے۔
ہم نے تمہیں گمراہ کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے۔ وہ سب کے سب قیامت کے دن عذاب میں شریک رہیں گے ہم مشرکین کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بالْمُجْرِمِيْنَ : مجرمین سے مراد کفار و مشرکین ہیں، کیونکہ آگے آ رہا ہے کہ وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے تکبر کرتے تھے۔ یعنی ان کے ساتھ ہم یہی سلوک کرتے ہیں کہ جس طرح وہ جرم میں باہم شریک تھے، عذاب میں بھی باہم شریک ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…
Read the full tafseer →اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ [بیشک اسی طرح ہم کرتے ہیں ] بِالْمُجْرِمِيْنَ [مجرموں کے ساتھ ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
اتباع اور تابعین سب عذاب میں مشترک ہوں گے
(فَاِِنَّہُمْ یَوْمَءِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ ) (ارشاد خداوندی ہے کہ وہ سب لوگ تابع اور متبوع، بڑے اور چھوٹے اس دن عذاب میں شریک ہوں گے) (اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بالْمُجْرِمِیْنَ ) (بلاشبہ ہم مجرمین کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں) مشرکوں اور کافروں کے لیے عذاب طے شدہ ہے جس میں وہ ضرور مبتلا ہوں گے۔ (اِِنَّہُمْ کَانُوْا اِِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ ) (بےشک جب ان کے سامنے معبود برحق کی الوہیت کی دعوت دی جاتی تھی اور ان کے سامنے مضمون لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ بیان کیا جاتا تھا تو تکبر کرتے تھے یعنی اس کلمہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–57
احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید
فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔
فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
گے۔ 16:۔ انا کذلک الخ :۔ مشرکین (خواہ شرک کے امام اور پیشوا ہوں، خواہ مشرک پیشواؤں کے پیرو ہوں) سے ہم یہی سلوک کیا کرتے ہیں، ان کے لیے عذاب جہنم کا فیصلہ اٹل ہے اور ان کے لیے معافی کی کوئی صورت نہیں مجرمین سے مشرکین مراد ہیں۔ قال ابن عباس الذین جعلوا للہ شرکاء (خازن و معالم ج 6 ص 21) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–35
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے…
Read the full tafseer →اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ 34
فعل
الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله،
(ع ل ) الفعل
کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔
جرم
أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة :
ردیء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
3 ؎ یعنی قسمت کا لکھا ہوا پیش آیا ہم کیا کریں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ۔ اِنَّہُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ لا یَسْتَـکْبِرُوْنَ ۔ وَیَـقُوْلُوْنَ اَئِنَّالَتَا رِکُوْٓا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍمَّجْنُوْنٍ ۔ (الصآفات : 34 تا 36)
(ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ )
گزشتہ آیت کی مزید وضاحت
گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے دین سے برگشتگی اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
فہم القرآن
ربط کلام : جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو قیامت کو جھٹلانے والوں سے سوال ہوگا۔
جب حساب و کتاب کے بعد مجرمین کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے۔ ملائکہ انہیں ہانک کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہونگے تو ذات کبریاء کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں چند لمحے ٹھہرایا جائے۔ جہنمی کہیں گے کہ شاید ہمیں کوئی رعایت دی جارہی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ تمہیں کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ اگر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو ! اس وقت حالت یہ ہوگی کہ پیر اور ان کے مرید، لیڈر اور ان کے ور کر، عابد، اور ان کے معبود…
Read the full tafseer →34: اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ (ہم ایسے مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں) مجرمین سے مشرکین مراد ہیں۔ اِنَّا (بلاشبہ) اس جیسا فعل ہم ہر مجرم سے کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →34، انا کذلک نفعل با لمجرمین، ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جنہوں نے اللہ کے لیے شریک بنارکھے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–39
آیت 28
جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے رساتوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤسا سے کہیں گے : (انکم کنتم تاتوننا عن الیمین) ” تمہیں ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ “ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔ (قالوا) سردار ان کو جواب دیں گے : (بل لم تکونوا مومنین) ” بلکہ تم خود ایمان والے نہیں تھے۔ “ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
22 گمراہ لیڈر اور ان کے پیرو دونوں جہنم میں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن وہ سب ہی عذاب میں شریک ہوں گے۔ یعنی تابع و متبوع، گرو و چیلے اور گمراہ پیر و مرید وغیرہ وغیرہ۔ سب کے سب اس عذاب میں گرفتار ہوں گے مگر اس سے ان اعتراض کرنے والوں کو کیا فائدہ ؟ ۔ { وَلَنْ یَّنْفَعَکُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّکُمْ فِی العَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ } ۔ (الزخرف : 39) ۔ سو اس دن عوام کا یہ عذر ان کو کچھ بھی کام نہ آئیگا کہ ان کی گمراہی کے ذمہ دار دوسرے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو اتنی عقل دی ہے کہ وہ حق اور باطل کے درمیان فرق و امتیاز کرسکے۔ خاص کر ایسی صورت میں جبکہ باطل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
میدان حشر میں کفار کا آپس میں جھگڑا
تشریح : آیات مذکورہ سے کفار کی فضول بحث مباحثہ کا پتہ چلتا ہے۔ اس کو ہم اس طرح واضح کرسکتے ہیں کہ ایک شخص کسی کے کہنے سے چوری کرلیتا ہے پکڑے جانے پر یہ عذر پیش کرتا ہے کہ ” فلاں کے کہنے سے میں نے چوری کی “۔ یہ عذر اس کو سزا سے تو نہ بچا سکے گا۔ بس یہی حال ان منکرین کا ہوگا جو ہدایت دینے والے کا مذاق اڑاتے رہے اور مسلسل شیطان کی فرمانبرداری کرتے رہے تو نتیجہ یہی ہوگا کہ دونوں ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور پیغمبر کا یہ کہنا بالکل سچ ہوجائے گا کہ ” تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے “۔ (آیت 39ـ الصافات) مگر اللہ کے مقبول بندے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 11 یعنی کلمہ توحید کو قبول کرنا اپنی کسر شان سمجھتے تھے۔
Read the full tafseer →(37: 34) المجرمین۔ اسم فاعل جمع مذکر مجرور۔ بمعنی کفار ومشرکین۔ اپنی مطلق صورت میں یہ لفظ جہاں جہاں قرآن مجید میں آیا ہے اس سے مراد کافرہی ہیں۔
مشترکون۔ اسم فاعل جمع مذکر مشترک واحد اشتراک (افتعال) مصدر۔ شریک ہونے والے۔ ساجھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔
(ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔
(1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–48
[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے
لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
ف 1: مکہ والوں میں یہ مسئلہ ہمیشہ حیرت واستعجاب کا موجب رہا ۔ کہ انسان مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجائیں گے وہ بار بار یہ کہتے تھے ۔ کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی ۔ کہ کیونکر بوسیدہ ہڈیوں میں جان ڈال دی جائے گی ۔ قرآن نے اس حقیقت نفس الامرکو ایمان کا ایک جزو قرار دیا ۔ اور کہا کہ اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے ۔ اللہ جب چاہے گا ۔ ایک ادنیٰ اشارے میں ساری کائنات کا اٹھا کھڑا کرے گا ۔ جب یہ لوگ اپنے کو اللہ کے سامنے موجود پائیں گے ۔ عجیب حالت میں ہوں گے ۔ تب ان کی آنکھیں کھلیں گی ۔ اور دیکھیں گے کہ آہ یہ تو وہی دن ہے جس کا ہم انکار کرتے تھے ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ ہاں یہ وہی روز مکافات ہے ۔ جس کی تکذیب…
Read the full tafseer →(34) ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
ف 4۔ یعنی ہم پر خوب زور ڈال کر ہمارے اضلال کا اہتمام اور اس میں سعی کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں :
34۔ آج ہم مجرموں کے درمیان برابری ہی کا سلوک کریں گے اور ہمارے ہاں چھوٹے بڑے کا کوئی لحاظ نہیں ہوگا ۔ ہمارا نہ تو کسی سے کسی قسم کا کوئی بیر ہے اور نہ ہی ہم کسی کے پیار کے مارے ہیں کہ اب جو وہ کہے ہم کو کرنا پڑے ہمارے ہاں اصل مساوات ہے یہاں سب کے لیے ایک جیسا کڑوا ہے اور ایک جیسا میٹھا اور جو کچھ دیا جائے گا اس لیے نہیں کہ کسی کو ہم میٹھا ہی دیں گے اور کسی کو کڑوا یہ اعمال پر ہے کہ کون میٹھے کا مستحق قرار پاتا ہے اور کون کڑوے پر گزران کرتا ہے یہاں تو ” عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
2. From verse 33: فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ (So, this day, they will be sharers in the punishment.), we learn that should a certain person invite someone else to participate in what is impermissible and use his clout to coax him into sin, then, he will certainly incur the punishment of so inviting that person to sin. But, a person who accepts his invitation of his volition and choice, he too cannot be absolved from the sin of his deed. He cannot appear in the Hereafter and get away by saying that he was made to go astray by this or that person. Yes, if he has not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
20 That is, the followers as well as the guides, misleaders as well as the misled, All shall suffer the same torment. Neither will the followers' excuse be heeded that they did not go astray but had been led astray, nor the guides' excuse accepted that the people themselves were not desirous of following the right way.
Read the full tafseer →