As-Saaffaat 37:36

As-Saaffaat · from ayah 36

37:36

وَیَقُوْلُوْنَ اَىِٕنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ ۟ؕوَيَقُوۡلُوۡنَ اَئِنَّا لَتٰرِكُوۡۤا اٰلِهَـتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجۡـنُوۡنٍ

اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And were saying, "Are we to leave our gods for a mad poet?"

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:36

اور کہتے تھے "کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کہا کرتے تھے کہ : کیا ہم ایسے ہیں کہ ایک دیوانے شاعر کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑ بیٹھیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہتے تھے کیا ہم اپنے خداؤں کو چھوڑدیں ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کہتے تھے: کیا ہم ایک دیوانے شاعر کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کہتے تھے کیا واقعی ہم یقینا اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی خاطر چھوڑ دینے والے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کہتے تھے : کیا ہم ایک دیوانہ شاعر کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ سکتے ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک شاعر دیوانہ کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے کہ کیا ہم چھوڑ دیں گے اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کے کہنے پر ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں گے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون شاعر کی خاطر چھوڑ دیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے، کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and said: “Shall we forsake our deities for the sake of a distracted poet?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and used to say, :Are we really to leave our gods because of an insane poet?

— Muhammad Taqi Usmani

and used to say, :Are we really to leave our gods because of an insane poet?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (they) said: "Are we going to abandon our gods for the sake of a mad poet"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And said: Shall we forsake our gods for a mad poet?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And were saying, "Are we to leave our gods for a mad poet?"

— Saheeh International

and said, "Should we give up our idols for the sake of an insane poet".

— Muhammad Sarwar

And to say: What! shall we indeed give up our gods for the sake of a mad poet?

— Muhammad Habib Shakir

And they said: are we going to abandon our gods on account of a Poet distracted?

— Abdul Majid Daryabadi

And say: "What! shall we give up our gods for the sake of a Poet possessed?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–37

دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–36

سورة الصّٰٓفّٰت 20 یعنی پیرو بھی اور پیشوا بھی، گمراہ کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی، ایک ہی عذاب میں شریک ہوں گے۔ نہ پیروؤں کا یہ عذر مسموع ہوگا کہ وہ خود گمراہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کیا گیا تھا۔ اور نہ پیشواؤں کی اس معذرت کو قبول کیا جائے گا کہ گمراہ ہونے والے خود ہی راہ راست کے طالب نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–40

(2) (آیت) فانھم یومئذ فی العذاب مشترکون سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ناجائز کام کی دعوت دے اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو اسے دعوت گناہ کا عذاب تو بیشک ہوگا، لیکن جس شخص نے اس کو دعوت کو اپنے اختیار سے قبول کرلیا وہ بھی اپنے عمل سے بری نہیں ہو سکتا۔ وہ آخرت میں یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں پاسکتا کہ مجھے تو فلاں شخص نے گمراہ کیا تھا، ہاں اگر اس نے گناہ کا ارتکاب اپنے اختیار سے نہ کیا ہو بلکہ جبر واکراہ کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لئے کرلیا ہو تو انشاء اللہ اس کی معافی کی امید ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 34–36

انا کذلک نفعل بالمجرمین، انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون، وقولون اینا لتارکوآ ایھتینا لشاء مجنون (36-34) مجرمین قریش کا انجام آخرت میں پیش آنے والا ماجرن سکر اب یہ کلام کو مطابق حال کردیا کہ یہ صرف دوسروں ہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ تمام مجرموں کے ساتھ ہوگا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ جب ان کو دعوت دی جاتی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو وہ غرور سے اکڑتے اور کہتے کہ بھلا ہم ایک خبطی شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں ! تو جب یہی بات آج کے لوگ اپنے رسول کو کہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہی صورت ان کو پیش نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو تمام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 یعنی انہوں نے نبی کریم ﷺ کو شاعر اور مجنون کہا اور آپ کی دعوت کو جنون (دیوانگی) اور قرآن کو شعر سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایک دیوانے کی دیوانگی پر ہم اپنے معبودوں کو کیوں چھوڑیں ؟ حالانکہ یہ دیوانگی نہیں، دانائی تھی، شاعری نہیں، حقیقت تھی اور اس دعوت کو اپنانے میں ان کی ہلاکت نہیں، نجات تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–47

8: مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ خود بہکے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے تمہیں بہکایا ضرور، لیکن ہمارے بہکانے سے تم کفر پر مجبور نہیں ہوگئے تھے، اگر تم ہمارے بہکائے میں نہ آتے تو ہمارا تم پر کوئی زور نہ چلتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–36

فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا : فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔ اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–37

4 یعنی شاعروں کا جھوٹ تو مشہور ہے۔ پھر اس راستباز ہستی کو شاعر کیسے کہتے ہو جو دنیا میں خالص سچائی لے کر آیا ہے اور سارے جہان کے سچوں کی تصدیق کرتا ہے۔ کیا مجنون اور دیوانے ایسے صحیح اور پختہ اصول پیش کیا کرتے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 36{ وَیَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِکُوْٓا اٰلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ } ”اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون شاعر کی خاطر چھوڑ دیں !“ حضور ﷺ کی شان میں یہ لوگ ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم ان کے کہنے پر اپنے ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہم کئی نسلوں سے پرستش کرتے آئے ہیں !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 شاعر اور نبی کا فرق :۔ تمام پیغمبروں کو اور اسی طرح رسول اللہ کو بھی شاعر اور مجنوں کے القابات سے نوازا جاتا رہا ہے۔ شاعر کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ فصیح اور منظوم زبان میں اپنے تخیل کی بلندی اور نکتہ آفرینی یوں پیش کرتا ہے کہ اس سے سننے والے پر عارضی اور وقتی طور پر ایک وجدانی سی کیفیت آجاتی ہے۔ قرآن کریم گو بحر اور اوزان سے مبرا ہے لیکن دل میں اتر جانے کے لحاظ سے اس میں شعر سے بھی زیادہ تاثیر پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ مماثلت کی بنا پر آپ کو شاعر بھی کہا جاتا رہا ہے۔ حالانکہ شاعر اور نبی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ شاعر کے کلام میں جب تک جھوٹ، مبالغہ اور غلو شامل نہ ہو اس میں کچھ دلکشی پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–36

15۔ مشرکین عرب کا بیان ہورہا ہے کہ وہ دین جاہلیت کی ” تہذیب اعلی و برتر “ (SUPERIOR, CULTURE) پر نازاں ہیں، اور جب خالص اور کھری توحید ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو اسے قبول کرنے میں اور اپنے مشرکانہ عقائد سے دستبر دار ہونے میں اپنی کسر شان سمجھتے ہیں، اور پیغمبر کیلئے یہ نظریہ قائم کئے ہوئے کہ یہ تو ایک محض خیالی منصوبہ باز شخص ہے، اس کے کہے سے اپنے عقائد قدیم کیونکر بدل دیں۔ (آیت) ” بالمجرمین “۔ مجرمین سے مراد عام گنہگار نہیں، بلکہ جرم کفر کے مرتکبین مراد ہیں۔ اے بالمشرکین (بیضاوی۔ روح) اور صرف یہیں نہیں۔ بلکہ یہ لفظ اپنی مطلق صورت میں جہاں جہاں بھی قرآن مجید میں آیا ہے مراد کافر ہی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–50

آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویقولون ئانا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون اور کہتے تھے : کیا ہم ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے ؟ شاعر مجنون سے ان کی مراد تھی رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک۔ اللہ کے ان کے قول کی تردید میں فرمایا :

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 36–39

(36۔ 39) اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کی عبادت کو ایک شاعر دیوانہ یعنی رسول اکرم کی وجہ سے چھوڑ دیں بلکہ آپ تو قرآن کریم اور توحید کا حکم لے کر آئے ہیں اور پہلے پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں۔ اے مکہ والو تم سب کو دوزخ کا دردناک عذاب چکھنا پڑے گا اور تمہیں آخرت میں اسی چیز کا بدلہ ملے گا جو تم دنیا میں کفر و شرک کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَقُوْلُوْنَ اَىِٕنَّا لَتَارِكُوْٓا اٰلِـهَتِنَا : یعنی وہ کلمہ توحید کی دعوت کے جواب میں کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو، جن کی عبادت ہم اور ہمارے آباء کرتے چلے آئے ہیں، ایک دیوانے شاعر کے کہنے پر چھوڑ دیں ؟ اس سے ان کی مراد نبی کریم ﷺ تھے۔ ان ظالموں نے حق سے انکار ہی کو کافی نہیں سمجھا، بلکہ سارے جہان سے زیادہ علم و عقل والے شخص کو دیوانہ اور شاعر قرار دیا۔ حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کا شعر اور شعراء سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی آپ دیوانے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں ان کا جواب دیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–40

کیا ہم شاعرو مجنوں کے کہنے سے اپنے معبودوں کو ترک کردیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان پر اس قول کو رد کردیا۔ حق سے مراد قرآن اور توحید ہے بلکہ وہ تو قران لایا اور توحید کا سبق دیا اور رسول جو توحید کا پیغام ائے تھے ان کی تصدیق کی انکم لذائقوا الغذب الالیم تم عذاب الیم چکھنے والے ہو۔ لذابقوا اصل میں لذاتون تھا نون استخفاف کے لئے حذف کردی گئی اور اضافت کی وجہ سے ما بعد کو العذاب الالیم کسرہ دیا گیا۔ اس میں نصب پڑھنا بھی جائز ہے جس طرح سیبویہ نے شعر کو پڑھا : ٖٖفالفیتہ غیر مستعتب ولا ذاکر اللہ الا قلیلا ” میں نے اسے پایا کہ وہ رضامندی کا طالب نہیں تھا اور وہ اللہ کا زکر بھی تھوڑا کرتا تھا “ سیبویہ نے اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–44

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَقُوْلُوْنَ [اور کہتے تھے ] اَىِٕنَّا [کیا (بھلا) ہم ] لَتَارِكُوْٓا اٰلِـهَتِنَا [کہیں اپنے الٰہوں کو چھوڑنے والے ہیں ] لِشَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ [ایک مجنون شاعر کے لئے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–36

اتباع اور تابعین سب عذاب میں مشترک ہوں گے (فَاِِنَّہُمْ یَوْمَءِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ ) (ارشاد خداوندی ہے کہ وہ سب لوگ تابع اور متبوع، بڑے اور چھوٹے اس دن عذاب میں شریک ہوں گے) (اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بالْمُجْرِمِیْنَ ) (بلاشبہ ہم مجرمین کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں) مشرکوں اور کافروں کے لیے عذاب طے شدہ ہے جس میں وہ ضرور مبتلا ہوں گے۔ (اِِنَّہُمْ کَانُوْا اِِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ ) (بےشک جب ان کے سامنے معبود برحق کی الوہیت کی دعوت دی جاتی تھی اور ان کے سامنے مضمون لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ بیان کیا جاتا تھا تو تکبر کرتے تھے یعنی اس کلمہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–57

احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 36–37

18:۔ بل جاء بالحق الخ :۔ یہ مشرکین کے ہذیان کا جواب ہے ہمارا پیغمبر ﷺ شاعر ہے نہ دیوانہ بلکہ وہ توحید کا پیغام لے کر آیا ہے۔ جس کی سچائی اور حقانیت پر تمام انبیاء (علیہم السلام) کا اجماع ہے اور جس پر عقل و نقل اور انفس و آفاق کے دلائل قائم ہیں۔ اس طرح آپ نے تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) کی دعوت توحید میں تصدیق کی ہے۔ اس لیے آپ شاعر ہیں نہ مجنون، کیونکہ شعراء کا کلام حق و باطل اور رطب و یابس پر مشتمل ہوتا ہے اور دیوانوں کی باتیں بےتکی اور لایعنی ہوتی ہیں۔ لیکن پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت اور آپ کا لایا ہوا قرآن شعر و جنون کی خامیوں اور کمزوریوں سے بالکل پاک و مبرا ہے۔ رد علیہم و تکذیب لہم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–61

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَقُوْلُوْنَ اَىِٕنَّا لَتَارِكُوْٓا اٰلِـہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ۝ 36ۭ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 34–36

اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ۔ اِنَّہُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ لا یَسْتَـکْبِرُوْنَ ۔ وَیَـقُوْلُوْنَ اَئِنَّالَتَا رِکُوْٓا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍمَّجْنُوْنٍ ۔ (الصآفات : 34 تا 36) (ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ ) گزشتہ آیت کی مزید وضاحت گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے دین سے برگشتگی اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 35–39

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا سب سے بڑا جرم۔ جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کا سب سے بڑا جرم یہ ہوگا کہ وہ ” لَا اِلٰٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کے منکر ہوں گے۔ دنیا میں جب بھی ایسے لوگوں کو انبیائے کرام یا ان کے سچے جانشینوں نے ” لَا اِلٰٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کی دعوت دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ لوگوں کی غالب اکثریت نے اس دعوت کے ساتھ تکبر کا مظاہرہ کیا۔ مشرک کی عادت ہے کہ جوں ہی اسے توحیدِخالص کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ منہ بسوڑتا اور تکبر کا اظہار کرتا ہے۔ دعوت توحید کے ساتھ تکبر کرنے والوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور نبی آخر الزّماں کی دعوت کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36: وَیَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا (اور وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم) قراءت : أئناکو دو ہمزہ کے ساتھ شامی و کوفی نے پڑھا۔ لَتَارِکُوْا ٰالِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ (اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانہ کیلئے چھوڑ دینگے) شاعر مجنون کہہ کر مراد حضرت محمد ﷺ لیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–50

35۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–39

آیت 28 جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے رساتوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤسا سے کہیں گے : (انکم کنتم تاتوننا عن الیمین) ” تمہیں ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ “ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔ (قالوا) سردار ان کو جواب دیں گے : (بل لم تکونوا مومنین) ” بلکہ تم خود ایمان والے نہیں تھے۔ “ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 35–36

23 استکبار خرابیوں کی خرابی اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی تو یہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر بپھر جاتے۔ سو یہ ہے وہ اصل سبب جو ان کے اس انجام بد کا باعث بنا کہ عقیدئہ توحید قبول کرنا اور صرف ایک خدا کا ہو کر رہنا، اسی کی بندگی کرنا اور ہر حاجت میں صرف اسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ان مشرکوں کو منظور نہیں تھا۔ کل کا کھلا مشرک بھی اسی مرض میں مبتلا تھا اور آج کے کلمہ گو مشرک کا بھی یہی حال ہے۔ توحید کا عقیدئہ صافیہ نہ اسے گوارا تھا نہ اسے برداشت ہے۔ اپنی سیادت و قیادت اور اپنی بڑائی اور کھڑ پنچی کے زعم فاسد اور جھوٹے گھمنڈ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–40

میدان حشر میں کفار کا آپس میں جھگڑا تشریح : آیات مذکورہ سے کفار کی فضول بحث مباحثہ کا پتہ چلتا ہے۔ اس کو ہم اس طرح واضح کرسکتے ہیں کہ ایک شخص کسی کے کہنے سے چوری کرلیتا ہے پکڑے جانے پر یہ عذر پیش کرتا ہے کہ ” فلاں کے کہنے سے میں نے چوری کی “۔ یہ عذر اس کو سزا سے تو نہ بچا سکے گا۔ بس یہی حال ان منکرین کا ہوگا جو ہدایت دینے والے کا مذاق اڑاتے رہے اور مسلسل شیطان کی فرمانبرداری کرتے رہے تو نتیجہ یہی ہوگا کہ دونوں ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور پیغمبر کا یہ کہنا بالکل سچ ہوجائے گا کہ ” تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے “۔ (آیت 39ـ الصافات) مگر اللہ کے مقبول بندے !

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–37

ف 12 یہ بدبخت آنحضرت ﷺ کو جو تمام جہان کے لوگوں سے علم و عقل زیادہ رکھتے تھے بائو لا شاعرکہتے 13 یعنی وہی دعوت پیش کرتا ہے جسے پچھلے تمام انبیاء پیش کرتے رہے ہیں یا اس تصدیق سے مراد یہ ہے کہ گزشتہ انبیاء ( علیہ السلام) نے نبی آخر الزمان ﷺ کی جو صفات بیان کی تھیں وہ سب کی سب اس نبی ﷺ میں موجود ہیں۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:36) ویقولون وائو عاطفہ ہے یقولون ای کانوا یقولون اور کہا کرتے تھے ۔ ائنا میں الف استفہامیہ ہے۔ لتارکوا الہتنا۔ لام تاکید کا ہے الھتنا مضاف مضاف الیہ ہمارے معبود ۔ ہمارے خدا۔ تارکوا اصل میں تارکون تھا۔ الھتنا کی طرف اضافت کی وجہ سے ن گرگیا۔ لشاعر مجنون۔ لام جارہ ہے شاعر مجنون موصوف وصفت ۔ دیوانہ شاعر۔ شاعر کو جنون کی صفت سے متصف کرنا تخلیط وہذیان محض ہے کیونکہ ایک اچھا شاعر ایک مکمل صاحب عقل کا مقتضی ہوتا ہے جو دقیق وعمیق مطالب کو شستہ اور موزوں الفاظ کے قالب میں منظم طریقہ سے ڈھال سکے : بعض نے مجنون کو معطوف لیا ہے ای لشاعر ومجنون اور ترجمہ کیا ہے : کیا ہم چھوڑ دیں گے اپنے خدائوں کو ایک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–40

(ف 1) قیامت کے دن جب ان لوگوں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا، جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے تو اس وقت ان کو یاد دلایا جائے گا کہ تم پر عذاب اسی سبب سے ہے کہ تم توحید کی باتیں اللہ کے رسول سے سن کر نخوت اور تکبر سے ان حق باتوں کو نہیں سنتے تھے اور رسول کریم کو شاعر اور دیوانہ بتلاتے تھے کیا ایک دیوانے کے کہنے ہم اپنے باپ دادا کے زمانہ کے معبودوں کو چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کا جواب دیا کہ ہمارے رسول کو شاعر کیسے کہتے ہیں جو دنیا میں خالص سچائی لے کر آیا ہے اور سارے جہان کے سچوں کی تصدیق کرتے ہیں یا مجنون اور دیوانے ایسے سچے صحیح اور پختہ اصول پیش کیا کرتے ہیں پس انکار توحید اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–48

[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–38

ف 1: مکہ والوں میں یہ مسئلہ ہمیشہ حیرت واستعجاب کا موجب رہا ۔ کہ انسان مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجائیں گے وہ بار بار یہ کہتے تھے ۔ کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی ۔ کہ کیونکر بوسیدہ ہڈیوں میں جان ڈال دی جائے گی ۔ قرآن نے اس حقیقت نفس الامرکو ایمان کا ایک جزو قرار دیا ۔ اور کہا کہ اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے ۔ اللہ جب چاہے گا ۔ ایک ادنیٰ اشارے میں ساری کائنات کا اٹھا کھڑا کرے گا ۔ جب یہ لوگ اپنے کو اللہ کے سامنے موجود پائیں گے ۔ عجیب حالت میں ہوں گے ۔ تب ان کی آنکھیں کھلیں گی ۔ اور دیکھیں گے کہ آہ یہ تو وہی دن ہے جس کا ہم انکار کرتے تھے ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ ہاں یہ وہی روز مکافات ہے ۔ جس کی تکذیب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(36) اورکہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی وجہ سے چھوڑ دینے والے ہیں۔ یعنی چونکہ کفر میں اشتراک تھا تابع اور متبوع کا لہٰذا عذاب میں بھی دونوں شریک ہوں گے نافرمانوں اور مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کیا کرتے ہیں ان کی سرکشی کا یہ حال تھا ان کو لا الہ الا اللہ کی دعوت دی جاتی تھی تو یہ اس کے مقابلے میں تکبر کرتے تھے اور تکبر سے اس دعوت کو ٹھکرا دیا کرتے تھے اور توہین آمیز لہجے میں کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعر اور مجنوں کے کہنے سے چھوڑ دیں گے اور ان کی پوجا اور بندگی سے انکار کردیں گے۔ آگے جواب مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مشرکین کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون اور شاعر کی وجہ سے چھوڑ دیں : 36۔ مشرکوں کو اگر کہا جاتا کہ جن لوگوں کو تم نے اپنے حاجت روا اور مشکل کشا ‘ بگڑی بنانے والے ‘ دنیا اور دین کے کام سنوارنے والے بنا رکھا ہے اس سے باز آجاؤ الوہیت صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے لائق ہے کوئی زندہ انسان یا کسی مردہ انسان کا بت یا قبر یا شبیہہ یا تصور الوہیت کے معاملہ میں کام نہیں آسکتا تو مشرکین جزبز ہونے لگتے اور کہتے کہ ایک تو ہمارے باپ دادا ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے چلے آ رہے ہیں کیا وہ سارے غلط ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے بہت پسند کیا ہوا ہے اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش چل سکتی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–40

2. From verse 33: فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِ‌كُونَ (So, this day, they will be sharers in the punishment.), we learn that should a certain person invite someone else to participate in what is impermissible and use his clout to coax him into sin, then, he will certainly incur the punishment of so inviting that person to sin. But, a person who accepts his invitation of his volition and choice, he too cannot be absolved from the sin of his deed. He cannot appear in the Hereafter and get away by saying that he was made to go astray by this or that person. Yes, if he has not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–36

20 That is, the followers as well as the guides, misleaders as well as the misled, All shall suffer the same torment. Neither will the followers' excuse be heeded that they did not go astray but had been led astray, nor the guides' excuse accepted that the people themselves were not desirous of following the right way.

Read the full tafseer →