As-Saaffaat 37:31

As-Saaffaat · from ayah 31

37:31

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ ۖۗ— اِنَّا لَذَآىِٕقُوْنَ ۟فَحَقَّ عَلَيۡنَا قَوۡلُ رَبِّنَآ ۖ اِنَّا لَذَآئِقُوۡنَ

سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So the word of our Lord has come into effect upon us; indeed, we will taste [punishment].

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:31

آخرکار ہم اپنے رب کے اِس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب تو ہم (سب) پر ہمارے رب کی یہ بات ﺛابت ہو چکی کہ ہم (عذاب) چکھنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب تو ہمارے پروردگار کی یہ بات ہم پر ثابت ہوگئی ہے کہ ہم سب کو یہ مزہ چکھنا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ثابت ہوگئی ہم پر ہمارے رب کی بات ہمیں ضرور چکھنا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس ہم پر ہمارے رب کا فرمان ثابت ہوگیا۔ (اب) ہم ذائقۂ (عذاب) چکھنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی۔ بیشک ہم یقینا چکھنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہمارے پروردگار کا قول (آج) ہم پر صادق آگیا کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ہمارے اوپر رب کی بات پوری ہوتے رہی۔ ہم کو اس کا مزا چکھنا ہی ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو (اب اس تو تکار کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ) اب تو ثابت ہوچکی ہم سب پر بات ہمارے رب کی اب ہمیں بہرحال چکھنا ہے مزہ (اس عذاب کا)

— مولانا اسحاق مدنی

سو ہم (سب ہی) پر ہمارے پروردگار کی یہ بات محقق ہوچکی تھی کہ ہم (سب) کو مزہ چکھنا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اب ثابت ہوگیا ہے ہم پر ہمارے رب کا قول اب تو ہمیں (عذاب کا) مزہ چکھنا ہی ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو ہمارے بارے میں ہمارے رب کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and so we became deserving of the Word of our Lord that we shall be made to suffer chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, the word of our Lord has come true against us. Indeed, we have to taste (the punishment).

— Muhammad Taqi Usmani

So, the word of our Lord has come true against us. Indeed, we have to taste (the punishment).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"So now the Word of our Lord has been justified against us, that we shall certainly taste (the torment)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Now the Word of our Lord hath been fulfilled concerning us. Lo! we are about to taste (the doom).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So the word of our Lord has come into effect upon us; indeed, we will taste [punishment].

— Saheeh International

Thus, the words of Our Lord about us have come true and now we are suffering the torment.

— Muhammad Sarwar

So the sentence of our Lord has come to pass against us: (now) we shall surely taste;

— Muhammad Habib Shakir

So on us hath been justified the sentence of our Lord: verily we are to taste.

— Abdul Majid Daryabadi

"So now has been proved true, against us, the word of our Lord that we shall indeed (have to) taste (the punishment of our sins).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–37

دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–31

سورة الصّٰٓفّٰت 18 اصل الفاظ ہیں کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ۔ " تم ہمارے پاس یمین کی راس سے آتے تھے۔ " یمین کا لفظ عربی زبان میں متعدد مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے۔ اگر اس کو قوت و طاقت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم کمزور تھے اور تم ہم پر غالب تھے، اس لیے تم اپنے زور سے ہم کو گمراہی کی طرف کھینچ لے گئے۔ اگر اس کو خیر اور بھلائی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیر خواہ بن کر ہمیں دھوکا دیا۔ تم ہمیں یقین دلاتے رہے کہ جس راہ پر تم ہمیں چلا رہے ہو یہی حق اور بھلائی کی راہ ہے۔ اس لیے ہم تمہارے فریب میں آگئے۔ اور اگر اسے قسم کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–32

معارف و مسائل میدان حشر میں جمع ہوجانے کے بعد کافروں کے بڑے بڑے سردار جنہوں نے اپنے چھوٹوں کو بہکایا تھا، اپنے پیرو وں کے سامنے آئیں گے۔ تو بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کی کوئی مدد کرسکیں، آپس میں بحث و تکرار شروع کردیں گے۔ ان آیات میں اسی بحث و تکرار کا کچھ نقشہ کھینچ کر فریقین کا انجام بد بیان کیا گیا ہے۔ آیات کا مفہوم خلاصہ تفسیر سے واضح ہے، صرف چند مختصر باتیں قابل ذکر ہیں۔ (1) انکم کنتم تاتوننا عن الیمین، میں ”یمین“ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک معنی قوت و طاقت بھی ہیں۔ اوپر اسی معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ”ہم پر تمہاری آمد بڑے زور کی ہوا کرتی تھی“ یعنی تم ہم پر خوب زور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 31–32

فعس علینا قول ربنا ترانا لذا آئفون فاغوینکم انا کناغوین (32-31) یہ بھی لیڈروں ہی کی بات نقل ہوئی ہے کہ اب ایک دوسرے پر الزام تھوپنے سے کچھ حاصل نہیں۔ مجرم ہم بھی ہیں اور تم بھی ہو اس وجہ سے خدا کی وہ بات جو اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرمائی تھی کہ میں تجھ کو اور تیری پیروی کرنے والوں کو جہنم میں بھر دوں گا ہم دونوں پر پوری ہوچکی ہے۔ اب ہم کو لازماً وہ عذاب چکھنا ہے جو ہمارے جیسے امت زوروں کے لئے مقدر ہے فاغوبنکم انا کنا محسوین یعنی ہم سزا اور ملامت اس صورت میں ہوتے جب ہم خود نیک ہوتے اور تم کو بد بنانے کی کوشش کرتے۔ ہم جو کچھ خود تھے وہی ہم نے تم کو بنانے کی کوشش کی۔ یہ تمہاری بےبصیرتی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 31–32

32۔ 1 یعنی جس بات کی پہلے انہیں نفی کی، کہ ہمارا تم پر کونسا زور تھا کہ تمہیں گمراہ کرتے۔ اب اس کا یہاں اعتراف ہے کہ ہاں واقعی ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا۔ لیکن یہ اعتراف اس تنبیہ کے ساتھ کیا کہ ہمیں اس ضمن میں مورد طعن مت بناؤ، اس لئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہی تھے، ہم نے تمہیں بھی اپنے جیسا ہی بنانا چاہا اور تم نے آسانی سے ہماری راہ اپنا لی۔ جس طرح شیطان بھی اس روز کہے گا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–32

فحق علینا ۔۔۔۔۔ کنا غوین (31 – 32) ” لہٰذا ہم لوگ اور تم لوگ دونوں عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ وہ ارادا اب ہم پر حق بن کر آگیا ہے۔ اب ہمارے لیے عذاب کا مزہ چکھنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ تم لوگ ہمارے ساتھ اسلیے آگئے تھے کہ تم ہمارے راتے پر چلنے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ تم ہمارے پیچھے لگ گئے تھے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 29–32

1 یعنی خود تو ایمان نہ لائے ہم پر الزام رکھتے ہو۔ ہمارا تم پر کیا زور تھا جو دل میں ایمان نہ گھسنے دیتے تم لوگ خود ہی عقل و انصاف کی حد سے نکل گئے کہ بےلوث ناصحین کا کہنا نہ مانا اور ہمارے بہکائے میں آگئے اگر عقل و فہم اور عاقبت اندیشی سے کام لیتے تو ہماری باتوں پر کبھی کان نہ دھرتے۔ رہے ہم سو ظاہر ہے خود گمراہ تھے، ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہوسکتی ہے۔ ہم نے وہ ہی کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا لیکن تم کو کیا مصیبت نے گھیرا تھا کہ ہمارے چکموں میں آگئے۔ بہرحال جو ہونا تھا ہوچکا۔ خدا کی حجت ہم پر قائم ہوئی اور اس کی وہ ہی بات (لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31{ فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَآق اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ } ”تو اب ثابت ہوگیا ہے ہم پر ہمارے رب کا قول ‘ اب تو ہمیں عذاب کا مزہ چکھنا ہی ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر فرما دیا تھا : { لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ } السجدۃ ”میں بھر کر رہوں گا جہنم کو تمام نافرمان جنوں اور انسانوں سے“۔ تو اللہ تعالیٰ کا وہ قول اب ہم پر واقع ہوچکا ہے اور ہم جہنم کے مستحق ہوچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 30–34

17 اس کے جواب میں ان کے قائد، لیڈر اور پیشوا حضرات یہ جواب دیں گے کہ تم خود مجرم ضمیر تھے تم نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا تھا کہ ہمارے ساتھ لگ جاؤ۔ ہم نے زبردستی تمہیں اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کیا تھا نہ ہم میں کوئی ایسا زور اور طاقت تھی۔ آج تم خواہ مخواہ ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہو۔ لہذا جیسے مجرم ہم ہیں ویسے ہی تم بھی مجرم ہو۔ اگر ہم گمراہ تھے تو ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہوسکتی ہے ہم نے وہی کچھ کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا۔ مگر تمہیں اپنی عقل اور عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہئے تھا۔ آج تو ہم سب کو اپنی غلط کاریوں کا مزہ چکھنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 29–32

14۔ رؤساء اور مقتدایان کفر اپنی صفائی میں کہیں گے کہ ہم کیا کریں، اسباب ہی ایسے اکٹھے ہوگئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہوئے، اور اپنی گمراہی کو تم تک پہنچایا، تو تم بھی باختیار خود گمراہ ہوئے۔ ذمہ داری سے بری کوئی نہیں، سب کو اپنا اپنا کفر بھگتنا ہے۔ امام رازی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ اگر ہر گمراہ کی ذمہ داری مغوی پر ڈال دینے قاعدہ صحیح تسلیم کرلیاجائے تو پھر دنیا میں کوئی شخص قابل سزا رہ ہی نہ جائے گا۔ کہ اس مغوی کا بھی تو کوئی اور مغوی ہوگا، اور اس کا کوئی اور۔ اس سے صاف دور وتسلسل لازم آتا ہے۔ اور ذمہ داری ایک سے دوسرے پر برابر ہٹتی ہی چلی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–50

آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فحق علینا قول ربنا انا لذائقون اب ہم (سب) پر ہمارے رب کی بات پوری ہوگئی ‘ بلاشبہ ہم عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ قول رب سے مراد ہے اللہ کا یہ قول کہ میں جہنم کو تمام جنات اور انسانوں سے بھر دوں گا۔ پورا کلام اس طرح تھا : تم نے بھی خود سرکشی کو اختیار کیا تھا اور ہم بھی خود ہی طاغی تھے ‘ اس طرح قول رب پورا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–34

(31۔ 34) ہم سب پر ہمارے رب کا عذاب و ناراضگی ثابت ہوچکی ہے اب ہم سب کو دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھنا ہے۔ ہم نے تمہیں گمراہ کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے۔ وہ سب کے سب قیامت کے دن عذاب میں شریک رہیں گے ہم مشرکین کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَحَــقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَآ ڰ اِنَّا لَذَاۗىِٕقُوْنَ : یہ پہلے تینوں جوابوں کے نتیجے میں چوتھا جواب ہے، یعنی ہم نے کفر پر قائم رکھنے کے لیے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی، بلکہ اصل میں نہ تم ایمان والے تھے نہ ہم، جیسے ہم مجرم تھے ویسے ہی تم مجرم تھے، لہٰذا یہی انجام ہوا کہ دونوں عذاب کے مستحق ٹھہرے اور کفر و شرک کی جزا کے طور پر ہمارے رب نے جس عذاب کا وعدہ کیا تھا کہ : (لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ) [ السجدۃ : 13 ] (یقیناً میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا) وہ وعدہ ہم پر پورا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–35

احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–44

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَحَــقَّ عَلَيْنَا [تو ثابت ہوا ہم پر ] قَوْلُ رَبِّنَآ ڰ [ہمارے رب کا قول ] اِنَّا [بیشک ہم ] لَذَاۗىِٕقُوْنَ [(اب) ضرور چکھنے والے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–32

مجرمین کا اقرار کہ ہم عذاب کے مستحق ہیں (فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَا اِِنَّا لَذَاءِقُوْنَ ) (سو ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی بلاشبہ ہم سب چکھنے والے ہیں) یعنی ہمارے خالق اور مالک نے جو کافروں کے لیے جہنم کا داخلہ طے فرما دیا تھا اسی کے مطابق ہمیں اور تمہیں عذاب چکھنا ہوگا۔ (فَاَغْوَیْنَاکُمْ اِِنَّا کُنَّا غَاوِیْنَ ) (سو ہم نے تم کو بہکا دیا بیشک ہم بھی گمراہ تھے) تم بھی کافر تھے اور ہم بھی، اب عذاب سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں ہمیں الزام دے کر تمہارا بچاؤ نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–31

14:۔ فحق علینا الخ تم اور ہم چونکہ سب ہی مومن نہیں تھے اس لیے ہم سب کے لیے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ آج ہم لامحالہ اللہ کے عذاب کا مزہ چکھیں گے۔ ہمارے اور تمہارے لیے آج عذاب خداوندی کا فیصلہ قطعی ہے اس لیے آج ہم کسی طرح بھی تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا کستے۔ کیونکہ ہم خود مستحق عذاب ہیں۔ نیز تم ہمیں ملامت نہ کرو کیونکہ تم بھی ہمارے ساتھ برابر کے مجرم ہو۔ انا لذائقون یہ قول ربنا کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَحَــقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَآ۝ 0 ۤۖ اِنَّا لَذَاۗىِٕقُوْنَ۝ 31 حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–32

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَـآ صلے ق اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ ۔ فَاَغْوَیْنٰـکُمْ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ ۔ (الصآفات : 31، 32) (آخر کار ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی، بیشک ہم عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ پس ہم نے تم کو گمراہ کیا، ہم خود گمراہ تھے۔ ) ابلیس نے جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر زہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ میں اولادِ آدم کو ہر ممکن طریق سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ حتیٰ کہ ان میں سے اکثر کو آپ شکرگزار نہیں پائیں گے تو اس کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا دائو میرے نیک بندوں پر نہیں چلے گا۔ البتہ جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی میں تمہیں اور انھیں بھی جہنم کی نذر کردوں گا۔ بلکہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–34

فہم القرآن ربط کلام : جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو قیامت کو جھٹلانے والوں سے سوال ہوگا۔ جب حساب و کتاب کے بعد مجرمین کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے۔ ملائکہ انہیں ہانک کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہونگے تو ذات کبریاء کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں چند لمحے ٹھہرایا جائے۔ جہنمی کہیں گے کہ شاید ہمیں کوئی رعایت دی جارہی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ تمہیں کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ اگر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو ! اس وقت حالت یہ ہوگی کہ پیر اور ان کے مرید، لیڈر اور ان کے ور کر، عابد، اور ان کے معبود…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

31: فَحَقَّ عَلَیْنَا (پس ہم سب ہی پر ثابت ہوچکی) ہم سب پر لازم ہوگئی۔ قَوْلُ رَبِّنَآ اِنَّا لَذَآ ئِقُوْنَ (ہمارے رب کی بات کہ ہم سب نے مزا چکھنا ہے) یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعید ہے کہ ہم لامحالہ اس کے عذاب کو چکھنے والے ہیں۔ کیونکہ وہ ہمارے حال سے واقف ہے اور اگر وعید کی اس طرح حکایت کی جاتی جیسا کہ وہ ہوتی ہے تو پھر اس طرح کہا جاتا انکم لذائقون، مگر اس انداز کو چھوڑ کر متکلم کے لفظ کی طرف عدول کیا گیا کیونکہ وہ اپنے نفوس کی طرف سے یہ بات کرنے والے ہونگے۔ اس کی مثال محاورئہ عرب میں اس طرح ہے۔ فقدزعمت ھوازنُ قَلَّ مالی۔ اگر اس کے قول کی حکایت کرتا تو شاعر اس طرح کہتا۔ قل مالک۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31 ، فحق، پس واجب ہے۔ ، علینا، ہم سب پر، قول ربنا، اپنے رب کا قول یعنی عذاب کی دھمکی اور وہ قول یہ ہے ، لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین، ۔۔۔۔۔۔۔ انا لذائقون، اس سے عذاب مراد ہے۔ گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے سب جہنم میں جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–34

24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–39

آیت 28 جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے رساتوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤسا سے کہیں گے : (انکم کنتم تاتوننا عن الیمین) ” تمہیں ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ “ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔ (قالوا) سردار ان کو جواب دیں گے : (بل لم تکونوا مومنین) ” بلکہ تم خود ایمان والے نہیں تھے۔ “ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20 گمراہ کن لیڈروں کا اپنے جرم کا اقرار : سو اس توتکار کے بعد وہ لیڈر اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ " اب پکی ہوگئی ہم سب پر بات ہمارے رب کی "۔ وہی بات جو اس نے پہلے ہی ارشاد فرما دی تھی کہ مجھے شیطان اور اس کے حواریوں سے دوزخ کو بھرنا ہے ۔ { لاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ } ۔ (السجدۃ : 13) ۔ { لاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تِبِعکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ۔ (صٓ: 85) ۔ لہذا اب ایک دوسرے کو الزام دینے سے نہ کوئی فائدہ ہے نہ کوئی نتیجہ و حاصل۔ ہم بھی مجرم ہیں اور تم بھی مجرم ہو۔ اپنے اس کیے کرائے کا بھگتان ہم میں سے ہر کسی نے بہرحال بھگتنا ہے۔ اب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–40

میدان حشر میں کفار کا آپس میں جھگڑا تشریح : آیات مذکورہ سے کفار کی فضول بحث مباحثہ کا پتہ چلتا ہے۔ اس کو ہم اس طرح واضح کرسکتے ہیں کہ ایک شخص کسی کے کہنے سے چوری کرلیتا ہے پکڑے جانے پر یہ عذر پیش کرتا ہے کہ ” فلاں کے کہنے سے میں نے چوری کی “۔ یہ عذر اس کو سزا سے تو نہ بچا سکے گا۔ بس یہی حال ان منکرین کا ہوگا جو ہدایت دینے والے کا مذاق اڑاتے رہے اور مسلسل شیطان کی فرمانبرداری کرتے رہے تو نتیجہ یہی ہوگا کہ دونوں ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور پیغمبر کا یہ کہنا بالکل سچ ہوجائے گا کہ ” تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے “۔ (آیت 39ـ الصافات) مگر اللہ کے مقبول بندے !

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 مالک کے فرمودہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ قول ہے جو اس نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد شیطان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا : (لا ملان جھنم منک و ممن تبعک منھم اجمعین ) (کذافی الموضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:31) فحق علینا قول ربنا۔ پس ہمارے رب کا قول ہمارے خلاف سچ ثابت ہوگیا ہے۔ یا ہم پر لازم آگیا ہے ! حق کی تشریح کرتے ہوئے راغب اصفہانی (رح) تحریر فرماتے ہیں :۔ حق وہ قول یا عمل ہے جو اسی طرح واقع ہو جس طرح پر کہ اس کا واقع ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار اور جس وقت میں اس کا ہونا واجب ہے ! (1) چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے قرآن مجید میں ہے کذلک حقت کلمت ربک (10:33) اسی طرح خدا کا ارشاد ثابت ہو کر رہا ۔ (2) الحق۔ وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مثلاً ردوا الی اللہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–34

قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔ (ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔ (1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–48

[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–32

انسان کی پیدائش مٹی سے ہے 1: یہ بات کئی اعتبار سے درست ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس لحاظ سے بھی آدم (علیہ السلام) کو طین لاذب سے پیدا کیا گیا ۔ علم الحیات کے ماہرین کے نزدیک بھی زندگی کی ابتداء پانی سے ہوئی ۔ اور ابتدائی جانور سمندر کی اس مٹی سے پیدا ہوئے ۔ جو چپکتی ہوئی تھی ۔ اور اس نکتہ نگاہ سے بھی یہ ایک حقیقت ہے ۔ کہ انسانی غذا جو اصل میں زندگی کو برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے مٹی سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور انسانی گوشت اور خون چونکہ اسی غذاب سے بنتا ہے ۔ اس لئے اصولاً یہ کہنا درست ہے ۔ کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس زاویہ نظر سے بھی یہ صحیح ہے ۔ کہ انسان میں چونہ کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) سو اب ہم سب پر ہمارے پروردگار کا وہو قول اور وہ کلمہ ثابت ہو کر رہا جس کا خلاصہ اور جس کا ما حاصل یہ سب عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں - یعنی وہی ازلی بات کہ لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ یعنی اس نے اپنے علم ازلی کی بنا پر جو فرمایا تھا کہ میں جہنم کو شیاطین اور انسانوں سے بھردوں گا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم سب خواہ تابع ہوں یا متبوع سب ہی عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں اور اس کے اسباب یوں ہوئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–35

ف 4۔ یعنی ہم پر خوب زور ڈال کر ہمارے اضلال کا اہتمام اور اس میں سعی کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی کہ ہم کو بہرحال دوزخ کا مزہ چکھنا ہے : 31۔ اب جب ہمارے رب کا عذاب ہم پر لازم ہوگیا اور ہمیں اپنے کیے کی سزا ملنے لگی تو تم حیلے بہانے تراشنے لگے ہو ان حیلوں بہانوں کا آخر فائدہ اب تو ہم ہوں یا تم سب جال میں پھنسے ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ نہ ہمارا ہی دل اس دن کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تم تصدیق کرنے کے لیے تیار تھے اب جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے وہ تو یہی ہے کہ نہ تو ہم ہی اس عذاب سے بچ سکتے ہیں اور نہ ہی تم کو کوئی سہولت حاصل ہو سکتی ہے اس وقت جو کچھ ہم کو چکھنا ہے سب ہی کو چکھنا ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بہانہ تراشی مفید نہیں ہو سکتی ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–32

Commentary When the leading elders among disbelievers who had misled their common adherents appear before their followers on the plains of resurrection, they would, rather than help each other, start arguing among themselves. The present verses carry a sampling of the same mutual argumentation between the contesting parties as well as the sad end they will have to face. Two things are noteworthy here: 1. The word: يَمِينِ (yamin) in:إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ (You were the ones who used to come to [ mislead ] us forcefully.- 37:28) may have several meanings. One possible…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–31

18 The word yamin in Arabic is used for several meanings. It may mean use of the force, or well-wishing, or swearing of an oath. Accordingly, the verse would mean: (1) "You compelled us into following error and deviation"; or (2) "you deceived us by posing as our well-wishers"; or (3) "you swore oaths to satisfy us that what you were presenting was the very trnth."

Read the full tafseer →