Explained with ayahs 27–37
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔
کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 19
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورة سبا، حواشی نمبر 51۔ 52۔ 53۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
معارف و مسائل
میدان حشر میں جمع ہوجانے کے بعد کافروں کے بڑے بڑے سردار جنہوں نے اپنے چھوٹوں کو بہکایا تھا، اپنے پیرو وں کے سامنے آئیں گے۔ تو بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کی کوئی مدد کرسکیں، آپس میں بحث و تکرار شروع کردیں گے۔ ان آیات میں اسی بحث و تکرار کا کچھ نقشہ کھینچ کر فریقین کا انجام بد بیان کیا گیا ہے۔ آیات کا مفہوم خلاصہ تفسیر سے واضح ہے، صرف چند مختصر باتیں قابل ذکر ہیں۔
(1) انکم کنتم تاتوننا عن الیمین، میں ”یمین“ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک معنی قوت و طاقت بھی ہیں۔ اوپر اسی معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ”ہم پر تمہاری آمد بڑے زور کی ہوا کرتی تھی“ یعنی تم ہم پر خوب زور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فعس علینا قول ربنا ترانا لذا آئفون فاغوینکم انا کناغوین (32-31)
یہ بھی لیڈروں ہی کی بات نقل ہوئی ہے کہ اب ایک دوسرے پر الزام تھوپنے سے کچھ حاصل نہیں۔ مجرم ہم بھی ہیں اور تم بھی ہو اس وجہ سے خدا کی وہ بات جو اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرمائی تھی کہ میں تجھ کو اور تیری پیروی کرنے والوں کو جہنم میں بھر دوں گا ہم دونوں پر پوری ہوچکی ہے۔ اب ہم کو لازماً وہ عذاب چکھنا ہے جو ہمارے جیسے امت زوروں کے لئے مقدر ہے فاغوبنکم انا کنا محسوین یعنی ہم سزا اور ملامت اس صورت میں ہوتے جب ہم خود نیک ہوتے اور تم کو بد بنانے کی کوشش کرتے۔ ہم جو کچھ خود تھے وہی ہم نے تم کو بنانے کی کوشش کی۔ یہ تمہاری بےبصیرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
32۔ 1 یعنی جس بات کی پہلے انہیں نفی کی، کہ ہمارا تم پر کونسا زور تھا کہ تمہیں گمراہ کرتے۔ اب اس کا یہاں اعتراف ہے کہ ہاں واقعی ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا۔ لیکن یہ اعتراف اس تنبیہ کے ساتھ کیا کہ ہمیں اس ضمن میں مورد طعن مت بناؤ، اس لئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہی تھے، ہم نے تمہیں بھی اپنے جیسا ہی بنانا چاہا اور تم نے آسانی سے ہماری راہ اپنا لی۔ جس طرح شیطان بھی اس روز کہے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
8: مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ خود بہکے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے تمہیں بہکایا ضرور، لیکن ہمارے بہکانے سے تم کفر پر مجبور نہیں ہوگئے تھے، اگر تم ہمارے بہکائے میں نہ آتے تو ہمارا تم پر کوئی زور نہ چلتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فحق علینا ۔۔۔۔۔ کنا غوین (31 – 32) ” لہٰذا ہم لوگ اور تم لوگ دونوں عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ وہ ارادا اب ہم پر حق بن کر آگیا ہے۔ اب ہمارے لیے عذاب کا مزہ چکھنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ تم لوگ ہمارے ساتھ اسلیے آگئے تھے کہ تم ہمارے راتے پر چلنے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ تم ہمارے پیچھے لگ گئے تھے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
1 یعنی خود تو ایمان نہ لائے ہم پر الزام رکھتے ہو۔ ہمارا تم پر کیا زور تھا جو دل میں ایمان نہ گھسنے دیتے تم لوگ خود ہی عقل و انصاف کی حد سے نکل گئے کہ بےلوث ناصحین کا کہنا نہ مانا اور ہمارے بہکائے میں آگئے اگر عقل و فہم اور عاقبت اندیشی سے کام لیتے تو ہماری باتوں پر کبھی کان نہ دھرتے۔ رہے ہم سو ظاہر ہے خود گمراہ تھے، ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہوسکتی ہے۔ ہم نے وہ ہی کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا لیکن تم کو کیا مصیبت نے گھیرا تھا کہ ہمارے چکموں میں آگئے۔ بہرحال جو ہونا تھا ہوچکا۔ خدا کی حجت ہم پر قائم ہوئی اور اس کی وہ ہی بات (لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ…
Read the full tafseer →آیت 32{ فَاَغْوَیْنٰـکُمْ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ } ”تو ہم نے تم لوگوں کو گمراہ کیا ‘ ہم خود بھی تو گمراہ تھے۔“
تم لوگ درست کہتے ہو کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا ‘ لیکن ایسا تو نہیں تھا کہ ہم خود ہدایت پر تھے اور تمہاری گمراہی کا باعث بنے۔ بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ ہم خود بھی گمراہ تھے اس لیے تم لوگوں کو بھی ہم اسی تباہی کے راستے پرلے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
17 اس کے جواب میں ان کے قائد، لیڈر اور پیشوا حضرات یہ جواب دیں گے کہ تم خود مجرم ضمیر تھے تم نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا تھا کہ ہمارے ساتھ لگ جاؤ۔ ہم نے زبردستی تمہیں اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کیا تھا نہ ہم میں کوئی ایسا زور اور طاقت تھی۔ آج تم خواہ مخواہ ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہو۔ لہذا جیسے مجرم ہم ہیں ویسے ہی تم بھی مجرم ہو۔ اگر ہم گمراہ تھے تو ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہوسکتی ہے ہم نے وہی کچھ کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا۔ مگر تمہیں اپنی عقل اور عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہئے تھا۔ آج تو ہم سب کو اپنی غلط کاریوں کا مزہ چکھنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
14۔ رؤساء اور مقتدایان کفر اپنی صفائی میں کہیں گے کہ ہم کیا کریں، اسباب ہی ایسے اکٹھے ہوگئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہوئے، اور اپنی گمراہی کو تم تک پہنچایا، تو تم بھی باختیار خود گمراہ ہوئے۔ ذمہ داری سے بری کوئی نہیں، سب کو اپنا اپنا کفر بھگتنا ہے۔ امام رازی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ اگر ہر گمراہ کی ذمہ داری مغوی پر ڈال دینے قاعدہ صحیح تسلیم کرلیاجائے تو پھر دنیا میں کوئی شخص قابل سزا رہ ہی نہ جائے گا۔ کہ اس مغوی کا بھی تو کوئی اور مغوی ہوگا، اور اس کا کوئی اور۔ اس سے صاف دور وتسلسل لازم آتا ہے۔ اور ذمہ داری ایک سے دوسرے پر برابر ہٹتی ہی چلی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →فاغوینکم انا کنا غاوین سو ہم نے تم کو سیدھے راستہ سے بھٹکا دیا (یعنی اسی راستہ پر چلنے کی دعوت دی جس پر ہم
گامزن تھے) بلاشہ ہم گمراہ تھے۔
مطلب یہ ہے کہ ہم دونوں فریقوں کا عذاب میں مبتلا ہونا اور دونوں کا گمراہ ہونا ایک تقدیری امر تھا ‘ جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔ زیادہ سے زیادہ ہم نے اتنا کیا کہ جس ٹیڑھے راستے پر ہم چل رہے تھے ‘ اسی پر چلنے کی تم کو دعوت دی تاکہ تم بھی ہماری طرح ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
(31۔ 34) ہم سب پر ہمارے رب کا عذاب و ناراضگی ثابت ہوچکی ہے اب ہم سب کو دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھنا ہے۔
ہم نے تمہیں گمراہ کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے۔ وہ سب کے سب قیامت کے دن عذاب میں شریک رہیں گے ہم مشرکین کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَاَغْوَيْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِيْنَ : یہ پانچواں جواب ہے کہ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، مگر ہم خود گمراہ تھے اور ظاہر ہے ایک گمراہ سے گمراہی کی طرف بلانے ہی کی توقع ہوسکتی ہے، کیونکہ جو گمراہ ہوتا ہے وہ لازماً یہ چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اس جیسے ہوجائیں، تاکہ کوئی کسی کو ملامت کرنے والا نہ رہے۔ لہٰذا ہم نے تمہیں گمراہی کی دعوت ہی دینا تھی اور دی، یہ تمہارا کام تھا کہ عقل سے کام لیتے اور ہماری بات نہ مانتے۔ اب مرضی سے کفر اختیار کرنے کے بعد ہمیں اس کا ذمہ دار نہ ٹھہراؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…
Read the full tafseer →فَاَغْوَيْنٰكُمْ [تو ہم نے گمراہ کیا تم کو ] اِنَّا كُنَّا [(کہ) بیشک ہم ہی تھے ] غٰوِيْنَ [گمراہ ہونے والے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
مجرمین کا اقرار کہ ہم عذاب کے مستحق ہیں
(فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَا اِِنَّا لَذَاءِقُوْنَ ) (سو ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی بلاشبہ ہم سب چکھنے والے ہیں) یعنی ہمارے خالق اور مالک نے جو کافروں کے لیے جہنم کا داخلہ طے فرما دیا تھا اسی کے مطابق ہمیں اور تمہیں عذاب چکھنا ہوگا۔ (فَاَغْوَیْنَاکُمْ اِِنَّا کُنَّا غَاوِیْنَ ) (سو ہم نے تم کو بہکا دیا بیشک ہم بھی گمراہ تھے) تم بھی کافر تھے اور ہم بھی، اب عذاب سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں ہمیں الزام دے کر تمہارا بچاؤ نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔
یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…
Read the full tafseer →15:۔ فاغوینکم الخ :۔ ہم نے تمہیں زبردستی گمراہ نہیں کیا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم تو گمراہ تھے ہی، اس لیے ہم نے تمہیں بھی گمراہی کی دعوت دی تو تم نے اپنی مرضی سے بلا جبر واکراہ گمراہی کو قبول کرلیا۔ اس لیے ہمیں ملامت نہ کرو۔ انا کنا غاوین، جملہ ما قبل کے لیے تعلیل ہے۔ فانہم یومئذا لخ، چونکہ دونوں فریق مجرم ہیں اس لیے دونوں عذاب میں شریک ہوں گے۔ چونکہ گمراہی میں سب شریک تھے۔ روؤساء شرک، علماء سوء، پیرانِ سیہ کار عوام کو شرک و بدعت کی تعلیم دیتے اور انہیں گمراہ کرتے تھے اور عوام نے ان کے اغواء واضلال سے گمراہی کا راستہ اختیار کیا اس لیے دونوں فریق (متبوعین و اتباع) مجرم ہیں۔ لہذا دونوں جہنم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–35
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے…
Read the full tafseer →فَاَغْوَيْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِيْنَ 32
غوی
الغَيُّ : جهل من اعتقاد فاسد، وذلک أنّ الجهل قد يكون من کون الإنسان غير معتقد اعتقادا لا صالحا ولا فاسدا، وقد يكون من اعتقاد شيء فاسد، وهذا النّحو الثاني يقال له غَيٌّ. قال تعالی: ما ضَلَّ صاحِبُكُمْ وَما غَوى[ النجم/ 2] ، وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِّ [ الأعراف/ 102] . وقوله : فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا[ مریم/ 59] ، أي : عذابا، فسمّاه الغيّ لمّا کان الغيّ هو سببه، وذلک کتسمية الشیء بما هو سببه، کقولهم للنّبات ندی .
وقیل معناه : فسوف يلقون أثر الغيّ وثمرته . قال :
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغاوِينَ [ الشعراء/ 91] ، وَالشُّعَراءُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
3 ؎ یعنی قسمت کا لکھا ہوا پیش آیا ہم کیا کریں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَـآ صلے ق اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ ۔ فَاَغْوَیْنٰـکُمْ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ ۔ (الصآفات : 31، 32)
(آخر کار ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی، بیشک ہم عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ پس ہم نے تم کو گمراہ کیا، ہم خود گمراہ تھے۔ )
ابلیس نے جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر زہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ میں اولادِ آدم کو ہر ممکن طریق سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ حتیٰ کہ ان میں سے اکثر کو آپ شکرگزار نہیں پائیں گے تو اس کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا دائو میرے نیک بندوں پر نہیں چلے گا۔ البتہ جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی میں تمہیں اور انھیں بھی جہنم کی نذر کردوں گا۔ بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
فہم القرآن
ربط کلام : جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو قیامت کو جھٹلانے والوں سے سوال ہوگا۔
جب حساب و کتاب کے بعد مجرمین کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے۔ ملائکہ انہیں ہانک کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہونگے تو ذات کبریاء کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں چند لمحے ٹھہرایا جائے۔ جہنمی کہیں گے کہ شاید ہمیں کوئی رعایت دی جارہی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ تمہیں کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ اگر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو ! اس وقت حالت یہ ہوگی کہ پیر اور ان کے مرید، لیڈر اور ان کے ور کر، عابد، اور ان کے معبود…
Read the full tafseer →32: فَاَغْوَیْنٰـکُمْ (تو ہم نے تم کو بہکایا) تمہیں گمراہی کی طرف دعوت دی۔ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ (ہم خود بھی گمراہ تھے) پس ہم نے تمہارے گمراہ کرنے کا ارادہ کیا تاکہ ہمارے جیسے ہوجائو۔
Read the full tafseer →32، فاغوینا کم ، ہم تمہیں ہدایت سے گمراہی کی طرف لے جارہے ہیں اور ہم نے تم کو اس کی دعوت دی جس پر ہم خود تھے ۔ ، اناکنا غاوین، گمراہ کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–39
آیت 28
جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے رساتوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤسا سے کہیں گے : (انکم کنتم تاتوننا عن الیمین) ” تمہیں ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ “ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔ (قالوا) سردار ان کو جواب دیں گے : (بل لم تکونوا مومنین) ” بلکہ تم خود ایمان والے نہیں تھے۔ “ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی…
Read the full tafseer →21 لیڈروں کی طرف سے اپنے پیرؤوں کو ٹکا سا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس تو تکار کے بعد وہ گمراہ کن لیڈر اپنے ان پیروکاروں سے صاف طور پر کہیں گے کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا کہ ہم خود گمراہ تھے۔ اور جب ہم خود گمراہ تھے تو پھر تمہیں ہم گمراہی کے سوا اور دے ہی کیا سکتے تھے ؟ تو پھر تم ہمارے پیچھے لگے ہی کیوں تھے ؟ سو قصور تمہارا اپنا ہے کہ تم خود راہ حق و ہدایت کو چھوڑ کر اور دعاۃِ حق سے منہ موڑ کر گمراہی میں ہمارے پیچھے لگ گئے۔ مَتْبُوْعِیْن کے اس جواب سے ان لوگوں پر جو کچھ گزرے گی وہ محتاج بیان نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّشَرّ ۔ بہرکیف وہ ان سے کہیں گے کہ ہم جو کچھ خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
میدان حشر میں کفار کا آپس میں جھگڑا
تشریح : آیات مذکورہ سے کفار کی فضول بحث مباحثہ کا پتہ چلتا ہے۔ اس کو ہم اس طرح واضح کرسکتے ہیں کہ ایک شخص کسی کے کہنے سے چوری کرلیتا ہے پکڑے جانے پر یہ عذر پیش کرتا ہے کہ ” فلاں کے کہنے سے میں نے چوری کی “۔ یہ عذر اس کو سزا سے تو نہ بچا سکے گا۔ بس یہی حال ان منکرین کا ہوگا جو ہدایت دینے والے کا مذاق اڑاتے رہے اور مسلسل شیطان کی فرمانبرداری کرتے رہے تو نتیجہ یہی ہوگا کہ دونوں ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور پیغمبر کا یہ کہنا بالکل سچ ہوجائے گا کہ ” تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے “۔ (آیت 39ـ الصافات) مگر اللہ کے مقبول بندے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →ف 9 کیونکہ جو گمراہ ہوتا ہے وہ لازماً یہ چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اس جیسے ہوجائیں تاکہ کوئی کسی کو ملامت کرنے والا نہ رہے۔ یہ پانچ باتیں شیطان یارئیس اپنے تابعداروں سے کہیں گے۔ ( فتح البیان)
Read the full tafseer →(37:32) اغوینکم۔ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر اغواء (افعال) مصدر غوی مادہ۔ گمراہ کرنا۔ ہم نے تم کو گمراہ کیا۔ الغی الرشد کی ضد ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے قد تبین الرشد من الغی (2:256) ہدایت گمراہی سے صاف صاف کھل چکی ہے
انا کنا غوین جملہ مستانفہ ہے اور جملہ ما قبل کی علت ہے۔ تحقیق ہم خود ہی گمراہ تھے مطلب یہ ہے کہ ہم خود بھی گمراہ تھے اس لئے ہم نے تم کو بھی اسی راستے پر چلنے کی دعوت دی۔ ایماندار تم بھی نہ تھے اپنے حق خود ارادیت کا استعمال کرتے ہوئے تم نے بھی ہماری گمراہی کا راستہ اختیار کیا۔ اس طرح ہم دونوں فریق برابر عذاب جہنم کے سزاوار ہوئے۔ غوین الغی سے اسم فاعل کا صیغہ جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔
(ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔
(1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–48
[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے
لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
انسان کی پیدائش مٹی سے ہے
1: یہ بات کئی اعتبار سے درست ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس لحاظ سے بھی آدم (علیہ السلام) کو طین لاذب سے پیدا کیا گیا ۔ علم الحیات کے ماہرین کے نزدیک بھی زندگی کی ابتداء پانی سے ہوئی ۔ اور ابتدائی جانور سمندر کی اس مٹی سے پیدا ہوئے ۔ جو چپکتی ہوئی تھی ۔ اور اس نکتہ نگاہ سے بھی یہ ایک حقیقت ہے ۔ کہ انسانی غذا جو اصل میں زندگی کو برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے مٹی سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور انسانی گوشت اور خون چونکہ اسی غذاب سے بنتا ہے ۔ اس لئے اصولاً یہ کہنا درست ہے ۔ کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس زاویہ نظر سے بھی یہ صحیح ہے ۔ کہ انسان میں چونہ کے…
Read the full tafseer →(32) کہ ہم نے تم کو بہکایا اور ہم خود بھی گم کردہ راہ تھے۔ یعنی جو بات ہونے والی تھی اس کے اسباب یہ ہوئے کہ ہم نے تم کو بہکایا اور تم بالجبرواکراہ اپنے ارادے سے گمراہ ہوئے اور ہم خود بھی اپنے اختیار اور ارادے سے گمراہ ہوئے تھے آگے حضرت حق جل مجدہ کا ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
ف 4۔ یعنی ہم پر خوب زور ڈال کر ہمارے اضلال کا اہتمام اور اس میں سعی کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →چلو ہم نے تم کو گمراہ کیا تو ہم خود بھی تو گمراہ تھے :
32۔ زیادہ سے زیادہ تم یہی ثابت کرنا چاہتے ہو کہ ہم نے تک کو گمراہ کیا اگر بات ایسی ہی ہے تو آخر ہم خود کب سیدھی راہ چل رہے تھے کہ تم کو الٹی راہ پر لگا دیا جیسے ہم گمراہ تھے ویسا ہی تم کو بھی گمراہ کیا اگر ہمارے سر آئی ہے تو ہم جھیل جائیں گے اگر کوئی سہولت تم کو اس طرح میسر آسکتی ہے تو تم حاصل کرلو لیکن اب ہم کو تو یقین آگیا ہے کہ یہاں کوئی اندھیر کھاتا نہیں کہ ہمارے کہنے پر تم کو عذاب دیا جائے یا تمہارے کہنے پر ہم کو ، گناہ میں دونوں فریق شامل ہیں اور عذاب دونوں ہی فریقوں کو ہوگا نہ ہمارے کام ہماری بزرگی اور ہماری بڑائی آئے گی اور نہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
Commentary
When the leading elders among disbelievers who had misled their common adherents appear before their followers on the plains of resurrection, they would, rather than help each other, start arguing among themselves. The present verses carry a sampling of the same mutual argumentation between the contesting parties as well as the sad end they will have to face. Two things are noteworthy here:
1. The word: يَمِينِ (yamin) in:إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ (You were the ones who used to come to [ mislead ] us forcefully.- 37:28) may have several meanings. One possible…
Read the full tafseer →19 For explanation, see E.N's 51, 52, 53 of Surah Saba.
Read the full tafseer →