As-Saaffaat 37:30

As-Saaffaat · from ayah 30

37:30

وَمَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ ۚ— بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ ۟وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنِ‌ۚ بَلۡ كُنۡتُمۡ قَوۡمًا طٰغِيۡنَ

اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا۔ بلکہ تم سرکش لوگ تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And we had over you no authority, but you were a transgressing people.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:30

ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا۔ بلکہ تم سرکش لوگ تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کچھ ہمارا زور تو تم پر تھا (ہی) نہیں۔ بلکہ تم (خود) سرکش لوگ تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم پر ہمارا کوئی زور نہیں تھا، اصل بات یہ ہے کہ تم خود سرکش لوگ تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہمارا تم پر کچھ قابو نہ تھا بلکہ تم سرکش لوگ تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہمارا تم پر کچھ زور (اور دباؤ) نہ تھا بلکہ تم خود سرکش لوگ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہمارا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا، بلکہ تم (خود) حد سے بڑھنے والے لوگ تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہمارا تم پر کچھ زور بھی نہیں تھا بلکہ تم خود سرکش تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہمارا تمہارے اوپر کوئی زور تو تھا نہیں بلکہ تم خود ہی سرکش لوگ تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہمارا تم پر کوئی زور نہیں تھا بلکہ تم خود ہی سرکش لوگ تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہمارا تم پر کوئی زور نہیں تھا نہیں بلکہ تم خود ہی سرکشی کیا کرتے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہمیں تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھ جانے والے لوگ تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا بلکہ تم سرکش لوگ تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We had no power over you. You were a rebellious people,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We had no authority over you at all, but you yourselves were a transgressing people.

— Muhammad Taqi Usmani

We had no authority over you at all, but you yourselves were a transgressing people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And we had no authority over you. Nay! But you were a transgressing people."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We had no power over you, but ye were wayward folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And we had over you no authority, but you were a transgressing people.

— Saheeh International

We had no authority over you, in fact, you were a rebellious people.

— Muhammad Sarwar

And we had no authority over you, but you were an inordinate people;

— Muhammad Habib Shakir

And we had over you no authority, but ye were a people exorbitant.

— Abdul Majid Daryabadi

"Nor had we any authority over you. Nay, it was ye who were a people in obstinate rebellion!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–37

دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–31

سورة الصّٰٓفّٰت 18 اصل الفاظ ہیں کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ۔ " تم ہمارے پاس یمین کی راس سے آتے تھے۔ " یمین کا لفظ عربی زبان میں متعدد مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے۔ اگر اس کو قوت و طاقت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم کمزور تھے اور تم ہم پر غالب تھے، اس لیے تم اپنے زور سے ہم کو گمراہی کی طرف کھینچ لے گئے۔ اگر اس کو خیر اور بھلائی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیر خواہ بن کر ہمیں دھوکا دیا۔ تم ہمیں یقین دلاتے رہے کہ جس راہ پر تم ہمیں چلا رہے ہو یہی حق اور بھلائی کی راہ ہے۔ اس لیے ہم تمہارے فریب میں آگئے۔ اور اگر اسے قسم کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–32

معارف و مسائل میدان حشر میں جمع ہوجانے کے بعد کافروں کے بڑے بڑے سردار جنہوں نے اپنے چھوٹوں کو بہکایا تھا، اپنے پیرو وں کے سامنے آئیں گے۔ تو بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کی کوئی مدد کرسکیں، آپس میں بحث و تکرار شروع کردیں گے۔ ان آیات میں اسی بحث و تکرار کا کچھ نقشہ کھینچ کر فریقین کا انجام بد بیان کیا گیا ہے۔ آیات کا مفہوم خلاصہ تفسیر سے واضح ہے، صرف چند مختصر باتیں قابل ذکر ہیں۔ (1) انکم کنتم تاتوننا عن الیمین، میں ”یمین“ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک معنی قوت و طاقت بھی ہیں۔ اوپر اسی معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ”ہم پر تمہاری آمد بڑے زور کی ہوا کرتی تھی“ یعنی تم ہم پر خوب زور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وما کان لنا علیکم من سلطن ج بل کنتم قوماً طغین (30) سلطان کے معنی زور اور انتیار کے ہیں۔ یعنی ہمارا تمہارے دلوں پر کوئی زور و اختیار تو تھا نہیں کہ تم اپنا قصور ہمارے سر تھوپتے ہو تم خود نافرمان اور سرکش لوگ تھے کہ حق کے واضح طور پر سامنے آجانے کے بعد تم نے اس کی پیروی کرنے کے بجائے ہماری بات مانی۔ ایک نادر اسلوب قالوتنا عن الیمین کے ٹکڑے کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات اسلوب کلام کی اس ندرت کو نہیں سمجھ سکے جو یہاں ملحوظ ہے۔ قرآن میں اہل دوزخ کے باہمی سوال و جواب کے سلسلے میں یہ بلیغ اسلوب جگہ جگہ استعمال ہوا ہے کہ متکلم کی بات شروع ہوتے ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 تابعین اور متبوعین کی یہ باہمی تکرار قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کی گئی ہے۔ ان کی ایک دوسرے کو یہ ملامت عرصہ قیامت (میدان محشر) میں ہوگی اور جہنم میں جانے کے بعد جہنم کے اندر بھی ملاحظہ ہو

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وما کان ۔۔۔۔ سلطن کہ ہم نے تمہیں اس رائے کے اختیار کرنے پر مجبور کیا جو ہماری تھی۔ ایسا نہ تھا کہ تم ایک رائے کو اختیار کرنا تو نہ چاہتے تھے اور ہم نے تم سے زبردستی کرکے اس رائے کے اختیار کرنے پر مجبور کیا بل کنتم قوما طغین (30) ” “۔ تم خود ہی حد سے گزرنے والے تھے۔ کسی حد پر رکنے والے نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 29–32

1 یعنی خود تو ایمان نہ لائے ہم پر الزام رکھتے ہو۔ ہمارا تم پر کیا زور تھا جو دل میں ایمان نہ گھسنے دیتے تم لوگ خود ہی عقل و انصاف کی حد سے نکل گئے کہ بےلوث ناصحین کا کہنا نہ مانا اور ہمارے بہکائے میں آگئے اگر عقل و فہم اور عاقبت اندیشی سے کام لیتے تو ہماری باتوں پر کبھی کان نہ دھرتے۔ رہے ہم سو ظاہر ہے خود گمراہ تھے، ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہوسکتی ہے۔ ہم نے وہ ہی کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا لیکن تم کو کیا مصیبت نے گھیرا تھا کہ ہمارے چکموں میں آگئے۔ بہرحال جو ہونا تھا ہوچکا۔ خدا کی حجت ہم پر قائم ہوئی اور اس کی وہ ہی بات (لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30{ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍج بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ } ”اور ہمیں تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں ‘ بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھ جانے والے لوگ تھے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 30–34

17 اس کے جواب میں ان کے قائد، لیڈر اور پیشوا حضرات یہ جواب دیں گے کہ تم خود مجرم ضمیر تھے تم نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا تھا کہ ہمارے ساتھ لگ جاؤ۔ ہم نے زبردستی تمہیں اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کیا تھا نہ ہم میں کوئی ایسا زور اور طاقت تھی۔ آج تم خواہ مخواہ ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہو۔ لہذا جیسے مجرم ہم ہیں ویسے ہی تم بھی مجرم ہو۔ اگر ہم گمراہ تھے تو ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہوسکتی ہے ہم نے وہی کچھ کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا۔ مگر تمہیں اپنی عقل اور عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہئے تھا۔ آج تو ہم سب کو اپنی غلط کاریوں کا مزہ چکھنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 29–32

14۔ رؤساء اور مقتدایان کفر اپنی صفائی میں کہیں گے کہ ہم کیا کریں، اسباب ہی ایسے اکٹھے ہوگئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہوئے، اور اپنی گمراہی کو تم تک پہنچایا، تو تم بھی باختیار خود گمراہ ہوئے۔ ذمہ داری سے بری کوئی نہیں، سب کو اپنا اپنا کفر بھگتنا ہے۔ امام رازی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ اگر ہر گمراہ کی ذمہ داری مغوی پر ڈال دینے قاعدہ صحیح تسلیم کرلیاجائے تو پھر دنیا میں کوئی شخص قابل سزا رہ ہی نہ جائے گا۔ کہ اس مغوی کا بھی تو کوئی اور مغوی ہوگا، اور اس کا کوئی اور۔ اس سے صاف دور وتسلسل لازم آتا ہے۔ اور ذمہ داری ایک سے دوسرے پر برابر ہٹتی ہی چلی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–50

آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان لنا علیکم من سلطانٍ اور ہمارا تم پر کوئی جبر نہیں تھا۔ یہ جملہ سابق مضمون کی تائید کر رہا ہے۔ بل کنتم قومًا طاغین بلکہ تم (خود ہی اپنی مرضی سے) سرکشی کرنے والے لوگ تھے۔ یعنی تم نے خود ہی گمراہی کو اختیار کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–30

(25۔ 30) ان سے اس چیز کے بارے میں سوال ہوگا۔ کہ اب تمہیں کیا ہوا کہ اب تم عذاب الہی کو کیوں نہیں ہٹاتے اور کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی کیوں نہیں مدد کرتے یا یہ کہ ان سے کلمہ لا الہ الا للہ کے انکار کے بارے میں سوال ہوگا۔ بلکہ قیامت کے دن یہ سب عابد و معبود اللہ کے سامنے سر نیچے کیے شرمندہ کھڑے ہوں گے اور اچھی طرح جان لیں گے کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے اور انسان شیاطین کی طرف اور ادنی درجہ کے لوگ سرداروں کی طرف متوجہ ہو کر سوال جواب کرنے لگیں گے۔ چناچہ انسان شیاطین سے کہیں گے کہ تم ہمیں دین سے گمراہ کرتے تھے۔ شیاطین جواب میں کہیں گے بلکہ تم خود ہی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے تھے ہم پر ناحق کا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ : یہ دوسرا جواب ہے کہ ہمارا تم پر کوئی ایسا غلبہ نہ تھا جو تمہیں کفر پر قائم رہنے پر مجبور کرتا۔ تم اپنی رضا سے کفر پر مطمئن اور خوش تھے۔ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِيْنَ : یہ تیسرا جواب ہے کہ بلکہ خود تمہارے خمیر میں حد سے تجاوز اور سرکشی بھری ہوئی تھی، اس لیے تم حق کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے لگ گئے اور انبیاء کی مخالفت کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–35

احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–44

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا كَانَ لَنَا [اور نہیں تھا ہمارے لئے ] عَلَيْكُمْ [تم لوگوں پر ] مِّنْ سُلْطٰنٍ ۚ [کچھ بھی اختیار ] بَلْ كُنْتُمْ [بلکہ تم لوگ تھے ] قَوْمًا طٰغِيْنَ [سرکشی کرنے والی قوم ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 22–30

قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ (احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–31

14:۔ فحق علینا الخ تم اور ہم چونکہ سب ہی مومن نہیں تھے اس لیے ہم سب کے لیے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ آج ہم لامحالہ اللہ کے عذاب کا مزہ چکھیں گے۔ ہمارے اور تمہارے لیے آج عذاب خداوندی کا فیصلہ قطعی ہے اس لیے آج ہم کسی طرح بھی تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا کستے۔ کیونکہ ہم خود مستحق عذاب ہیں۔ نیز تم ہمیں ملامت نہ کرو کیونکہ تم بھی ہمارے ساتھ برابر کے مجرم ہو۔ انا لذائقون یہ قول ربنا کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ۝ 0 ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِيْنَ۝ 30 سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–30

2 ؎ لیکن یعنی حق دین میں سدراہ ہوتے تھے (زجاج) واحدی کہتے ہیں کہ ان کے گمراہ کرنے والوں نے قسمیں کھائیں تھیں کہ جو ہم کہتے ہیں وہ حق ہے یعنی تم قسم کے سبب سے کہتے تھے اور دائیں طرف سے آنا عرب میں عزت کے ساتھ آنے سے محاورہ ہے یعنی زور میں آتے تھے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–30

وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالُوْٓا اِنَّـکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ ۔ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَـکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ ج بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ ۔ (الصآفات : 27 تا 30) (اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور ایک دوسرے سے سوالات شروع کردیں گے۔ (اور پیروی کرنے والے اپنے پیشوائوں سے) کہیں گے کہ تم ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ وہ جواب دیں گے، نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا بلکہ تم ہی تھے حد سے نکل جانے والے۔ ) میدانِ حشر کا ایک اور منظر لیڈروں اور پیرؤوں کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–34

فہم القرآن ربط کلام : جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو قیامت کو جھٹلانے والوں سے سوال ہوگا۔ جب حساب و کتاب کے بعد مجرمین کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے۔ ملائکہ انہیں ہانک کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہونگے تو ذات کبریاء کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں چند لمحے ٹھہرایا جائے۔ جہنمی کہیں گے کہ شاید ہمیں کوئی رعایت دی جارہی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ تمہیں کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ اگر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو ! اس وقت حالت یہ ہوگی کہ پیر اور ان کے مرید، لیڈر اور ان کے ور کر، عابد، اور ان کے معبود…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

30: وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ (اور ہمیں تم پر کوئی زور نہ تھا) ایسا تسلط نہ تھا کہ جس سے ہم تم سے اختیار چھین لیتے اور اختیارتم سے لے لیتے۔ بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ (بلکہ تم خود ہی سرکشی کیا کرتے تھے) ۔ تو اپنے اختیار سے سرکشی کرنے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30، وماکان لنا علیکم من سلطان، اور ہمارے پاس اتنی قوت وقدرت نہیں تھی کہ ہم آپ کی متابعت اور پیروی کرتے ۔ ، بل کنتم قوما طاغین، اس سے مراد گمراہی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–34

24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–39

آیت 28 جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے رساتوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤسا سے کہیں گے : (انکم کنتم تاتوننا عن الیمین) ” تمہیں ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ “ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔ (قالوا) سردار ان کو جواب دیں گے : (بل لم تکونوا مومنین) ” بلکہ تم خود ایمان والے نہیں تھے۔ “ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

19 لیڈروں کی طرف سے پیرؤوں کو ترکی بہ ترکی جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ انکو جواب دیں گے کہ نہیں بلکہ تم خود ہی ایمان والے نہیں تھے۔ ہمارا تم پر کوئی زور نہیں تھا بلکہ تم لوگ خود ہی سرکش تھے "۔ یعنی کوئی ایسا زور کہ ہم ایمان و حق اور توحید و سنت کا نور تمہارے دلوں کے اندر جانے سے روک دیتے کہ اپنے دلوں اور اپنے ارادوں کے مالک تو بہرحال تم لوگ خود ہی تھے۔ اصل بات یہ تھی کہ تم لوگ اپنی سرکشی کی وجہ سے حق و ہدایت قبول کرنا چاہتے ہی نہیں تھے تاکہ اس طرح تم مطلق العنانی کی اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی روش کے مطابق بےروک ٹوک اور بےقید حیوانی زندگی گزارو۔ اور خواہش پرستی کی اپنی اسی روش پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–30

دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی خود تمہارے خمیر میں طغیان و سرکشی بھری تھی اس لئے تم نے حق کو چھوڑ کر ہماری اتباع کی تھی اور انبیاء کی مخالفت پر کمر باندھ لی تھی۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:30) طغین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب وجر۔ طغی یطغوا (باب نصر) طغو۔ طغو مصدر۔ حد سے گذر جانا۔ طغی یطغی وطغی یطغی (باب فتح وسمع) طغی و طغیان مصدر۔ کافر کا کفر میں غلو کرنا۔ یا ظلم و نافرمانی میں حد سے گذر جانا طغین ۔ نافرمان، سرکش، معصیت میں حد سے بڑھ جانے والے۔ یہاں نصب بوجہ کنتم کی خبر کے ہے ! آیت 29 کی طرح یہ آیت بھی گمراہ کرنے والے پیشوائوں کی طرف سے گمراہ ہونے والے چیلوں سے خطاب ہے۔ اسی طرح ہی اگلی آیت ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–34

قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔ (ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔ (1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–48

[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–32

انسان کی پیدائش مٹی سے ہے 1: یہ بات کئی اعتبار سے درست ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس لحاظ سے بھی آدم (علیہ السلام) کو طین لاذب سے پیدا کیا گیا ۔ علم الحیات کے ماہرین کے نزدیک بھی زندگی کی ابتداء پانی سے ہوئی ۔ اور ابتدائی جانور سمندر کی اس مٹی سے پیدا ہوئے ۔ جو چپکتی ہوئی تھی ۔ اور اس نکتہ نگاہ سے بھی یہ ایک حقیقت ہے ۔ کہ انسانی غذا جو اصل میں زندگی کو برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے مٹی سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور انسانی گوشت اور خون چونکہ اسی غذاب سے بنتا ہے ۔ اس لئے اصولاً یہ کہنا درست ہے ۔ کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس زاویہ نظر سے بھی یہ صحیح ہے ۔ کہ انسان میں چونہ کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) اور ہمارا تم پر کچھ زور اور غلبہ تو تھا ہی بلکہ تم خودہی حد سے نکل جانے والے تھے۔ یعنی گمراہ کرنا تو جب ہوتا کہ تم مومن ہوتے تو تو اہل ایمان ہی نہ تھے تو ہم پر گمراہ کرنے کا الزام ہی غلط ہے پھر کوئی حکومت بھی ہماری تم پر نہ تھی کہ ہم تم پر دبائو ڈالتے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم خود ہی سرکش اور حد سے نکل جانے والے لوگ تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–35

ف 4۔ یعنی ہم پر خوب زور ڈال کر ہمارے اضلال کا اہتمام اور اس میں سعی کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہمارا تم پر کچھ زور تو تھا نہیں اور تم خود ہی سرکش تھے : 30۔ تم کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ تم کو پکڑ دھکڑ کر اپنے پاس نہیں لاتے تھے بلکہ تم کو بہت خواہش ہوتی تھی کہ اپنے کام وام سے فارغ ہو کر چوکی بھرنے کے لیے جلدی چلیں اور سارا دن آنے والی شام کا انتظار کیا کرتے تھے کہ جلدی آئے اور ہم چل کر مجلس میں بیٹھیں اور اگر ہم کبھی لیٹ ہوجاتے تو تم ہمارے گھر کا چکر لگاتے اور جب تک ہم بیٹھک میں آکر بیٹھ نہ جاتے تم لوگوں کو چین ہی نہ آتا تھا ہم تو خیر جو کچھ تھے وہ تھے ہی تم خود ہی سرکش اور خود سر تھے کہ کسی نیک مجلس کے قریب بھی نہ بھٹکتے تھے ہم کبھی رسما نماز کے لیے چلے بھی جاتے تو تم حقہ بھرنے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–32

Commentary When the leading elders among disbelievers who had misled their common adherents appear before their followers on the plains of resurrection, they would, rather than help each other, start arguing among themselves. The present verses carry a sampling of the same mutual argumentation between the contesting parties as well as the sad end they will have to face. Two things are noteworthy here: 1. The word: يَمِينِ (yamin) in:إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ (You were the ones who used to come to [ mislead ] us forcefully.- 37:28) may have several meanings. One possible…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–31

18 The word yamin in Arabic is used for several meanings. It may mean use of the force, or well-wishing, or swearing of an oath. Accordingly, the verse would mean: (1) "You compelled us into following error and deviation"; or (2) "you deceived us by posing as our well-wishers"; or (3) "you swore oaths to satisfy us that what you were presenting was the very trnth."

Read the full tafseer →