Explained with ayahs 27–37
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔
کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
سورة الصّٰٓفّٰت 17
پہلا فقرہ مجرمین کو خطاب کر کے ارشاد ہوگا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا جائے گا جو اس وقت جہنم کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ فقرہ خود بتارہا ہے کہ اس وقت حالت کیا ہوگی۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کس بل نکل چکے ہوں گے اور کسی مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے۔ کہیں کوئی ہز میجسٹی دھکے کھا رہے ہوں گے اور درباریوں میں سے کوئی " اعلیٰ حضرت " کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا ہوگا اور اس کا لشکر جرار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا گرو جی یا ہولی فادر…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(بجائے اس کے کہ مشرکین ایک دوسرے کی مدد کرسکیں ان میں اس وقت الٹا جھگڑا ہوگا) اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر جواب سوال (یعنی اختلاف) کرنے لگیں گے (چنانچہ) تابعین (اپنے سرداروں سے) کہیں گے کہ (ہم کو تم نے گمراہ کیا، کیونکہ) ہم پر تمہاری آمد بڑے زور کی ہوا کرتی تھی (یعنی تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے) تبوعین یہ کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم خود ہی ایمان نہیں لائے تھے، اور (ہم پر ناحق الزام لگاتے ہو، کیونکہ) ہمارا تم پر کوئی زور تو تھا ہی نہیں، بلکہ تم خود ہی سرکشی کیا کرتے تھے سو (جب کفر کے مرتکب ہم بھی تھے اور تم بھی، تو معلوم ہوا کہ) ہم سب پر ہی ہمارے…
Read the full tafseer →واقیل بعضھم علی بعض یتسآء لون (27)
تساء ل یہاں باہم سوال و جواب کے مفہوم میں ہے اور آگے تفصیل آرہی ہے اس تو تکار کی جو اسی دن لیڈروں اور اس کے پیروئوں میں ہوگی۔
لیڈروں و پیروئوں کی توتکا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
28۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ دین اور حق کے نام سے آتے تھے یعنی باور کراتے تھے کہ یہی اصل دین اور حق ہے اور بعض کے نزدیک مطلب ہے، ہر طرف سے آتے تھے جس طرح شیطان نے کہا میں ان کے آگے، پیچھے سے، ان کے دائیں بائیں سے ہر طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا (ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ) 7۔ الاعراف :17)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–27
6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
واقبل بعضھم۔۔۔۔۔ عن الیمین (27 – 28) ”
“۔ یعنی تم سیدھے رخ سے آکر ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے ، بالعموم جب کسی کے کان میں کوئی بات ڈالتا ہے تو وہ دائیں جانب سے آتا ہے۔ لہٰذا تم ہماری اس حالت کے ذمہ دار ہو۔ اور ان کا جواب یہ آتا ہے کہ تمہارا یہ الزام احمقانہ ہے۔ تم خود اپنے کیے کے ذمہ دار ہو ، جو فیصلہ کیا تم نے کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
13 " یمین " (داہنے ہاتھ) میں عموماً زور و قوت زائد ہوتی ہے یعنی تم ہی تھے جو ہم پر چڑھے آتے تھے بہکانے کو زور دکھلا کر اور مرعوب کر کے۔ یا یمین سے مراد خیر و برکت کی جانب لی جائے یعنی تم ہی تھے کہ ہم پر چڑھائی کرتے تھے، بھلائی اور نیکی سے روکنے کے لیے۔ یہ گفتگو اتباع اور متبوعین (زبردستوں اور زیردستوں) کے درمیان ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 27{ وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ } ”اور پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھنے لگیں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
15 مطیع اور مطاع کا قیامت کے دن مکالمہ :۔ ایسے عابد اور معبود جنہیں جہنم میں داخل کردینے کا حکم دیا جائے گا۔ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ انہیں ذرا روک لو پہلے ان سے ایک بات تو پوچھ لیں۔ ان مجرموں میں ہر قسم کے عابد اور ہر قسم کے معبود ہوں گے۔ مشرکین اور ان کے معبودوں کا تو پہلے ذکر ہوچکا۔ ان میں چودھری اور رئیس بھی ہوں گے اور ان کے پیروکار بھی، سیاسی لیڈر بھی اور ان کی پارٹی کے لوگ بھی۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والے اور خدائی کو منوانے والے بھی اور ماننے والے بھی۔ گورو جی اور ان کے چیلے چانٹے بھی، اعلیٰ حضرت بھی اور ان کی شفاعت پر بھروسہ کرنے والے مریدان باصفا بھی۔ اور یہ سب جوڑے اس دن ایک دوسرے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
13۔ عوام کفار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ بیشک تم نے ہمیں کفر پر صریحا مجبور تو نہیں کیا تھا، لیکن تم ترغیب وتحریض کے مختلف طریقے اختیار کر کرکے ہر طرح کا زور جو ہم پر دیا کرتے تھے، (آیت) ” تاتوننا عن الیمین “۔ ایتاء عن الیمین “۔ کے معنی محاورہ میں زور اور دباؤ ڈالنے کے آتے ہیں۔ عن القوۃ والقھر اذا الیمین موصوفۃ بالقوۃ وبھا یقع البطش اے انکم تحملوننا علی الضلال وتقسروننا علیہ (مدارک) اے عن اقوی الوجوہ (بیضاوی) اے تخدعوننا وتفتنوننا عن طاعۃ اللہ (ابن قتیبہ) وقیل الیمین بمعنی القوۃ اے تمنعوننا بقوۃ وغلبۃ وقھر (قرطبی) (آیت) ” عن الیمین “۔ سے کنایہ یہ بھی سمجھا گیا ہے کہ راہ حق کی طرف سے اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے۔
بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ سے مراد ہیں سردار اور ان کے چیلے یا کافر اور ان کے ساتھ شیطان۔
یَتَسَآءَ لُوْنَ یعنی بطور زجر باہم سوال جواب کریں گے۔ مراد یہ ہے کہ باہم جھگڑیں گے اور ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
(25۔ 30) ان سے اس چیز کے بارے میں سوال ہوگا۔ کہ اب تمہیں کیا ہوا کہ اب تم عذاب الہی کو کیوں نہیں ہٹاتے اور کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی کیوں نہیں مدد کرتے یا یہ کہ ان سے کلمہ لا الہ الا للہ کے انکار کے بارے میں سوال ہوگا۔ بلکہ قیامت کے دن یہ سب عابد و معبود اللہ کے سامنے سر نیچے کیے شرمندہ کھڑے ہوں گے اور اچھی طرح جان لیں گے کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے اور انسان شیاطین کی طرف اور ادنی درجہ کے لوگ سرداروں کی طرف متوجہ ہو کر سوال جواب کرنے لگیں گے۔
چناچہ انسان شیاطین سے کہیں گے کہ تم ہمیں دین سے گمراہ کرتے تھے۔ شیاطین جواب میں کہیں گے بلکہ تم خود ہی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے تھے ہم پر ناحق کا…
Read the full tafseer →وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ : یعنی گمراہ لوگ اور انھیں گمراہ کرنے والے، کمزور اور قوت والے ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر یہ گفتگو کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کی باہمی گفتگو، ان کا ایک دوسرے کو ملامت کرنا اور گمراہ کرنے والوں کا اپنی پیروی کرنے والوں سے بری ہونے کے اعلان کا ذکر کئی مقامات پر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (166، 167) ، ابراہیم (21، 22) ، اعراف (38، 39) ، سبا (31 تا 33) اور مومن (47، 48)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…
Read the full tafseer →وَاَقْبَلَ [اور سامنے آئے گا ] بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ [انکا کوئی کسی کے ] يَّتَسَاۗءَلُوْنَ [ایک دوسرے سے پوچھتے ہوئے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا
یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔
یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
12:۔ واقبل بعضہم الخ :۔ اب مشرکین ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں سوال و جواب کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ قالو انکم الخ، متبوعین سے اور مریدین اپنے پیروں اور پیشواؤں سے کہیں گے دنیا میں تو تم دین کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے اور دین حق سے ہمیں متنفر کر کے ہمٰں گمراہ کرتے تھے اور شرک و بدعت کو خوبصورت پیرائے میں ہمارے سامنے پیش کر کے ہمیں مطمئن کرتے تھے اور دعوی کیا کرتے تھے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ حق ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ باطل اور گمراہی ہے۔ تاتوننا من قبل الدین فتھونون علینا امر الشریعۃ و تنفروننا عنہا والیمین بمنعی الدین ای کنتم تزینون لنا الضلالۃ (قرطبی ج 15 ص 75) ۔ یعنی من قبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–35
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے…
Read the full tafseer →وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ 27
إِقْبَالُ
التّوجّه نحو الْقُبُلِ ، كَالاسْتِقْبَالِ. قال تعالی: فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] ، وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ [ الذاریات/ 29]
اقبال
اور استقبال کی طرح اقبال کے معنی بھی کسی کے رو برو اور اس کی طرف متوجہ ہو نیکے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] پھر لگے ایک دوسرے کو رو ور ود ملا مت کرنے ۔
وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، اور وہ ان کی طرف متوجہ ہوکر
بعض
بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
1 ؎ وہ بیویاں جو اپنے مشرک خاودن کے مذہب پر تھیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالُوْٓا اِنَّـکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ ۔ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَـکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ ج بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ ۔ (الصآفات : 27 تا 30)
(اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور ایک دوسرے سے سوالات شروع کردیں گے۔ (اور پیروی کرنے والے اپنے پیشوائوں سے) کہیں گے کہ تم ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ وہ جواب دیں گے، نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا بلکہ تم ہی تھے حد سے نکل جانے والے۔ )
میدانِ حشر کا ایک اور منظر لیڈروں اور پیرؤوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
فہم القرآن
ربط کلام : جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو قیامت کو جھٹلانے والوں سے سوال ہوگا۔
جب حساب و کتاب کے بعد مجرمین کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے۔ ملائکہ انہیں ہانک کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہونگے تو ذات کبریاء کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں چند لمحے ٹھہرایا جائے۔ جہنمی کہیں گے کہ شاید ہمیں کوئی رعایت دی جارہی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ تمہیں کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ اگر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو ! اس وقت حالت یہ ہوگی کہ پیر اور ان کے مرید، لیڈر اور ان کے ور کر، عابد، اور ان کے معبود…
Read the full tafseer →27: وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ (وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہونگے) تابع متبوع کی طرفیَّتَسَآ ئَ لُوْنَ (وہ سوال جواب کریں گے) باہمی جھگڑیں گے۔
Read the full tafseer →تفسیر 27۔ ، واقبل بعضھم علی بعض ، اس مراد سردار اور چیلے ہیں یا کافر اور ان کے ساتھی شیطان ہیں ، یتساء لون، باہم وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت 26
جب قیامت کے روز وہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر کئے جائیں گے اور اس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس کی وہ تکذیب کیا کرتے اور اس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے، تو ان کو جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جائے گا : (احشروا الذین ظلموا) ” جو لوگ ظلم کرتے تھے انہیں جمع کرو۔ “ یعنی جنہوں نے کفر، شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا (وازواجھم) ” اور ان کے ہم جنسوں کو “ یعنی جن کا عمل ان کے عمل کی جنس سے ہے، ہر شخص کو اس شخص کے ساتھ شامل کردیا جائے گا جو عمل میں اس کا ہم جنس تھا۔ (وما کانوا یعبدون، من دون اللہ) ” اور جن کی و وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
17 مشرکوں کی تذلیل و تحقیر کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حکم ہوگا کہ ٹھہراؤ ان کو ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیا ہوگیا تمہیں کہ آج تم ایک دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرتے ؟ "۔ حالانکہ دنیا میں تمہیں اپنے ایکے، اپنی پارٹی بازی اور گروہ بندی پر بڑا ناز تھا۔ اپنے آپ کو تم سواد اعظم اور بڑی جماعت کہتے اور مانتے تھے اور۔ { نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ} ۔ کے راگ الاپا کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے جھنڈے اٹھائے اور نعرے لگاتے پھر رہے تھے۔ لیڈر، گرو اور اپنی سرداری اور بڑائی کا زعم اور گھمنڈ رکھنے والے اپنے پیرؤوں، چیلوں اور دم چھلوں کی مدد کے بڑے بڑے دعوے کرتے اور دم بھرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات
تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 5 اور زور و قوت دکھلا کر ہمیں مرعوب کرتے اور بہکانے کیلئے ہم پر چڑھ چڑھ کر آیا کرتے تھے۔ اس صورت میں یمین ( داہنا ہاتھ) سے مراد قوت ہوگی۔ اکثر مفسرین (رح) نے اس کے معنی دائیں جانب کیے ہیں اور ” دائیں جانب “ سے مراد خیر خواہی نیکی اور دین حق کی جانب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم آ کر ہمیں خیر خواہی، نیکی اور دین حق کی راہ سے بہکاتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ جس چیز کا ہم تمہیں حکم دیتے ہیں نیکی اور حق وہی ہے اور اگر عن الیمین کے معنی قسم کے لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ تم ہی قسمیں کھا کھا کر اپنے اپنے آپ کو ہمارا خیر خواہ ظاہر کرتے تھے۔ بہر حال یہ بات کافر شیاطین سے کہیں گے یا تابعدار اپنے رئیسوں سے۔ (…
Read the full tafseer →(37:27) اقبل۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اقبال مصدر (افعال) اس نے رخ کیا۔ وہ متوجہ ہوا۔ وہ آگے آیا۔
بعضہم علی بعض۔ ان میں سے بعض بعض کی طرف یعنی ایک دوسرے کی طرف۔ مراد سردار اور ان کے چیلے۔ یا کافر اور ان کے ساتھ شیطان۔
یتساء لون۔ مضارع جمع مذکر غائب تساؤل (تفاعل) مصدر سے۔ سأل۔ مادہ ایک دوسرے سے پوچھنا۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں وہ ایک دوسرے سے بطور زجر سوال و جواب کریں گے۔ یا باہم جھگڑیں گے۔ ایک دوسرے کو ملامت کریں گے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔
(ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔
(1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
[9] اشارہ صور کے نفخ ثانی کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
انسان کی پیدائش مٹی سے ہے
1: یہ بات کئی اعتبار سے درست ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس لحاظ سے بھی آدم (علیہ السلام) کو طین لاذب سے پیدا کیا گیا ۔ علم الحیات کے ماہرین کے نزدیک بھی زندگی کی ابتداء پانی سے ہوئی ۔ اور ابتدائی جانور سمندر کی اس مٹی سے پیدا ہوئے ۔ جو چپکتی ہوئی تھی ۔ اور اس نکتہ نگاہ سے بھی یہ ایک حقیقت ہے ۔ کہ انسانی غذا جو اصل میں زندگی کو برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے مٹی سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور انسانی گوشت اور خون چونکہ اسی غذاب سے بنتا ہے ۔ اس لئے اصولاً یہ کہنا درست ہے ۔ کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس زاویہ نظر سے بھی یہ صحیح ہے ۔ کہ انسان میں چونہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(27) اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باہم سوال و جواب کرنے لگیں گے۔ یعنی بجائے ایک دوسرے کی مدد کے باہم اختلاف اور تو تو میں میں کرنے لگیں گے۔ تابع متبوع سے کہیں گے تم ہی تو ہ جو ہمارے پاس داہنی جانب سے آتے تھے یعنی پوری قوت اور زور سے چڑھ چڑھ کر آتے تھے - یعنی ہمارے گمراہ کرنے کو پورا زور ہم پر ڈالتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم پر چڑھے آتے تھے بہکانے کو زور سے اور رعب سے داہنا ہاتھ زور کا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ تم ہر طرف سے دبائو ڈالتے تھے دائیں سے اور بائیں سے یا یہ مطلب کہ تم قسم کھا کر ہم سے کہتے تھے کہ ہمارا ہی دین سچا ہے یا یہ کہ دین کا نام لے کر ہم کو گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 2۔ یعنی جو بانی اور مقتدائے کفر و شرک تھے۔
3۔ یعنی شیاطین و اصنام
Read the full tafseer →ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے :
27۔ بعض بعض پر سوال کرتے ہوئے ایک دوسرے سے آپس میں سوال و جواب شروع کردیں گے اور اس طرح اس کے بعض کی وضاحت بعض کے قول سے خود بخود ہوتی جائے گی کیونکہ بات خود بتا دے گی یہ پیر صاحب بول رہے ہیں یا مرید صاحب یہ سیاسی لیڈر کا ارشاد ہے یا ووٹر کی بات ہے یہ متکبر آدمی ہے یا کمزور کی طرف سے بات جاری ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
After that, a command will go forth to angels: فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ (and show them the way to Jahannam - 37:23). When the angels will take them away, and reach close to the Bridge of Sirat, they will be commanded: YP (make them stop - they are to be questioned - 37:24). Thereupon, at this place, they will be questioned about their beliefs and deeds - that have been mentioned in the Qur'an and Hadith at many places.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
17 The first sentence will be addressed to the culprits, and the second to the common spectators, who will be watching the scene of the culprits' departure for Hell. This sentence itself tells of the general conditions at the time. It tells how the haughty and stubborn culprits of the world will be moving towards Hell meekly and without showing any resistance. Somewhere some kind will be seen being pushed about, and no one from among his courtiers will come forward to rescue "his majesty"; somewhere some conqueror of the world and some dictator will be moving away in humiliation and disgrace,…
Read the full tafseer →