Explained with ayahs 27–37
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔
کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
سورة الصّٰٓفّٰت 18
اصل الفاظ ہیں کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ۔ " تم ہمارے پاس یمین کی راس سے آتے تھے۔ " یمین کا لفظ عربی زبان میں متعدد مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے۔ اگر اس کو قوت و طاقت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم کمزور تھے اور تم ہم پر غالب تھے، اس لیے تم اپنے زور سے ہم کو گمراہی کی طرف کھینچ لے گئے۔ اگر اس کو خیر اور بھلائی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیر خواہ بن کر ہمیں دھوکا دیا۔ تم ہمیں یقین دلاتے رہے کہ جس راہ پر تم ہمیں چلا رہے ہو یہی حق اور بھلائی کی راہ ہے۔ اس لیے ہم تمہارے فریب میں آگئے۔ اور اگر اسے قسم کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
معارف و مسائل
میدان حشر میں جمع ہوجانے کے بعد کافروں کے بڑے بڑے سردار جنہوں نے اپنے چھوٹوں کو بہکایا تھا، اپنے پیرو وں کے سامنے آئیں گے۔ تو بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کی کوئی مدد کرسکیں، آپس میں بحث و تکرار شروع کردیں گے۔ ان آیات میں اسی بحث و تکرار کا کچھ نقشہ کھینچ کر فریقین کا انجام بد بیان کیا گیا ہے۔ آیات کا مفہوم خلاصہ تفسیر سے واضح ہے، صرف چند مختصر باتیں قابل ذکر ہیں۔
(1) انکم کنتم تاتوننا عن الیمین، میں ”یمین“ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک معنی قوت و طاقت بھی ہیں۔ اوپر اسی معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ”ہم پر تمہاری آمد بڑے زور کی ہوا کرتی تھی“ یعنی تم ہم پر خوب زور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
قالو انکم کنتم تانوننا عن الیمین قالوا بل لم تکونوا مومنین (29-28)
قرینہ دلیل ہے کہ پہلے قالوا کے فاعل عوام ہیں اور دوسرے کے ان کے لیڈر یعنی اس دن عوام اپنے لیڈروں سے کہیں گے کہ یہ آپ ہی لوگوں کی لائی ہوئی شامت ہے۔ آپ ہی لوگ دبنے اور بائیں سے ہر وقت بم کو گھیرے رہتے تھے کہ ہم پیغمبر کی بات نہ سنیں۔ اگر آپ لوگ ہماری راہ میں اڑنگے نہ ڈالتے تو ہم ضرور ایمان لانے والے بنتے۔ لیڈر ان کی بات کاٹ کر فوراً ان کو جواب دیں گے کہ تمہارا یہ الزام بالکل جھوٹ ہے۔ تم لوگ خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
28۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ دین اور حق کے نام سے آتے تھے یعنی باور کراتے تھے کہ یہی اصل دین اور حق ہے اور بعض کے نزدیک مطلب ہے، ہر طرف سے آتے تھے جس طرح شیطان نے کہا میں ان کے آگے، پیچھے سے، ان کے دائیں بائیں سے ہر طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا (ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ) 7۔ الاعراف :17)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
7: یعنی ہم پر زور ڈالتے تھے کہ ہم ایمان نہ لائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
واقبل بعضھم۔۔۔۔۔ عن الیمین (27 – 28) ”
“۔ یعنی تم سیدھے رخ سے آکر ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے ، بالعموم جب کسی کے کان میں کوئی بات ڈالتا ہے تو وہ دائیں جانب سے آتا ہے۔ لہٰذا تم ہماری اس حالت کے ذمہ دار ہو۔ اور ان کا جواب یہ آتا ہے کہ تمہارا یہ الزام احمقانہ ہے۔ تم خود اپنے کیے کے ذمہ دار ہو ، جو فیصلہ کیا تم نے کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
13 " یمین " (داہنے ہاتھ) میں عموماً زور و قوت زائد ہوتی ہے یعنی تم ہی تھے جو ہم پر چڑھے آتے تھے بہکانے کو زور دکھلا کر اور مرعوب کر کے۔ یا یمین سے مراد خیر و برکت کی جانب لی جائے یعنی تم ہی تھے کہ ہم پر چڑھائی کرتے تھے، بھلائی اور نیکی سے روکنے کے لیے۔ یہ گفتگو اتباع اور متبوعین (زبردستوں اور زیردستوں) کے درمیان ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 28{ قَالُوْٓا اِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ } ”کہیں گے کہ تم ہی تو آیا کرتے تھے ہمارے پاس بڑے دبدبے کے ساتھ !“
یعنی تم ہمارے سردار تھے اور اپنی اس حیثیت کا رعب جما کر ہمیں اپنی پیروی پر مجبور کیا کرتے تھے۔ تم ہمارے پاس بہت رعب ‘ دبدبے ‘ طاقت اور زور کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ لفظ ”یمین“ کے معنی طاقت کے بھی ہیں اور داہنی طرف کے بھی۔ چناچہ آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے کہ ”تم آیا کرتے تھے ہمارے پاس دائیں طرف سے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
16 لفظ یمین کے مختلف معنی اور ان سب کا اطلاق :۔ یمین کا لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً (1) یمین بمعنی دایاں ہاتھ بھی اور دائیں طرف بھی اور (2) اصحاب الیمین کے معنی دائیں ہاتھ یا دائیں جانب والے بھی اور اصحاب خیرو برکت بھی (مفردات القرآن) (3) پھر جس طرح ید کا لفظ قوت اور قبضہ کے معنوں میں آتا ہے یمین اس سے بھی زیادہ وسیع معنوں میں آتا ہے۔ کیونکہ قوت اور کارکردگی کے لحاظ سے دایاں ہاتھ بائیں سے افضل اور بہتر ہے۔ اور ملک یمین اس چیز کو کہتے ہیں جس پر پورا قبضہ اور اختیار ہو اور محاورۃ یہ لفظ لونڈی اور غلام کے معنوں میں آتا ہے۔ (4) علاوہ ازیں اہل عرب کی عادت تھی کہ اپنے عہد و پیمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
13۔ عوام کفار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ بیشک تم نے ہمیں کفر پر صریحا مجبور تو نہیں کیا تھا، لیکن تم ترغیب وتحریض کے مختلف طریقے اختیار کر کرکے ہر طرح کا زور جو ہم پر دیا کرتے تھے، (آیت) ” تاتوننا عن الیمین “۔ ایتاء عن الیمین “۔ کے معنی محاورہ میں زور اور دباؤ ڈالنے کے آتے ہیں۔ عن القوۃ والقھر اذا الیمین موصوفۃ بالقوۃ وبھا یقع البطش اے انکم تحملوننا علی الضلال وتقسروننا علیہ (مدارک) اے عن اقوی الوجوہ (بیضاوی) اے تخدعوننا وتفتنوننا عن طاعۃ اللہ (ابن قتیبہ) وقیل الیمین بمعنی القوۃ اے تمنعوننا بقوۃ وغلبۃ وقھر (قرطبی) (آیت) ” عن الیمین “۔ سے کنایہ یہ بھی سمجھا گیا ہے کہ راہ حق کی طرف سے اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →قالوا انکم کنتم تاتوننا عن الیمین (چیلے اپنے سرداوں سے یا کافر اپنے ساتھی شیطانوں سے) کہیں گے :
ہم پر تمہاری آمد بڑے زوروں سے ہوتی تھی۔
الیمین سے مراد ہے قوی ترین وجہ ‘ یا دین (کا جامہ بن کر) یا خیر (اور بھلائی کا راستہ) کذاقال الضحاک ومجاہد۔ انسان کا دایاں پہلو قوی ‘ طاقتور ‘ افضل اور زیادہ نفع بخش ہوتا ہے ‘ اسی لئے دائیں پہلو کو یمین کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا : یمین سے مراد قسم ہے ‘ یعنی تم قسمیں کھاتے تھے کہ جس دین کی ہم تم کو دعوت دے رہے ہیں ‘ وہی حق ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یمین سے مراد ہے قوت اور جبر ‘ یعنی تم ہم کو گمراہ ہونے پر مجبور کرتے تھے ‘ ہماری مرضی کے خلاف ہم پر زبردستی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
(25۔ 30) ان سے اس چیز کے بارے میں سوال ہوگا۔ کہ اب تمہیں کیا ہوا کہ اب تم عذاب الہی کو کیوں نہیں ہٹاتے اور کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی کیوں نہیں مدد کرتے یا یہ کہ ان سے کلمہ لا الہ الا للہ کے انکار کے بارے میں سوال ہوگا۔ بلکہ قیامت کے دن یہ سب عابد و معبود اللہ کے سامنے سر نیچے کیے شرمندہ کھڑے ہوں گے اور اچھی طرح جان لیں گے کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے اور انسان شیاطین کی طرف اور ادنی درجہ کے لوگ سرداروں کی طرف متوجہ ہو کر سوال جواب کرنے لگیں گے۔
چناچہ انسان شیاطین سے کہیں گے کہ تم ہمیں دین سے گمراہ کرتے تھے۔ شیاطین جواب میں کہیں گے بلکہ تم خود ہی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے تھے ہم پر ناحق کا…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا : یعنی کمزور اور پیروی کرنے والے اپنے سرداروں اور گمراہ کرنے والوں سے کہیں گے۔
اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْيَمِيْنِ : ”الْيَمِيْنِ“ کا معنی قسم بھی ہے، دایاں ہاتھ بھی اور دائیں جانب بھی۔ اگر اس کا معنی قسم لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ تم ہی قسم کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے، یعنی قسمیں کھا کھا کر اپنے آپ کو ہمارا خیرخواہ ظاہر کرتے تھے اور اگر اس کا معنی دایاں ہاتھ لیا جائے تو اس سے مراد قوت ہوگی، کیونکہ اہل عرب یمین بول کر قوت مراد لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہوگا کہ تم زور اور قوت دکھلا کر ہمیں مرعوب کرتے تھے اور بہکانے کے لیے ہم پر چڑھ دوڑا کرتے تھے اور اگر دائیں جانب معنی ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اِنَّكُمْ [کہیں گے بیشک تم لوگ ] كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا [آتے تھے ہمارے پاس ] عَنِ الْيَمِيْنِ [داہنی طرف سے (بڑے ٹھ سے سے)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا
یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔
یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
13:۔ قالوا بل الخ :۔ متبوعین و پیشوایان سوء اپنے اتباع و مریدین کو جواب دیں گے کہ یہ بات قطعاً غلط ہے کہ ہم نے تم کو گمراہ کیا بلکہ تم خود ہی گمراہ اور ایمان سے عاری تھے۔ اگر تم مومن تھے اور ہدایت پر گامزن تھے تو ہمارے کہنے سے تم کیوں گمراہ ہوئے ؟ ما کان لنا علیکم من سلطان، ہمیں تم پر کسی قسم کا غلبہ و تسلط تو حاصل نہ تھا نہ ہم نے تمہیں اپنی بات ماننے پر مجبور کیا۔ بل کنتم قوما طغین، بلکہ تم خود عصیان وعناد میں حد سے تجاوز کرچکے تھے۔ حق بتانے والوں نے تمہیں ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر تم عصیان و طغیان پر مصر رہے اور ان ناصحین کی ایک نہ سنی اور حق کے مقابلے میں باطل کو قبول کیا اور اسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–35
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْيَمِيْنِ 28
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» .
والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : أتيت المروءة من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
2 ؎ لیکن یعنی حق دین میں سدراہ ہوتے تھے (زجاج) واحدی کہتے ہیں کہ ان کے گمراہ کرنے والوں نے قسمیں کھائیں تھیں کہ جو ہم کہتے ہیں وہ حق ہے یعنی تم قسم کے سبب سے کہتے تھے اور دائیں طرف سے آنا عرب میں عزت کے ساتھ آنے سے محاورہ ہے یعنی زور میں آتے تھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالُوْٓا اِنَّـکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ ۔ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَـکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ ج بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ ۔ (الصآفات : 27 تا 30)
(اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور ایک دوسرے سے سوالات شروع کردیں گے۔ (اور پیروی کرنے والے اپنے پیشوائوں سے) کہیں گے کہ تم ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ وہ جواب دیں گے، نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا بلکہ تم ہی تھے حد سے نکل جانے والے۔ )
میدانِ حشر کا ایک اور منظر لیڈروں اور پیرؤوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
فہم القرآن
ربط کلام : جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو قیامت کو جھٹلانے والوں سے سوال ہوگا۔
جب حساب و کتاب کے بعد مجرمین کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے۔ ملائکہ انہیں ہانک کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہونگے تو ذات کبریاء کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں چند لمحے ٹھہرایا جائے۔ جہنمی کہیں گے کہ شاید ہمیں کوئی رعایت دی جارہی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ تمہیں کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ اگر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو ! اس وقت حالت یہ ہوگی کہ پیر اور ان کے مرید، لیڈر اور ان کے ور کر، عابد، اور ان کے معبود…
Read the full tafseer →28: قَالُوْا (وہ کہیں گے) پیروکار اپنے سرداروں کو اِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَاْ تُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ (تم ہم پر بڑے زور سے آتے تھے) یعنی قوت اور غلبہ کے ساتھ۔ کیونکہ دایاں ہاتھ قوت سے موصوف کیا جاتا ہے اور اسی سے پکڑا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے تم ہمیں گمراہی پر آمادہ کرتے اور زبردستی مجبور کرتے تھے۔
Read the full tafseer →28، قالوا، وہ سردار اور چیلے کہیں گے۔ ، انکم کنتم تاتو ننا عن الیمین، اس سے مراددین ہے جس سے انہوں نے گمراہی برتی کہ تم لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ہم تمہیں دیکھتے تھے کہ تمہارادین ہمیں گمراہی سے بچائے گا۔ ضحاک اور مجاہد رحمہما اللہ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے ر اہ حق سے ہٹادینا ۔ یمین یہاں عبارت ہے دین اور حق سے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں خبردی ، ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شما ئلھم ، جن کے پاس شیطان دائیں جانب سے آتا ہے وہ دین کے متعلق وسوسے ڈالتا ہے تو پر حق ملتبس ہوجاتا ہے اور بعض نے کہا کہ قریش کے بڑے بڑے سردار جھوٹی قسمیں اٹھا تے تھے کہ جن کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–39
آیت 28
جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے رساتوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤسا سے کہیں گے : (انکم کنتم تاتوننا عن الیمین) ” تمہیں ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ “ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔ (قالوا) سردار ان کو جواب دیں گے : (بل لم تکونوا مومنین) ” بلکہ تم خود ایمان والے نہیں تھے۔ “ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
18 گمراہ کن لیڈروں اور ان کے پیروکاروں کے درمیان توتکار کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز پیرو اپنے گمراہ کن لیڈروں اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ تم لوگ تو ہمارے پاس آیا کرتے تھے داہنی طرف سے "۔ یعنی پوری قوت اور زور کے ساتھ، روپیہ پیسہ کی ریل پیل کے ساتھ، عہدہ و منصب کے جاہ و جلال کے ساتھ، مریدین و معتقدین کے لاؤ لشکر کے ساتھ وغیرہ وغیرہ۔ نیز یہاں پر " الیَمْین " سے قوت کے علاوہ دین داری بھی مراد ہوسکتی ہے۔ یعنی تم لوگ دین کے نام پر اور دین کے نعرے کے ساتھ ہمیں گمراہ کرنے آیا کرتے تھے۔ اور باطل کو ہمارے سامنے حق کی شکل میں پیش کیا کرتے تھے۔ تمہارے میلے ٹھیلے، عرس و اعیاد اور بھجن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات
تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 5 اور زور و قوت دکھلا کر ہمیں مرعوب کرتے اور بہکانے کیلئے ہم پر چڑھ چڑھ کر آیا کرتے تھے۔ اس صورت میں یمین ( داہنا ہاتھ) سے مراد قوت ہوگی۔ اکثر مفسرین (رح) نے اس کے معنی دائیں جانب کیے ہیں اور ” دائیں جانب “ سے مراد خیر خواہی نیکی اور دین حق کی جانب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم آ کر ہمیں خیر خواہی، نیکی اور دین حق کی راہ سے بہکاتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ جس چیز کا ہم تمہیں حکم دیتے ہیں نیکی اور حق وہی ہے اور اگر عن الیمین کے معنی قسم کے لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ تم ہی قسمیں کھا کھا کر اپنے اپنے آپ کو ہمارا خیر خواہ ظاہر کرتے تھے۔ بہر حال یہ بات کافر شیاطین سے کہیں گے یا تابعدار اپنے رئیسوں سے۔ (…
Read the full tafseer →(37:28) قالوا۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب گمراہ شدگان۔ اتباع پیروکاروں کے لئے ہے جو گمراہ کنند گان سرداران کی تحریض و ترغیب سے راہ راست سے ہٹ کر کفر کا ارتکاب کرنے لگے تھے ان کے مخاطب ان کو گمراہ کرنے والے رؤسایا پیشوا ہوں گے۔
کنتم تاتوننا عن الیمین۔ الیمین کے معنی القوۃ والقدرۃ ایتاء عن الیمین کے معنی محاورہ میں زور اور دبائو ڈالنے کے ہوتے ہیں۔ یعنی تم ہم پر اپنی سرداری اپنی طاقت وسطوت کا دبائو ڈالا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔
(ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔
(1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–48
[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے
لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
انسان کی پیدائش مٹی سے ہے
1: یہ بات کئی اعتبار سے درست ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس لحاظ سے بھی آدم (علیہ السلام) کو طین لاذب سے پیدا کیا گیا ۔ علم الحیات کے ماہرین کے نزدیک بھی زندگی کی ابتداء پانی سے ہوئی ۔ اور ابتدائی جانور سمندر کی اس مٹی سے پیدا ہوئے ۔ جو چپکتی ہوئی تھی ۔ اور اس نکتہ نگاہ سے بھی یہ ایک حقیقت ہے ۔ کہ انسانی غذا جو اصل میں زندگی کو برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے مٹی سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور انسانی گوشت اور خون چونکہ اسی غذاب سے بنتا ہے ۔ اس لئے اصولاً یہ کہنا درست ہے ۔ کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اس زاویہ نظر سے بھی یہ صحیح ہے ۔ کہ انسان میں چونہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(27) اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باہم سوال و جواب کرنے لگیں گے۔ یعنی بجائے ایک دوسرے کی مدد کے باہم اختلاف اور تو تو میں میں کرنے لگیں گے۔ تابع متبوع سے کہیں گے تم ہی تو ہ جو ہمارے پاس داہنی جانب سے آتے تھے یعنی پوری قوت اور زور سے چڑھ چڑھ کر آتے تھے - یعنی ہمارے گمراہ کرنے کو پورا زور ہم پر ڈالتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم پر چڑھے آتے تھے بہکانے کو زور سے اور رعب سے داہنا ہاتھ زور کا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ تم ہر طرف سے دبائو ڈالتے تھے دائیں سے اور بائیں سے یا یہ مطلب کہ تم قسم کھا کر ہم سے کہتے تھے کہ ہمارا ہی دین سچا ہے یا یہ کہ دین کا نام لے کر ہم کو گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
ف 4۔ یعنی ہم پر خوب زور ڈال کر ہمارے اضلال کا اہتمام اور اس میں سعی کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وہ کہیں گے کہ تم ہی تھے جو ہمارے پاس داہنی طرف سے آیا کرتے تھے :
28۔ معلوم ہوگیا کہ بولنے والے صاحب مرید ہیں ‘ حواری اور ووٹر ہیں جو اپنے پیروں ‘ سرداروں اور سیاسی لیڈروں کی طرف دیکھ کر ان سے بات کرنے کے لیے آگے بڑھے ہیں کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو ہمارے پاس نہایت شان و شوکت سے آیا کرتے تھے اور دعو وں سے ہم کو یقین دلاتے تھے آخرت ہمارے گھر کی کھیتی ہے تم ہمارے مرید ہو تم کو آخر کون پوچھ سکتا ہے گویا سارے ماتحت اپنے سرداروں کو کہیں گے کہ تم بڑی شان و شوکت اور کروفر سے ہمارے پاس آتے تھے اور ہمیں اسلام سے ہٹا کر کبھی مساوات کی دعوت دیتے تھے ‘ کبھی تہذیب جدید کے نام پر عریاں ہونے کے مشورے دیتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
Commentary
When the leading elders among disbelievers who had misled their common adherents appear before their followers on the plains of resurrection, they would, rather than help each other, start arguing among themselves. The present verses carry a sampling of the same mutual argumentation between the contesting parties as well as the sad end they will have to face. Two things are noteworthy here:
1. The word: يَمِينِ (yamin) in:إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ (You were the ones who used to come to [ mislead ] us forcefully.- 37:28) may have several meanings. One possible…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
18 The word yamin in Arabic is used for several meanings. It may mean use of the force, or well-wishing, or swearing of an oath. Accordingly, the verse would mean: (1) "You compelled us into following error and deviation"; or (2) "you deceived us by posing as our well-wishers"; or (3) "you swore oaths to satisfy us that what you were presenting was the very trnth."
Read the full tafseer →