As-Saaffaat 37:26

As-Saaffaat · from ayah 26

37:26

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ۟بَلۡ هُمُ الۡيَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ

بلکہ آج تو وہ فرمانبردار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But they, that Day, are in surrender.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:26

ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دوسرے کو) حوالے کیے دے رہے ہیں!"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلکہ آج تو وہ فرمانبردار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ وه (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کے بجائے یہ تو آج سر جھکائے کھڑے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ وہ آج گردن ڈالے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ مدد کیا کریں گے) بلکہ آج تو وہ خود گردنیں جھکائے کھڑے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ آج وہ بالکل فرماں بردار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ آج وہ بالکل مطیع و منقاد بن جائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ یہ تو آج بڑے ہی فرماں بردار بنے ہوئے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلکہ (اس دن تو) وہ سب کے سب سر جھکائے کھڑے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

نہیں بلکہ وہ (سب) اس روز سرافگندہ ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ آج تو یہ بہت فرمانبردار بنے ہوئے ہیں !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بلکہ آج تو وہ فرمانبردار ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed, today they are surrendering themselves completely.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

On the contrary, that day all of them will have totally surrendered.

— Muhammad Taqi Usmani

On the contrary, that day all of them will have totally surrendered.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, but that Day they shall surrender.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but this day they make full submission.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But they, that Day, are in surrender.

— Saheeh International

In fact, on that day they will be submissive.

— Muhammad Sarwar

Nay! on that day they shall be submissive.

— Muhammad Habib Shakir

Nay! on that Day they will be entirely submissive.

— Abdul Majid Daryabadi

Nay, but that day they shall submit (to Judgment);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–26

قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–27

سورة الصّٰٓفّٰت 17 پہلا فقرہ مجرمین کو خطاب کر کے ارشاد ہوگا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا جائے گا جو اس وقت جہنم کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ فقرہ خود بتارہا ہے کہ اس وقت حالت کیا ہوگی۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کس بل نکل چکے ہوں گے اور کسی مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے۔ کہیں کوئی ہز میجسٹی دھکے کھا رہے ہوں گے اور درباریوں میں سے کوئی " اعلیٰ حضرت " کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا ہوگا اور اس کا لشکر جرار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا گرو جی یا ہولی فادر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–26

اس کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ (آیت) فاھدوھم الی صراط الجحیم، یعنی ان لوگوں کو جہنم کا راستہ دکھلاؤ، اور جب فرشتے ان لوگوں کو لے چلیں گے تو پل صراط کے قریب پہنچنے کے بعد حکم ہوگا کہ وقفوھم انھم مسؤلون، ان کو ٹھہراؤ، ان سے سوال ہوگا۔ چناچہ اس مقام پر ان سے ان کے عقائد و اعمال کے بارے میں وہ سوالات کئے جائیں گے جن کا ذکر قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بل ھم الیوم مستلمون استسلام کے معنی حوالے کردینے اور مطیع بن جانے کے ہیں۔ فرمایا کہ آج تو یہ لوگ بڑے ہی مطیع و نیاز مند بنے ہوئے ہیں ! کل تک تو ان کی رعونت کا یہ عالم تھا کہ پٹھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیتے تھے لیکن آج سب نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–28

28۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ دین اور حق کے نام سے آتے تھے یعنی باور کراتے تھے کہ یہی اصل دین اور حق ہے اور بعض کے نزدیک مطلب ہے، ہر طرف سے آتے تھے جس طرح شیطان نے کہا میں ان کے آگے، پیچھے سے، ان کے دائیں بائیں سے ہر طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا (ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ) 7۔ الاعراف :17)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–27

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بل ھم الیوم مستسلمون (26) ” “۔ یعنی ہر ایک اپنے آپ کو بےبسی میں دوسرے کے حوالے کر رہا ہے ، بندگی کرنے والے ہوں کہ معبود ہوں۔ اب یہاں خطابی انداز کلام کو بدل کر پھر مطالبتی اور بیانیہ انداز سامنے آتا ہے۔ اس منظر میں یہ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–26

12 یعنی دنیا میں تو " نحن جمیع منتصر " کہا کرتے تھے (کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں) آج کیا ہوا کہ کوئی اپنے ساتھی کی مدد نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک بدون کان ہلائے ذلیل ہو کر پکڑا ہوا چلا آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26{ بَلْ ہُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ”بلکہ آج تو یہ بہت فرمانبردار بنے ہوئے ہیں !“ آج تو یہ بغیر کسی مزاحمت کے اپنے آپ کو حوالے کر کے بلا چون و چراسزا کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 25–27

15 مطیع اور مطاع کا قیامت کے دن مکالمہ :۔ ایسے عابد اور معبود جنہیں جہنم میں داخل کردینے کا حکم دیا جائے گا۔ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ انہیں ذرا روک لو پہلے ان سے ایک بات تو پوچھ لیں۔ ان مجرموں میں ہر قسم کے عابد اور ہر قسم کے معبود ہوں گے۔ مشرکین اور ان کے معبودوں کا تو پہلے ذکر ہوچکا۔ ان میں چودھری اور رئیس بھی ہوں گے اور ان کے پیروکار بھی، سیاسی لیڈر بھی اور ان کی پارٹی کے لوگ بھی۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والے اور خدائی کو منوانے والے بھی اور ماننے والے بھی۔ گورو جی اور ان کے چیلے چانٹے بھی، اعلیٰ حضرت بھی اور ان کی شفاعت پر بھروسہ کرنے والے مریدان باصفا بھی۔ اور یہ سب جوڑے اس دن ایک دوسرے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 26–28

13۔ عوام کفار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ بیشک تم نے ہمیں کفر پر صریحا مجبور تو نہیں کیا تھا، لیکن تم ترغیب وتحریض کے مختلف طریقے اختیار کر کرکے ہر طرح کا زور جو ہم پر دیا کرتے تھے، (آیت) ” تاتوننا عن الیمین “۔ ایتاء عن الیمین “۔ کے معنی محاورہ میں زور اور دباؤ ڈالنے کے آتے ہیں۔ عن القوۃ والقھر اذا الیمین موصوفۃ بالقوۃ وبھا یقع البطش اے انکم تحملوننا علی الضلال وتقسروننا علیہ (مدارک) اے عن اقوی الوجوہ (بیضاوی) اے تخدعوننا وتفتنوننا عن طاعۃ اللہ (ابن قتیبہ) وقیل الیمین بمعنی القوۃ اے تمنعوننا بقوۃ وغلبۃ وقھر (قرطبی) (آیت) ” عن الیمین “۔ سے کنایہ یہ بھی سمجھا گیا ہے کہ راہ حق کی طرف سے اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–50

آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل ھم الیوم مستسلمون بلکہ اس روز وہ سب خود سپردہ کھڑے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس نے مستسلمونکا ترجمہ کیا ہے خاصعون یعنی عاجز ہوں گے۔ حسن نے ترجمہ کیا منقادون یعنی تابع اور فرمانبردار ہوں گے۔ استسلَمَ لشیءٍکسی چیز کا تابعدار ہوگیا ‘ مطیع حکم ہوگیا (مستسلمونکا لفظ ترجمہ ہے اپنے کو سپرد کردینے والے ‘ مترجم)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–30

(25۔ 30) ان سے اس چیز کے بارے میں سوال ہوگا۔ کہ اب تمہیں کیا ہوا کہ اب تم عذاب الہی کو کیوں نہیں ہٹاتے اور کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی کیوں نہیں مدد کرتے یا یہ کہ ان سے کلمہ لا الہ الا للہ کے انکار کے بارے میں سوال ہوگا۔ بلکہ قیامت کے دن یہ سب عابد و معبود اللہ کے سامنے سر نیچے کیے شرمندہ کھڑے ہوں گے اور اچھی طرح جان لیں گے کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے اور انسان شیاطین کی طرف اور ادنی درجہ کے لوگ سرداروں کی طرف متوجہ ہو کر سوال جواب کرنے لگیں گے۔ چناچہ انسان شیاطین سے کہیں گے کہ تم ہمیں دین سے گمراہ کرتے تھے۔ شیاطین جواب میں کہیں گے بلکہ تم خود ہی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے تھے ہم پر ناحق کا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ : ”أَسْلَمَ یُسْلِمُ“ (افعال) تابع فرمان ہوجانا، ”اِسْتَسْلَمَ“ میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”بالکل فرماں بردار“ کیا گیا ہے۔ یعنی آج وہ کوئی جواب نہیں دے رہے، بلکہ ان کی تمام اکڑفوں جاتی رہی اور وہ پوری طرح عاجز اور فرماں بردار ہو کر کھڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ) [ النحل : 87 ] ”اور اس دن وہ اللہ کے سامنے فرماں بردار ہونا پیش کریں گے اور ان سے گم ہوجائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–35

احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–44

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

بَلْ هُمُ الْيَوْمَ [بلکہ وہ لوگ آج کے دن ] مُسْتَسْلِمُوْنَ [سرنگوں ہونے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 22–30

قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ (احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–27

12:۔ واقبل بعضہم الخ :۔ اب مشرکین ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں سوال و جواب کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ قالو انکم الخ، متبوعین سے اور مریدین اپنے پیروں اور پیشواؤں سے کہیں گے دنیا میں تو تم دین کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے اور دین حق سے ہمیں متنفر کر کے ہمٰں گمراہ کرتے تھے اور شرک و بدعت کو خوبصورت پیرائے میں ہمارے سامنے پیش کر کے ہمیں مطمئن کرتے تھے اور دعوی کیا کرتے تھے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ حق ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ باطل اور گمراہی ہے۔ تاتوننا من قبل الدین فتھونون علینا امر الشریعۃ و تنفروننا عنہا والیمین بمنعی الدین ای کنتم تزینون لنا الضلالۃ (قرطبی ج 15 ص 75) ۔ یعنی من قبل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ ہُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ۝ 26 يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن )…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–26

وَقِفُوْھُمْ اِنَّہُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ ۔ مَالَـکُمْ لاَ تَنَاصَرُوْنَ ۔ بَلْ ھُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ۔ (الصآفات : 24 تا 46) (اور ذرا انھیں روکو، بیشک ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ بلکہ وہ آج اپنے آپ کو حوالے کیے دے رہے ہیں۔ ) منکرین کی تذلیل فرشتے جب ان مجرموں کو جہنم کی طرف لے کر جارہے ہوں گے تو انھیں حکم ملے گا کہ انھیں کچھ دیر کے لیے روکو، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ یہ لے جائے جانے والے سب وہ لوگ ہیں جن میں ایک سے ایک بڑا باغی اور سرکش رہ چکا ہے۔ اور ان کے تکبر کا عالم یہ تھا کہ یہ اپنے پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–34

فہم القرآن ربط کلام : جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو قیامت کو جھٹلانے والوں سے سوال ہوگا۔ جب حساب و کتاب کے بعد مجرمین کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے۔ ملائکہ انہیں ہانک کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہونگے تو ذات کبریاء کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں چند لمحے ٹھہرایا جائے۔ جہنمی کہیں گے کہ شاید ہمیں کوئی رعایت دی جارہی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ تمہیں کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ اگر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو ! اس وقت حالت یہ ہوگی کہ پیر اور ان کے مرید، لیڈر اور ان کے ور کر، عابد، اور ان کے معبود…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26: بَلْ ھُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ (بلکہ وہ آج فرما نبرداری کا اظہار کرنے والے ہونگے) مطیع ہونگے نمبر 2۔ ایک دوسرے کی اطاعت کرنے والے ہونگے۔ اور عاجزی کی وجہ سے اطاعت کریں گے۔ پس ہر ایک مددگار نہ ہوگا بلکہ مطیع ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

، بل ھم الیوم مستسلمون، ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ عاجزہوں گے اور حسن نے اس کا ترجمہ کیا ہے یعنی تابع اور فرمانبردار ہوں گے۔ جیسے کہاجاتا ہے، استسلم لشیئ، کسی چیز کا تابعد ارہوگیا ، حکم کا تابعدار ہوگیا ۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ آج کے دن ہم ذلیل ورسوا ہوئے اور ہم تمہاری پیروی کرتے ہیں جس کے بغیر ان کے لیے کوئی حیلہ نہیں تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–34

24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–27

آیت 26 جب قیامت کے روز وہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر کئے جائیں گے اور اس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس کی وہ تکذیب کیا کرتے اور اس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے، تو ان کو جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جائے گا : (احشروا الذین ظلموا) ” جو لوگ ظلم کرتے تھے انہیں جمع کرو۔ “ یعنی جنہوں نے کفر، شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا (وازواجھم) ” اور ان کے ہم جنسوں کو “ یعنی جن کا عمل ان کے عمل کی جنس سے ہے، ہر شخص کو اس شخص کے ساتھ شامل کردیا جائے گا جو عمل میں اس کا ہم جنس تھا۔ (وما کانوا یعبدون، من دون اللہ) ” اور جن کی و وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–27

17 مشرکوں کی تذلیل و تحقیر کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حکم ہوگا کہ ٹھہراؤ ان کو ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیا ہوگیا تمہیں کہ آج تم ایک دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرتے ؟ "۔ حالانکہ دنیا میں تمہیں اپنے ایکے، اپنی پارٹی بازی اور گروہ بندی پر بڑا ناز تھا۔ اپنے آپ کو تم سواد اعظم اور بڑی جماعت کہتے اور مانتے تھے اور۔ { نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ} ۔ کے راگ الاپا کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے جھنڈے اٹھائے اور نعرے لگاتے پھر رہے تھے۔ لیڈر، گرو اور اپنی سرداری اور بڑائی کا زعم اور گھمنڈ رکھنے والے اپنے پیرؤوں، چیلوں اور دم چھلوں کی مدد کے بڑے بڑے دعوے کرتے اور دم بھرا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–30

دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی ان کی تمام اکڑ نون جاتی رہی۔ اب وہ عاجزو فرمانبردار بنے کھڑے ہیں اور کسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم سے گریز نہیں کرسکتے۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:26) بل ہم الیوم مستسلمون۔ بل حرف اضراب ہے یعنی ان کا ایک دوسرے کی مدد کرنا تو کجا رہا وہ تو وہاں اس روز بھیگی بلی بنے سر تسلیم خم کئے ہوں گے۔ الیوم سے مراد روز قیامت ہے۔ مستسلمون۔ اسم فاعل جمع مذکر مرفوع۔ استسلام (استفعال) مصدر۔ سلم مادہ۔ فرمانبردار ہونا۔ اپنے آپ کو سپرد کردینا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ خاضعون کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–34

قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔ (ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔ (1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–26

ختم نبوت پر ایک دلیل 1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) بلکہ وہ سب سرجھکائے کھڑے ہوں گے - یعنی بجائے ان دعوئوں کے جو دنیا میں کیا کرتے تھے کہ نحن جمیع منتصر یعنی ہم سب ایک دوسرے کے مددگار ہیں بجائے مدد کے آج وہ سب ذلیل وسرفگندہ کھڑے ہوں گے آگے ان کی آپس میں جو تو تو میں میں ہوگی اور ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کہیں گے اس کا ذکر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حکم کے بعد ٹھہرا کر لڑوا دیں گے آپس میں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–27

ف 2۔ یعنی جو بانی اور مقتدائے کفر و شرک تھے۔ 3۔ یعنی شیاطین و اصنام

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس دن تو ان میں سے ہر ایک فرمانبردار کھڑا نظر آرہا ہے : 26۔ آج یہ لوگ سرتسلیم خم کیے کھڑے ہیں یہ کون ہیں ؟ وہی جو دنیا میں بات بات پر برہم ہوتے تھے اور راہ حق کی طرف اگر ان کو نصیحت کی جاتی تو اکڑنے لگتے تھے ہاں ! وہی سردار ‘ وہی سیاسی لیڈر ‘ وہی مذہبی پیشوا اور وہی مرشدین آج تو نظر اٹھا کر دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں آخر کیا ان کو سانپ سونگھ گیا ہے ؟ اس طرح جب ان کو بہت ہی کچھ کہا جائے گا تو وہ ایک سرد آہ بھریں گے اور مخاطبین سے ہٹ کر بات کریں گے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–27

After that, a command will go forth to angels: فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَ‌اطِ الْجَحِيمِ (and show them the way to Jahannam - 37:23). When the angels will take them away, and reach close to the Bridge of Sirat, they will be commanded: YP (make them stop - they are to be questioned - 37:24). Thereupon, at this place, they will be questioned about their beliefs and deeds - that have been mentioned in the Qur'an and Hadith at many places.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

17 The first sentence will be addressed to the culprits, and the second to the common spectators, who will be watching the scene of the culprits' departure for Hell. This sentence itself tells of the general conditions at the time. It tells how the haughty and stubborn culprits of the world will be moving towards Hell meekly and without showing any resistance. Somewhere some kind will be seen being pushed about, and no one from among his courtiers will come forward to rescue "his majesty"; somewhere some conqueror of the world and some dictator will be moving away in humiliation and disgrace,…

Read the full tafseer →