Explained with ayahs 20–26
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
سورة الصّٰٓفّٰت 14
ظالم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی ہو۔
سورة الصّٰٓفّٰت 15
اصل میں لفظ " ازواج " استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس بغاوت میں ان کی رفیق تھیں، اور وہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و سرکش اور نافرمان تھے۔ علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ایک قسم کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے۔
سورة الصّٰٓفّٰت 16
اس جگہ معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں۔ ایک وہ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
اس کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ (آیت) فاھدوھم الی صراط الجحیم، یعنی ان لوگوں کو جہنم کا راستہ دکھلاؤ، اور جب فرشتے ان لوگوں کو لے چلیں گے تو پل صراط کے قریب پہنچنے کے بعد حکم ہوگا کہ وقفوھم انھم مسؤلون، ان کو ٹھہراؤ، ان سے سوال ہوگا۔ چناچہ اس مقام پر ان سے ان کے عقائد و اعمال کے بارے میں وہ سوالات کئے جائیں گے جن کا ذکر قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
وقفوھم انھم مسئولون مالکم لاتناصرون بل ھم الیوم مستسلمون (26-24)
یہ اس دن ان کی ذلت اور بےبسی کی تصویر ہے۔
منکرین کی ذلت و بےبسی
مالکم لاتناصرون یہ وہ بات ہے جس کو پوچھنے کے لئے ان کو روکا جائے گا۔ ارشاد ہوگا کیا وجہ ہے آج تم لوگ ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے ہو ؟ دنیا میں تو تم ایک دوسرے کے جھنڈے اٹھائے پھرے لیکن آج نہ لیڈر پیروئوں کی کوئی مدد کر رہے ہیں اور نہ پیرو لیڈروں کی، نہ معبود عابدوں کے لئے کچھ کرتے نظر آ رہے ہیں اور نہ عابد معبودوں کے لئے کسی جوش فدویت کا اظہار کر رہے ہیں۔ آخر ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت کیوں طاری ہے۔ ایک دوسرے کے لئے اصلی جاں نثاری کا وقت تو اب آیا ہے لیکن اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
28۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ دین اور حق کے نام سے آتے تھے یعنی باور کراتے تھے کہ یہی اصل دین اور حق ہے اور بعض کے نزدیک مطلب ہے، ہر طرف سے آتے تھے جس طرح شیطان نے کہا میں ان کے آگے، پیچھے سے، ان کے دائیں بائیں سے ہر طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا (ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ) 7۔ الاعراف :17)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–27
6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →ما لکم لاتناصرون (25) ” “۔ اب کیا وجہ ہے کہ تم یہاں کوئی اجتماعی بچاؤ کی تدابیر نہیں کرتے۔ یہاں تو تم سب کھڑے ہو اور اب تمہیں ایک دوسرے کی امداد کی بہت ضرورت بھی ہے ۔ اور وہ دیکھو تمہارے وہ معبود بھی کھڑے ہیں ، جن کی دنیا میں تم بندگی کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی جواب ہے اور نہ وہ بات کرسکتے ہیں۔ یہ سوال تو کیا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس پر ایک تبصرہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
12 یعنی دنیا میں تو " نحن جمیع منتصر " کہا کرتے تھے (کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں) آج کیا ہوا کہ کوئی اپنے ساتھی کی مدد نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک بدون کان ہلائے ذلیل ہو کر پکڑا ہوا چلا آرہا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 25{ مَالَـکُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ } ”یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟“
دُنیا میں تو تمہارے جتھے ّبہت طاقتور تھے ‘ وہاں تو تمہیں اپنی محفلوں اور ان کے شرکاء پر بڑا غرور تھا ‘ وہاں تو یہ ابو جہل بہت فخر سے کہا کرتا تھا کہ دیکھو میری مجلس کس قدر آباد ہے مریم : 73 اور دیکھو میرے ہاں کیسے کیسے لوگ آکر بیٹھتے ہیں۔ تو آج وہ تمہارے جتھے دار اور حمایتی سب کے سب بےبس کیوں ہوگئے ہیں ؟ اب تم ایک ہی حکم پر جہنم کی طرف کیوں چل پڑے ہو ؟ اب تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
15 مطیع اور مطاع کا قیامت کے دن مکالمہ :۔ ایسے عابد اور معبود جنہیں جہنم میں داخل کردینے کا حکم دیا جائے گا۔ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ انہیں ذرا روک لو پہلے ان سے ایک بات تو پوچھ لیں۔ ان مجرموں میں ہر قسم کے عابد اور ہر قسم کے معبود ہوں گے۔ مشرکین اور ان کے معبودوں کا تو پہلے ذکر ہوچکا۔ ان میں چودھری اور رئیس بھی ہوں گے اور ان کے پیروکار بھی، سیاسی لیڈر بھی اور ان کی پارٹی کے لوگ بھی۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والے اور خدائی کو منوانے والے بھی اور ماننے والے بھی۔ گورو جی اور ان کے چیلے چانٹے بھی، اعلیٰ حضرت بھی اور ان کی شفاعت پر بھروسہ کرنے والے مریدان باصفا بھی۔ اور یہ سب جوڑے اس دن ایک دوسرے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
12۔ (حالانکہ دنیا میں تو خوب کرتے رہتے تھے اور اپنی اسی باہمی اعانت ونصرت پر فخر وناز بھی رکھتے تھے) (آیت) ” فاھدوھم الی صراط الجحیم “۔ یعنی ان سب کو دوزخ کی طرف لے جاؤ۔ مطلب یہ ہوا کہ جب اہل کفر کے رئیس وعوام، مقتداء اور مقتدی سب جمع ہوجائیں گے تو حکم ہوگا کہ سب کو دوزخ کی طرف ہانک دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →ما لکم لا تناصرون تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں رتے۔ یعنی بطور زجر ان سے یہ بات کہی جائے گی ‘ یعنی
ان کو باہم مدد کرنے پر برانگیختہ کیا جائے گا کہ اگر مدد کرسکتے ہو تو کرو۔ اس جملہ کی غرض محض استہزاء ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
(25۔ 30) ان سے اس چیز کے بارے میں سوال ہوگا۔ کہ اب تمہیں کیا ہوا کہ اب تم عذاب الہی کو کیوں نہیں ہٹاتے اور کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی کیوں نہیں مدد کرتے یا یہ کہ ان سے کلمہ لا الہ الا للہ کے انکار کے بارے میں سوال ہوگا۔ بلکہ قیامت کے دن یہ سب عابد و معبود اللہ کے سامنے سر نیچے کیے شرمندہ کھڑے ہوں گے اور اچھی طرح جان لیں گے کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے اور انسان شیاطین کی طرف اور ادنی درجہ کے لوگ سرداروں کی طرف متوجہ ہو کر سوال جواب کرنے لگیں گے۔
چناچہ انسان شیاطین سے کہیں گے کہ تم ہمیں دین سے گمراہ کرتے تھے۔ شیاطین جواب میں کہیں گے بلکہ تم خود ہی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے تھے ہم پر ناحق کا…
Read the full tafseer →مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ :”تَنَاصَرُوْنَ“ (تفاعل) اصل میں ”تَتَنَاصَرُوْنَ“ ہے، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی ہے۔ باب تفاعل میں تشارک ہوتا ہے، ”تَنَاصَرَ“ ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ اعمال کے محاسبے کے ساتھ ساتھ انھیں ذلیل کرنے کے لیے اور ان کے خداؤں کی بےبسی ظاہر کرنے کے لیے ایک سوال یہ ہوگا کہ تم تو کہا کرتے تھے : (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ) [ القمر : 44 ] ”ہم ایک جماعت ہیں جو بدلا لے کر رہنے والے ہیں۔“ یا جیسا کہ تمہارا دعویٰ تھا کہ قیامت کے دن ہمارے معبود ہمیں بچا لیں گے، اب تمہیں کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…
Read the full tafseer →مَا لَكُمْ [تم لوگوں کو کیا ہوگیا ] لَا تَنَاصَرُوْنَ [(کہ) ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ہو ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا
یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔
یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
12:۔ واقبل بعضہم الخ :۔ اب مشرکین ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں سوال و جواب کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ قالو انکم الخ، متبوعین سے اور مریدین اپنے پیروں اور پیشواؤں سے کہیں گے دنیا میں تو تم دین کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے اور دین حق سے ہمیں متنفر کر کے ہمٰں گمراہ کرتے تھے اور شرک و بدعت کو خوبصورت پیرائے میں ہمارے سامنے پیش کر کے ہمیں مطمئن کرتے تھے اور دعوی کیا کرتے تھے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ حق ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ باطل اور گمراہی ہے۔ تاتوننا من قبل الدین فتھونون علینا امر الشریعۃ و تنفروننا عنہا والیمین بمنعی الدین ای کنتم تزینون لنا الضلالۃ (قرطبی ج 15 ص 75) ۔ یعنی من قبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–35
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے…
Read the full tafseer →مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ 25
نصر
النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
[ الصف/ 13]
( ن ص ر ) النصر والنصر
کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی
إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
1 ؎ وہ بیویاں جو اپنے مشرک خاودن کے مذہب پر تھیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
وَقِفُوْھُمْ اِنَّہُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ ۔ مَالَـکُمْ لاَ تَنَاصَرُوْنَ ۔ بَلْ ھُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ۔ (الصآفات : 24 تا 46)
(اور ذرا انھیں روکو، بیشک ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ بلکہ وہ آج اپنے آپ کو حوالے کیے دے رہے ہیں۔ )
منکرین کی تذلیل
فرشتے جب ان مجرموں کو جہنم کی طرف لے کر جارہے ہوں گے تو انھیں حکم ملے گا کہ انھیں کچھ دیر کے لیے روکو، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ یہ لے جائے جانے والے سب وہ لوگ ہیں جن میں ایک سے ایک بڑا باغی اور سرکش رہ چکا ہے۔ اور ان کے تکبر کا عالم یہ تھا کہ یہ اپنے پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
فہم القرآن
ربط کلام : جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کا آغاز اس طرح ہوگا۔
اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا جس کا دن اور وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ جوں ہی وہ دن اور گھڑی آئے گی تو اسرافیل فرشتہ کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ صور میں پھونک مارنے کی دیر ہوگی تو زمین میں ایسے زلزلے ہوں گے جس سے پہاڑ روئی کی طرح اڑنے شروع ہوں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اس کے بعد نہ معلوم کتنی مدت مخلوق فنا رہے گی۔ اس کے بعد اسرافیل کو زندہ کیا جائے گا اسے دوبارہ صور میں پھونک مارنے کا حکم ہوگا۔ اس کے پھونک مارنے کے ساتھ ہی لوگ قبروں سے اٹھنا شرو ع ہوں گے۔ اس وقت قیامت کے منکروں کو یقین…
Read the full tafseer →25: مَا لَکُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ (اب تم کو کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی ایک دوسرے کی معاونت نہیں کرتے۔ یہ درحقیقت تناصر سے عاجزی پر توبیخ ہے۔ اس کے بعد کہ وہ دنیا میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ یہ ابو جہل کا جواب ہے۔ جو اس نے بدر کے دن کہا۔ نحن جمیعٌ منتصر ] القمر : 44[ حال کی وجہ سے موضع نصب میں واقع ہے۔ ای مالکم غیر متناصرین۔ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اس حال میں ہو کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے۔
Read the full tafseer →، مالکم لاتنا صرون، تم کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ۔ یہ ان کو تو بیخ کے طورپرکہا جائے گا کہ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ ان سب سے جہنم کا داروغہ سوال کرے گا کہ تم ایک دوسرے کی مددکیوں نہیں کرتے ؟ جیسے ان کو بدر کے دن کہا گیا، نحن جمیع منتصر،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–25
آیت 12
(بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
17 مشرکوں کی تذلیل و تحقیر کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حکم ہوگا کہ ٹھہراؤ ان کو ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیا ہوگیا تمہیں کہ آج تم ایک دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرتے ؟ "۔ حالانکہ دنیا میں تمہیں اپنے ایکے، اپنی پارٹی بازی اور گروہ بندی پر بڑا ناز تھا۔ اپنے آپ کو تم سواد اعظم اور بڑی جماعت کہتے اور مانتے تھے اور۔ { نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ} ۔ کے راگ الاپا کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے جھنڈے اٹھائے اور نعرے لگاتے پھر رہے تھے۔ لیڈر، گرو اور اپنی سرداری اور بڑائی کا زعم اور گھمنڈ رکھنے والے اپنے پیرؤوں، چیلوں اور دم چھلوں کی مدد کے بڑے بڑے دعوے کرتے اور دم بھرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات
تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →ف 3 جس طرح دنیا میں کیا کرتے تھے بلکہ تم تو کہا کرتے تھے ” نحن جمیع منتصر “ یا جیسا کہ تمہارا دعویٰ تھا کہ قیامت کے روز ہمارے معبود ہمیں بچا لیں گے۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(37:25) مالکم۔ ما استفہامیہ ہے ما لکم تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ لا تناصرون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر تناصر تفاعل سے مصدر تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے۔ مالم لا تناصرون۔ یہ جملہ محض طنزا اور استہزاء کے طور کہا گیا ہے کہ دنیا میں تو ایک دوسرے کی مدد کی اتنی ڈھینگیں مارا کرتے تھے اب وہ دم خم کیا ہوا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔
(ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔
(1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
[9] اشارہ صور کے نفخ ثانی کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
ختم نبوت پر ایک دلیل
1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…
Read the full tafseer →(25) ارشا ہوگا تم کو کیا ہوگیا تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 2۔ یعنی جو بانی اور مقتدائے کفر و شرک تھے۔
3۔ یعنی شیاطین و اصنام
Read the full tafseer →تم کو کیا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟
25۔ تم وہی تو ہو کہ ایک گروہ تم میں سے اس دن کی ملاقات کا سرے سے منکر تھا اور ایک گروہ مانتا تھا لیکن سمجھتا تھا کہ ہمارے حمایتی اور ہمارے پیر و بزرگ ہمارے مذہبی پیشوا ہم کو اس کٹھن منزل سے نکال لیں گے اور تم میں وہ بھی ہیں جو اس طرح اپنے مریدوں ‘ حواریوں اور چیلوں کو وعدہ دیا کرتے تھے آخر وجہ کیا ہے کہ تم اس وقت ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ، آخر بات کیا ہے کہ تم جواب نہیں دیتے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
After that, a command will go forth to angels: فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ (and show them the way to Jahannam - 37:23). When the angels will take them away, and reach close to the Bridge of Sirat, they will be commanded: YP (make them stop - they are to be questioned - 37:24). Thereupon, at this place, they will be questioned about their beliefs and deeds - that have been mentioned in the Qur'an and Hadith at many places.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
16 "Gods" here implies two kinds of the gods: (1) Those men and satans who themselves desired that the people should worship them instead of Allah; and (21 those idols and trees and stones, etc., which have actually been worshipped in the world. The first kind of the gods will be included among the culprits themselves and will be led to Hell for punishment; the other kind of them will be thrown into Hell along with their worshippers so that they constantly feel ashamed of and continue to regret their follies. Besides, there is also a third kind of the gods, who have been worshipped in the…
Read the full tafseer →