Explained with ayahs 20–26
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
سورة الصّٰٓفّٰت 14
ظالم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی ہو۔
سورة الصّٰٓفّٰت 15
اصل میں لفظ " ازواج " استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس بغاوت میں ان کی رفیق تھیں، اور وہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و سرکش اور نافرمان تھے۔ علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ایک قسم کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے۔
سورة الصّٰٓفّٰت 16
اس جگہ معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں۔ ایک وہ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
اس کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ (آیت) فاھدوھم الی صراط الجحیم، یعنی ان لوگوں کو جہنم کا راستہ دکھلاؤ، اور جب فرشتے ان لوگوں کو لے چلیں گے تو پل صراط کے قریب پہنچنے کے بعد حکم ہوگا کہ وقفوھم انھم مسؤلون، ان کو ٹھہراؤ، ان سے سوال ہوگا۔ چناچہ اس مقام پر ان سے ان کے عقائد و اعمال کے بارے میں وہ سوالات کئے جائیں گے جن کا ذکر قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
وقفوھم انھم مسئولون مالکم لاتناصرون بل ھم الیوم مستسلمون (26-24)
یہ اس دن ان کی ذلت اور بےبسی کی تصویر ہے۔
منکرین کی ذلت و بےبسی
مالکم لاتناصرون یہ وہ بات ہے جس کو پوچھنے کے لئے ان کو روکا جائے گا۔ ارشاد ہوگا کیا وجہ ہے آج تم لوگ ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے ہو ؟ دنیا میں تو تم ایک دوسرے کے جھنڈے اٹھائے پھرے لیکن آج نہ لیڈر پیروئوں کی کوئی مدد کر رہے ہیں اور نہ پیرو لیڈروں کی، نہ معبود عابدوں کے لئے کچھ کرتے نظر آ رہے ہیں اور نہ عابد معبودوں کے لئے کسی جوش فدویت کا اظہار کر رہے ہیں۔ آخر ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت کیوں طاری ہے۔ ایک دوسرے کے لئے اصلی جاں نثاری کا وقت تو اب آیا ہے لیکن اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
24۔ 1 یہ حکم جہنم میں لے جانے سے قبل ہوگا، کیونکہ حساب کے بعد ہی جہنم میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–27
6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
احشروا الذین ظلموا۔۔۔۔۔۔ انھم مسئولون (22 – 24) ( “۔ گھیر لاؤ اور اٹھالوؤ گرفتار کرکے ان لوگوں جنہوں نے ظلم کیا اور جو ظالموں کی صف میں تھے۔ یہ ایک جیسے ہیں۔ اس لیے ان کو جوڑے کہا گیا اور ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ انداز کلام کس قدر سخت فیصلہ کن اور توہین آمیز ہے۔
فاھدوھم الی صراط الجحیم (37: 23) ” ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ “۔ جنت کا راستہ تو ان کو دکھایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے اسے رد کردیا۔ اب جہنم کا راستہ ہی ان کے لیے رہ جاتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ چشم زدن میں ان کو جہنم رسید کردیا گیا۔ جہنم تک پہنچا دیا گیا لیکن ایک ضمنی حکم میں کہا گیا کہ ذرا ٹھہراؤ ان کو ، ان سے کچھ پوچھ ہی لیا جائے اور…
Read the full tafseer →11 حکم کے بعد کچھ دیر ٹھہرائیں گے تاکہ ان سے ایک سوال کیا جائے جو آگے " مالکم لا تناصرون " میں مذکور ہے۔
Read the full tafseer →آیت 24{ وَقِفُوْہُمْ اِنَّہُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ } ”اور انہیں ذرا روکو ! ابھی ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
13 زوج کے تینوں معانی اکٹھے مراد ہیں :۔ ازواج کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس مقام پر تینوں معنی دے رہا ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ مرد بیوی کا اور بیوی مرد کی زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں اور ان کی بیویوں کو جو بغاوت میں ان کی شریک تھیں سب کو گھیر لاؤ۔ زوج کا دوسرا معنی اس کے مماثل ہوتا ہے۔ جیسے ایک جوتا دوسرے کا زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا ظالموں کی جتنی اقسام ہیں ان سب کو گھیر کرلے آؤ۔ اور زوج کا تیسرا معنی اس کی ضد ہے جیسے رات دن کا زوج ہے اور دن رات کا، یا تاریکی روشنی کا زوج ہے۔ اور روشنی تاریکی کا۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا۔ معبودوں اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
12۔ (حالانکہ دنیا میں تو خوب کرتے رہتے تھے اور اپنی اسی باہمی اعانت ونصرت پر فخر وناز بھی رکھتے تھے) (آیت) ” فاھدوھم الی صراط الجحیم “۔ یعنی ان سب کو دوزخ کی طرف لے جاؤ۔ مطلب یہ ہوا کہ جب اہل کفر کے رئیس وعوام، مقتداء اور مقتدی سب جمع ہوجائیں گے تو حکم ہوگا کہ سب کو دوزخ کی طرف ہانک دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →وقفوھم انھم مسؤلون . اور ان کو (اول) ٹھیراؤ ‘ ان سے باز پرس کی جائے گی۔
اہل تفسیر نے لکھا ہے : جب کافروں کو دوزخ کی طرف ہنکا کرلے جایا جائے گا تو پل صراط کے پاس ان کو روک دینے کا حکم ہوگا اور اللہ فرمائے گا : ان کو یہی روک دو ‘ کیونکہ اِنَّھُمْ مَّسْءُوْلُوْنَ ان سے بازپرس کی جائے گی۔ یہ جملہ حکم سابق کی علت ہے۔ حضرت ابن عباس کا ایک قول آیا ہے کہ کافروں سے ان کے تمام افعال و اقوال کی بازپرس کی جائے گی۔ حضرت ابن عباس کا دوسرا قول ہے کہ لَآ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ کی بازپرس ہوگی (پہلے قول سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر تفصیلی اعمال و اقوال کا بھی مکلف ہے اور سارے احکام تکلیفیہ کی اس سے بازپرس ہوگی۔ دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(22۔ 24) پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ مشرکین کو اور جن و انس اور شیطاطین میں سے سب ان کے ہم مسلکوں کو اور ان کے بتوں جو جمع کرلو پھر ان سب کو دوزخ کے درمیان لے جاؤ۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کو ذرا دوزخ کے قریب ٹھہراؤ۔
Read the full tafseer →وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔـوْلُوْنَ : جہنم کے صراط کی طرف لے جاتے ہوئے حکم ہوگا کہ انھیں ٹھہراؤ، کیونکہ ان سے ان کے اعمال کے متعلق سوال ہوگا، اس وقت دنیا میں ان کے کفرو شرک اور دوسرے برے اعمال میں شریک دوست اور ان کے جھوٹے معبود بھی ان کے ساتھ ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَيَوْمَ يُحْشَرُ اَعْدَاۗءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ) [ حٰم السجدۃ : 19 ] ”اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے، پھر ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی۔“ ”يُوْزَعُوْنَ“ کا ایک معنی یہ ہے کہ ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی اور ایک معنی یہ ہے کہ انھیں روکا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقفوھم انہم مسؤلون “ (ان کو ٹھہراؤ کہ ان سے باز پرس ہوگی) یعنی ان کو روک لو کہ ان کا حساب کیا جائے گا۔
2:۔ البخاری فی التاریخ والترمذی والدارمی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس داعی نے بھی کسی چیز کی طرف بلایا ہوگا تو وہ قیامت کے دن روکا جائے گا وہ اس کے ساتھ چمٹا ہوگا اس سے جدا نہیں ہوگا اگرچہ ایک آدمی نے دعوت نہ دی ہوگی دوسرے آدمی کو پھر یہ آیت پڑھی (آیت ) ” وقفوھم انہم مسؤلون “۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ”…
Read the full tafseer →وَ [اور ] قِفُوْهُمْ [تم لوگ ٹھہراؤ ان کو ] اِنَّهُمْ [بیشک یہ لوگ ] مَّسْـُٔـوْلُوْنَ [پوچھے جانے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا
یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔
یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
11:۔ وقفوھم الخ :۔ جب فرشتے ان کو جہنم کی طرف لے کر چلیں گے اس وقت حکم صادر ہوگا، ان کو روکو، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ مشرکین ( اتباع و متبوعین) کی مزید تذلیل و اہانت کے لیے انہیں واپس کر کے ان سے سوال کیا جائے گا۔ ما لکم لا تناصرون، کیا بات ہے ؟ آج تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ آج ہی تو مدد کرنے اور مدد لینے کا موقع ہے۔ آج تمہارے مزعومہ سفارشی تمہیں اللہ کے عذاب سے کیوں نہیں بچاتے۔ بل ھم الیوم مستسلمون، آج وہ کسی کی کیا مدد کریں گے۔ آج تو وہ مارے ندامت کے ذلت ورسوائی سے سرافگندہ ہیں اور سزا کھانے کے لیے منقاد ہیں۔ ای لایقدر بعضہم علی نصر بعض بل ہم منقادون للعذاب او مخذلون (روح ج 23 ص 81) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–35
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے…
Read the full tafseer →وَقِفُوْہُمْ اِنَّہُمْ مَّسْـُٔـوْلُوْنَ 24ۙ
وقف
يقال : وَقَفْتُ القومَ أَقِفُهُمْ وَقْفاً ، ووَاقَفُوهُمْ وُقُوفاً. قال تعالی: وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ
[ الصافات/ 24] ومنه استعیر : وَقَفْتُ الدّارَ : إذا سبّلتها، والوَقْفُ : سوارٌ من عاج، وحمارٌ مُوَقَّفٌ بأرساغه مثلُ الوَقْفِ من البیاض، کقولهم : فرس مُحجَّل : إذا کان به مثلُ الحَجَل، ومَوْقِفُ الإنسانِ حيث يَقِفُ ، والمُوَاقَفَةُ : أن يَقِفَ كلُّ واحد أمره علی ما يَقِفُهُ عليه صاحبه، والوَقِيفَةُ : الوحشيّة التي يلجئها الصائد إلى أن تَقِفَ حتی تصاد .
( و ق)
وقعت القوم ( ض) وقفا ر ( متعدی ) لوگوں کو ٹھہر انا اور دقفو ا وقو قا لازم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
1 ؎ وہ بیویاں جو اپنے مشرک خاودن کے مذہب پر تھیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
وَقِفُوْھُمْ اِنَّہُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ ۔ مَالَـکُمْ لاَ تَنَاصَرُوْنَ ۔ بَلْ ھُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ۔ (الصآفات : 24 تا 46)
(اور ذرا انھیں روکو، بیشک ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ بلکہ وہ آج اپنے آپ کو حوالے کیے دے رہے ہیں۔ )
منکرین کی تذلیل
فرشتے جب ان مجرموں کو جہنم کی طرف لے کر جارہے ہوں گے تو انھیں حکم ملے گا کہ انھیں کچھ دیر کے لیے روکو، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ یہ لے جائے جانے والے سب وہ لوگ ہیں جن میں ایک سے ایک بڑا باغی اور سرکش رہ چکا ہے۔ اور ان کے تکبر کا عالم یہ تھا کہ یہ اپنے پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
فہم القرآن
ربط کلام : جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کا آغاز اس طرح ہوگا۔
اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا جس کا دن اور وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ جوں ہی وہ دن اور گھڑی آئے گی تو اسرافیل فرشتہ کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ صور میں پھونک مارنے کی دیر ہوگی تو زمین میں ایسے زلزلے ہوں گے جس سے پہاڑ روئی کی طرح اڑنے شروع ہوں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اس کے بعد نہ معلوم کتنی مدت مخلوق فنا رہے گی۔ اس کے بعد اسرافیل کو زندہ کیا جائے گا اسے دوبارہ صور میں پھونک مارنے کا حکم ہوگا۔ اس کے پھونک مارنے کے ساتھ ہی لوگ قبروں سے اٹھنا شرو ع ہوں گے۔ اس وقت قیامت کے منکروں کو یقین…
Read the full tafseer →24: وَقِفُوْھُمْ ( اور ان کو ٹھہرائو) ان کو روک لو۔ اِنَّھُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ (ان سے پوچھا جائے گا) ان کے اقوال وافعال کے متعلق۔
Read the full tafseer →24، وقفوھم، اور ان کو تم اپنے پاس روکے رکھو۔ مفسرین نے کہا کہ جب کافروں کو دوزخ کی طرف ہنکا کرلے جایاجائے گا تو پل صراط کے پاس ان کو روک دینے کا حکم ہوگا اور اللہ فرمائے گا ان کو یہیں روک دو ، انھم مسئولون، ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ کافروں سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں باز پرس کی جائے گی اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کی باپر س ہوگی۔ اور ایک حدیث میں آیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اپنی جگہ سے نہ ہل سکیں گے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال نہ کیا جائے۔ (1) عمر کس کام میں گزاری (2) جسم کو کس کام میں لگاکر کمزور کیا۔ (3) ، علم کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–25
آیت 12
(بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
15 مشرکوں کے ساتھ ان کے خود ساختہ معبودوں کی بھی جکڑبندی کا حکم : سو اس ضمن میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے ساتھ جکڑو ان کے سب معبودوں کو بھی جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے اللہ کے سوا "۔ خواہ وہ لکڑی پتھر کے بت ہوں یا وہ انسان اور جن جو کہ اپنی پوجا و پرستش پر خوش ہوتے تھے۔ کیونکہ کلمہ ٔ " ما " عام ہے جو ان سب ہی مفاہیم و مصادیق کو شامل ہے۔ (روح، مظہری اور فتح وغیرہ) ۔ رہ گئے وہ انبیاء و اولیاء اور دوسرے صالحین جن کو لوگوں نے ان کی خواہش ومرضی کے خلاف اور ان کی تعلیمات و ہدایات کے برعکس پوجا و پکارا ہے وہ یقینا اس میں داخل نہیں کہ ان ہستیوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ اسی لئے دوسری جگہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات
تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →ف 2 علماء نے لکھا ہے کہ پہلے حکم ہوگا کہ ان کو صراط جہنم کی طرف لے جائو، پھر صراط پر روک لیا جائے اور ان سے تفریح و توبیخ کے طور پر کہا جائے گا جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس نے کسی چیز کی طرف دعوت دی وہ اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا اور اس سے جدا نہیں ہو سکے گا اور جس نے کسی شخص کو دعوت دی ( وہ بھی اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا) پھر یہ آیت تلاوت کی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(37:24) وقفوہم۔ وائو عاطفہ ۔ قفوا فعل امر۔ جمع مذکر حاضر وقف اور وقوف مصدر۔ (باب ضرب) سے وقف فعل ثلاثی مجرد ۔ (مثال واوی) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس کا مضارع باب ضرب سے یوقف ہوگا۔ مثال کے قاعدہ کے مطابق :۔
” کہ مضارع حاضر معروف کی علامت مضارع کو حذف کیا جاوے۔ اگر اس کا مابعد متحرک ہے تو آخر حرف کو جزم دے دو “۔
لہٰذا تقف (مضارع واحد مذکر حاضر) کی تاء (علامت مضارع) کو حذف کر کے فاء کو جزم دی۔ قف ہوگیا۔ اس سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ قفوا ہوگیا۔ یا اصل میں اوقفوا تھا۔ وائو حرف علت بوجہ کسرہ ما قبل گرگیا۔ اور الف حرف علت بوجہ کسرہ مابعد کے گرگیا۔ قفوا بن گیا۔ یہ فعل لازم بھی استعمال ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔
(ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔
(1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
[9] اشارہ صور کے نفخ ثانی کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
ختم نبوت پر ایک دلیل
1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…
Read the full tafseer →(24) اور ان کو روکے رہو کیونکہ ان سے کچھ پوچھا جائے گا - یعنی جہنم میں جانے سے ذرا روکو تاکہ ان سے کچھ پوچھ گچھ کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 2۔ یعنی جو بانی اور مقتدائے کفر و شرک تھے۔
3۔ یعنی شیاطین و اصنام
Read the full tafseer →کہا جائے گا ان کو ذرا ٹھہرنے دو تاکہ ان سے سوال کیا جاسکے :
24۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حکم سے ان سب کو اکٹھا کر کے دوزخ کی راہ پر ڈال دیا جائے گا اور ان میں سے ایک بھی نہیں ہوگا جو اپنی سرداری اور مذہبی پیشوائی کے نشہ میں انکار کرے ۔ جب یہ سب کے سب اکٹھے کردیئے جائیں گے تو حکم ہوگا کہ ان کو ذرا ٹھہرنے دو تاکہ ان سے باز پرس کرلی جائے ، غور کرو کہ یہ لوگ کہاں کھڑے ہوں گے ؟ دوزخ کے دروازے پر اور ان کی رسوائی میں مزید اضافہ کرنے کے لیے ہی ٹھہرایا جا رہا ہے تاکہ سارے لوگوں کو ان کے کفر کی اور ان کارستانیوں کی اطلاع ہوجائے اور سب کو معلوم ہوجائے کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کی عظمت کے دنیا میں دن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
After that, a command will go forth to angels: فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ (and show them the way to Jahannam - 37:23). When the angels will take them away, and reach close to the Bridge of Sirat, they will be commanded: YP (make them stop - they are to be questioned - 37:24). Thereupon, at this place, they will be questioned about their beliefs and deeds - that have been mentioned in the Qur'an and Hadith at many places.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
16 "Gods" here implies two kinds of the gods: (1) Those men and satans who themselves desired that the people should worship them instead of Allah; and (21 those idols and trees and stones, etc., which have actually been worshipped in the world. The first kind of the gods will be included among the culprits themselves and will be led to Hell for punishment; the other kind of them will be thrown into Hell along with their worshippers so that they constantly feel ashamed of and continue to regret their follies. Besides, there is also a third kind of the gods, who have been worshipped in the…
Read the full tafseer →