Explained with ayahs 20–26
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
سورة الصّٰٓفّٰت 14
ظالم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی ہو۔
سورة الصّٰٓفّٰت 15
اصل میں لفظ " ازواج " استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس بغاوت میں ان کی رفیق تھیں، اور وہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و سرکش اور نافرمان تھے۔ علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ایک قسم کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے۔
سورة الصّٰٓفّٰت 16
اس جگہ معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں۔ ایک وہ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
اس کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ (آیت) فاھدوھم الی صراط الجحیم، یعنی ان لوگوں کو جہنم کا راستہ دکھلاؤ، اور جب فرشتے ان لوگوں کو لے چلیں گے تو پل صراط کے قریب پہنچنے کے بعد حکم ہوگا کہ وقفوھم انھم مسؤلون، ان کو ٹھہراؤ، ان سے سوال ہوگا۔ چناچہ اس مقام پر ان سے ان کے عقائد و اعمال کے بارے میں وہ سوالات کئے جائیں گے جن کا ذکر قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
احشروالذین ظلموا و ازواجھم وما کانوا یعبدون، من دون اللہ فاھدوھم الی صراط الجحیم (23-22)
الذین ظلموا سے مراد مشرکین ہیں۔ اس لئے کہ سب سے بڑا ظلم شرک ہی ہے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اشارہ خاص طور پر ائمہ شرک کی طرف ہے۔
لفظ ازواج یہاں ہم مشریوں، اتباع اور پیرو کاروں کے لئے استعمال ہوا ہے۔
ماکانوا یعبدون سے مراد ان کے شرکائے جن اور وہ اصنام و احجار ہیں جن کی وہ پرستش کرتے رہے تھے۔
قیامت کے دن ان سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان سب کو اکٹھا کر کے ان کو جہنم کا رستہ دکھائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
24۔ 1 یہ حکم جہنم میں لے جانے سے قبل ہوگا، کیونکہ حساب کے بعد ہی جہنم میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–27
6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
احشروا الذین ظلموا۔۔۔۔۔۔ انھم مسئولون (22 – 24) ( “۔ گھیر لاؤ اور اٹھالوؤ گرفتار کرکے ان لوگوں جنہوں نے ظلم کیا اور جو ظالموں کی صف میں تھے۔ یہ ایک جیسے ہیں۔ اس لیے ان کو جوڑے کہا گیا اور ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ انداز کلام کس قدر سخت فیصلہ کن اور توہین آمیز ہے۔
فاھدوھم الی صراط الجحیم (37: 23) ” ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ “۔ جنت کا راستہ تو ان کو دکھایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے اسے رد کردیا۔ اب جہنم کا راستہ ہی ان کے لیے رہ جاتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ چشم زدن میں ان کو جہنم رسید کردیا گیا۔ جہنم تک پہنچا دیا گیا لیکن ایک ضمنی حکم میں کہا گیا کہ ذرا ٹھہراؤ ان کو ، ان سے کچھ پوچھ ہی لیا جائے اور…
Read the full tafseer →10 یہ حکم ہوگا فرشتوں کو کہ ان سب کو اکٹھا کر کے دوزخ کا راستہ بتاؤ (تنبیہ) " ازواج " (جوڑوں) سے مراد ہیں ایک قسم کے گنہگار یا ان کی کافر بیویاں۔ اور " وماکانوا یعبدون من دون اللہ " سے اصنام و شیاطین وغیرہ مراد ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 23 مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ’ اللہ کے سوا“
{ فَاہْدُوْہُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ } ”پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھائو !“
اب ذرا جہنم کے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کرو ‘ ان کو escort کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
13 زوج کے تینوں معانی اکٹھے مراد ہیں :۔ ازواج کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس مقام پر تینوں معنی دے رہا ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ مرد بیوی کا اور بیوی مرد کی زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں اور ان کی بیویوں کو جو بغاوت میں ان کی شریک تھیں سب کو گھیر لاؤ۔ زوج کا دوسرا معنی اس کے مماثل ہوتا ہے۔ جیسے ایک جوتا دوسرے کا زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا ظالموں کی جتنی اقسام ہیں ان سب کو گھیر کرلے آؤ۔ اور زوج کا تیسرا معنی اس کی ضد ہے جیسے رات دن کا زوج ہے اور دن رات کا، یا تاریکی روشنی کا زوج ہے۔ اور روشنی تاریکی کا۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا۔ معبودوں اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
12۔ (حالانکہ دنیا میں تو خوب کرتے رہتے تھے اور اپنی اسی باہمی اعانت ونصرت پر فخر وناز بھی رکھتے تھے) (آیت) ” فاھدوھم الی صراط الجحیم “۔ یعنی ان سب کو دوزخ کی طرف لے جاؤ۔ مطلب یہ ہوا کہ جب اہل کفر کے رئیس وعوام، مقتداء اور مقتدی سب جمع ہوجائیں گے تو حکم ہوگا کہ سب کو دوزخ کی طرف ہانک دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →من دون اللہ فاھدوھم الی صراط الجحیم
جن کی خدا کے سوا یہ پوجا کرتے تھے ‘ پھر ان کو دوزخ کی راہ بتلا دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(22۔ 24) پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ مشرکین کو اور جن و انس اور شیطاطین میں سے سب ان کے ہم مسلکوں کو اور ان کے بتوں جو جمع کرلو پھر ان سب کو دوزخ کے درمیان لے جاؤ۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کو ذرا دوزخ کے قریب ٹھہراؤ۔
Read the full tafseer →فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ : ہدایت کا لفظ یہاں ان کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ (جمع کرلو ظالموں کو اور اس کے مشربوں کو) یعنی فرشتے کہیں گے زبانیہ سے (یعنی دوزخ کے فرشتوں سے) (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی وابن ابی شیبہ وابن منیع نے اپنی سند میں عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وحاکم وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) (فی البعث من طریق العفان بن بشیر) نے عمر بن خطاب ؓ سے (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کی مثل یعنی وہ لوگ جو ان کی مثل (یعنی ان کی طرح) کے ہوں گے۔ (وہ آپس میں…
Read the full tafseer →مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے سوا ] فَاهْدُوْهُمْ [پھر ان کی رہنمائی کرو ] اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ [دوزخ کے راستہ کی طرف ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا
یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔
یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
11:۔ وقفوھم الخ :۔ جب فرشتے ان کو جہنم کی طرف لے کر چلیں گے اس وقت حکم صادر ہوگا، ان کو روکو، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ مشرکین ( اتباع و متبوعین) کی مزید تذلیل و اہانت کے لیے انہیں واپس کر کے ان سے سوال کیا جائے گا۔ ما لکم لا تناصرون، کیا بات ہے ؟ آج تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ آج ہی تو مدد کرنے اور مدد لینے کا موقع ہے۔ آج تمہارے مزعومہ سفارشی تمہیں اللہ کے عذاب سے کیوں نہیں بچاتے۔ بل ھم الیوم مستسلمون، آج وہ کسی کی کیا مدد کریں گے۔ آج تو وہ مارے ندامت کے ذلت ورسوائی سے سرافگندہ ہیں اور سزا کھانے کے لیے منقاد ہیں۔ ای لایقدر بعضہم علی نصر بعض بل ہم منقادون للعذاب او مخذلون (روح ج 23 ص 81) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–35
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے…
Read the full tafseer →مِنْ دُوْنِ اللہِ فَاہْدُوْہُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ 23
دون
يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم :
هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ،
( د و ن ) الدون
جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
1 ؎ وہ بیویاں جو اپنے مشرک خاودن کے مذہب پر تھیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَھُمُ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاھْدُوْھُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ ۔ (الصآفات : 22، 23)
(جمع کرو سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو، اور جن کی وہ بندگی کیا کرتے تھے۔ اللہ کو چھوڑ کر، پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھائو۔ )
مجرمین کی میدانِ حشر میں حاضری کا ایک منظر
الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاسے مراد ایک تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، کیونکہ قرآن کریم میں شرک کو ظلم قرار دیا گیا ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت، سرکشی اور نافرمانی کا رویہ اختیار کیا۔ قرآن کریم کی اصطلاح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
فہم القرآن
ربط کلام : جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کا آغاز اس طرح ہوگا۔
اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا جس کا دن اور وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ جوں ہی وہ دن اور گھڑی آئے گی تو اسرافیل فرشتہ کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ صور میں پھونک مارنے کی دیر ہوگی تو زمین میں ایسے زلزلے ہوں گے جس سے پہاڑ روئی کی طرح اڑنے شروع ہوں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اس کے بعد نہ معلوم کتنی مدت مخلوق فنا رہے گی۔ اس کے بعد اسرافیل کو زندہ کیا جائے گا اسے دوبارہ صور میں پھونک مارنے کا حکم ہوگا۔ اس کے پھونک مارنے کے ساتھ ہی لوگ قبروں سے اٹھنا شرو ع ہوں گے۔ اس وقت قیامت کے منکروں کو یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
حشر اور سوالات :
22، 23: اُحْشُرُوا (جمع کرلو) یہ ملائکہ کو خطاب ہے۔ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (ظالموں کو) ظالم سے کافر مراد ہیں۔ وَاَزْوَاجَھُمْ (اور ان کے ہم مشربوں کو) ان کے مماثل لوگوں کو۔ نمبر 2۔ شیاطین ساتھیوں کو نمبر 3۔ ان کی کافرہ عورتوں کو۔
: یہاں وائو بمعنی مع ہے۔ اور بعض نے کہا عطف کیلئے ہے۔ اور ظلموا ؔ کی ضمیر پر عطف کرتے ہوئے اس کو رفع سے پڑھا گیا۔ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے تھے) یعنی بت فَاھْدُوْھُمْ (پھر ان کو بتلا دو ) ۔ راہنمائی کردو۔
قول اصمعی (رح) کہتے ہیں ہدیتہ فی الدین ھدًی۔ اور اگر ھدیتہ فی الطریق کہیں تو ھدایۃ…
Read the full tafseer →23، من دون اللہ، دنیا میں اللہ کے سواجن کو پوجا کرتے تھے اس سے مراد بت پرستی ہے۔ قاتل ہے۔ مقاتل (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد ابلیس اور اس کا لشکر ہے اور اللہ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے۔ ، ان لا تعبدوا الشیطان ،۔۔۔۔۔۔۔
فاھدوھم الی صراط الجحیم، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ، ان کو دوزخ کا راستہ بتاؤ۔ ابن کیسان کا بیان ہے کہ ان کو دوزخ کی طرف بڑھادو۔ اسی طرح عرب والے پیچھے سے ہنکانے والے کو بادی کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–23
11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–25
آیت 12
(بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
15 مشرکوں کے ساتھ ان کے خود ساختہ معبودوں کی بھی جکڑبندی کا حکم : سو اس ضمن میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے ساتھ جکڑو ان کے سب معبودوں کو بھی جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے اللہ کے سوا "۔ خواہ وہ لکڑی پتھر کے بت ہوں یا وہ انسان اور جن جو کہ اپنی پوجا و پرستش پر خوش ہوتے تھے۔ کیونکہ کلمہ ٔ " ما " عام ہے جو ان سب ہی مفاہیم و مصادیق کو شامل ہے۔ (روح، مظہری اور فتح وغیرہ) ۔ رہ گئے وہ انبیاء و اولیاء اور دوسرے صالحین جن کو لوگوں نے ان کی خواہش ومرضی کے خلاف اور ان کی تعلیمات و ہدایات کے برعکس پوجا و پکارا ہے وہ یقینا اس میں داخل نہیں کہ ان ہستیوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ اسی لئے دوسری جگہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات
تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی انہیں دوزخ کی طرف ہانک لے جائو۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ فرشتے دوزخ کے پہرہ داروں سے کہیں گے۔ ( کذافی الوحیدی)
Read the full tafseer →(37:23) اھدوہم۔ ھدایۃ سے۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہے۔ ان کو راستہ دکھلائو۔ ان کو راہ بتلائو۔ ان کو لے جائو۔ ہدایت کے اصل معنی فائدہ مند راہ بتلانے کے ہیں۔ لیکن یہاں نہکم (طنزا و استہزاء ) اس کا استعمال ہوا ہے جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فبشرہم بعذاب الیم (9:34) ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادو۔
صراط الجحیم۔ (مضاف مضاف الیہ ) دوزخ کا راستہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–23
مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
[9] اشارہ صور کے نفخ ثانی کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
ختم نبوت پر ایک دلیل
1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…
Read the full tafseer →(23) پھر ان سب کو دوزخ کی راہ بتائو۔ یعنی ان سب کو جمع کرکے ان کو دوزخ کا راستہ بتائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حکم ہوا فرشتوں کو ان کے جوڑے کہا یا تو جو روئوں کو کہا یا ایک ایک قسم کے گنہگار جو اکٹھے ہیں ان کو کہا۔
خلاصہ : یہ کہ ازواج کے جمع کرنے کو کہا اس ازواج سے یا تو منکروں کی بیویاں مراد ہیں جو ان کی شریک حال رہتی تھیں اور ان کے ساتھ خود بھی شر میں مبتلا تھیں یا وہ لوگ مراد ہوں گے جو ان کے ہم مشرب تھے اور وہ بھی ظالموں جیسے اور ان کے ساتھی تھے۔ بہرحال ! ظالموں کو اور ان کے ہم مشرب ساتھیوں کو جمع کرنے کا حکم دیاجائے گا اور یہ بھی ارشاد ہوگا کہ ان کو دوزخ کی راہ دکھائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 2۔ یعنی جو بانی اور مقتدائے کفر و شرک تھے۔
3۔ یعنی شیاطین و اصنام
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے سوا ان سب کو اکٹھا کر کے دوزخ کی راہ پر ڈال دیا جائے گا :
23۔ یہ کون معبود ہیں ؟ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہ معبود تو اللہ کے نیک بندوں کو بھی بنایا گیا ‘ فرشتوں ‘ نبیوں ‘ رسولوں ‘ ولیوں اور بزرگوں کو بھی معبود تسلیم کیا گیا ۔ لاریب تسلیم کیا گیا لیکن ان میں سے آخر کس کس نے اپنے معبود ہونے کا اقرار واعتراف کیا تھا سوائے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے کسی نے بھی یہ دعوی نہیں کیا تھا بات تو دعویداروں کی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کو اس میں سے مستثنی کردیا اور واضح کردیا کہ یہ جن باطل معبودوں کو اکٹھا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ وہی ہیں جنہوں نے خود اپنے معبود ہونے کا اعلان کیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
After that, a command will go forth to angels: فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ (and show them the way to Jahannam - 37:23). When the angels will take them away, and reach close to the Bridge of Sirat, they will be commanded: YP (make them stop - they are to be questioned - 37:24). Thereupon, at this place, they will be questioned about their beliefs and deeds - that have been mentioned in the Qur'an and Hadith at many places.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
16 "Gods" here implies two kinds of the gods: (1) Those men and satans who themselves desired that the people should worship them instead of Allah; and (21 those idols and trees and stones, etc., which have actually been worshipped in the world. The first kind of the gods will be included among the culprits themselves and will be led to Hell for punishment; the other kind of them will be thrown into Hell along with their worshippers so that they constantly feel ashamed of and continue to regret their follies. Besides, there is also a third kind of the gods, who have been worshipped in the…
Read the full tafseer →