Explained with ayahs 20–26
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
سورة الصّٰٓفّٰت 14
ظالم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی ہو۔
سورة الصّٰٓفّٰت 15
اصل میں لفظ " ازواج " استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس بغاوت میں ان کی رفیق تھیں، اور وہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و سرکش اور نافرمان تھے۔ علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ایک قسم کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے۔
سورة الصّٰٓفّٰت 16
اس جگہ معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں۔ ایک وہ انسان…
Read the full tafseer →احشر والذین ظلموا و ازواجھہم (یعنی ان ظالموں کو جنہوں نے شرک کے ظلم عظیم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم مشربوں کو جمع کرلو) یہاں ہم مشربوں کے لئے ازواج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں ”جوڑ“ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی کے معنی میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ اسی لئے بعض مفسرین نے اس کے معنی بیان کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اس سے مشرکین کی وہ بیویاں مراد ہیں جو خود بھی مشرک تھیں۔ لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ”ازواج“ سے مراد ہم مشرب ہی ہے، اور اس کی تائید حضرت عمر کے ایک ارشاد سے بھی ہوتی ہے۔ امام بیہقی اور عبدالرزاق وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عمر کا یہ قول نقل کیا ہے، کہ یہاں ازواجہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
احشروالذین ظلموا و ازواجھم وما کانوا یعبدون، من دون اللہ فاھدوھم الی صراط الجحیم (23-22)
الذین ظلموا سے مراد مشرکین ہیں۔ اس لئے کہ سب سے بڑا ظلم شرک ہی ہے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اشارہ خاص طور پر ائمہ شرک کی طرف ہے۔
لفظ ازواج یہاں ہم مشریوں، اتباع اور پیرو کاروں کے لئے استعمال ہوا ہے۔
ماکانوا یعبدون سے مراد ان کے شرکائے جن اور وہ اصنام و احجار ہیں جن کی وہ پرستش کرتے رہے تھے۔
قیامت کے دن ان سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان سب کو اکٹھا کر کے ان کو جہنم کا رستہ دکھائو۔
Read the full tafseer →22۔ 1 یعنی جنہوں نے کفر و شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہوگا۔
22۔ 2 اس سے مراد کفر و شرک اور تکذیب رسل کے ساتھ یا بعض کے نزدیک جنات و شیاطین ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ بیویاں ہیں جو کفر و شرک میں ان کی ہمنوا تھیں۔
22۔ 3 وہ مورتیاں ہوں یا اللہ کے نیک بندے، سب کو ان کی تذلیل کے لئے جمع کیا جائیے گا۔ تاہم نیک لوگوں کو اللہ جہنم سے دور ہی رکھے گا، اور دوسرے معبودوں کو ان کے ساتھ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تاہم وہ دیکھ لیں کہ یہ کسی کو نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–27
6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
احشروا الذین ظلموا۔۔۔۔۔۔ انھم مسئولون (22 – 24) ( “۔ گھیر لاؤ اور اٹھالوؤ گرفتار کرکے ان لوگوں جنہوں نے ظلم کیا اور جو ظالموں کی صف میں تھے۔ یہ ایک جیسے ہیں۔ اس لیے ان کو جوڑے کہا گیا اور ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ انداز کلام کس قدر سخت فیصلہ کن اور توہین آمیز ہے۔
فاھدوھم الی صراط الجحیم (37: 23) ” ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ “۔ جنت کا راستہ تو ان کو دکھایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے اسے رد کردیا۔ اب جہنم کا راستہ ہی ان کے لیے رہ جاتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ چشم زدن میں ان کو جہنم رسید کردیا گیا۔ جہنم تک پہنچا دیا گیا لیکن ایک ضمنی حکم میں کہا گیا کہ ذرا ٹھہراؤ ان کو ، ان سے کچھ پوچھ ہی لیا جائے اور…
Read the full tafseer →9 یہ حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 22{ اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَہُمْ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ’ پھر حکم دیا جائے گا جمع کرو ان سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو بھی جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے ‘
پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کافروں ‘ مشرکوں اور ہر طرح کے مجرموں کو ‘ چاہے وہ انسانوں میں سے ہوں یا ِجنوں میں سے ‘ سب کو ایک جگہ جمع کرلو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی ساتھ ہی لے آئو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
13 زوج کے تینوں معانی اکٹھے مراد ہیں :۔ ازواج کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس مقام پر تینوں معنی دے رہا ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ مرد بیوی کا اور بیوی مرد کی زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں اور ان کی بیویوں کو جو بغاوت میں ان کی شریک تھیں سب کو گھیر لاؤ۔ زوج کا دوسرا معنی اس کے مماثل ہوتا ہے۔ جیسے ایک جوتا دوسرے کا زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا ظالموں کی جتنی اقسام ہیں ان سب کو گھیر کرلے آؤ۔ اور زوج کا تیسرا معنی اس کی ضد ہے جیسے رات دن کا زوج ہے اور دن رات کا، یا تاریکی روشنی کا زوج ہے۔ اور روشنی تاریکی کا۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا۔ معبودوں اور ان کے…
Read the full tafseer →11۔ (آیت) ” ازواجھم “۔ زوج کے لفظی معنی ساتھی یا مقارن کے ہیں۔ اصل الزوج المقارن (روح) یقال لکل مایقترن باخر مماثلا لہ اومضادا زوج (راغب) یہاں ازواج بیویوں کے معنی نہیں۔ بلکہ رفیقوں، ہم مشربوں کے مرادف ہے۔ اے اقرانھم المعتقدین بھم فی افعالھم (راغب۔ ابوالبقاء) تابعین بلکہ صحابہ سے یہی تفسیر مروی ہے۔ اخرج جماعۃ ابن عباس ؓ فی لفظ اشابھم وفی لفظ نظراء ھم وروی تفسیر الازواج بذالک ایضا عن ابن جبیر و مجاھد وعکرمۃ (روح) عن عمر بن الخطاب ؓ الزانی مع الزانی وشارب الخمر مع شارب الخمر وصاحب السرقۃ مع صاحب السرقۃ (قرطبی) وقیل قرنآء ھم من الشیاطین وروی ھذا عن الضحاک (روح) اے اشیاعھم واتباعھم امثالھم قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–50
آیت نمبر 22 تا 50
ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…
Read the full tafseer →احشروا الذین ظلموا وازواجھم وما کانوا یعبدون۔ (ا اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرمائے گا :) جمع کرلو ظالموں کو اور ان کے ہم مشربوں کو اور ان معبودوں (یعنی اصنام و شیاطین) کو
احشروا یعنی جزا و سزا اور حساب کے مقام تک لے جا کر ان کو جمع کرو۔ وازواجھم ازواج یعنی ان جیسے لوگوں کو ‘ ان کے چیلوں اور پیروی کرنے والوں کو۔
بیہقی نے بطریق نعمان بن شریک بیان کیا کہ حضرت عمر نے فرمایا : اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَھُمْ یعنی انکے ہم مشرب لوگوں کو انہی کی طرح ہیں ‘ سودخوار ‘ سود خواروں کے ساتھ ‘ زناکار ‘ زناکاروں کے ساتھ اور شرابی ‘ شرابیوں کے ساتھ آئیں گے۔ سب ہم مشرب جنت میں ساتھ ہوں گے اور ہم مشرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(22۔ 24) پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ مشرکین کو اور جن و انس اور شیطاطین میں سے سب ان کے ہم مسلکوں کو اور ان کے بتوں جو جمع کرلو پھر ان سب کو دوزخ کے درمیان لے جاؤ۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کو ذرا دوزخ کے قریب ٹھہراؤ۔
Read the full tafseer →اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ : یہاں ”الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا“ سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھیں اور ان کے ”من دون اللہ“ معبودوں کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا اور ظاہر ہے موحد مسلمان اللہ کے سوا کسی معبود کی پرستش نہیں کرتے۔ نیز دیکھیے سورة انعام (82) اور لقمان (13) ”وَاَزْوَاجَهُمْ“ طبری میں علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مروی ہے : ”أَزْوَاجٌ“ (جوڑوں) سے مراد ان جیسے دوسرے لوگ ہیں۔“ بیویاں بھی مراد ہوسکتی ہیں، جو کفرو شرک میں ان کی ہم نوا تھیں۔ یعنی قیامت قائم ہونے کے ساتھ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ کفار و مشرکین کو مومنوں سے الگ کرو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ (جمع کرلو ظالموں کو اور اس کے مشربوں کو) یعنی فرشتے کہیں گے زبانیہ سے (یعنی دوزخ کے فرشتوں سے) (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی وابن ابی شیبہ وابن منیع نے اپنی سند میں عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وحاکم وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) (فی البعث من طریق العفان بن بشیر) نے عمر بن خطاب ؓ سے (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کی مثل یعنی وہ لوگ جو ان کی مثل (یعنی ان کی طرح) کے ہوں گے۔ (وہ آپس میں…
Read the full tafseer →اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جمع کرو جنہوں نے ] ظَلَمُوْا [ظلم کیا ] وَاَزْوَاجَهُمْ [اور ان کے جوڑوں (ساتھیوں) کو ] وَمَا [اور ان کو جن کی ] كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ [یہ لوگ بندگی کرتے تھے ]
نوٹ۔ 1: ازواج کے لفظی معنی ” جوڑے “ ہے۔ یہاں یہ ہم مشربوں کے لئے آیا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عمر کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ یہاں ازواجھم سے مراد ان کے جیسے لوگ ہیں۔ چناچہ سود خور دوسرے سود خوروں کے ساتھ، شراب پینے والے دوسرے شراب پینے والوں کے ساتھ جمع کئے جائیں گے۔ (معارف القرآن)
معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں۔ ایک وہ انسان اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ ان کی بندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا
یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔
یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
10:۔ احشروا الذین ظلموا الخ، ای یقال للملئکۃ، حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ یہ آیت مشرک پیشواؤں اور ان کے اتباع و اذناب کے بارے میں ہے الذین ظلموا سے مشرکین مراد ہیں۔ کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ الذین ظلموا یعنی اشرکو افان الشرک لظلم عظیم (مظہری ج 8 ص 112) ۔ احشروا الم شرکین (قرطبی ج 15 ص 73) و فی ھذا العطف دلالۃ علی ان الذین ظلموا المشرکون وھم الاحقاء بہذا الوصف فان الشرک لظلم عظیم (روح ج 23 ص 80) ۔ اور ازواجہم سے ان مشرکین کے ہم عقیدہ، ہم مسلک اور ہم مشرب (پیر بھائی) لوگ مراد ہیں جو مشرکانہ عقائد و اعمال میں ان کے ہمنوا تھے۔ عن عمر بن الخطاب ؓ (احشروا الذین ظلموا وازواجہم) قال اخوانہم (ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–35
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 6
اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَہُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ
حشر
، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة .
( ح ش ر ) الحشر ( ن )
اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
1 ؎ وہ بیویاں جو اپنے مشرک خاودن کے مذہب پر تھیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَھُمُ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاھْدُوْھُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ ۔ (الصآفات : 22، 23)
(جمع کرو سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو، اور جن کی وہ بندگی کیا کرتے تھے۔ اللہ کو چھوڑ کر، پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھائو۔ )
مجرمین کی میدانِ حشر میں حاضری کا ایک منظر
الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاسے مراد ایک تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، کیونکہ قرآن کریم میں شرک کو ظلم قرار دیا گیا ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت، سرکشی اور نافرمانی کا رویہ اختیار کیا۔ قرآن کریم کی اصطلاح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
فہم القرآن
ربط کلام : جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کا آغاز اس طرح ہوگا۔
اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا جس کا دن اور وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ جوں ہی وہ دن اور گھڑی آئے گی تو اسرافیل فرشتہ کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ صور میں پھونک مارنے کی دیر ہوگی تو زمین میں ایسے زلزلے ہوں گے جس سے پہاڑ روئی کی طرح اڑنے شروع ہوں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اس کے بعد نہ معلوم کتنی مدت مخلوق فنا رہے گی۔ اس کے بعد اسرافیل کو زندہ کیا جائے گا اسے دوبارہ صور میں پھونک مارنے کا حکم ہوگا۔ اس کے پھونک مارنے کے ساتھ ہی لوگ قبروں سے اٹھنا شرو ع ہوں گے۔ اس وقت قیامت کے منکروں کو یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
حشر اور سوالات :
22، 23: اُحْشُرُوا (جمع کرلو) یہ ملائکہ کو خطاب ہے۔ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (ظالموں کو) ظالم سے کافر مراد ہیں۔ وَاَزْوَاجَھُمْ (اور ان کے ہم مشربوں کو) ان کے مماثل لوگوں کو۔ نمبر 2۔ شیاطین ساتھیوں کو نمبر 3۔ ان کی کافرہ عورتوں کو۔
: یہاں وائو بمعنی مع ہے۔ اور بعض نے کہا عطف کیلئے ہے۔ اور ظلموا ؔ کی ضمیر پر عطف کرتے ہوئے اس کو رفع سے پڑھا گیا۔ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے تھے) یعنی بت فَاھْدُوْھُمْ (پھر ان کو بتلا دو ) ۔ راہنمائی کردو۔
قول اصمعی (رح) کہتے ہیں ہدیتہ فی الدین ھدًی۔ اور اگر ھدیتہ فی الطریق کہیں تو ھدایۃ…
Read the full tafseer →22، احشروا الذین ظلموا، جن کے ساتھ یہ شرک کیا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ بھی ان کو جمع کروتا کہ ان سے حساب وکتاب لیاجائے۔ ، وازواجھم، ان جیسے لوگوں کو ان کے چیلوں اور پیروی کرنے والوں کو ۔ قتادہ اور کلبی رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرتا ہے اس کو اسی کے ساتھ جمع کرو (جن کے اعمال ان کے اعمال کی طرح ہوں گے) شراب خوروں کو شراب خوروں کے ساتھ، زنا کرنے والوں کو زنا کرنے والوں کے ساتھ۔
ضحاک اور مقاتل کا بیان ہے۔ یعنی ان کے جوڑ کے شیاطین کو ان کے ساتھ جمع کرو، ہر کافر کو اس کے شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں باندھ دو ۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد مشرک بیویاں ہیں۔ ، وماکانوایعبدون،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–23
11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–25
آیت 12
(بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
13 منکروں کو رسوا کن جواب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس وقت ان سے کہا جائیگا ہاں یہی ہے فیصلے کا وہ دن جسکو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے "۔ اور ایسا ان کی تقریع اور توبیخ کے لئے فرشتے ان سے کہیں گے۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جس سے ان کی آتش یاس و حسرت میں اور اضافہ ہوگا مگر اس سے بچنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی کہ اسکا وقت گزر چکا ہوگا اور اسکا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر احسان ہے کہ اس نے ان غیبی حقائق سے انسان کو اس طرح صاف وصریح طور پر اس دنیا میں اور اس قدر پیشگی خبردار کردیا تاکہ جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات
تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 8 جوڑ والوں سے مراد ان کے وہ ساتھی اور رفیق ہیں جو انہی کی طرح شرک و کفر میں مبتلا تھے۔ یا ان سے مرادان کی وہ بیویواں ہیں جو سرکشی و بغاوت پر ان کے موافقت کیا کرتی تھیں اور ان کی روش سے خوش تھیں۔ حضرت عمر ؓ نے ان سے گناہ گاروں کی الگ الگ ٹولیاں مراد لی ہیں۔ یعنی سود خوروں کا الگ جتھا ہوگا اور زنا کرنے والوں کا الگ اور شراب نوشوں کا الگ۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(37:22) احشروا۔ حشر یحشر (باب نصر) حشر مصدر سے فعل امر جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ تم اکٹھا کرو !
ازواجہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے ازواج ۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) اس سے مراد کفار کے ہم مشرب لوگ ہیں جو انہی کی طرح ہیں۔ یعنی سود خوار سود خواروں کے ساتھ، شرابی شرابیوں کے ساتھ۔ زانی زانیوں کے ساتھ۔ وغیرہ وغیرہ۔
(2) حضرت حسن بصری (رح) کے نزدیک اس سے مراد کافروں کی مشرک بیبیاں ہیں۔ (3) کافروں کے چیلے اور پیروکار۔
ما کانوا یعبدون۔ میں ما موصولہ ہے۔ احشروا۔۔ مسئولون۔ یہ اللہ کا ملائکہ کو حکم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–23
مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
[9] اشارہ صور کے نفخ ثانی کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
ختم نبوت پر ایک دلیل
1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…
Read the full tafseer →(22) فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ ظلم کرنے والوں کو اور ان کے ہم مشرب ساتھیوں کو اور ان کو جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے سب کو جمع اور اکٹھا کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 2۔ یعنی جو بانی اور مقتدائے کفر و شرک تھے۔
3۔ یعنی شیاطین و اصنام
Read the full tafseer →کہا جائے گا گھیر لاؤ ان ظالموں کو ان کے ہم مشربوں کو اور ان کے معبودوں کو :
22۔ حکم ہوگا کہ ان سب کالی بھیڑوں کو اکٹھا کرلو اگرچہ ان میں بڑی بڑے سردار ‘ سیاسی لیڈر اور مذہبی پیشوا ‘ پیرو مرشد اور بڑی بڑی پگڑیوں والے ہوں گے ان سارے کے سارے دستار بندوں کو بلا امیتاز کہ وہ سبز پگڑیوں والے ہیں ‘ کالی پگڑیوں والے ‘ سفید پگڑیوں والے ‘ نسواری پگڑیوں والے اور دھاری دار پگڑیوں والے جنہوں نے دنیا جہان کو لوٹنے کے لیے یہ سارے سوانگ رچائے تھے اکٹھا کرلیا جائے گا اور ان ساری قسموں کے جو بڑے بڑے سرغنے ہوں گے ان کو بھی اور حکم ہوگا کہ جن جن کو انہوں نے اپنے معبود بنایا ہوا تھا اور ان کے سارے ہم نشینوں کو…
Read the full tafseer →In verse 22, it was said: احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ (Muster all those who were unjust, and their fellows). Here, the text has used the word:(أَزْوَاجَ azwaj) for cohorts, fellow travelers, or people of the same persuasion - a word literally meaning 'pair'. Then, this word is very commonly used in the sense of spouses. That is why some commentators have said that it means wives of the Mushriks who were also Mushriks. But, in the sight of most commentators, the word: أَزْوَاجَ (azwaj) at this place means nothing but people of the same persuasion, and it also finds support in…
Read the full tafseer →14 "The unjust people" dces not only imply those who committed injustices in the world, but as a Qur'anic term Zalim implies every such person, who might have adopted the way of rebellion and disobedience against Allah. "
15 The word "azwaj"in the original might also imply their wives, who were their associates in this rebellion, and also all those people who were rebellious and disobedient like them. Moreover it may also mean that the culprits of different categories will be gathered together in separate groups.
Read the full tafseer →