As-Saaffaat 37:21

As-Saaffaat · from ayah 21

37:21

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ ۟۠هٰذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ الَّذِىۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ

(کہا جائے گا کہ ہاں) فیصلے کا دن جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے یہی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[They will be told], "This is the Day of Judgement which you used to deny."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:21

"یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(کہا جائے گا کہ ہاں) فیصلے کا دن جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے یہی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(جی ہاں) یہی وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ہے وہ فیصلے کا دن جسے تم جھٹلاتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(کہا جائے گا: ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی فیصلے کا دن ہے، جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(پھر انہیں کہا جائے گا) یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جو کو تم جھٹلاتے رہے تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(آواز آجائے گی کہ ہاں) یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

(بےشک) یہ (ہی) فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اُس وقت انہیں کہا جائے گا : ہاں) یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(کہا جائے گا کہ ہاں) ”فیصلے کا دن“ جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے یہی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

“Yes, this is the Day of Final Decision that you used to deny as a lie.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It will be said to them,) :This is the Day of Judgment that you used to deny.

— Muhammad Taqi Usmani

(It will be said to them,) :This is the Day of Judgment that you used to deny.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(It will be said:) "This is the Day of Judgement which you used to deny."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This is the Day of Separation, which ye used to deny.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[They will be told], "This is the Day of Judgement which you used to deny."

— Saheeh International

This is the Day of Judgment in which you disbelieved.

— Muhammad Sarwar

This is the day of the judgment which you called a lie.

— Muhammad Habib Shakir

This is the Day of Judgment which ye were wont to belie.

— Abdul Majid Daryabadi

(A voice will say,) "This is the Day of Sorting Out, whose truth ye (once) denied!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–26

قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 13 ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان کہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو، ہوسکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں کا دوسرا رد عمل ہو۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے، اب آگئی تمہاری شامت، جس دن کو جھٹلاتے تھے وہی سامنے آگیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

خلاصہ تفسیر پس قیامت تو بس ایک للکار ہوگی (یعنی دوسرا صور) سو (اس سے) سب یکایک (زندہ ہو کر) دیکھنے بھالنے لگیں گے اور (حسرت سے) کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ تو وہی روز جزا (معلوم ہوتا) ہے (ارشاد ہوگا کہ ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے (آگے قیامت ہی کے بعض واقعات کی تفصیل ہے کہ فرشتوں کو حکم ہوگا) جمع کرلو ظالموں کو (یعنی جو کفر و شرک کے بانی اور مقتدا تھے) اور ان کے ہم مشربوں کو (یعنی جو ان کے ساتھ تابع تھے) اور ان معبودوں کو جن کی وہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے (یعنی شیاطین اور بت) پھر ان سب کو دوزخ کا رستہ بتلاؤ (یعنی ادھر لے جاؤ) اور (پھر یہ حکم ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون (21) ان کی اس بات پر فرشتے کہیں گے کہ جی ہاں ! یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلاتے رہے تھے !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 20–21

21۔ 1 فرشتے اور اہل ایمان کہیں گے کہ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم مانتے نہیں تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–27

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھذا یوم ۔۔۔۔ بہٖ تکذبون (21) ” “۔ ان یہاں انداز کلام ” بیانی “ اور ” خبری “ سے بدل کر خطاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیت کرتے تھے۔ ایک سخت حکم ہے جو ان کے کانوں سے بڑی سختی سے ٹکراتا ہے ۔ فیصلہ کن انداز میں ۔ اور اس کے بعد ردئے سخن اللہ کے کارندوں کی طرف

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی یہ تو سچ مچ جزاء کا دن آپہنچا جس کی انبیاء خبر دیتے اور ہم ہنسی اڑایا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21{ ہٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ } ”اُس وقت انہیں کہا جائے گا : ہاں یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

12 یہ کہنے والے مجرم خود بھی ہوسکتے ہیں جو ایک دوسرے سے یوں ہم کلام ہوں گے۔ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں اور اہل ایمان بھی۔ بلکہ اس دن ہر کوئی یہ پکار اٹھے گا کہ یہی وہ انصاف کا دن ہے جسے اے مجرمو ! تم جھٹلاتے ہی رہے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 19–21

10۔ یہ منکروں کی صدائے حسرت ونالہ درد کے جواب میں غیب سے ارشاد ہوگا۔ (آیت) ” ھی زجرۃ واحدۃ “۔ اشارہ صور کے نفخ ثانی کی جانب ہے وھی النفخۃ الثانیۃ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون (ارشاد ہوگا :) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ یَا وَیْلَنَا میں یا تنبیہ کیلئے ہے اور وَیْل کا معنی ہے ہلاکت۔ یوم الدین یعنی وہ دن ہے جس میں ہم کو ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یوم الفصل فیصلہ کا دن یا نیکوکار اور بدکار کو الگ الگ کردینے کا دن۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ ھذا یوم الدین پر کافروں کا کلام پورا ہوگیا اور ھذا یوم الفصل سے ملائکہ کا کلام نقل فرمایا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ بھی کافروں کے کلام کا تتمہ ہے اور تکذبون تک سب انہی کا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو فرشتے ان سے فرمائیں گے کہ ہاں یہ وہی تمہارے اور اہل ایمان کے درمیان فیصلہ کا دن ہے جس کے ہونے کا تم دنیا میں انکار کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ھٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ : اس وقت فرشتے اور مومن انھیں کہیں گے، یا وہ خود ایک دوسرے کو ملامت کے لیے کہیں گے، ہاں ! یہی وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–21

قل نعم ہاں تمہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ و انتم داخرون۔ جب کہ تم ذلیل و خوار ہو گے کیونکہ جس چیز کا انہوں نے انکار کیا تھا اس کے وقوع کو دیکھیں گے تو لامحالہ وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا : عنقریب قیامت برپا ہوگی اگرچہ تم ناپسند کرو تمہارے نہ چاہتے ہوئے یہ امر واقع ہوگا اگر تم اپنے گمان کے مطابق اس کا انکار کرو۔ یہ تو ایک چیخ ہے ‘ یہ حسن بصری کا قول ہے۔ (1) ۔ اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔ صیحہ کو جزہ کا نام دیا ہے (2) کیونکہ اس سے مقصود جھڑکنا ہی ہے یعنی اس کے ساتھ انہیں جھڑکا جائے گا جس طرح ہانکتے وقت اونٹوں اور گھوڑوں کو جھڑکا جاتا ہے تو وہ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہونگے۔ ایک قول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ھٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ [یہ فیصلے کا وہ دن ہے ] كُنْتُمْ بِهٖ [تم لوگ جس کو ] تُكَذِّبُوْنَ [جھٹلاتے تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

باری تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ) (یہ فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) تمہارے جھٹلانے سے اس کی آمد نہیں رکی۔ اب تو تمہیں سزا بھگتنی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

10:۔ احشروا الذین ظلموا الخ، ای یقال للملئکۃ، حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ یہ آیت مشرک پیشواؤں اور ان کے اتباع و اذناب کے بارے میں ہے الذین ظلموا سے مشرکین مراد ہیں۔ کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ الذین ظلموا یعنی اشرکو افان الشرک لظلم عظیم (مظہری ج 8 ص 112) ۔ احشروا الم شرکین (قرطبی ج 15 ص 73) و فی ھذا العطف دلالۃ علی ان الذین ظلموا المشرکون وھم الاحقاء بہذا الوصف فان الشرک لظلم عظیم (روح ج 23 ص 80) ۔ اور ازواجہم سے ان مشرکین کے ہم عقیدہ، ہم مسلک اور ہم مشرب (پیر بھائی) لوگ مراد ہیں جو مشرکانہ عقائد و اعمال میں ان کے ہمنوا تھے۔ عن عمر بن الخطاب ؓ (احشروا الذین ظلموا وازواجہم) قال اخوانہم (ابن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِہٖ تُكَذِّبُوْنَ۝ 21ۧ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] (ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–21

تفسیر : و اذا متنا وکناترابا یہاں سے پھر منکرین حشر کا قول نقل کرکے اس کا رد کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجاویں گے اور مر کر خاک ہوجاویں گے، ہم اور ہمارے باپ دادا زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو وہ اپنے نزدیک خدا تعالیٰ کی قدرت سے باہر جانتے ہوں گے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل نعم کہہ دے ہاں زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کفر و بدکاری کی وجہ سے تم ذلیل ہوگے اور اسی لیے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے تم انکار کرتے ہو۔ پھر حشر برپا ہونے کی کیفیت اور حشر کے بعد جرموں کی سزا پانے کی کیفیت اور وہاں بتوں سے نا امیدی اور اس بت پرستی کی باز پرس اور آپس میں گمراہ کرنے والوں اور ان کے مریدوں کی تھکا فضیحتی کا وما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 19–21

فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ وَقَالُوْا یٰـوَیْلَنَا ھٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۔ ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (الصآفات : 19 تا 21) (سو وہ اٹھانا تو بس ایک ہی جھڑکی ہوگی کہ یکایک وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور کہیں گے ہائے ہماری کمبختی یہ تو بدلے کا دن ہے۔ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ) قیامت کے منکرین کی بدحواسی سے دلیل قیامت کے منکرین اس کے وقوع کو بہت بڑی بات سمجھ کر ناقابلِ یقین خیال کرتے اور کبھی اسے خلاف عقل ٹھہراتے تھے۔ ان کے تصورات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہمیں قیامت برپا کرنے میں کسی تیاری کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–25

فہم القرآن ربط کلام : جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کا آغاز اس طرح ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا جس کا دن اور وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ جوں ہی وہ دن اور گھڑی آئے گی تو اسرافیل فرشتہ کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ صور میں پھونک مارنے کی دیر ہوگی تو زمین میں ایسے زلزلے ہوں گے جس سے پہاڑ روئی کی طرح اڑنے شروع ہوں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اس کے بعد نہ معلوم کتنی مدت مخلوق فنا رہے گی۔ اس کے بعد اسرافیل کو زندہ کیا جائے گا اسے دوبارہ صور میں پھونک مارنے کا حکم ہوگا۔ اس کے پھونک مارنے کے ساتھ ہی لوگ قبروں سے اٹھنا شرو ع ہوں گے۔ اس وقت قیامت کے منکروں کو یقین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21: ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ (یہ فیصلہ کا دن ہے) قضاء کا دن۔ اور گمراہی و ہدایت کے درمیان فرق کا دن ہے۔ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ (جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) تین قول : نمبر 1۔ پھر اس میں احتمال ہے کہ ھذا یوم الدین سے احشروا تک کفار کا کلام ہو۔ جو ایک دوسرے کو وہ کریں گے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ملائکہ کی گفتگو ہو جو ان سے کریں گے۔ نمبر 3۔ اور یا ویلنا ھذا یوم الدین یہ کفار کا کلام ہو اور ھذا یوم الفصل یہ ملائکہ کا کلام ہو جو ان کے جواب میں کہا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ، ھذا یوم الفصل ، یہی فیصلہ کا دن ہوگا۔ بعض کا قول ہے کہ یہ فیصلے کا دن ہے نیکی کرنے والے اور برائی کرنے والے کے درمیان ۔ الذی کنتم بہ تکذبون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–23

11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–25

آیت 12 (بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

13 منکروں کو رسوا کن جواب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس وقت ان سے کہا جائیگا ہاں یہی ہے فیصلے کا وہ دن جسکو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے "۔ اور ایسا ان کی تقریع اور توبیخ کے لئے فرشتے ان سے کہیں گے۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جس سے ان کی آتش یاس و حسرت میں اور اضافہ ہوگا مگر اس سے بچنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی کہ اسکا وقت گزر چکا ہوگا اور اسکا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر احسان ہے کہ اس نے ان غیبی حقائق سے انسان کو اس طرح صاف وصریح طور پر اس دنیا میں اور اس قدر پیشگی خبردار کردیا تاکہ جس نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–30

دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 20–22

ف 8 جوڑ والوں سے مراد ان کے وہ ساتھی اور رفیق ہیں جو انہی کی طرح شرک و کفر میں مبتلا تھے۔ یا ان سے مرادان کی وہ بیویواں ہیں جو سرکشی و بغاوت پر ان کے موافقت کیا کرتی تھیں اور ان کی روش سے خوش تھیں۔ حضرت عمر ؓ نے ان سے گناہ گاروں کی الگ الگ ٹولیاں مراد لی ہیں۔ یعنی سود خوروں کا الگ جتھا ہوگا اور زنا کرنے والوں کا الگ اور شراب نوشوں کا الگ۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:21) ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون۔ یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک توبیخ و تقریع (جھڑک و ملامت) کے طور پر ملائکہ کا کلام ہے جو کفار کے یویلنا ھذا یوم الدین کے جواب میں دیا گیا۔ اور بعض کے نزدیک یہ بھی کافروں کے کلام کا تتمہ ہے اور تکذبون تک انہی کا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–23

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–26

ختم نبوت پر ایک دلیل 1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) کہا جائے گا یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔ یہ شاید فرشتے جواب دیں گے جب وہ تعجب کے ساتھ کہیں گے ہائے یہ تو وہی جزا کا دن ہے تو فرشتے کہیں گے ہاں یہی وہ یوم الفصل ہے جس کو تم جھوٹا کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–21

ف 1۔ جو شخص دلیل کے بعد بھی عنادا انکار کرے اس کے لئے ایسا ہی جواب زیبا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہاں ! یہ وہ فیصلے کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے : 21۔ گزشتہ آیت میں جو انہوں نے تسلیم کیا تھا وہ تسلیم کرنا شک ہی کے ساتھ تسلیم کرنا تھا زیر نظر آیت میں ان کا شک دور کیا جا رہا ہے کہ ہاں ! یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور طرح طرح سے اس کو جھٹلاتے اور خبر دینے والے کو نشانہ تضحیک بناتے تھے اور مذاق اڑاتے اڑاتے بس ہی نہیں کرتے تھے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

Commentary After having shown the possibility and proof of 'Akhirah or Hereafter, Allah Ta’ ala has described some events relating to Resurrection in these verses. Given in the first verse (19) is the mode in which the dead will rise again. It was said: فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَ‌ةٌ وَاحِدَةٌ, it will be only a single [ castigating ] Call and all of a sudden they will begin to see - 37:19). The word: زَجْرَ‌ةٌ (Zajrah) is a noun derived from زَجر (zajr), and it is used to carry many meanings in the Arabic language. Out of these, one meaning is: 'To utter such sounds which, when heard by cattle,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 It may be that this is said by the believers, or by the angels; or it may be, as it were, the common expression of the conditions prevailing in the plain of Resurrection or it may as well be another reaction of the people themselves. That is, they may be saying in their hearts. "In the world, you lived in a way as if no Day of Judgement would ever come. Now you have come to your doom! This is the same Day that you used to deny ! "

Read the full tafseer →