As-Saaffaat 37:20

As-Saaffaat · from ayah 20

37:20

وَقَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۟وَقَالُوۡا يٰوَيۡلَنَا هٰذَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ

اور کہیں گے، ہائے شامت یہی جزا کا دن ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will say, "O woe to us! This is the Day of Recompense."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:20

اُس وقت یہ کہیں گے "ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہیں گے، ہائے شامت یہی جزا کا دن ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی یہی جزا (سزا) کا دن ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کہیں گے کہ : ہائے ہماری شامت ! یہ تو حساب و کتاب کا دن ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہیں گے ہائے ہماری خرابی ان سے کہا جائے گا یہ انصاف کا دن ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ تو جزا کا دن ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی ! یہ تو جزا کا دن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کہیں گے : ہائے ہماری بدبختی ! یہ تو جزا و سزا کا دن ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کہیں گے، ہائے ہماری شامت ! یہ تو جزا کا دن ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (سراپا حسرت و افسوس بن کر) کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی یہ تو وہی بدلہ کا دن ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ تو وہی روز جزا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت یہ تو بدلے کا دن ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہیں گے ”ہائے شامت یہی جزاء کا دن ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They will then say: “Woe for us. This is the Day of Judgement.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they will be saying, :Woe to us; this is the Day of Retribution.

— Muhammad Taqi Usmani

And they will be saying, :Woe to us; this is the Day of Retribution.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will say: "Woe to us! This is the Day of Recompense!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And say: Ah, woe for us! This is the Day of Judgment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will say, "O woe to us! This is the Day of Recompense."

— Saheeh International

They will say, "Woe to us!" (They will be told), "This is the day of receiving recompense".

— Muhammad Sarwar

And they shall say: O woe to us! this is the day of requital.

— Muhammad Habib Shakir

And they will say: Ah! woe be Unto us! this is the Day of Requital.

— Abdul Majid Daryabadi

They will say, "Ah! Woe to us! This is the Day of Judgment!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–26

قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة الصّٰٓفّٰت 12 یعنی جب یہ بات ہونے کا وقت آئے گا تو دنیا کو دوبارہ برپا کردینا کوئی بڑا لمبا چوڑا کام نہ ہوگا۔ بس ایک ہی جھڑکی سوتوں کو جگا اٹھانے کے لیے کافی ہوگی۔ " جھڑکی " کا لفظ یہاں بہت معنیٰ خیز ہے، اس سے بعث بعد الموت کا کچھ ایسا نقشہ نگاہوں کے سامنے آتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک جو انسان مرے تھے وہ گویا سوتے پڑے ہیں، یکایک کوئی ڈانٹ کر کہتا ہے " اٹھ جاؤ " اور بس آن کی آن میں وہ سب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

خلاصہ تفسیر پس قیامت تو بس ایک للکار ہوگی (یعنی دوسرا صور) سو (اس سے) سب یکایک (زندہ ہو کر) دیکھنے بھالنے لگیں گے اور (حسرت سے) کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ تو وہی روز جزا (معلوم ہوتا) ہے (ارشاد ہوگا کہ ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے (آگے قیامت ہی کے بعض واقعات کی تفصیل ہے کہ فرشتوں کو حکم ہوگا) جمع کرلو ظالموں کو (یعنی جو کفر و شرک کے بانی اور مقتدا تھے) اور ان کے ہم مشربوں کو (یعنی جو ان کے ساتھ تابع تھے) اور ان معبودوں کو جن کی وہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے (یعنی شیاطین اور بت) پھر ان سب کو دوزخ کا رستہ بتلاؤ (یعنی ادھر لے جاؤ) اور (پھر یہ حکم ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وقالوا یویلنا ھذا یوم الدین (20) یعنی جس قیامت کا آج اس رعونت کے ساتھ انکار کر رہے ہیں اس وقت پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری شامت ! یہ تو وہی جزاء و سزا کا دن آگیا جس کو ہم جھٹلاتے رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 20–21

21۔ 1 فرشتے اور اہل ایمان کہیں گے کہ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم مانتے نہیں تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–27

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقالوا ۔۔۔ الدین (20) ” “۔ یہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے ، ان کے حواس ابھی تک درست نہ ہوں گے کہ اچانک ان کے کانوں سے ایک دوسری سخت آواز ٹکرائے گی ، بالکل خلاف توقع !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ایک ڈانٹ میں سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور حیرت و دہشت سے ادھر ادھر دیکھنے لگیں گے (یہ ڈانٹ یا جھڑکی نفخ صور کی ہوگی)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20{ وَقَالُوْا یٰوَیْلَنَا ہٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ } ”اور وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت ‘ یہ تو بدلے کا دن ہے !“ یہ تو وہی جزاء و سزا کا دن آگیا ہے جس کے بارے میں ہمیں بار بار بتایا جاتا تھا اور ہم بار بار اس کی نفی کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

12 یہ کہنے والے مجرم خود بھی ہوسکتے ہیں جو ایک دوسرے سے یوں ہم کلام ہوں گے۔ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں اور اہل ایمان بھی۔ بلکہ اس دن ہر کوئی یہ پکار اٹھے گا کہ یہی وہ انصاف کا دن ہے جسے اے مجرمو ! تم جھٹلاتے ہی رہے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 19–21

10۔ یہ منکروں کی صدائے حسرت ونالہ درد کے جواب میں غیب سے ارشاد ہوگا۔ (آیت) ” ھی زجرۃ واحدۃ “۔ اشارہ صور کے نفخ ثانی کی جانب ہے وھی النفخۃ الثانیۃ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا یا ولینا ھذا یوم الدین۔ اور کہیں گے : ہائے ہماری تباہی ‘ یہ تو وہی (دنیوی زندگی کے) بدلہ کا دن ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–20

(19۔ 20) قیامت تو صرف ایک للکار ہوگی یعنی دوسرا صو تو اس سے سب قبروں سے اٹھ کر دیکھنے بھالنے لگیں گے کہ ان کو کیا حکم دیا جارہا ہے۔ اور قبروں سے کھڑے ہونے کے بعد کہیں گے ہائے ہماری کمبختی یہ تو وہی حساب کا دن ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالُوْا يٰوَيْلَنَا ھٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ : قیامت کے دن کفار کے پچھتانے اور اپنے آپ کو ملامت کرنے کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ اس وقت اپنی ہلاکت کو آواز دیں گے اور کہیں گے، ہائے ہماری بربادی ! یہی جزا کا دن ہے، حالانکہ اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–21

قل نعم ہاں تمہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ و انتم داخرون۔ جب کہ تم ذلیل و خوار ہو گے کیونکہ جس چیز کا انہوں نے انکار کیا تھا اس کے وقوع کو دیکھیں گے تو لامحالہ وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا : عنقریب قیامت برپا ہوگی اگرچہ تم ناپسند کرو تمہارے نہ چاہتے ہوئے یہ امر واقع ہوگا اگر تم اپنے گمان کے مطابق اس کا انکار کرو۔ یہ تو ایک چیخ ہے ‘ یہ حسن بصری کا قول ہے۔ (1) ۔ اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔ صیحہ کو جزہ کا نام دیا ہے (2) کیونکہ اس سے مقصود جھڑکنا ہی ہے یعنی اس کے ساتھ انہیں جھڑکا جائے گا جس طرح ہانکتے وقت اونٹوں اور گھوڑوں کو جھڑکا جاتا ہے تو وہ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہونگے۔ ایک قول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْا [اور کہیں گے ] يٰوَيْلَنَا [ہائے ہماری تباہی ] ھٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ [یہ (تو) بدلے کا دن ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَقَالُوْا یٰوَیْلَنَا ھٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ) (اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ تو روز جزا ہے) جس کا ہم انکار کیا کرتے تھے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–20

9:۔ وقالوا یویلنا الخ :۔ منکرین قیامت قیامت کا ہولناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بول اٹھیں گے مارے گئے ! یہ تو وہی روز جزا ہے جس سے ہمیں دنیا میں ڈرایا گیا۔ مگر ہم نے اس کا انکار کیا۔ ھذا یوم الفصل الخ، یہ بھی منکرین قیامت ہی کا کلام ہے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ یا یہ فرشتوں کا کلام ہے وہ کافروں سے مخاطب ہو کر توبیخ و تہدید کے طور پر یہ الفاظ کہیں گے (مدارک، روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا يٰوَيْلَنَا ھٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ۝ 20 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–21

تفسیر : و اذا متنا وکناترابا یہاں سے پھر منکرین حشر کا قول نقل کرکے اس کا رد کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجاویں گے اور مر کر خاک ہوجاویں گے، ہم اور ہمارے باپ دادا زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو وہ اپنے نزدیک خدا تعالیٰ کی قدرت سے باہر جانتے ہوں گے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل نعم کہہ دے ہاں زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کفر و بدکاری کی وجہ سے تم ذلیل ہوگے اور اسی لیے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے تم انکار کرتے ہو۔ پھر حشر برپا ہونے کی کیفیت اور حشر کے بعد جرموں کی سزا پانے کی کیفیت اور وہاں بتوں سے نا امیدی اور اس بت پرستی کی باز پرس اور آپس میں گمراہ کرنے والوں اور ان کے مریدوں کی تھکا فضیحتی کا وما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 19–21

فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ وَقَالُوْا یٰـوَیْلَنَا ھٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۔ ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (الصآفات : 19 تا 21) (سو وہ اٹھانا تو بس ایک ہی جھڑکی ہوگی کہ یکایک وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور کہیں گے ہائے ہماری کمبختی یہ تو بدلے کا دن ہے۔ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ) قیامت کے منکرین کی بدحواسی سے دلیل قیامت کے منکرین اس کے وقوع کو بہت بڑی بات سمجھ کر ناقابلِ یقین خیال کرتے اور کبھی اسے خلاف عقل ٹھہراتے تھے۔ ان کے تصورات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہمیں قیامت برپا کرنے میں کسی تیاری کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–25

فہم القرآن ربط کلام : جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کا آغاز اس طرح ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا جس کا دن اور وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ جوں ہی وہ دن اور گھڑی آئے گی تو اسرافیل فرشتہ کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ صور میں پھونک مارنے کی دیر ہوگی تو زمین میں ایسے زلزلے ہوں گے جس سے پہاڑ روئی کی طرح اڑنے شروع ہوں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اس کے بعد نہ معلوم کتنی مدت مخلوق فنا رہے گی۔ اس کے بعد اسرافیل کو زندہ کیا جائے گا اسے دوبارہ صور میں پھونک مارنے کا حکم ہوگا۔ اس کے پھونک مارنے کے ساتھ ہی لوگ قبروں سے اٹھنا شرو ع ہوں گے۔ اس وقت قیامت کے منکروں کو یقین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

20: وَقَالُوْا یٰوَ یْلَنَا (اور وہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی) الویلؔ۔ یہ ایسا کلمہ ہے جس کو کہنے والا بوقت ہلاکت کہتا ہے۔ ھٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ (یہ تو وہی روز جزاء ہے) یعنی وہی دن ہے جس میں ہمیں بدلہ دیا جائے گا۔ یعنی ہمارے اعمال کی جزاء دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–23

11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–25

آیت 12 (بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

12 منکرین کا قیامت کے روز اظہار افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آج تو یہ بدبخت اس یوم حساب کا اس کبر و غرور اور رعونت و لاپرواہی سے انکار کرتے ہیں لیکن کل جب وہ ایک ہی ڈانٹ اور جھڑکی کے نتیجے میں ان کے سامنے موجود ہوگا تو اس وقت یہ چیخ کر کہیں گے۔ ہائے ہماری کم بختی یہ تو وہی جزا و سزا کا دن ہے جس کو ہم جھٹلاتے رہے تھے۔ سو اس وقت ان کی یاس و حسرت کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تب یہ لوگ زور دے دے کہیں گے ہائے ہماری بدبختی یہ تو وہی بدلے کا دن ہے جس کا ہم زندگی بھر انکار کرتے رہے اور جو ہماری توقعات کے بالکل برعکس عین اسی طرح پہنچ گیا جیسا کہ اللہ کے رسول بتایا کرتے تھے۔ تب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–30

دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 20–22

ف 8 جوڑ والوں سے مراد ان کے وہ ساتھی اور رفیق ہیں جو انہی کی طرح شرک و کفر میں مبتلا تھے۔ یا ان سے مرادان کی وہ بیویواں ہیں جو سرکشی و بغاوت پر ان کے موافقت کیا کرتی تھیں اور ان کی روش سے خوش تھیں۔ حضرت عمر ؓ نے ان سے گناہ گاروں کی الگ الگ ٹولیاں مراد لی ہیں۔ یعنی سود خوروں کا الگ جتھا ہوگا اور زنا کرنے والوں کا الگ اور شراب نوشوں کا الگ۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:20) یویلنا۔ کلمہ حسرت و ندامت ، ہائے افسوس، ہائے ہماری موت، ہائے ہماری تباہی۔ یا تنبیہ کے لئے ہے۔ ویل کا معنی ہلاکت، تباہی، رسوائی۔ یوم الدین۔ مضاف مضاف الیہ، جزا وسزا کا دن۔ دین۔ دان یدین کا مصدر (باب ضرب) ہے وان بالملۃ الاسلامیۃ۔ دین اسلام قبول کرنا۔ دین کثیر المعانی لفظ ہے ۔ جزا، اطاعت، شریعت ۔ بدلہ دینا۔ اطاعت کرنا۔ حکم ماننا۔ شریعت کی اطاعت و فرمانبرداری دین کہلاتی ہے ! یہاں اس آیت میں روز جزا وسزا مراد ہے۔ جس روزاعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–23

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–26

ختم نبوت پر ایک دلیل 1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–21

ف 1۔ جو شخص دلیل کے بعد بھی عنادا انکار کرے اس کے لئے ایسا ہی جواب زیبا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہائے ہماری بدنصیبی یہ تو وہی جزا وسزا کا دن ہے : 20۔ ہائے افسوس یہ تو ایسا لگتا ہے کہ ہم اس دن کی زد میں ہیں جس کو جزا وسزا کا دن کہا جاتا تھا گویا ایک نہ ماننے والی اور نہ تسلیم کرنے والی چیز کو ایسے وقت مان لیں گے اور تسلیم کرلیں گے جب کہ اس کے ماننے اور تسلیم کرنے کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ فلاں نے جوتے بھی کھائے اور پیاز بھی ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

Commentary After having shown the possibility and proof of 'Akhirah or Hereafter, Allah Ta’ ala has described some events relating to Resurrection in these verses. Given in the first verse (19) is the mode in which the dead will rise again. It was said: فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَ‌ةٌ وَاحِدَةٌ, it will be only a single [ castigating ] Call and all of a sudden they will begin to see - 37:19). The word: زَجْرَ‌ةٌ (Zajrah) is a noun derived from زَجر (zajr), and it is used to carry many meanings in the Arabic language. Out of these, one meaning is: 'To utter such sounds which, when heard by cattle,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

12 That is, "When the time comes for this, it will not be difficult to reestablish the whole world. Just a single shout will be enough to make the people to wake up. Here, the word "shout" or "cry" is very meaningful. It depicts the Resurrection as though the people who had died since the beginning of the creation till the last Day, were lying asleep, and a sudden command to them to "wake up" will cause them to rise up all at once."

Read the full tafseer →