As-Saaffaat 37:19

As-Saaffaat · from ayah 19

37:19

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ ۟فَاِنَّمَا هِىَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ

وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It will be only one shout, and at once they will be observing.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:19

بس ایک ہی جھڑکی ہو گی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے (وہ سب کچھ جس کی خبر دی جا رہی ہے) دیکھ رہے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه تو صرف ایک زور کی جھڑکی ہے کہ یکایک یہ دیکھنے لگیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بس وہ تو ایک ہی زور دار آواز ہوگی، جس کے بعد وہ اچانک (سارے ہولناک مناظر) دیکھنے لگیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو وہ تو ایک ہی جھڑک ہے جبھی وہ دیکھنے لگیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس وہ تو محض ایک (زور دار آواز کی) سخت جھڑک ہوگی سو سب اچانک (اٹھ کر) دیکھنے لگ جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو وہ بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی، تو یکایک وہ دیکھ رہے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ تو بس ایک ڈانٹ ہوگی جس پر وہ فوراً (سب کچھ) دیکھنے لگیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بس وہ تو ایک ہی ڈانٹ ہوگی پس وہ تاکنے لگیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ تو صرف ایک جھڑکی ہوگی زور کی جس سے یہ سب کے سب یکایک (اس طرح اٹھ کھڑے ہوں گے کہ سب کچھ) اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

قیامت تو بس ایک ہی للکار ہوگی سو یہ سب دیکھنے بھالنے لگیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بس وہ ایک زور کی ڈانٹ ہوگی تو جبھی وہ (زندہ ہو کر) دیکھنے لگیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There will be a single stern rebuff and lo, they will be observing with their own eyes (all that they had been warned against).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, it will be only a single castigating call, and all of a sudden they will begin to see.

— Muhammad Taqi Usmani

So, it will be only a single castigating call, and all of a sudden they will begin to see.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It will be a single Zajrah, and behold, they will be staring!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There is but one Shout, and lo! they behold,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It will be only one shout, and at once they will be observing.

— Saheeh International

The Day of Judgment will come within a single roar and they will remain gazing at it.

— Muhammad Sarwar

So it shall only be a single cry, when lo! they shall see.

— Muhammad Habib Shakir

It shall be but one shout, lo! they shall be staring.

— Abdul Majid Daryabadi

Then it will be a single (compelling) cry; and behold, they will begin to see!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–19

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة الصّٰٓفّٰت 12 یعنی جب یہ بات ہونے کا وقت آئے گا تو دنیا کو دوبارہ برپا کردینا کوئی بڑا لمبا چوڑا کام نہ ہوگا۔ بس ایک ہی جھڑکی سوتوں کو جگا اٹھانے کے لیے کافی ہوگی۔ " جھڑکی " کا لفظ یہاں بہت معنیٰ خیز ہے، اس سے بعث بعد الموت کا کچھ ایسا نقشہ نگاہوں کے سامنے آتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک جو انسان مرے تھے وہ گویا سوتے پڑے ہیں، یکایک کوئی ڈانٹ کر کہتا ہے " اٹھ جاؤ " اور بس آن کی آن میں وہ سب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

خلاصہ تفسیر پس قیامت تو بس ایک للکار ہوگی (یعنی دوسرا صور) سو (اس سے) سب یکایک (زندہ ہو کر) دیکھنے بھالنے لگیں گے اور (حسرت سے) کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ تو وہی روز جزا (معلوم ہوتا) ہے (ارشاد ہوگا کہ ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے (آگے قیامت ہی کے بعض واقعات کی تفصیل ہے کہ فرشتوں کو حکم ہوگا) جمع کرلو ظالموں کو (یعنی جو کفر و شرک کے بانی اور مقتدا تھے) اور ان کے ہم مشربوں کو (یعنی جو ان کے ساتھ تابع تھے) اور ان معبودوں کو جن کی وہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے (یعنی شیاطین اور بت) پھر ان سب کو دوزخ کا رستہ بتلاؤ (یعنی ادھر لے جاؤ) اور (پھر یہ حکم ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فانما من زجرۃ واحدۃ فا ذا ھم ینظرون (19) ظہور قیامت کے وقت منکرین کی حواس باختگی یعنی یہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو کوئی خاص اہتمام وا نتظام کرنا پڑے گا۔ یہ کام صرف ایک ڈانٹ میں انجام پائے گا۔ ایک ہی ڈانٹ میں وہ دفعتہ اٹھ کرتاکنے لگیں گے۔ سورة نازعات میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے فانما ھی زجرۃ واحدۃ اٹھ فاذا اھم بالساھرۃ (14-13) (بس وہ ایک ہی ڈانٹ ہوگی کہ وہ دفعتہ بیداری کی حالت میں آجائیں گے۔) اس اسلوب بشیان میں سراسیمگی اور دہشت زدگی کا جو مضمون ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 یعنی وہ اللہ کے ایک ہی حکم اور اسرافیل ؑ کی ایک ہی پھونک (نفخہ ثانیہ) سے قبروں سے زندہ ہو کر نکل کھڑے ہونگے۔ 19۔ 2 یعنی ان کے سامنے قیامت کے ہولناک مناظر اور میدان محشر کی سختیاں ہوں گی جنہیں وہ دیکھیں گے، نفخے یا چیخ کو زجرہ (ڈانٹ) سے تعبیر کیا، کیونکہ اس سے مقصود ڈانٹ ہی ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–27

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فانما ھی ۔۔۔۔ ھم ینظرون (19) یعنی پلک جھپکتے ہی وہ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے ۔ بس ایک تنعبیہ آمیز چیخ ہوگی ۔ (زجرۃ) کا لفظ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ اس میں سختی کلام ہوگی ۔ ایک برتر اتھارنی کی طرف سے حاکمانہ چیخ ۔ اس چیخ کے ساتھ ہی وہ اپنی نظروں کے سامنے سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ۔ یہ منظر ان کے سامنے اچانک بغیر کسی تمید کے ہوگا ۔ یہ لوگ حواس باختہ ہوکر چیخنے چلا نے لگیں گے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 18–19

6 یعنی ہاں ضرور اٹھائے جاؤ گے اور اس وقت ذلیل و رسوا ہو کر اس انکار کی سزا بھگتو گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19{ فَاِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ یَنْظُرُوْنَ } ”بس وہ ایک زور کی ڈانٹ ہوگی ‘ تو جبھی وہ زندہ ہو کر دیکھنے لگیں گے۔“ ہماری طرف سے ایک زور دار ڈانٹ کی صورت میں حکم دیاجائے گا جس کی تعمیل میں تمام انسانوں کے ذرات اجسام آنِ واحد میں مجتمع ہو کر جیتے جاگتے انسانوں کی صورت اختیار کرلیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 یعنی تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کا موسم یا وقت وہ ہوگا جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا۔ صور کی آواز بالکل ایک ڈانٹ کی طرح ہوگی۔ جیسے کوئی شخص سوئے ہوئے آدمی کو ڈانٹ کر کہتا ہے اب اٹھتے کیوں نہیں ہو اتنا دن چڑھ آیا ہے۔ تو وہ خواہ کیسی گہری نیند لے رہا ہو، بیدار ہوجاتا ہے۔ یہی تمہاری کیفیت ہوگی۔ اور تمہاری یہ کیفیت اختیاری نہیں بلکہ اضطراری ہوگی۔ یعنی جس طرح تمہاری پیدائش اور تمہاری موت میں تمہاری اپنی مرضی کا کوئی عمل دخل نہ تھا اسی طرح تم دوبارہ جی اٹھنے پر بھی مجبور اور بےبس ہوگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 19–21

10۔ یہ منکروں کی صدائے حسرت ونالہ درد کے جواب میں غیب سے ارشاد ہوگا۔ (آیت) ” ھی زجرۃ واحدۃ “۔ اشارہ صور کے نفخ ثانی کی جانب ہے وھی النفخۃ الثانیۃ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فانماھی زجرۃ واحدۃ (جب قبروں سے بعث ہوگا) تو بس ان کو اٹھایا جانا (کسی مادی سبب کا محتاج نہ ہوگا بلکہ) ایک جھڑکی ہوگی۔ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ایک سخت آواز ‘ کڑک دار آواز۔ اس سے مراد ہے دوسری بات صور کی آواز۔ زجر کا (لغوی) معنی ہے ہنکا کر نکال دینا اور چیخ کر روک دینا۔ زَجَرَ الرَّاعِیْ غَنَمَہٗ چرواہے نے ڈانٹ کر بکریوں کو روک دیا۔ اس سخت آواز (نفخۂ دوم) کا نتیجہ فوراً اسی طرح سامنے آجائے گا جس طرح اول سخت آواز (نفخۂ اول) کا نتیجہ نمودار ہوا ہوگا (یعنی نفخۂ اولیٰ کے بعد فوراً سب مرجائیں گے اور نفخۂ دوم سے فوراً سب جی اٹھیں گے) چناچہ آگے فرماتا ہے۔ فاذاھم ینظرون سو وہ فوراً دیکھنے لگیں گے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–20

(19۔ 20) قیامت تو صرف ایک للکار ہوگی یعنی دوسرا صو تو اس سے سب قبروں سے اٹھ کر دیکھنے بھالنے لگیں گے کہ ان کو کیا حکم دیا جارہا ہے۔ اور قبروں سے کھڑے ہونے کے بعد کہیں گے ہائے ہماری کمبختی یہ تو وہی حساب کا دن ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ : اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔ یعنی انھیں دوبارہ اٹھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ صور کی ایک پھونک ایسی زبردست ڈانٹ اور اٹھ جانے کا اعلان ہوگی کہ سب قبروں سے نکل کر زمین کے اوپر ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔ فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِ) [ النازعات : 13، 14 ] ”پس وہ تو صرف ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔ پس یک لخت وہ زمین کے اوپر ہوں گے۔“ فَاِذَا هُمْ يَنْظُرُوْنَ : یعنی اس ایک ہی ڈانٹ سے سب مردے خواہ مٹی ہوچکے ہوں، یکایک زندہ ہو کر قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–21

قل نعم ہاں تمہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ و انتم داخرون۔ جب کہ تم ذلیل و خوار ہو گے کیونکہ جس چیز کا انہوں نے انکار کیا تھا اس کے وقوع کو دیکھیں گے تو لامحالہ وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا : عنقریب قیامت برپا ہوگی اگرچہ تم ناپسند کرو تمہارے نہ چاہتے ہوئے یہ امر واقع ہوگا اگر تم اپنے گمان کے مطابق اس کا انکار کرو۔ یہ تو ایک چیخ ہے ‘ یہ حسن بصری کا قول ہے۔ (1) ۔ اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔ صیحہ کو جزہ کا نام دیا ہے (2) کیونکہ اس سے مقصود جھڑکنا ہی ہے یعنی اس کے ساتھ انہیں جھڑکا جائے گا جس طرح ہانکتے وقت اونٹوں اور گھوڑوں کو جھڑکا جاتا ہے تو وہ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہونگے۔ ایک قول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنَّمَا هِىَ [پس وہ تو بس ] زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ [ایک (ہی) جھڑکی ہوگی ] فَاِذَا هُمْ [تو جب ہی وہ ] يَنْظُرُوْنَ [دیکھتے ہوں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(فَاِِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ) قادر مطلق جل مجدہٗ کے لیے قیامت قائم کرنا اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ذرا بھی دشوار نہیں ہے، اس کے حکم سے ایک چیخ وجود میں آئے گی یعنی پہلی بار صور پھونکے جانے کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب قبروں سے نکل کر دیکھنے لگیں گے جیسا کہ موت سے پہلے سابقہ زندگی میں دیکھا کرتے تھے، کما فی سورة الزمر (ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِِذَا ھُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–20

9:۔ وقالوا یویلنا الخ :۔ منکرین قیامت قیامت کا ہولناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بول اٹھیں گے مارے گئے ! یہ تو وہی روز جزا ہے جس سے ہمیں دنیا میں ڈرایا گیا۔ مگر ہم نے اس کا انکار کیا۔ ھذا یوم الفصل الخ، یہ بھی منکرین قیامت ہی کا کلام ہے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ یا یہ فرشتوں کا کلام ہے وہ کافروں سے مخاطب ہو کر توبیخ و تہدید کے طور پر یہ الفاظ کہیں گے (مدارک، روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنَّمَا ہِىَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ يَنْظُرُوْنَ۝ 19 زجر الزَّجْرُ : طرد بصوت، يقال : زَجَرْتُهُ فَانْزَجَرَ ، قال : فَإِنَّما هِيَ زَجْرَةٌ واحِدَةٌ [ النازعات/ 13] ، ثمّ يستعمل في الطّرد تارة، وفي الصّوت أخری. وقوله : فَالزَّاجِراتِ زَجْراً [ الصافات/ 2] ، أي : الملائكة التي تَزْجُرُ السّحاب، وقوله : ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ [ القمر/ 4] ، أي : طرد ومنع عن ارتکاب المآثم . وقال : وَقالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ [ القمر/ 9] ، أي : طرد، واستعمال الزّجر فيه لصیاحهم بالمطرود، نحو أن يقال : اعزب وتنحّ ووراءک . ( زج ر ) الزجر ۔ اصل میں آواز کے ساتھ دھتکارنے کو کہتے ہیں زجرتہ میں نے اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–21

تفسیر : و اذا متنا وکناترابا یہاں سے پھر منکرین حشر کا قول نقل کرکے اس کا رد کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجاویں گے اور مر کر خاک ہوجاویں گے، ہم اور ہمارے باپ دادا زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو وہ اپنے نزدیک خدا تعالیٰ کی قدرت سے باہر جانتے ہوں گے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل نعم کہہ دے ہاں زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کفر و بدکاری کی وجہ سے تم ذلیل ہوگے اور اسی لیے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے تم انکار کرتے ہو۔ پھر حشر برپا ہونے کی کیفیت اور حشر کے بعد جرموں کی سزا پانے کی کیفیت اور وہاں بتوں سے نا امیدی اور اس بت پرستی کی باز پرس اور آپس میں گمراہ کرنے والوں اور ان کے مریدوں کی تھکا فضیحتی کا وما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 19–21

فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ وَقَالُوْا یٰـوَیْلَنَا ھٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۔ ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (الصآفات : 19 تا 21) (سو وہ اٹھانا تو بس ایک ہی جھڑکی ہوگی کہ یکایک وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور کہیں گے ہائے ہماری کمبختی یہ تو بدلے کا دن ہے۔ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ) قیامت کے منکرین کی بدحواسی سے دلیل قیامت کے منکرین اس کے وقوع کو بہت بڑی بات سمجھ کر ناقابلِ یقین خیال کرتے اور کبھی اسے خلاف عقل ٹھہراتے تھے۔ ان کے تصورات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہمیں قیامت برپا کرنے میں کسی تیاری کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–25

فہم القرآن ربط کلام : جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کا آغاز اس طرح ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا جس کا دن اور وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ جوں ہی وہ دن اور گھڑی آئے گی تو اسرافیل فرشتہ کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ صور میں پھونک مارنے کی دیر ہوگی تو زمین میں ایسے زلزلے ہوں گے جس سے پہاڑ روئی کی طرح اڑنے شروع ہوں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اس کے بعد نہ معلوم کتنی مدت مخلوق فنا رہے گی۔ اس کے بعد اسرافیل کو زندہ کیا جائے گا اسے دوبارہ صور میں پھونک مارنے کا حکم ہوگا۔ اس کے پھونک مارنے کے ساتھ ہی لوگ قبروں سے اٹھنا شرو ع ہوں گے۔ اس وقت قیامت کے منکروں کو یقین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19: فَاِنَّمَا یہ شرط مقدر کا جواب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے اذا کان کذلک فما ھِیَ (پس وہ تو بس) زَجْرَۃٌ وَّ احِدَۃٌ (ایک للکار ہوگی) ھی یہ شئی کی طرف نہیں لوٹتی بلکہ یہ مبہم ہے۔ اس کو اس کی خبر واضح کرنے والی ہے۔ اور یہ بھی درست ہے انما البعثۃ زجرۃ واحدۃ۔ (بیشک بعثت تو ایک ڈانٹ ہے) ۔ اور وہ نفخہ ثانیہ ہے۔ الزجرۃؔ چیخ۔ جیسا کہتے ہیں۔ زجر الراعی الابل او الغنم۔ جبکہ وہ ان کو آواز دے کر بلائے۔ فَاِذَا ھُمْ (پس اسی وقت وہ) زندہ دیکھنے والے ہونگے۔ یَنْظُرُوْنَ (وہ دیکھنے والے ہونگے) اپنے برے اعمال کو یا وہ اترنے والے عذاب کے منتظر ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 19، فانماھی، یہ بعثت اور قیامت کا قصہ ، زجرۃ، ایک سخت آواز، واحدۃ ، اٹھنے والا نفخہ ، دوسری مربتہ جب مردے اٹھ کر میدان محشر کی طرف چل پڑیں گے، فاذاھم ینظرون، سب دیکھیں گے کہ وہ زندہ ہوکر لوٹ آئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–23

11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–25

آیت 12 (بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–19

10 منکرین کے انکار و استہزاء کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس ارشاد سے منکرین کے انکار و استہزاء کا ایک نمونہ پیش فرما دیا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا اور ہمارے ان باپ دادا کو بھی جو ہم سے بھی پہلے گزر چکے ہیں ؟۔ یعنی یہ تو اور بھی عجیب اور مشکل امر ہے۔ کیونکہ وہ تو اس سے بھی پہلے مر کھپ چکے ہیں۔ بلکہ ان کے تو نام و نشان تک مٹ چکے ہیں۔ تو پھر وہ دوبارہ کس طرح اور کیونکر زندہ ہوں گے ؟ سو انکے نزدیک یہ انہونی اور ناممکن بات ہے۔ اس لیے جو لوگ انکو ایسی چیز سے ڈراتے ہیں وہ انکے نزدیک دیوانے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہی نتیجہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–30

دوبارہ زندہ ہونے پر ان لوگوں کے حالات تشریح : ان آیات کی تفصیلات سورة ٔیونس اور سورة السبا میں بیان کی جا چکی ہیں۔ اللہ کی قدرت اور کفار کی بےبسی اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی جب وہ قیامت کے دن اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے۔ ان کو ایک چنگھاڑ یعنی صور پھونکنے کی آواز سے اٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ اس حقیقت کو سمجھ بھی جائیں گے اور آپس میں گفت و شنید بھی کریں گے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی نفخہ صور اوپر بعث و قیامت کے امکان پر دلائل قائم فرمائے۔ اب اس کے وقوع کا بیان ہے۔ ( کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:19) فانماھی زجرۃ واحدۃجواب شرط کے لئے ہے جو کہ مقدرہ ہے ای اذا کان کذلک فماھی الا زجرۃ واحدۃ۔ جب قیامت آئے گی تو یہ صرف ایک زبردست کڑک ہوگی۔ ھی کی ضمیر واحد مؤنث غائب بعثت کی طرف راجع ہے جس کا ذکر چل رہا ہے۔ زجرۃ سخت آواز، کڑک دار آواز، جھڑکی، ڈانٹ ڈپٹ۔ زجر کا لغوی معنی ہے ہنکا کر نکال دینا۔ اور چیخ کر روک دینا۔ مثلاً کہتے ہیں :۔ زجر الراعی غنمہ چروا ہے نے ڈانٹ کر بکریوں کو روک دیا۔ اس سخت آواز (نفخہ دوم : صور کا دوسری دفعہ پھونکا جانا) کا نتیجہ فورا اس طرح سامنے آئے گا جس طرح (اول نفخہ) سخت آواز کا نتیجہ نمودار ہوا ہوگا۔ یعنی نفخہ اول کے بعد سب فورا مرجائیں گے۔ اور نفخہ دوم کے بعد فورا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–23

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–26

ختم نبوت پر ایک دلیل 1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) وہ بعثت اور وہ اٹھنا تو بس نفحہ صور کی ایک تند آواز اور للکار ہوگی کہ اس آواز اور للکار کے ہوتے ہی یہ سب دیکھنے بھالنے لگیں گے۔ یعنی بعثت صرف یہ ہے کہ صور میں نفحہ ثانیہ ہوگا اور نفحہ ثانیہ کے بعد فوراً ہی زندہ ہوکر ایک دوسرے کو دیکھنے بھالنے لگیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–21

ف 1۔ جو شخص دلیل کے بعد بھی عنادا انکار کرے اس کے لئے ایسا ہی جواب زیبا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس وہ ایک سخت ڈانٹ ہوگی کہ ناگہاں وہ دیکھنے لگیں گے : 19۔ قیامت جس کے آنے سے وہ انکار کیے جا رہے ہیں اس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ ایک سخت ڈانٹ ‘ دھمکی اور جھڑکی ہوگی لیکن اتنی شدید ہوگی کہ دل دھل جائیں گے اور ان کے اوسان خطا ہوجائیں گے اور وہ جہاں اور جیسے ہوں گے کان کھڑے کریں گے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کہنے لگیں گے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

Commentary After having shown the possibility and proof of 'Akhirah or Hereafter, Allah Ta’ ala has described some events relating to Resurrection in these verses. Given in the first verse (19) is the mode in which the dead will rise again. It was said: فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَ‌ةٌ وَاحِدَةٌ, it will be only a single [ castigating ] Call and all of a sudden they will begin to see - 37:19). The word: زَجْرَ‌ةٌ (Zajrah) is a noun derived from زَجر (zajr), and it is used to carry many meanings in the Arabic language. Out of these, one meaning is: 'To utter such sounds which, when heard by cattle,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

12 That is, "When the time comes for this, it will not be difficult to reestablish the whole world. Just a single shout will be enough to make the people to wake up. Here, the word "shout" or "cry" is very meaningful. It depicts the Resurrection as though the people who had died since the beginning of the creation till the last Day, were lying asleep, and a sudden command to them to "wake up" will cause them to rise up all at once."

Read the full tafseer →