As-Saaffaat 37:18

As-Saaffaat · from ayah 18

37:18

قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ ۟ۚقُلۡ نَعَمۡ وَاَنۡـتُمۡ دٰخِرُوۡنَ‌ۚ

کہہ دو کہ ہاں اور تم ذلیل ہوگے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Yes, and you will be [rendered] contemptible."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:18

اِن سے کہو ہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں) بے بس ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ ہاں اور تم ذلیل ہوگے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ جواب دیجئے! کہ ہاں ہاں اور تم ذلیل (بھی) ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : ہاں ! اور تم ذلیل بھی ہوگے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ ہاں یوں کہ ذلیل ہو کے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: ہاں اور (بلکہ) تم ذلیل و رسوا (بھی) ہو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے ہاں ! اور تم ذلیل ہوگے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : ہاں (ایسا ضرور ہوگا) اور تم بالکل بےبس ہوگے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کو جواب دے دو کہ ہاں تم اٹھائے بھی جائو گے اور ذلیل بھی ہوگے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ ہاں اور اس حال میں کہ تم لوگ ذلیل (اور بےبس و لاچار) ہوؤ گے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ ہاں (ضرور) اور تم ذلیل بھی ہوگے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ٓپ ﷺ کہیے : ہاں ! (تم اٹھائے بھی جائو گے) اور تم ذلیل بھی ہوگے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ ہاں اور تم ذلیل ہو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them: “Yes; and you are utterly helpless (against Allah).”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Yes, and you shall be disgraced (too)!

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Yes, and you shall be disgraced (too)!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Yes, and you shall then be humiliated."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muhammad): Ye, in truth; and ye will be brought low.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Yes, and you will be [rendered] contemptible."

— Saheeh International

Say, "You will certainly be brought back to life in disgrace".

— Muhammad Sarwar

Say: Aye! and you shall be abject.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: and verily ye; shall then be despicable.

— Abdul Majid Daryabadi

Say thou: "Yea, and ye shall then be humiliated (on account of your evil)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–19

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 11 یعنی اللہ جو کچھ بھی تمہیں بنانا چاہے بنا سکتا ہے۔ جب اس نے چاہا اس کے ایک اشارے پر تم وجود میں آگئے۔ جب وہ چاہے گا اس کے ایک اشارے پر تم مر جاؤ گے۔ اور پھر جس وقت بھی وہ چاہے گا اس کا ایک اشارہ تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–18

آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ثبوت (آیت) واذاراو ایة الخ میں ”آیة“ کے لغوی معنی نشانی کے ہیں، اور اس سے یہاں مراد معجزہ ہے۔ لہٰذا یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علاوہ بھی کچھ معجزات عطا فرمائے تھے، اور اس سے ان ملحدین کی تردید ہوجاتی ہے جو آنحضرت ﷺ کے معجزات کو حسی اسباب کے تابع قرار دے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ کے دست مبارک پر قرآن کریم کے سوا کوئی معجزہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا ہےواذا راو آیة یستسخرون (جب یہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اس کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں) بعض منکرین معجزات کہتے ہیں کہ یہاں ”آیة“ سے مراد معجزہ نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل لعلم و انتم واخرون (18) چونکہ ان کا سوال بانداز مذاق ہے اس وجہ سے اس کا جواب بھی نہایت تیکھے انداز میں دیا ہے۔ فرمایا کہ جی ہاں، آپ لوگ اٹھائے بھی جائو گے اور اس وقت نہایت ذلیل بھی ہو گے !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–18

18۔ 1 جس طرح دوسرے مقام پر بھی فرمایا (وَكُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ) 27۔ النمل :87) ' سب اس کی بارگاہ میں ذلیل ہو کر آئیں گے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–27

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ق اگر یہ لوگ اس جہاں میں ان مشاہدات پر ٹھنڈے دل سے غوروفکر نہیں کرتے اور صحیح نتیجے پر پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے یہ ہولناک منظر پیش فرماتا ہے کہ اب یہ لوگ گویا موت کے بعد اٹھا دئیے گئے ہیں۔ قیامت کے اس منظر کی تصویر کشی اس قدر خوفناک انداز میں کی گئی ہے کہ اس میں دو ماہی بےآب کی طرح مضطرب نظر آتے ہیں۔ ۔ قل نعم وانتم داخرون (18) ” “۔ ہاں تم اور تمہارے آباؤواجدادازمنہ قدیم والے بھی اٹھا ئے جائیں گے ۔ اور نہایت ہی بےبسی کی حالت میں ، ذلیل اور گرفتار کرکے ، یوں کہ سرتابی کی مجال نہ ہوگی۔ اور یہ کس طرح ہوگا ۔ ذرا دیکھو اس منظر کو اب قیامت کا ایک طویل منظر پیش کیا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 18–19

6 یعنی ہاں ضرور اٹھائے جاؤ گے اور اس وقت ذلیل و رسوا ہو کر اس انکار کی سزا بھگتو گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18{ قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ } ”آپ ﷺ کہیے : ہاں ! تم اٹھائے بھی جائو گے اور تم ذلیل بھی ہوگے۔“ نہ صرف تم سب کو اٹھا لیا جائے گا بلکہ اس وقت تمہیں اپنے اس کفر اور انکار کے باعث ذلت و خواری کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 انسان کی دوبارہ زندگی کیسے ؟ کفار مکہ کے اس اعتراض اور انکار کو قرآن میں بہت سے مقامات پر ذکر کیا گیا ہے اور اس کا جواب بھی کئی طرح سے دیا گیا ہے اس مقام پر بھی مذکور ہے کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے۔ پھر وہ زندہ ہو کر مٹی یا زمین سے جدا نہیں ہوا بلکہ اس کی تمام تر ضروریات مٹی یا زمین ہی سے وابستہ ہیں۔ مر کر بھی وہ اس مٹی میں دفن ہوگا تو جب گل سڑ کر مٹی بن کر مٹی میں مل جائے گا تو زمین اس کے تحلیل شدہ اجزاء نکال کر باہر نہیں پھینک دے گی۔ بلکہ سنبھال کر اپنے اندر محفوظ رکھے گی پھر انہیں تحلیل شدہ اجزاء کو اللہ تعالیٰ پھر سے اکٹھا کرکے ان اجزاء کو اپنی پہلی حالت میں لے آئے گا۔ اس کی روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–18

9۔ یہ منکرین بعث کی تقریر اور اس کا جواب مذکور ہوا۔ (آیت) ” وانتم داخرون “۔ منکرین کے جواب میں کہا جارہا ہے کہ ہاں اٹھائے تو بہرحال جاؤ گے، اور تم اپنی ان منکرانہ گستاخیوں کی پاداش میں ذلیل و خوار بھی کئے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل نعم (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے : جی ہاں ! تم بھی زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے اور تمہارے آباؤ اجداد بھی۔ وانتم داخرون اور تم ذلیل بھی ہو گے۔ دخور کا معنی ہے سخت ترین ذلت و حقارت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–18

(16۔ 18) بھلا کیا جب ہم مر کر پرانی ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور کیا ہماری طرح ہمارے آباؤ اجداد بھی۔ آپ ان سے فرما دیجیے ہاں ضرور تم زندہ ہوگے اور تم ذلیل بھی ہوگے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ نَعَمْ : یعنی آپ ان سے کہیں ہاں، تم اور تمہارے باپ دادا مٹی اور ہڈیاں ہونے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ : ”دَخَرَ یَدْخَرُ دُخُوْرًا“ (ف) ذلیل اور حقیر ہونا۔ یعنی تم اس حال میں اٹھائے جاؤ گے کہ اللہ عزوجل کی قدرت کے سامنے بےبس اور حقیر ہو گے۔ تمہارا اٹھنا اختیاری نہیں بلکہ اضطراری ہوگا، یعنی جس طرح تمہاری پیدائش اور موت میں تمہاری اپنی مرضی کا کوئی عمل دخل نہ تھا، اسی طرح تم دوبارہ جی اٹھنے پر بھی مجبور اور بےبس ہو گے، جیسا کہ فرمایا : (وَكُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ) [ النمل : 87 ] ”اور وہ سب اس کے پاس ذلیل ہو کر آئیں گے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–21

قل نعم ہاں تمہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ و انتم داخرون۔ جب کہ تم ذلیل و خوار ہو گے کیونکہ جس چیز کا انہوں نے انکار کیا تھا اس کے وقوع کو دیکھیں گے تو لامحالہ وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا : عنقریب قیامت برپا ہوگی اگرچہ تم ناپسند کرو تمہارے نہ چاہتے ہوئے یہ امر واقع ہوگا اگر تم اپنے گمان کے مطابق اس کا انکار کرو۔ یہ تو ایک چیخ ہے ‘ یہ حسن بصری کا قول ہے۔ (1) ۔ اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔ صیحہ کو جزہ کا نام دیا ہے (2) کیونکہ اس سے مقصود جھڑکنا ہی ہے یعنی اس کے ساتھ انہیں جھڑکا جائے گا جس طرح ہانکتے وقت اونٹوں اور گھوڑوں کو جھڑکا جاتا ہے تو وہ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہونگے۔ ایک قول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ نَعَمْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ ہاں ] وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ [اور تم لوگ ذلیل ہونے والے ہو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ ہاں تم ذلیل بھی ہوگے) یعنی تمہارے انکار کے باوجود تمہیں قیامت میں زندہ ہونا ہے اور قبروں سے اٹھنا ہے، تمہارے پرانے باپ دادے بھی زندہ کیے جائیں گے اور قبروں سے اٹھیں گے اور تم ذلیل بھی ہوگے، حق بات تمہارے سامنے آتی ہے تو اس کے منکر ہوجاتے ہو، اس دن منکر اور کافر کی ذلت یقینی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–20

9:۔ وقالوا یویلنا الخ :۔ منکرین قیامت قیامت کا ہولناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بول اٹھیں گے مارے گئے ! یہ تو وہی روز جزا ہے جس سے ہمیں دنیا میں ڈرایا گیا۔ مگر ہم نے اس کا انکار کیا۔ ھذا یوم الفصل الخ، یہ بھی منکرین قیامت ہی کا کلام ہے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ یا یہ فرشتوں کا کلام ہے وہ کافروں سے مخاطب ہو کر توبیخ و تہدید کے طور پر یہ الفاظ کہیں گے (مدارک، روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ۝ 18ۚ نعم (هاں) و «نَعَمْ» كلمةٌ للإيجابِ من لفظ النِّعْمَة، تقول : نَعَمْ ونُعْمَةُ عَيْنٍ ونُعْمَى عَيْنٍ ونُعَامُ عَيْنٍ ، ويصحُّ أن يكون من لفظ أَنْعَمَ منه، أي : أَلْيَنَ وأَسْهَلَ. نعم یہ کلمہ ایجاب ہے اور لفظ نعمت سے مشتق ہے ۔ اور نعم ونعمۃ عین ونعمیٰ عین ونعام عین وغیرہ ان سب کا ماخز نعمت ہی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تمام مرکبات انعم سے ماخوذ ہوں جس کے معنی نرم اور سہل بنانے کے ہیں ۔ دخر قال تعالی: وَهُمْ داخِرُونَ [ النحل/ 48] ، أي : أذلّاء، يقال : أدخرته فَدَخَرَ ، أي : أذللته فذلّ ، وعلی ذلک قوله : إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–21

تفسیر : و اذا متنا وکناترابا یہاں سے پھر منکرین حشر کا قول نقل کرکے اس کا رد کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجاویں گے اور مر کر خاک ہوجاویں گے، ہم اور ہمارے باپ دادا زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو وہ اپنے نزدیک خدا تعالیٰ کی قدرت سے باہر جانتے ہوں گے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل نعم کہہ دے ہاں زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کفر و بدکاری کی وجہ سے تم ذلیل ہوگے اور اسی لیے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے تم انکار کرتے ہو۔ پھر حشر برپا ہونے کی کیفیت اور حشر کے بعد جرموں کی سزا پانے کی کیفیت اور وہاں بتوں سے نا امیدی اور اس بت پرستی کی باز پرس اور آپس میں گمراہ کرنے والوں اور ان کے مریدوں کی تھکا فضیحتی کا وما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ ۔ (الصآفات : 18) (کہہ دیجیے ہاں، اور تم ذلیل و خوارہوکر زندہ ہو گے۔ ) مخالفین کا یہ سوال کہ کیا جب ہم مرگئے اور بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوگئے اور خاک ہو کر خاک میں مل گئے یا ذرات کی شکل میں ہوا میں اڑ گئے تو کیا ہم پھر بھی اٹھائے جائیں گے اور ہم سے پہلے ہمارے آبائواجداد گزر چکے ہیں، کیا انھیں بھی اٹھایا جائے گا ؟ عقلی دلیل تو اس سے پہلے گزر چکی ہے کہ تمہارے دوبارہ اٹھائے جانے اور ازسرنو زندہ کیے جانے میں کوئی عقلی استبعاد نہیں۔ البتہ اب شاہانہ لب و لہجے میں ان کے سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ ہاں تم بھی اور تمہارے آبائواجداد بھی زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے اور اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–18

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج کے طلوع و غروب اور ستاروں کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ سورة یٰس کا اختتام اس مسئلہ پر ہوا تھا کہ جس رب نے زمین آسمانوں کو بنایا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوسکتا ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں تین قسمیں کھا کر بتلایا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے جس نے زمین و آسمانوں کو بنایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا ا اور ان کے ذریعے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندوبست فرمایا ہے۔ اب انسان سے استفسار فرمایا ہے کہ وسیع و عریض زمین اور اتنے بڑے آسمانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا انسان کو دوبارہ پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18: قُلْ نَعَمْ (آپ کہہ دیجئے کہ ہاں) تم اٹھائے جائو گے۔ قراءت : علی نے نِعَمْ پڑھا اور یہ دونوں لغات ہیں۔ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ (اور تم ذلیل بھی ہوگے) ان کو جواب دیا وہ ایک مددگار ہے :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18، قل نعم، تم بھی ان کے ساتھ اٹھائے جاؤ گے۔ ، وانتم داخرون، اور تم ذلیل ہوگے ۔ دخور کہتے ہیں سخت ترین ذ(رح) لت و حقارت کو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–23

11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–25

آیت 12 (بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–19

10 منکرین کے انکار و استہزاء کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس ارشاد سے منکرین کے انکار و استہزاء کا ایک نمونہ پیش فرما دیا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا اور ہمارے ان باپ دادا کو بھی جو ہم سے بھی پہلے گزر چکے ہیں ؟۔ یعنی یہ تو اور بھی عجیب اور مشکل امر ہے۔ کیونکہ وہ تو اس سے بھی پہلے مر کھپ چکے ہیں۔ بلکہ ان کے تو نام و نشان تک مٹ چکے ہیں۔ تو پھر وہ دوبارہ کس طرح اور کیونکر زندہ ہوں گے ؟ سو انکے نزدیک یہ انہونی اور ناممکن بات ہے۔ اس لیے جو لوگ انکو ایسی چیز سے ڈراتے ہیں وہ انکے نزدیک دیوانے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہی نتیجہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

مرنے کے بعد زندہ ہونا تشریحـ: جیسا کہ پہلے بھی مر کر زندہ ہونے اور حساب کتاب کا ذکر کئی دفعہ ہوچکا ہے یہاں اللہ کے بہترین نظام اور قادر مطلق ہونے کے حوالے سے پھر اس بات کو دہرایا گیا ہے۔ جو لوگ اتنے احمق ہیں کہ صاف دیکھ کر سن کر کسی صورت بھی اللہ و رسول پر ایمان لانے کو تیار نہیں تو وہ بھلا اتنی مشکل بات کو کیسے سمجھ اور مان سکتے ہیں لہٰذا ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے غصہ سے فرما دیا کہ کہہ دو کہ ” ہاں “ اور یہ بھی کہ ” تم ذلیل حالت میں اٹھائے جاؤ گے “۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–18

ف 6 یا ” ًتم اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مقابلہ میں) بےبس اور حقیر ہو۔ جیسے فرمایا : ( وکل اتوہ واخرین) اور سب اس کے حضور بےبس ہو کر حاضر ہوں گے۔ ( نمل : 87)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:18) قل نعم کہہ دیجئے ہاں (ضرور) ای تبعثون انتم واباء کم الاولون کہ تم بھی دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائوں گے اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی۔ وانتم داخرون۔ وائو حالیہ ہے انتم سے انتم واباء کم الاولون مراد ہیں یعنی تم اور تمہارے باپ دادا۔ داخرون۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ دخر، دخور مصدر (باب فتح وسمع) ذلیل ہونا۔ داخرون ذلیل ہونے والے۔ یہ جملہ حالیہ ہے یعنی جب تم کو دوبارہ اٹھایا جائے گا تو تمہاری حالت ذلت و خواری کی ہوگی !

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–23

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–26

ختم نبوت پر ایک دلیل 1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) آپ فرمادیجئے ہاں تم سب اٹھائے جائو گے اور تم ذلیل ہوگے۔ یعنی اٹھائے جائو گے اور چونکہ بعثت کے منکر تھے اس لئے بعثت کو دیکھ کر سخت ذلیل و خوار ہوگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–21

ف 1۔ جو شخص دلیل کے بعد بھی عنادا انکار کرے اس کے لئے ایسا ہی جواب زیبا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ کہہ دیجئے کہ ہاں ! اور تم ذلیل بھی ہو گے : 18۔ یہاں بھی ان کو یہی جواب دیا جا رہا ہے کہ کیوں نہیں تم کو اور تمہارے باپ دادوں سب کو اٹھایا جائے گا اور پھر یہی نہیں کہ صرف اٹھایا جائے گا بلکہ تمہیں ذلیل و خوار بھی کیا جائے گا اور آخرت خواہی تو تمہارے لیے اسی انکار کے باعث ہو سکتی ہے جو تم مسلسل کیے جا رہے ہو اور اس دنیا میں بھی تمہارا ذلیل ہونا ہم کو یقینی نظر آرہا ہے کیونکہ یہ عین سنت اللہ کے مطابق ہے اور سنت اللہ کے خلاف ممکن نہیں ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–18

The proof of the miracles of the Holy Prophet ﷺ The word: آيَةً ('ayt tan) in verse وَإِذَا رَ‌أَوْا آيَةً (And when they see a sign) literally means 'sign' and at this place it means 'miracle.' Hence, this verse proves that Allah Taala had given to the Holy Prophet t some other miracles as well in addition to that of the noble Qur'an - which refutes those who take the miracles of the Holy Prophet ﷺ as effects of physical causes, and thereby claim that no miracle, other than that of the Qur'an, was shown at the blessed hands of the Holy Prophet ﷺ . In this verse (14), Allah Ta’ ala has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 That is, "Allah can make of you whatever He likes. When He willed, you came into being forthwith; when He wills, you will die at one Command by Him; and then whenever He wills, His one Command will raise you back to lift. "

Read the full tafseer →