فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۟ۙفَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ حَتّٰى حِيۡنٍۙ
تو ایک وقت تک ان سے اعراض کئے رہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So, [O Muhammad], leave them for a time.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۟ۙفَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ حَتّٰى حِيۡنٍۙ
تو ایک وقت تک ان سے اعراض کئے رہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So, [O Muhammad], leave them for a time.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
پس اے نبیؐ، ذرا کچھ مدّت تک انہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو
تو ایک وقت تک ان سے اعراض کئے رہو
اب آپ کچھ دنوں تک ان سے منھ پھیر لیجئے
لہذا (اے پیغمبر) تم کچھ وقت تک ان لوگوں سے بےپرواہ ہوجاؤ۔
تو ایک وقت تم ان سے منہ پھیر لو
پس ایک وقت تک آپ ان سے توجّہ ہٹا لیجئے،
سو ایک وقت تک ان سے منہ موڑ لے۔
سو آپ کچھ مدت ان سے اعراض کیجئے
تو کچھ دنوں کے لئے ان سے اعراض کرو
پس آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ایک خاص وقت تک
سو اب تھوڑے زمانہ تک ان کا خیال نہ کیجیے
تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے ذرا رخ پھیر لیجیے ایک وقت تک کے لیے۔
آپ ایک وقت تک ان سے اعراض کیے رہو۔
So, (O Prophet), leave them alone for a while,
So, withdraw your attention from them for some time.
So, withdraw your attention from them for some time.
So, turn away from them for a while,
So withdraw from them (O Muhammad) awhile,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So, [O Muhammad], leave them for a time.
(Muhammad), stay away from them for a while
Therefore turn away from them till a time,
So turn thou aside from them for a season.
So turn thou away from them for a little while,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 171–179
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
سورة الصّٰٓفّٰت 93 اللہ کے لشکر سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور اس کا ساتھ دیں۔ نیز وہ غیبی طاقتیں بھی اس میں شامل ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اہل حق کی مدد فرماتا ہے۔ اس امداد اور غلبہ کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ ہر زمانہ میں اللہ کے ہر نبی اور اس کے پیروؤں کو سیاسی غلبہ ہی حاصل ہو۔ بلکہ اس غلبے کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے ایک سیاسی غلبہ بھی ہے۔ جہاں اس نوعیت کا استیلاء اللہ کے نبیوں کو حاصل نہیں ہوا ہے، وہاں بھی ان کا اخلاقی تفوق ثابت ہو کر رہا ہے۔ جن قوموں نے ان کی بات نہیں مانی ہے اور ان کی دی ہوئی ہدایات کے خلاف راستہ اختیار کیا ہے وہ آخر کار برباد ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–176
اللہ والوں کے غلبہ کا مطلب (آیت) وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا (الیٰ قولہ) وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے یہ بات پہلے سے طے کر رکھی ہے کہ ہمارے خاص بندے یعنی پیغمبر ہی غالب ہوتے ہیں۔ اس پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ بعض پیغمبروں کو دنیا میں غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معلوم پیغمبروں میں اکثریت تو ایسے ہی حضرات کی ہے جن کی قومیں انہیں جھٹلا کر عذاب میں مبتلا ہوئیں اور ان حضرات کو عذاب سے محفوظ رکھا گیا صرف چند انبیاء (علیہم السلام) ایسے ہیں جنہیں دنیا میں آخر وقت تک بظاہر مادی طور پر غلبہ نہ مل سکا، لیکن دلیل وحجت کے میدان میں ہمیشہ وہی سربلند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
فتول عنھم حتی حین وابصرھم فموف یبصرون (175-174) نبی صلعم کو تلقین صبر یہ نبی ﷺ کو تسلی اور صبر و انتظار کی تلقین ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے ان کی زیادتیوں س اعراض کرو تاکہ اللہ کی حجت ان پر تمام ہوجائے اور یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں۔ تم ان کو کچھ عرصے تک دیکھو کہ یہ کیا بنا رہے ہیں، یہ کبھی عنقریب دیکھ لیں گے کہ انہوں نے کیا بنایا اور اس کا انجام کسی شکل میں ان کے سامنے آیا !
Read the full tafseer →174۔ 1 یعنی ان کی باتوں اور ایذاؤں پر صبر کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–175
32: آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ بت پرست، یہودیوں اور عیسائیوں سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم پر کوئی آسمانی کتاب اتری تو ہم تم سے زیادہ اس کو مان کر اس پر عمل کریں گے۔ یہی مضمون سورة فاطر میں بھی گذرا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–179
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔ ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔ دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
11 یعنی ابھی چند روز انہیں کچھ نہ کہیے۔ صبر کے ساتھ آپ ان کا حال دیکھتے رہیے اور یہ اپنا انجام لیں گے چناچہ دیکھ لیا۔
Read the full tafseer →آیت 174{ فَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰی حِیْنٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے ذرا رخ پھیر لیجیے ایک وقت تک کے لیے۔“ آپ ﷺ ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں اور ان کی استہزائیہ باتوں سے اعراض کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
96 اللہ کے غلبہ سے مراد روحانی اور اصول دین کا غلبہ ہے :۔ ہمارا لشکر سے مراد رسول اللہ اور ان کے جانثار مومنین بھی ہوسکتے ہیں۔ فرشتے بھی جو اللہ تعالیٰ نے چند غزوات میں مومنوں کی مدد کے لئے بھیجے اور وہ غیبی قوتیں بھی جو مومنوں کی مددگار ثابت ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پہلے طے کرچکا ہے کہ اللہ حق و باطل کے معرکہ میں اپنے انبیاء اور ایمانداروں کی مدد کرکے حق کو ہی غالب کرے گا۔ لیکن اس غلبہ سے مراد صرف سیاسی غلبہ ہی نہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات انبیاء اور ان کے متبعین کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا گیا۔ اللہ نے ان کو عذاب اور مجرم قوم کے ظلم و ستم سے بچا لیا لیکن انہیں سیاسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
93۔ موت پر تو اپنا حال زار بہرحال دیکھیں گے، اور ممکن ہے دنیا میں بھی عذاب کی جھلک دیکھ لیں۔ (آیت) ” فتول ..... حین “۔ یعنی چندے ان کی ایذارسانیوں پر التفات نہ کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →فتول عنھم حتی حین اب تھوڑے وقت کیلئے آپ ان سے بےرخی اختیار کرلیجئے (اور ان کی طرف سے ایذارسانی کا اندیشہ نہ کیجئے) حضرت ابن عباس نے فرمایا : حِیْنَ سے مراد ہے وقت موت۔ بعض کے نزدیک عذاب دنیا کا دن مراد ہے۔ مجاہد کے نزدیک بدر کا دن مراد ہے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی کی طرف بھی اسی قول کی نسبت کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ سدی نے کہا : (حِیْنَ کی تشریح میں) جس روز کہ اللہ کافروں سے جہاد کرنے کا حکم دے گا۔ مقاتل نے نزدیک بھی یہی تشریح مراد ہے ‘ کیونکہ انہوں نے کہا : اس حکم کو آیت قتال نے منسوخ کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–175
(171۔ 175) اور ہمارے خاص بندوں یعنی رسولوں کے لیے ہمارا کامیابی و مدد کا یہ قول پہلے ہی سے مقرر ہوچکا ہے۔ کہ وہی غالب کیے جائیں گے اور قیامت کے دن ہمارا ہی لشکر یعنی انبیاء کرام اور اہل ایمان غالب رہیں گے۔ آپ بدر تک جو ان کفار مکہ کی ہلاکت کا موقع ہے اعراض کیجیے اور عذاب الہی کو دیکھتے رہیے سو بہت جلد ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِيْنٍ : ”ایک وقت“ سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تک ہم آپ کو جنگ کی اجازت نہیں دیتے آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑے رکھیں، بس زبانی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہیں اور انھیں دیکھتے جائیں، بہت جلد یہ اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ یاد رہے، یہ آیات مکی دور کی ہیں۔ اور ”ایک وقت“ سے ”یوم بدر“ بھی مراد ہوسکتا ہے اور فتح مکہ بھی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، ہجرت کے بعد جب جہاد شروع ہوا تو کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ کفار نے اپنی شکست اور مسلمانوں کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ان آیات کے اترنے کے بعد چودہ، پندرہ سال ہی گزرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جس مکہ سے چھپ کر نکلے تھے، اسی مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–179
171 ۔ 179:۔ فراء نے بالسعادۃ کا لفظ مقدر مانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کتب اللہ لا غلبن انا و رسلی) المجادلۃ (21: حضرت حسن بصری نے کہا : صاحب شریعت کو کبھی بھی قتل نہیں کیا گیا حجت اور غلبہ کے ساتھ ان کی مدد کا وعدہ پہلے ہوچکا ہے آیت میں الغالبون کا لفظ زکر ہوا یہ جند کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے۔ اگر لفظ کا اعتبار ہوتا تو جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے جند ما ھنالک مھزوم میں الاحزاب۔ ) ص ( شیبانی نے کہا : یہاں جمع کا صیغہ آیا ہے کیونب کہ یہ آیت کا سرا ہے۔ آپ ان سے موت کے وقت تک اعراض کریں۔ قتادہ نے حسین کا معنی موت کیا ہے (1) زجاج نے کہا : اس وقت تک ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
1:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین “ (کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کی طرح پر آتی) یعنی جب مشرکین اہل مکہ کے پاس پہلوں کا ذکر اور بعد والوں کا علم آیا تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا انکار کردیا (آیت ) ” فسوف یعلمون “ (عنقریب وہ اپنے انجام کو جان لیں گے ) ۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کانوا لیقولون “ یعنی انہوں نے یہ بات بعثت سے پہلے کی اور یہ بات اہل مکہ کے مشرکین جب ان کے پاس اولین کا ذکر اور آخرین کا علم آیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح)…
Read the full tafseer →فَتَوَلَّ عَنْهُمْ [تو آپ ﷺ رخ پھیر لیں ان سے ] حَتّٰى حِيْنٍ [ایک وقت تک ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–175
پیغمبروں کی مدد کی جائے گی، اللہ کے لشکر غالب رہیں گے ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبر حضرات کے بارے میں ہماری طرف سے یہ پہلے ہی سے طے شدہ ہے کہ ان کی ضرور مدد کی جائے گی اور اللہ کا لشکر غالب رہے گا۔ سورة المومن میں فرمایا : (اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) (بلاشبہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیاوی زندگی میں مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس دن گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے) اور سورة المجادلہ میں فرمایا ہے : (کَتَبَ اللّٰہُ لاََغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر قال اللہ تعالیٰ وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین فکفروا بہ فسوف یعلمون۔ یہاں تک مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد فرمایا اب آگے مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہود ونصاریٰ کی سرکشی اور ہلاکت کا حال سن کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر پہلوں کی طرح ہمارے پاس بھی توریت وانجیل جیسی کوئی کتاب ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص فرمانبردار بندے ہوئے اور خوب اس پر عمل کرتے لیکن جب توریت وانجیل سے بڑھ کر ان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل ہوا اور نبی کریم ان کی طرف مبعوث ہوئے تو منکر ہوگئے اور آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–176
68:۔ افبعذابنا الخ : یہ کیسے نادان ہیں کہ ہمارا عذاب جلدی مانگتے ہیں۔ حالانکہ جس دن ہمارا عذاب ان پر آنا نازل ہوگا وہ دن ان کے لیے بہت برا دن ہوگا۔ وتول عنہم الخ : اچھا آپ فی الحال ان سے تعرض نہ فرمائیں اور انتظار فرمائیں کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ وہ خود بھی اپنا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
ربط آیات گزشتہ درس کی آخری تین آیات میں فرشتوں کا کلام ذکر کیا گیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کیلئے ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے جس سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم صف بستہ رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یہی وہ فرشتے ہیں جن کو مشرک لوگ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں ، ان کو معبود مان کر ان سے حاجت براری کرتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جو مخلوق اپنے پروردگار کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ صف بستہ کھڑی ہے ، اس کی تسبیحو تنزیہہ بیان کرتی اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہے ، اور ان میں سے ہر ایک کا ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے ، دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کرے…
Read the full tafseer →فَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰى حِيْنٍ 174ۙ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–179
فتول عنہم حتی حین وہ کس لیے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور ہمارا عذاب جب کسی قوم پر آتا ہے تو ان کا برا دن اور ان کی صبح بری صبح ہوتی ہے۔ اے محمد ﷺ تو تھوڑے زمانہ تک ان سے اعراض کر اور صبر کر اور دیکھتا رہ وہ آپ دیکھ لیں گے، اس میں فتح بدر و دیگر فتوحات کی طرف بھی اشارہ ہے اور نیز مرنے کے بعد جو کچھ بلا پیش آنے والی ہے اس کی طرف بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
فَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۔ وَّاَبْصِرْھُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (الصآفات : 174، 175) (پس اے پیغمبر آپ کچھ مدت تک ان سے اعراض کریں۔ اور دیکھتے رہیں وہ خود بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس پر نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور صبر اور انتظار کی ہدایت کی گئی ہے۔ یعنی اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلے اور سنت کی وضاحت فرماتے ہوئے اس حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ حق و باطل کی اس خونخوار کشمکش میں غلبہ حق کا ہو کر رہے گا۔ اور اگر قریش ایمان نہ لائے تو اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد یہ مٹا دیے جائیں گے۔ لیکن ابھی اس فیصلے پر عمل کا وقت نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–179
فہم القرآن ربط کلام : اے نبی ﷺ آپ کے ساتھ بھی اللہ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا اس لیے آپ کو ان سے الجھنے کی بجائے ایک وقتتک ان سے اعراض اور انتظار کرنا چاہیے۔ بے شک یہ آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن آپ ان کو ایک وقت کے لیے صرف نظر فرمائیں کیونکہ عنقریب یہ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لیں گے کہ ہمارا عذاب ان کو کس طرح آلیتا ہے۔ جہاں تک دنیا کی پکڑ کا معاملہ ہے جب ہم نے انہیں ذلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو پھر کوئی طاقت انہیں بچانے والی نہ ہوگی۔ لہٰذا جب اللہ کے وعدے کا وقت آن پہنچا تو نبی آخر الزمان ﷺ اس طرح اہل مکہ اور یہود ونصارٰی پر غالب آئے کہ کوئی دم مارنے کی جرأت نہ کرسکا۔ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →174: فَتَوَلَّ عَنْہُمْ (پس انکاخیال نہ کیجئے) ان سے اعراض کریں۔ حَتّٰی حِیْنٍ (تھوڑے زمانہ تک) معمولی مدت تک اور وہ ان کی مہلت کا زمانہ ہے۔ یا بدر کے دن تک یا فتح مکہ تک۔
Read the full tafseer →174۔۔۔۔۔۔۔۔ ، فتول ، آپ ان سے اعراض کرلیجئے ۔ ، عنھم حتی حین، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا حین سے مراد ہے موت کا وقت۔ مجاہد کے نزدیک بدرکادن مراد ہے۔ سدی کا قول ہے کہ جس روز اللہ کافروں سے جہاد کرنے کا حکم دے گا۔ بعض نے کہا کہ جب تک ان پر عذاب نہ آجائے ۔ مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ اس آیت سے قتال کی آیت منسوخ ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
167۔ 179۔ اور مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ان مشرکین کو یوں قائل کیا۔ کہ اہل کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آوے اور قسمیں کھا کر یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خالص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے۔ لیکن اس میں انہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اس کا انجام انہی کے حق میں جو کچھ ہوگا وہ ان کو معلوم ہوگا۔ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے اسلام کی مخالف بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
آیت 167 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خلاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ (فسوف یعلمون) عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہوگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے جس کو کوئی رد کرسکتا ہے نہ اس کی مخالفت کرسکتا ہے۔۔۔ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “ ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →114 پیغمبر کو صبر و انتظار کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کو تسلی دیتے ہوئے اور آپ کو صبر و انتظار کی تعلیم و تلقین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ انکو انکے حال پر چھوڑ دیں ایک خاص وقت تک۔ یعنی ان کی زیادہ فکر نہ کیجئے بلکہ عفو و درگزر ہی سے کام لیجئے اور انکا معاملہ اللہ ہی کے حوالے کرکے اسی پر بھروسہ رکھیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَدَعْ اَذٰہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ } ۔ ( الاحزاب : 48) نیز دوسری جگہ صفح جمیل کا حکم فرمایا گیا۔ سو ارشاد ہوتا ہے ۔ { فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْل } ۔ (الحجر : نمبر 85) یعنی " آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں " کہ یہ لوگ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
رسولوں کی مدد اور کفار پر عذاب تشریح : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ” اگر ہمارے پاس بھی کوئی پیغمبر آتا جس طرح یہود و نصاریٰ کے پاس آئے تھے تو ہم ضرور نیک پاک فرمانبردار لوگ ہوتے “ لیکن اب جب کہ ان کے پاس پیغمبر آیا ہے تو یہ ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں بلکہ ہر وقت رسول اور ان کے پیرؤوں کے دشمن بنے رہتے ہیں تو اللہ الہ العٰلمین نبی اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں اور خوشخبری بھی دیتے ہیں کہ فتح ہمیشہ حق کی ہی ہوگی یہ لوگ چاہے جو مرضی ہے کرلیں اللہ کے نیک بندوں کی ہی مدد کی جائے گی اور انہی کو کامیابیاں بھی دی جائیں گی۔ یہ خوشخبری جنگ بدر اور فتح مکہ میں مسلمانوں کی شاندار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
ف 13 یعنی جب تک ہم آپ ﷺ کو ان سے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتے آپ ﷺ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور زبانی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ آیت مکی دور کی ہے۔14 چناچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور چند سال بعد آنحضرت ﷺ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور کفار نے اپنی ذلت و رسوائی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔
Read the full tafseer →(37:174) تول۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تولی (تفعل) مصدر سے عن کے صلہ کے ساتھ۔ اس کا مطلب ہے تو منہ پھیر لے۔ تو اعراض کر۔ تو پھر آ۔ جب اس کا تعدیہ بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی دوستی رکھنے، کسی کام کو اٹھانے اور والیو حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے :۔ (1) ومن یتونھم منکم فانہ منھم۔ (5:15) اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔ (2) والذی تولی کبرہ منہم (24:11) اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے۔ (3) فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض (47:22) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں فساد کرنے لگو حتی حین۔ ایک مدت تک۔ ایک وقت تک۔ تھوڑے زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
لغات القرآن آیت نمبر 167 تا 182 :۔ سبقت (گزر چکا ہے ، صادر ہوچکا) المنصورون (فتح حاصل کرنے والے) جند (لشکر) تول (منہ پھیرا) تول (منہ پھیرا) ساحۃ (میدان ، گھر کا آنگن) سائ (برا ہے) صباح ( صبح) یصفون (وہ بناتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 167 تا 182 :۔ اصل میں جن لوگوں کو ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرنا ہوتا ہے ان کے لئے کسی معجزہ ، دلیل اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ہی حق و صداقت کی روشنی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس کو فوراً قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیتے ہیں لیکن جن لوگوں کو عمل کرنا نہیں ہوتا وہ سو بہانے بنا کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ یہی صورتحال عربوں کی تھی جو لوگ کفر و شرک پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–179
(ف 2) اوپر مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرماکران آیتوں میں ان مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ اس کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آئے اور قسمیں کھاکریہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خاص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے اور وہ قول وقرار کچھ یاد نہ رکھا سو اس انکار و انحراف کا جوانجام ہونے والا ہے عنقریب دیکھ لیں گے پھر فرمایا کہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہرچ کی ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو مدد پہنچاتا ہے اور آخرکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–182
[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–176
خدائے خیر اور خدائے شر 1: قرآن حکیم میں تمام عقائد باطلہ کی تردید موجود ہے ۔ جو اس وقت رائج تھے ۔ اور یا ان کے مقبول ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان تھا ۔ گو بظاہر صرف اہل کتاب اور مشرکین کو زیادہ تر مخاطب فرمایا ہے لیکن اگر غور وتعمق سے دیکھا جائے ۔ تو اس کتاب معرفت میں تمام مذہبی اور دینی تصورات کی توضیح اور تردید موجود ہے ۔ عربوں میں ایک عقیدہ اس وقت یہ موجود تھا ۔ کہ دنیا کے دو الگ الگ خدا ہیں ۔ ایک خیر کا خدا ہے جس سے سوائے حسن و جمال کے اور بھلائیوں کے اور کسی بات کا صدور نہیں ہوتا ۔ دوسرا شر کا خدا ہے ۔ جس سے مفاسد اور مضرات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے ۔ کہ علم کلام کا یہ…
Read the full tafseer →(174) سواے پیغمبر آپ تھوڑی مدت تک ان منکروں کو منہ نہ لگائیے اور ان سے منہ پھیر لیجئے یعنی تھوڑے زمانے تک صبر کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–182
ف 4۔ مطلب اہل حق کے غالب ہونے کا یہ ہے کہ اس کا مقتضائے اصل یہی ہے۔ پس عارضی مغلوبیت حکمت ابتلاء سے اس کے مناقض نہیں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کچھ عرصہ تک ان سے تعارض نہ کیجئے : 174۔ ہم نے جو ان کو اپنے قانون کے مطابق ڈھیل دے رکھی ہے اس کا تم لوگ انتظار کرو یہ بات نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو مخاطب کرکے کہی جا رہی ہے ۔ تھک چکنے والوں کو ہمت بندھانے کے لیے بار بار یہ بات کہی جاتی ہے کہ خبردار بس منزل آنے والی ہے ہمت نہ ہارو ‘ مضبوطی سے اپنے موقف پر قائم رہو بس اب چند قدم اور آگے چلو تو ماشاء اللہ ان کی ہمت بڑھ جاتی ہے اور پہلے سے زیادہ تیزگام ہوجاتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–179
The sense of 'the victory of the people of Allah' In verses 171-173, it was said: وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ (And Our Word has already gone ahead in favor of Our servants - the messengers - they are the ones who will have Allah's support, and verily it will be Our army that prevails). The sense of these verses is that it stands predetermined with Allah that His chosen servants, that is, the prophets would be the ones to prevail. This may raise a difficulty, for in the mortal world, some…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
93 "Allah's army": implies the believers who obey Allah's Messenger and side with him. This also includes those unseen powers by which Allah helps the followers of the truth. This help and domination dces not necessarily mean that in every age every Prophet of Allah and his followers must attain political dominance, but this dominance has many forms, one of which is political rule as well. Wherever the Prophets of Allah did not attain any such dominance, they did establish their moral superiority even in those places. The nations which did not accept their message and adopted a way contrary…
Read the full tafseer →