Explained with ayahs 171–179
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
سورة الصّٰٓفّٰت 93
اللہ کے لشکر سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور اس کا ساتھ دیں۔ نیز وہ غیبی طاقتیں بھی اس میں شامل ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اہل حق کی مدد فرماتا ہے۔
اس امداد اور غلبہ کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ ہر زمانہ میں اللہ کے ہر نبی اور اس کے پیروؤں کو سیاسی غلبہ ہی حاصل ہو۔ بلکہ اس غلبے کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے ایک سیاسی غلبہ بھی ہے۔ جہاں اس نوعیت کا استیلاء اللہ کے نبیوں کو حاصل نہیں ہوا ہے، وہاں بھی ان کا اخلاقی تفوق ثابت ہو کر رہا ہے۔ جن قوموں نے ان کی بات نہیں مانی ہے اور ان کی دی ہوئی ہدایات کے خلاف راستہ اختیار کیا ہے وہ آخر کار برباد ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–176
اللہ والوں کے غلبہ کا مطلب
(آیت) وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا (الیٰ قولہ) وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے یہ بات پہلے سے طے کر رکھی ہے کہ ہمارے خاص بندے یعنی پیغمبر ہی غالب ہوتے ہیں۔ اس پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ بعض پیغمبروں کو دنیا میں غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معلوم پیغمبروں میں اکثریت تو ایسے ہی حضرات کی ہے جن کی قومیں انہیں جھٹلا کر عذاب میں مبتلا ہوئیں اور ان حضرات کو عذاب سے محفوظ رکھا گیا صرف چند انبیاء (علیہم السلام) ایسے ہیں جنہیں دنیا میں آخر وقت تک بظاہر مادی طور پر غلبہ نہ مل سکا، لیکن دلیل وحجت کے میدان میں ہمیشہ وہی سربلند…
Read the full tafseer →فانا جندنا لھم الغلبون رسول اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کا لشکر بھی ہوتا ہے اور جن کے ساتھ خدا کے فرشتوں کا لکشر ہو دنیا کی کوئی قوت ان کو شکست نہیں دے سکتی۔ اس لشکر کو امتحان کے طور پر آزمائشیں تو پیش آت ہیں لیکن فتح بالآخر اسی کو حاصل ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
173۔ 1 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ) 58۔ المجادلہ :21)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–175
32: آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ بت پرست، یہودیوں اور عیسائیوں سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم پر کوئی آسمانی کتاب اتری تو ہم تم سے زیادہ اس کو مان کر اس پر عمل کریں گے۔ یہی مضمون سورة فاطر میں بھی گذرا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
ولقد سبقت کلمتنا۔۔۔۔ لھم الغلبون (171 – 173) ” “۔ یہ وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے اور اللہ کی بات اپنی جگہ قائم ہے۔ زمین کے اوپر توحیدی نطریہ حیات قائم ہے۔ ایمان کی عمارت مکمل ہوچکی ہے ۔ تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے علی الرغم توحید کا کلمہ بلند ہے۔ اگرچہ جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں اسلام کی دعوت اور اسلام کے قیام کا علم بلند کرنے والوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ آج بھی کفار کے عقائد ، ان کا رعب دنیا سے ختم ہے۔ کفار ، مشرکین کا تمام نظریاتی زور ختم ہے۔ آج دنیا میں وہی عقائد و نظریات زندہ ہیں جو رسولوں نے پیش کیے۔ آج بھی رسولوں کا پیش کردہ عقیدہ توحید لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
10 یعنی یہ بات علم الٰہی میں ٹھہر چکی ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو مدد پہنچاتا ہے اور آخرکار خدائی لشکر ہی غالب ہو کر رہتا ہے خواہ درمیان میں حالات کتنے ہی پلٹے کھائیں۔ مگر آخری فتح اور کامیابی مخلص بندوں ہی کے لیے ہے۔ باعتبار حجت وبرہان کے بھی اور باعتبار ظاہری تسلط و غلبہ کے بھی۔ ہاں شرط یہ ہے کہ " جند " فی الواقع " جند اللہ " ہو۔
Read the full tafseer →آیت 173{ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ } ”اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“
یہاں اللہ کے لشکر سے ”حزب اللہ“ رسول علیہ السلام اور اس کے ساتھی مراد ہیں۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے حواری اپنے دور کے حزب اللہ تھے اور محمد رسول اللہ اور آپ ﷺ کے صحابہ رض { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ } الفتح : 29 اپنے دور کے حزب اللہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
96 اللہ کے غلبہ سے مراد روحانی اور اصول دین کا غلبہ ہے :۔ ہمارا لشکر سے مراد رسول اللہ اور ان کے جانثار مومنین بھی ہوسکتے ہیں۔ فرشتے بھی جو اللہ تعالیٰ نے چند غزوات میں مومنوں کی مدد کے لئے بھیجے اور وہ غیبی قوتیں بھی جو مومنوں کی مددگار ثابت ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پہلے طے کرچکا ہے کہ اللہ حق و باطل کے معرکہ میں اپنے انبیاء اور ایمانداروں کی مدد کرکے حق کو ہی غالب کرے گا۔ لیکن اس غلبہ سے مراد صرف سیاسی غلبہ ہی نہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات انبیاء اور ان کے متبعین کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا گیا۔ اللہ نے ان کو عذاب اور مجرم قوم کے ظلم و ستم سے بچا لیا لیکن انہیں سیاسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
92۔ (انجام کار) غلبہ آخر کار حق ہی کو ہوتا ہے، باطل کی شان و شوکت محض عارضی اور کسی مصلحت تکوینی کے ماتحت ہوتی ہے۔ اور اگر غلبہ سے مراد بجائے مادی غلبہ کے محض قوت دلائل سمجھی جائے، تو یہ غلبہ تو ہر دور میں اور ہر وقت اہل حق کو حاصل رہا ہے، اور ہے۔ (آیت) ” جندنا۔ یعنی اہل حق۔ (آیت) ” کلمتنا “۔ آگے جس وعدہ کا ذکر ہے، وہ تو ایک پوری عبارت ہے، اس کے لیے کلمہ بصیغہ واحد یوں آیا ہے کہ ساری عبارت مل کر معنی ایک ہی دیتی ہے۔ اور کلمۃ کا لفظ اسی پورے مفہوم کے لیے ہے۔ وانما سماھا کلمۃ وھی کلمات لانھا لما انتظمت فی معنی واحد کانت فی حکم کلمۃ مفردۃ (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →وان جندنا لھم الغلبون
اور (ہمارا تو عام قاعدہ ہے کہ) ہمارا ہی لشکر غالب رہتا ہے۔
میں کہتا ہوں : آیت میں بیان کردہ ضابطۂ خداوندی اگر (کبھی) صادق نہیں ہوتا ہے تو انسان کی نافرمانی کی نحوست کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوْا۔ دوسری آیت میں ہے : اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْءًا وَّضاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَجُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ 5 جبکہ تم کو اپنی کثرت تعداد پر غرور ہوگیا ‘ لیکن کثرت نے تم کو کچھ فائدہ نہ دیا اور زمین باوجود فراخ ہونے کے تمہارے لئے تنگ ہوگئی ‘ آخرکار تم منہ پھیر کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–175
(171۔ 175) اور ہمارے خاص بندوں یعنی رسولوں کے لیے ہمارا کامیابی و مدد کا یہ قول پہلے ہی سے مقرر ہوچکا ہے۔ کہ وہی غالب کیے جائیں گے اور قیامت کے دن ہمارا ہی لشکر یعنی انبیاء کرام اور اہل ایمان غالب رہیں گے۔
آپ بدر تک جو ان کفار مکہ کی ہلاکت کا موقع ہے اعراض کیجیے اور عذاب الہی کو دیکھتے رہیے سو بہت جلد ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا : پچھلی آیت میں کفار کو ان کے انکار کا نتیجہ بہت جلدی دیکھ لینے کی دھمکی دی تھی، اب رسول اللہ ﷺ کو حوصلہ اور تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ ہمارے ان بندوں کے لیے، جنھیں ہم اپنا رسول بنا کر بھیجتے ہیں، ہماری یہ بات پہلے طے ہوچکی ہے کہ انھی کی مدد کی جائے گی اور صرف انھی کی نہیں بلکہ ان کے اور ان کے پیروکاروں کی صورت میں ہمارا جو بھی لشکر ہوگا وہی غالب رہیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے : (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) [ المجادلۃ : 21 ] ”اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–179
171 ۔ 179:۔ فراء نے بالسعادۃ کا لفظ مقدر مانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کتب اللہ لا غلبن انا و رسلی) المجادلۃ (21: حضرت حسن بصری نے کہا : صاحب شریعت کو کبھی بھی قتل نہیں کیا گیا حجت اور غلبہ کے ساتھ ان کی مدد کا وعدہ پہلے ہوچکا ہے آیت میں الغالبون کا لفظ زکر ہوا یہ جند کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے۔ اگر لفظ کا اعتبار ہوتا تو جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے جند ما ھنالک مھزوم میں الاحزاب۔ ) ص ( شیبانی نے کہا : یہاں جمع کا صیغہ آیا ہے کیونب کہ یہ آیت کا سرا ہے۔
آپ ان سے موت کے وقت تک اعراض کریں۔ قتادہ نے حسین کا معنی موت کیا ہے (1) زجاج نے کہا : اس وقت تک ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
1:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین “ (کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کی طرح پر آتی) یعنی جب مشرکین اہل مکہ کے پاس پہلوں کا ذکر اور بعد والوں کا علم آیا تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا انکار کردیا (آیت ) ” فسوف یعلمون “ (عنقریب وہ اپنے انجام کو جان لیں گے ) ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کانوا لیقولون “ یعنی انہوں نے یہ بات بعثت سے پہلے کی اور یہ بات اہل مکہ کے مشرکین جب ان کے پاس اولین کا ذکر اور آخرین کا علم آیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح)…
Read the full tafseer →وَاِنَّ جُنْدَنَا [اور بیشک ہمارا لشکر ] لَهُمُ [یقینا وہ ] الْغٰلِبُوْنَ [غالب ہونے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–175
پیغمبروں کی مدد کی جائے گی، اللہ کے لشکر غالب رہیں گے
ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبر حضرات کے بارے میں ہماری طرف سے یہ پہلے ہی سے طے شدہ ہے کہ ان کی ضرور مدد کی جائے گی اور اللہ کا لشکر غالب رہے گا۔ سورة المومن میں فرمایا : (اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) (بلاشبہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیاوی زندگی میں مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس دن گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے) اور سورة المجادلہ میں فرمایا ہے : (کَتَبَ اللّٰہُ لاََغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین فکفروا بہ فسوف یعلمون۔
یہاں تک مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد فرمایا اب آگے مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہود ونصاریٰ کی سرکشی اور ہلاکت کا حال سن کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر پہلوں کی طرح ہمارے پاس بھی توریت وانجیل جیسی کوئی کتاب ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص فرمانبردار بندے ہوئے اور خوب اس پر عمل کرتے لیکن جب توریت وانجیل سے بڑھ کر ان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل ہوا اور نبی کریم ان کی طرف مبعوث ہوئے تو منکر ہوگئے اور آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–176
68:۔ افبعذابنا الخ : یہ کیسے نادان ہیں کہ ہمارا عذاب جلدی مانگتے ہیں۔ حالانکہ جس دن ہمارا عذاب ان پر آنا نازل ہوگا وہ دن ان کے لیے بہت برا دن ہوگا۔ وتول عنہم الخ : اچھا آپ فی الحال ان سے تعرض نہ فرمائیں اور انتظار فرمائیں کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ وہ خود بھی اپنا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
ربط آیات
گزشتہ درس کی آخری تین آیات میں فرشتوں کا کلام ذکر کیا گیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کیلئے ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے جس سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم صف بستہ رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یہی وہ فرشتے ہیں جن کو مشرک لوگ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں ، ان کو معبود مان کر ان سے حاجت براری کرتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جو مخلوق اپنے پروردگار کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ صف بستہ کھڑی ہے ، اس کی تسبیحو تنزیہہ بیان کرتی اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہے ، اور ان میں سے ہر ایک کا ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے ، دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کرے…
Read the full tafseer →وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ 173
جند
يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173]
( ج ن د ) الجند
کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔
غلب
الغَلَبَةُ القهر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–173
وان کانوا لیقولون الخ مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد کرکے ان کی نبی ( علیہ السلام) کے مبعوث ہونے سے پہلے جو تمنا تھی، اس کو بیان کرکے ان کو نادم کرتا ہے کہ پہلے تو وہ یہود و نصاریٰ کی سرکشی و ہلاکت کا حال سن کر یہ کہتے تھے کہ اگر پہلوں کی کتابوں میں کی کوئی کتاب تورات و انجیل جیسی ہمارے پاس ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے ہوجاتے، اس پر خوب عمل کرتے، پھر جب وہ کتاب یعنی قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ ان کے پاس آئے تو اس کے منکر ہوگئے، اب اس انکار کا نتیجہ ان کو بہت جلد معلوم ہوجاوے گا، جو کچھ ہم نے رسولوں کی معرفت فرمایا ہے۔ وہ سچ ہو کر رہے گا اور ہمارا گروہ غالب رہے گا۔
اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَاالْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِنَّھُمْ لَھُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ ۔ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ (الصآفات : 171 تا 173)
(اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے ہمارا یہ کلمہ پہلے ہی صادر ہوچکا ہے۔ بیشک ان کی مدد کی جائے گی۔ اور بیشک ہمارا ہی لشکر غالب رہنے والا بنے گا۔ )
سنت اللہ کا ذکر
گزشتہ آیت میں قریش کو جس انجام سے خبردار کیا گیا تھا اس آیت کریمہ میں اس انجام کی خبر دی گئی ہے۔ وہ انجام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کی سنت یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا بگاڑ حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ ان کی ہدایت کے لیے اپنے انبیاء و رسل کو بھیجتا ہے۔ لیکن قوم ان پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–173
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ اور دیگر لوگوں کا دعویٰ ۔
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل مکہ کے پاس براہ راست کوئی نبی نہیں آیا۔ جس بنا پر اہل مکہ اپنے آپ میں یہ کمی محسوس کرتے اور کہتے تھے کہ کاش ! ہمارے ہاں بھی کوئی نبی مبعوث کیا جاتا۔ جس کی اتّباع کرکے ہم دوسری اقوام بالخصوص اہل کتاب پر برتری حاصل کرلیتے اور اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ اس خواہش اور نبی ﷺ کو پہنچاننے کے باوجود یہ لوگ انکار کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی روش سے باز نہ آئے تو انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی کس طرح مدد کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت ان…
Read the full tafseer →ایمان والوں کو بالآخر دنیا میں اور آخرت میں یقینی غلبہ ملے گا :
173: وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ (اور ہمارا ہی لشکر غالب رہتا ہے) اس کو کلمہؔ کہا حالانکہ یہ تو کلمات ہیں۔ کیونکہ جب ایک معنی میں پروئے ہوئے ہیں تو یہ کلمہ مفردہ ہی کے حکم میں ہے۔ اور مراد یہ ہے کہ ان کو ان کے دشمنوں پر غلبہ دیا جائے گا۔ جہاں دشمن سے جھگڑا اور لڑائی پیش آئے۔ یہ تو دنیا میں غلبہ کا وعدہ ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی غلبہ کا وعدہ ہے۔
قولِ حسن (رح) :
کوئی پیغمبر لڑائی میں مغلوب نہیں ہوا۔
قول ابن عباس ؓ :
اگر ان کی مدد اور غلبہ دنیا میں نہ ہوا تو آخرت میں ضرور ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ ان کے معاملے میں بنیادی قانون…
Read the full tafseer →173، وان جندنا لھم الغالبون، اللہ تعالیٰ کے گروہ ان پر غلبہ پالیس گے اور آخرت میں ان کی مدد کی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
167۔ 179۔ اور مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ان مشرکین کو یوں قائل کیا۔ کہ اہل کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آوے اور قسمیں کھا کر یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خالص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے۔ لیکن اس میں انہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اس کا انجام انہی کے حق میں جو کچھ ہوگا وہ ان کو معلوم ہوگا۔ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے اسلام کی مخالف بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
آیت 167
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خلاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ (فسوف یعلمون) عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہوگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے جس کو کوئی رد کرسکتا ہے نہ اس کی مخالفت کرسکتا ہے۔۔۔ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
112 اللہ کے رسولوں کی مدد کا قطعی وعدہ : سو اس بارے میں صاف وصریح اور قطعی وعدہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہمارے رسولوں ہی کی مدد ہوگی "۔ تاکید در تاکید ملاحظہ ہو کہ حرف تاکید، لام تاکید اور جملہ اسمیہ جو دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے اور رسل کرام کی یہ نصرت و مدد ہمیشہ رہی۔ حجت وبرہان کے اعتبار سے تو وہ ہمیشہ ہی غالب و منصور رہے۔ ان کے لائے ہوئے پیغام حق میں کبھی کوئی شائبہ نقص ثابت نہیں کیا جاسکا۔ قلوب سلیمہ میں سچی عزت و عظمت بھی ہمیشہ انہی کی رہی۔ ان کی زندگیوں میں بھی اور ان کے بعد بھی قیامت تک۔ اور پھر آخرت میں ان کے مقامات رفیعہ کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے۔ رہ گیا دنیا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
رسولوں کی مدد اور کفار پر عذاب
تشریح : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ” اگر ہمارے پاس بھی کوئی پیغمبر آتا جس طرح یہود و نصاریٰ کے پاس آئے تھے تو ہم ضرور نیک پاک فرمانبردار لوگ ہوتے “ لیکن اب جب کہ ان کے پاس پیغمبر آیا ہے تو یہ ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں بلکہ ہر وقت رسول اور ان کے پیرؤوں کے دشمن بنے رہتے ہیں تو اللہ الہ العٰلمین نبی اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں اور خوشخبری بھی دیتے ہیں کہ فتح ہمیشہ حق کی ہی ہوگی یہ لوگ چاہے جو مرضی ہے کرلیں اللہ کے نیک بندوں کی ہی مدد کی جائے گی اور انہی کو کامیابیاں بھی دی جائیں گی۔ یہ خوشخبری جنگ بدر اور فتح مکہ میں مسلمانوں کی شاندار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
ف 12 ” ہمارے لشکر “ سے مراد انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے ماننے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک ایک موقع پر انہیں فتح نصیب ہوگی بلکہ یہ مطلب ہے کہ آخر کار فتح ان ہی کی ہوگی اور کفر و شرک کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔ نیز دیکھئے مومنون آیت 9۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(37:173) ان جند نالہم الغلبون ۔ ان تحقیق کے لئے ہے جندنا کے بعد ہم اور تخصیص کے مفہوم پر دال ہے، یعنی بیشک صرف ہماری ہی فوج غالب آیا کرتے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
لغات القرآن آیت نمبر 167 تا 182 :۔ سبقت (گزر چکا ہے ، صادر ہوچکا) المنصورون (فتح حاصل کرنے والے) جند (لشکر) تول (منہ پھیرا) تول (منہ پھیرا) ساحۃ (میدان ، گھر کا آنگن) سائ (برا ہے) صباح ( صبح) یصفون (وہ بناتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 167 تا 182 :۔ اصل میں جن لوگوں کو ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرنا ہوتا ہے ان کے لئے کسی معجزہ ، دلیل اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ہی حق و صداقت کی روشنی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس کو فوراً قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیتے ہیں لیکن جن لوگوں کو عمل کرنا نہیں ہوتا وہ سو بہانے بنا کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔
یہی صورتحال عربوں کی تھی جو لوگ کفر و شرک پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–179
(ف 2) اوپر مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرماکران آیتوں میں ان مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ اس کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آئے اور قسمیں کھاکریہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خاص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے اور وہ قول وقرار کچھ یاد نہ رکھا سو اس انکار و انحراف کا جوانجام ہونے والا ہے عنقریب دیکھ لیں گے پھر فرمایا کہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہرچ کی ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو مدد پہنچاتا ہے اور آخرکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–182
[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–176
خدائے خیر اور خدائے شر
1: قرآن حکیم میں تمام عقائد باطلہ کی تردید موجود ہے ۔ جو اس وقت رائج تھے ۔ اور یا ان کے مقبول ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان تھا ۔ گو بظاہر صرف اہل کتاب اور مشرکین کو زیادہ تر مخاطب فرمایا ہے لیکن اگر غور وتعمق سے دیکھا جائے ۔ تو اس کتاب معرفت میں تمام مذہبی اور دینی تصورات کی توضیح اور تردید موجود ہے ۔ عربوں میں ایک عقیدہ اس وقت یہ موجود تھا ۔ کہ دنیا کے دو الگ الگ خدا ہیں ۔ ایک خیر کا خدا ہے جس سے سوائے حسن و جمال کے اور بھلائیوں کے اور کسی بات کا صدور نہیں ہوتا ۔ دوسرا شر کا خدا ہے ۔ جس سے مفاسد اور مضرات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے ۔ کہ علم کلام کا یہ…
Read the full tafseer →(173) اور بلا شبہ ہمارا ہی لشکر غالب رہنے والا ہے۔ یعنی یہ پہلے ہی سے پیغمبروں کے بارے میں طے شدہ امر ہے کہ رسولوں کا بول بالا ہوگا۔ ان کی مدد کی جائے گی اور ان کو مغلوب نہ ہونے دیا جائے گا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اگر کسی مصلحت سے دنیا میں ایسانہ ہوا تو عقبی میں ان کی مدد ضرور ہوگی۔ بہرحال ! اعتبار اکثریت کا ہے عام طور سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ غالب رہتے ہیں اور ان کا تفوق حاصل ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی پیغمبر کو دنیا میں نمایاں غلبہ حاصل نہ ہو تو آخرت میں یہ غلبہ یقینی ہے۔
سبقت کلمتنا کا مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ میں لکھا گیا کہ انبیائے (علیہم السلام) مدد کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–182
ف 4۔ مطلب اہل حق کے غالب ہونے کا یہ ہے کہ اس کا مقتضائے اصل یہی ہے۔ پس عارضی مغلوبیت حکمت ابتلاء سے اس کے مناقض نہیں۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ہمارا لشکر ہی قائم رہے گا :
173۔ اللہ کا لشکر کونسا لشکر ہے ؟ وہی جس کو دوسری جگہ حزب اللہ کہا ہے وہ اللہ کا لشکر ہے اور بلاشبہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے صحیح معنوں میں فرمانبردار ہیں اور اس کا میابی سے مراد انجام کی کامیابی ہے کہ انجام انہی کے ہاتھ میں رہے گا اور انبیاء ورسل کی مختصر سرگزشتوں کا مطالعہ کرو تو تم پر روشن ہوجائے گا کہ فی الواقعہ انجام انبیاء ورسل اور ان کے ماننے والوں ہی کے ہاتھ میں رہا ۔ لیکن آج زمانہ کی قدریں بدل گئیں اور لوگ مذاق اڑاتے ہیں کہ جن لوگوں کو کوئی پوچھنے کے لیے تیار نہیں ہے یہ اپنے آپ کو کامیاب قرار دے رہے ہیں حالانکہ ان کی نظر اگر آخرت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–179
The sense of 'the victory of the people of Allah'
In verses 171-173, it was said: وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ (And Our Word has already gone ahead in favor of Our servants - the messengers - they are the ones who will have Allah's support, and verily it will be Our army that prevails). The sense of these verses is that it stands predetermined with Allah that His chosen servants, that is, the prophets would be the ones to prevail. This may raise a difficulty, for in the mortal world, some…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
93 "Allah's army": implies the believers who obey Allah's Messenger and side with him. This also includes those unseen powers by which Allah helps the followers of the truth. This help and domination dces not necessarily mean that in every age every Prophet of Allah and his followers must attain political dominance, but this dominance has many forms, one of which is political rule as well. Wherever the Prophets of Allah did not attain any such dominance, they did establish their moral superiority even in those places. The nations which did not accept their message and adopted a way contrary…
Read the full tafseer →