As-Saaffaat 37:172

As-Saaffaat · from ayah 172

37:172

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ ۪۟اِنَّهُمۡ لَهُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ

کہ وہی (مظفرو) منصور ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[That] indeed, they would be those given victory

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:172

کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ وہی (مظفرو) منصور ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ یقیناً وه ہی مدد کیے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ یقینی طور پر ان کی مدد کی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ بیشک انہیں کی مدد ہوگی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کہ بے شک وہی مدد یافتہ لوگ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ بیشک وہ، یقینا وہی ہیں جن کی مدد کی جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ یقینا ان کی مدد کی جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ مدد کے حقدار وہی ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہ بیشک وہی ہماری مدد پائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ بیشک غالب وہی کئے جائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہ ان کی لازماً مدد کی جائے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ یقینا ان کی مدد کی جائے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

that they shall certainly be succoured,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(that) they are the ones who will be supported,

— Muhammad Taqi Usmani

(that) they are the ones who will be supported,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That they verily would be made triumphant,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

[That] indeed, they would be those given victory

— Saheeh International

will certainly be victorious

— Muhammad Sarwar

Most surely they shall be the assisted ones

— Muhammad Habib Shakir

That verily they! they shall be made triumphant.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:172

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 171–179

عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21؀) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51؀ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 171–176

اللہ والوں کے غلبہ کا مطلب (آیت) وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا (الیٰ قولہ) وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے یہ بات پہلے سے طے کر رکھی ہے کہ ہمارے خاص بندے یعنی پیغمبر ہی غالب ہوتے ہیں۔ اس پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ بعض پیغمبروں کو دنیا میں غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معلوم پیغمبروں میں اکثریت تو ایسے ہی حضرات کی ہے جن کی قومیں انہیں جھٹلا کر عذاب میں مبتلا ہوئیں اور ان حضرات کو عذاب سے محفوظ رکھا گیا صرف چند انبیاء (علیہم السلام) ایسے ہیں جنہیں دنیا میں آخر وقت تک بظاہر مادی طور پر غلبہ نہ مل سکا، لیکن دلیل وحجت کے میدان میں ہمیشہ وہی سربلند…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 170–172

فکفروا بہ فسوف یعلمون فرمایا کہ یہ لوگ جس چیز کے متمنی اور مدعی تھے جب وہ آئی تو انہوں نے اس کا انکار کردیا اور اس کی تکذیب کے لئے طرح طرح کے بانے تلاش کر رے ہیں تو یہ عنقریب جان لیں گے کہ ان کی اس تکذیب کا کیا انجام ان کے سامنے آتا ہے۔ (آیت) یہ اس انجام کی طرف اشارہ ہے جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے اور مقصود اس سے قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو وہی سنت الٰہی ان کے باب میں بھی ظاہر ہوگی جو اس سے پہلے دوسرے مکذبین کے لئے ظاہر ہوچکی ہے۔ کلمۃ سے مراد یہاں وہ سنت الٰہی ہے جو اپنے رسولوں سے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جگہ جگہ واضح فرما دی ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 171–173

173۔ 1 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ) 58۔ المجادلہ :21)۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 169–175

32: آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ بت پرست، یہودیوں اور عیسائیوں سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم پر کوئی آسمانی کتاب اتری تو ہم تم سے زیادہ اس کو مان کر اس پر عمل کریں گے۔ یہی مضمون سورة فاطر میں بھی گذرا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 171–173

ولقد سبقت کلمتنا۔۔۔۔ لھم الغلبون (171 – 173) ” “۔ یہ وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے اور اللہ کی بات اپنی جگہ قائم ہے۔ زمین کے اوپر توحیدی نطریہ حیات قائم ہے۔ ایمان کی عمارت مکمل ہوچکی ہے ۔ تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے علی الرغم توحید کا کلمہ بلند ہے۔ اگرچہ جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں اسلام کی دعوت اور اسلام کے قیام کا علم بلند کرنے والوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ آج بھی کفار کے عقائد ، ان کا رعب دنیا سے ختم ہے۔ کفار ، مشرکین کا تمام نظریاتی زور ختم ہے۔ آج دنیا میں وہی عقائد و نظریات زندہ ہیں جو رسولوں نے پیش کیے۔ آج بھی رسولوں کا پیش کردہ عقیدہ توحید لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 171–173

10 یعنی یہ بات علم الٰہی میں ٹھہر چکی ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو مدد پہنچاتا ہے اور آخرکار خدائی لشکر ہی غالب ہو کر رہتا ہے خواہ درمیان میں حالات کتنے ہی پلٹے کھائیں۔ مگر آخری فتح اور کامیابی مخلص بندوں ہی کے لیے ہے۔ باعتبار حجت وبرہان کے بھی اور باعتبار ظاہری تسلط و غلبہ کے بھی۔ ہاں شرط یہ ہے کہ " جند " فی الواقع " جند اللہ " ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 172{ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ } ”کہ ان کی لازماً مدد کی جائے گی۔“ یعنی رسولوں کی ضرور مدد کی جائے گی اور وہ علیہ السلام لازمی طور پر غالب ہو کر رہیں گے۔ آیت کے ترجمے میں اگرچہ مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ‘ لیکن اصل میں تو اللہ تعالیٰ کے اس قاعدے اور قانون پر عمل ماضی میں ہوتا رہا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ پر آکر یہ سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 170–172

95 قریش کا دعویٰ کہ اگر ہمارے پاس نبی آیا ہوتا تو ہم اللہ کے مخلص بندے ہوتے :۔ سیدنا شعیب کے بعد حجاز میں کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ یہ لوگ جب سنتے کہ فلاں علاقہ میں فلاں نبی مبعوث ہوا ہے تو بسا اوقات یہ آرزو کیا کرتے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی نبی آتا اور اللہ کی کتاب نازل ہوتی تو ہم اللہ کے ایسے فرمانبردار بندے بنتے جو دوسرے لوگوں کے لئے ایک مثال ہوتی۔ پھر جب ان کے پاس نبی آخر الزمان آگیا تو اپنے ایسے سب قول وقرار بھول گئے۔ نبی کی تکذیب کی اور اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 171–173

92۔ (انجام کار) غلبہ آخر کار حق ہی کو ہوتا ہے، باطل کی شان و شوکت محض عارضی اور کسی مصلحت تکوینی کے ماتحت ہوتی ہے۔ اور اگر غلبہ سے مراد بجائے مادی غلبہ کے محض قوت دلائل سمجھی جائے، تو یہ غلبہ تو ہر دور میں اور ہر وقت اہل حق کو حاصل رہا ہے، اور ہے۔ (آیت) ” جندنا۔ یعنی اہل حق۔ (آیت) ” کلمتنا “۔ آگے جس وعدہ کا ذکر ہے، وہ تو ایک پوری عبارت ہے، اس کے لیے کلمہ بصیغہ واحد یوں آیا ہے کہ ساری عبارت مل کر معنی ایک ہی دیتی ہے۔ اور کلمۃ کا لفظ اسی پورے مفہوم کے لیے ہے۔ وانما سماھا کلمۃ وھی کلمات لانھا لما انتظمت فی معنی واحد کانت فی حکم کلمۃ مفردۃ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 139–182

آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 171–175

(171۔ 175) اور ہمارے خاص بندوں یعنی رسولوں کے لیے ہمارا کامیابی و مدد کا یہ قول پہلے ہی سے مقرر ہوچکا ہے۔ کہ وہی غالب کیے جائیں گے اور قیامت کے دن ہمارا ہی لشکر یعنی انبیاء کرام اور اہل ایمان غالب رہیں گے۔ آپ بدر تک جو ان کفار مکہ کی ہلاکت کا موقع ہے اعراض کیجیے اور عذاب الہی کو دیکھتے رہیے سو بہت جلد ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 171–173

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا : پچھلی آیت میں کفار کو ان کے انکار کا نتیجہ بہت جلدی دیکھ لینے کی دھمکی دی تھی، اب رسول اللہ ﷺ کو حوصلہ اور تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ ہمارے ان بندوں کے لیے، جنھیں ہم اپنا رسول بنا کر بھیجتے ہیں، ہماری یہ بات پہلے طے ہوچکی ہے کہ انھی کی مدد کی جائے گی اور صرف انھی کی نہیں بلکہ ان کے اور ان کے پیروکاروں کی صورت میں ہمارا جو بھی لشکر ہوگا وہی غالب رہیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے : (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) [ المجادلۃ : 21 ] ”اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 171–179

171 ۔ 179:۔ فراء نے بالسعادۃ کا لفظ مقدر مانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کتب اللہ لا غلبن انا و رسلی) المجادلۃ (21: حضرت حسن بصری نے کہا : صاحب شریعت کو کبھی بھی قتل نہیں کیا گیا حجت اور غلبہ کے ساتھ ان کی مدد کا وعدہ پہلے ہوچکا ہے آیت میں الغالبون کا لفظ زکر ہوا یہ جند کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے۔ اگر لفظ کا اعتبار ہوتا تو جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے جند ما ھنالک مھزوم میں الاحزاب۔ ) ص ( شیبانی نے کہا : یہاں جمع کا صیغہ آیا ہے کیونب کہ یہ آیت کا سرا ہے۔ آپ ان سے موت کے وقت تک اعراض کریں۔ قتادہ نے حسین کا معنی موت کیا ہے (1) زجاج نے کہا : اس وقت تک ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 167–179

1:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین “ (کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کی طرح پر آتی) یعنی جب مشرکین اہل مکہ کے پاس پہلوں کا ذکر اور بعد والوں کا علم آیا تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا انکار کردیا (آیت ) ” فسوف یعلمون “ (عنقریب وہ اپنے انجام کو جان لیں گے ) ۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کانوا لیقولون “ یعنی انہوں نے یہ بات بعثت سے پہلے کی اور یہ بات اہل مکہ کے مشرکین جب ان کے پاس اولین کا ذکر اور آخرین کا علم آیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّهُمْ [یہ کہ ] لَهُمُ [یقینا وہ لوگ ] الْمَنْصُوْرُوْنَ [نصرت دئیے ہوئے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 171–175

پیغمبروں کی مدد کی جائے گی، اللہ کے لشکر غالب رہیں گے ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبر حضرات کے بارے میں ہماری طرف سے یہ پہلے ہی سے طے شدہ ہے کہ ان کی ضرور مدد کی جائے گی اور اللہ کا لشکر غالب رہے گا۔ سورة المومن میں فرمایا : (اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) (بلاشبہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیاوی زندگی میں مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس دن گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے) اور سورة المجادلہ میں فرمایا ہے : (کَتَبَ اللّٰہُ لاََغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِِنَّ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 167–179

مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر قال اللہ تعالیٰ وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین فکفروا بہ فسوف یعلمون۔ یہاں تک مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد فرمایا اب آگے مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہود ونصاریٰ کی سرکشی اور ہلاکت کا حال سن کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر پہلوں کی طرح ہمارے پاس بھی توریت وانجیل جیسی کوئی کتاب ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص فرمانبردار بندے ہوئے اور خوب اس پر عمل کرتے لیکن جب توریت وانجیل سے بڑھ کر ان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل ہوا اور نبی کریم ان کی طرف مبعوث ہوئے تو منکر ہوگئے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 172–176

68:۔ افبعذابنا الخ : یہ کیسے نادان ہیں کہ ہمارا عذاب جلدی مانگتے ہیں۔ حالانکہ جس دن ہمارا عذاب ان پر آنا نازل ہوگا وہ دن ان کے لیے بہت برا دن ہوگا۔ وتول عنہم الخ : اچھا آپ فی الحال ان سے تعرض نہ فرمائیں اور انتظار فرمائیں کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ وہ خود بھی اپنا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 167–182

ربط آیات گزشتہ درس کی آخری تین آیات میں فرشتوں کا کلام ذکر کیا گیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کیلئے ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے جس سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم صف بستہ رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یہی وہ فرشتے ہیں جن کو مشرک لوگ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں ، ان کو معبود مان کر ان سے حاجت براری کرتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جو مخلوق اپنے پروردگار کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ صف بستہ کھڑی ہے ، اس کی تسبیحو تنزیہہ بیان کرتی اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہے ، اور ان میں سے ہر ایک کا ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے ، دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۝ 172۠ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 167–173

وان کانوا لیقولون الخ مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد کرکے ان کی نبی ( علیہ السلام) کے مبعوث ہونے سے پہلے جو تمنا تھی، اس کو بیان کرکے ان کو نادم کرتا ہے کہ پہلے تو وہ یہود و نصاریٰ کی سرکشی و ہلاکت کا حال سن کر یہ کہتے تھے کہ اگر پہلوں کی کتابوں میں کی کوئی کتاب تورات و انجیل جیسی ہمارے پاس ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے ہوجاتے، اس پر خوب عمل کرتے، پھر جب وہ کتاب یعنی قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ ان کے پاس آئے تو اس کے منکر ہوگئے، اب اس انکار کا نتیجہ ان کو بہت جلد معلوم ہوجاوے گا، جو کچھ ہم نے رسولوں کی معرفت فرمایا ہے۔ وہ سچ ہو کر رہے گا اور ہمارا گروہ غالب رہے گا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 171–173

وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَاالْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِنَّھُمْ لَھُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ ۔ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ (الصآفات : 171 تا 173) (اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے ہمارا یہ کلمہ پہلے ہی صادر ہوچکا ہے۔ بیشک ان کی مدد کی جائے گی۔ اور بیشک ہمارا ہی لشکر غالب رہنے والا بنے گا۔ ) سنت اللہ کا ذکر گزشتہ آیت میں قریش کو جس انجام سے خبردار کیا گیا تھا اس آیت کریمہ میں اس انجام کی خبر دی گئی ہے۔ وہ انجام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کی سنت یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا بگاڑ حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ ان کی ہدایت کے لیے اپنے انبیاء و رسل کو بھیجتا ہے۔ لیکن قوم ان پر ایمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 167–173

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ اور دیگر لوگوں کا دعویٰ ۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل مکہ کے پاس براہ راست کوئی نبی نہیں آیا۔ جس بنا پر اہل مکہ اپنے آپ میں یہ کمی محسوس کرتے اور کہتے تھے کہ کاش ! ہمارے ہاں بھی کوئی نبی مبعوث کیا جاتا۔ جس کی اتّباع کرکے ہم دوسری اقوام بالخصوص اہل کتاب پر برتری حاصل کرلیتے اور اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ اس خواہش اور نبی ﷺ کو پہنچاننے کے باوجود یہ لوگ انکار کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی روش سے باز نہ آئے تو انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی کس طرح مدد کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 171–172

171، ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین، یہ اس قول کی طرح ہے، کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 167–179

167۔ 179۔ اور مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ان مشرکین کو یوں قائل کیا۔ کہ اہل کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آوے اور قسمیں کھا کر یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خالص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے۔ لیکن اس میں انہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اس کا انجام انہی کے حق میں جو کچھ ہوگا وہ ان کو معلوم ہوگا۔ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے اسلام کی مخالف بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 167–182

آیت 167 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خلاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ (فسوف یعلمون) عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہوگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے جس کو کوئی رد کرسکتا ہے نہ اس کی مخالفت کرسکتا ہے۔۔۔ کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 147–182

او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “ ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 172–173

112 اللہ کے رسولوں کی مدد کا قطعی وعدہ : سو اس بارے میں صاف وصریح اور قطعی وعدہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہمارے رسولوں ہی کی مدد ہوگی "۔ تاکید در تاکید ملاحظہ ہو کہ حرف تاکید، لام تاکید اور جملہ اسمیہ جو دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے اور رسل کرام کی یہ نصرت و مدد ہمیشہ رہی۔ حجت وبرہان کے اعتبار سے تو وہ ہمیشہ ہی غالب و منصور رہے۔ ان کے لائے ہوئے پیغام حق میں کبھی کوئی شائبہ نقص ثابت نہیں کیا جاسکا۔ قلوب سلیمہ میں سچی عزت و عظمت بھی ہمیشہ انہی کی رہی۔ ان کی زندگیوں میں بھی اور ان کے بعد بھی قیامت تک۔ اور پھر آخرت میں ان کے مقامات رفیعہ کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے۔ رہ گیا دنیا کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 167–182

رسولوں کی مدد اور کفار پر عذاب تشریح : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ” اگر ہمارے پاس بھی کوئی پیغمبر آتا جس طرح یہود و نصاریٰ کے پاس آئے تھے تو ہم ضرور نیک پاک فرمانبردار لوگ ہوتے “ لیکن اب جب کہ ان کے پاس پیغمبر آیا ہے تو یہ ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں بلکہ ہر وقت رسول اور ان کے پیرؤوں کے دشمن بنے رہتے ہیں تو اللہ الہ العٰلمین نبی اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں اور خوشخبری بھی دیتے ہیں کہ فتح ہمیشہ حق کی ہی ہوگی یہ لوگ چاہے جو مرضی ہے کرلیں اللہ کے نیک بندوں کی ہی مدد کی جائے گی اور انہی کو کامیابیاں بھی دی جائیں گی۔ یہ خوشخبری جنگ بدر اور فتح مکہ میں مسلمانوں کی شاندار…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 139–182

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 171–173

ف 12 ” ہمارے لشکر “ سے مراد انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے ماننے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک ایک موقع پر انہیں فتح نصیب ہوگی بلکہ یہ مطلب ہے کہ آخر کار فتح ان ہی کی ہوگی اور کفر و شرک کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔ نیز دیکھئے مومنون آیت 9۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:172) انھم لہم المنصورون ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کی تکرار تاکید کے لئے ہے۔ بیشک ان کی ضرور مدد کی جائے گی۔ یا بیشک وہی غالب کئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 167–182

لغات القرآن آیت نمبر 167 تا 182 :۔ سبقت (گزر چکا ہے ، صادر ہوچکا) المنصورون (فتح حاصل کرنے والے) جند (لشکر) تول (منہ پھیرا) تول (منہ پھیرا) ساحۃ (میدان ، گھر کا آنگن) سائ (برا ہے) صباح ( صبح) یصفون (وہ بناتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 167 تا 182 :۔ اصل میں جن لوگوں کو ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرنا ہوتا ہے ان کے لئے کسی معجزہ ، دلیل اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ہی حق و صداقت کی روشنی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس کو فوراً قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیتے ہیں لیکن جن لوگوں کو عمل کرنا نہیں ہوتا وہ سو بہانے بنا کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ یہی صورتحال عربوں کی تھی جو لوگ کفر و شرک پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 166–179

(ف 2) اوپر مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرماکران آیتوں میں ان مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ اس کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آئے اور قسمیں کھاکریہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خاص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے اور وہ قول وقرار کچھ یاد نہ رکھا سو اس انکار و انحراف کا جوانجام ہونے والا ہے عنقریب دیکھ لیں گے پھر فرمایا کہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہرچ کی ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو مدد پہنچاتا ہے اور آخرکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 158–182

[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 163–176

خدائے خیر اور خدائے شر 1: قرآن حکیم میں تمام عقائد باطلہ کی تردید موجود ہے ۔ جو اس وقت رائج تھے ۔ اور یا ان کے مقبول ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان تھا ۔ گو بظاہر صرف اہل کتاب اور مشرکین کو زیادہ تر مخاطب فرمایا ہے لیکن اگر غور وتعمق سے دیکھا جائے ۔ تو اس کتاب معرفت میں تمام مذہبی اور دینی تصورات کی توضیح اور تردید موجود ہے ۔ عربوں میں ایک عقیدہ اس وقت یہ موجود تھا ۔ کہ دنیا کے دو الگ الگ خدا ہیں ۔ ایک خیر کا خدا ہے جس سے سوائے حسن و جمال کے اور بھلائیوں کے اور کسی بات کا صدور نہیں ہوتا ۔ دوسرا شر کا خدا ہے ۔ جس سے مفاسد اور مضرات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے ۔ کہ علم کلام کا یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ پھر ہم انہی کی مدد کرتے ہیں : 172۔ اسی طرح قوم کو تہ وبالا کردینا ہی ہماری وہ مدد ہوتی ہے کس کا ہم نے سارے رسولوں سے وعدہ کیا ہوتا ہے کہ ہماری طرف سے تمہاری ضروری مدد کی جائے گی اور بلاشبہ یہ وعدہ ہمارا محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بدستور اپنی سنت کے مطابق قائم ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 171–179

The sense of 'the victory of the people of Allah' In verses 171-173, it was said: وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْ‌سَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُ‌ونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ (And Our Word has already gone ahead in favor of Our servants - the messengers - they are the ones who will have Allah's support, and verily it will be Our army that prevails). The sense of these verses is that it stands predetermined with Allah that His chosen servants, that is, the prophets would be the ones to prevail. This may raise a difficulty, for in the mortal world, some…

Read the full tafseer →