As-Saaffaat 37:175

As-Saaffaat · from ayah 175

37:175

وَّاَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ ۟وَاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ‏

اور انہیں دیکھتے رہو۔ یہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And see [what will befall] them, for they are going to see.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:175

اور دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور انہیں دیکھتے رہو۔ یہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہیں دیکھتے رہیئے، اور یہ بھی آگے چل کر دیکھ لیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہیں دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انہیں دیکھتے رہو کہ عنقریب وہ دیکھیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہیں (برابر) دیکھتے رہئیے سو وہ عنقریب (اپنا انجام) دیکھ لیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھیں دیکھ، پس وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انہیں دیکھتے رہئے، یہ خود بھی جلد ہی دیکھ لیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کو دیکھو، وہ عنقریب دیکھ لیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور دیکھتے رہو ان (کے انجام) کو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے (اپنا انجام)

— مولانا اسحاق مدنی

اور ذرا انہیں دیکھتے رہئے سو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ ﷺ انہیں دیکھتے رہیے پس عنقریب وہ بھی دیکھ لیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور انہیں دیکھتے رہو وہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and see, and soon they too shall see.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But, watch them. They shall soon see (the reality).

— Muhammad Taqi Usmani

But, watch them. They shall soon see (the reality).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And watch them and they shall see!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And see [what will befall] them, for they are going to see.

— Saheeh International

and watch them. They, too, will watch.

— Muhammad Sarwar

And (then) see them, so they too shall see.

— Muhammad Habib Shakir

And see them thou; they themselves shall presently see.

— Abdul Majid Daryabadi

And watch them (how they fare), and they soon shall see (how thou farest)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:175

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 171–179

عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21؀) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51؀ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 175–182

سورة الصّٰٓفّٰت 94 یعنی کچھ زیادہ مدت نہ گزرے گی کہ اپنی شکست اور تمہاری فتح کو یہ لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یہ بات جس طرح فرمائی گئی تھی اسی طرح پوری ہوئی۔ ان آیات کے نزول پر بمشکل 14۔ 15 سال گزرے تھے کہ کفار مکہ نے اپنی آنکھوں سے رسول ﷺ کا فاتحانہ داخلہ اپنے شہر میں دیکھ لیا، اور پھر اس کے چند سال بعد انہی لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ اسلام نہ صرف عرب پر، بلکہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں پر بھی غالب آگیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 171–176

اللہ والوں کے غلبہ کا مطلب (آیت) وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا (الیٰ قولہ) وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے یہ بات پہلے سے طے کر رکھی ہے کہ ہمارے خاص بندے یعنی پیغمبر ہی غالب ہوتے ہیں۔ اس پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ بعض پیغمبروں کو دنیا میں غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معلوم پیغمبروں میں اکثریت تو ایسے ہی حضرات کی ہے جن کی قومیں انہیں جھٹلا کر عذاب میں مبتلا ہوئیں اور ان حضرات کو عذاب سے محفوظ رکھا گیا صرف چند انبیاء (علیہم السلام) ایسے ہیں جنہیں دنیا میں آخر وقت تک بظاہر مادی طور پر غلبہ نہ مل سکا، لیکن دلیل وحجت کے میدان میں ہمیشہ وہی سربلند…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 174–175

فتول عنھم حتی حین وابصرھم فموف یبصرون (175-174) نبی صلعم کو تلقین صبر یہ نبی ﷺ کو تسلی اور صبر و انتظار کی تلقین ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے ان کی زیادتیوں س اعراض کرو تاکہ اللہ کی حجت ان پر تمام ہوجائے اور یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں۔ تم ان کو کچھ عرصے تک دیکھو کہ یہ کیا بنا رہے ہیں، یہ کبھی عنقریب دیکھ لیں گے کہ انہوں نے کیا بنایا اور اس کا انجام کسی شکل میں ان کے سامنے آیا !

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 169–175

32: آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ بت پرست، یہودیوں اور عیسائیوں سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم پر کوئی آسمانی کتاب اتری تو ہم تم سے زیادہ اس کو مان کر اس پر عمل کریں گے۔ یہی مضمون سورة فاطر میں بھی گذرا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 174–179

فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔ ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔ دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 174–175

11 یعنی ابھی چند روز انہیں کچھ نہ کہیے۔ صبر کے ساتھ آپ ان کا حال دیکھتے رہیے اور یہ اپنا انجام لیں گے چناچہ دیکھ لیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 175{ وَّاَبْصِرْہُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ } ”اور آپ ﷺ انہیں دیکھتے رہیے ‘ پس عنقریب وہ بھی دیکھ لیں گے۔“ یعنی آپ ذرا انتظار کیجیے ‘ یہ لوگ اپنی شکست اور آپ کی فتح خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 173–176

96 اللہ کے غلبہ سے مراد روحانی اور اصول دین کا غلبہ ہے :۔ ہمارا لشکر سے مراد رسول اللہ اور ان کے جانثار مومنین بھی ہوسکتے ہیں۔ فرشتے بھی جو اللہ تعالیٰ نے چند غزوات میں مومنوں کی مدد کے لئے بھیجے اور وہ غیبی قوتیں بھی جو مومنوں کی مددگار ثابت ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پہلے طے کرچکا ہے کہ اللہ حق و باطل کے معرکہ میں اپنے انبیاء اور ایمانداروں کی مدد کرکے حق کو ہی غالب کرے گا۔ لیکن اس غلبہ سے مراد صرف سیاسی غلبہ ہی نہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات انبیاء اور ان کے متبعین کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا گیا۔ اللہ نے ان کو عذاب اور مجرم قوم کے ظلم و ستم سے بچا لیا لیکن انہیں سیاسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 174–175

93۔ موت پر تو اپنا حال زار بہرحال دیکھیں گے، اور ممکن ہے دنیا میں بھی عذاب کی جھلک دیکھ لیں۔ (آیت) ” فتول ..... حین “۔ یعنی چندے ان کی ایذارسانیوں پر التفات نہ کیجئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 139–182

آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وابصرھم فسوف یبصرون اور (ذرا) ان کو دیکھتے رہئے ‘ یہ بھی عنقریب (اپنا انجام ( دیکھ لیں گے) ۔ وَاَبْصِرْھُمْ یعنی اپنے سامنے ان کو مقتول ‘ مغلوب اور عذاب میں ماخوذ دیکھ لیجئے۔ مطلب یہ کہ یہ باتیں عنقریب ہونے والی ہیں ‘ گویا آپ کے سامنے موجود ہی ہیں۔ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ یعنی ہم نے جو آپ کی مدد کرنے ‘ اور دنیا میں فتح عطا کرنے ‘ اور آخرت میں آپ کو ثواب عنایت کرنے اور ان کو عذاب میں ماخوذ کرنے کا وعدہ کیا ہے ‘ وہ عنقریب دیکھ لیں گے۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ نازل ہوئی تو کافروں نے پوچھا : یہ عذاب کب آئے گا ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ جویبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 171–175

(171۔ 175) اور ہمارے خاص بندوں یعنی رسولوں کے لیے ہمارا کامیابی و مدد کا یہ قول پہلے ہی سے مقرر ہوچکا ہے۔ کہ وہی غالب کیے جائیں گے اور قیامت کے دن ہمارا ہی لشکر یعنی انبیاء کرام اور اہل ایمان غالب رہیں گے۔ آپ بدر تک جو ان کفار مکہ کی ہلاکت کا موقع ہے اعراض کیجیے اور عذاب الہی کو دیکھتے رہیے سو بہت جلد ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 174–175

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِيْنٍ : ”ایک وقت“ سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تک ہم آپ کو جنگ کی اجازت نہیں دیتے آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑے رکھیں، بس زبانی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہیں اور انھیں دیکھتے جائیں، بہت جلد یہ اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ یاد رہے، یہ آیات مکی دور کی ہیں۔ اور ”ایک وقت“ سے ”یوم بدر“ بھی مراد ہوسکتا ہے اور فتح مکہ بھی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، ہجرت کے بعد جب جہاد شروع ہوا تو کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ کفار نے اپنی شکست اور مسلمانوں کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ان آیات کے اترنے کے بعد چودہ، پندرہ سال ہی گزرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جس مکہ سے چھپ کر نکلے تھے، اسی مکہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 171–179

171 ۔ 179:۔ فراء نے بالسعادۃ کا لفظ مقدر مانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کتب اللہ لا غلبن انا و رسلی) المجادلۃ (21: حضرت حسن بصری نے کہا : صاحب شریعت کو کبھی بھی قتل نہیں کیا گیا حجت اور غلبہ کے ساتھ ان کی مدد کا وعدہ پہلے ہوچکا ہے آیت میں الغالبون کا لفظ زکر ہوا یہ جند کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے۔ اگر لفظ کا اعتبار ہوتا تو جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے جند ما ھنالک مھزوم میں الاحزاب۔ ) ص ( شیبانی نے کہا : یہاں جمع کا صیغہ آیا ہے کیونب کہ یہ آیت کا سرا ہے۔ آپ ان سے موت کے وقت تک اعراض کریں۔ قتادہ نے حسین کا معنی موت کیا ہے (1) زجاج نے کہا : اس وقت تک ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 167–179

1:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین “ (کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کی طرح پر آتی) یعنی جب مشرکین اہل مکہ کے پاس پہلوں کا ذکر اور بعد والوں کا علم آیا تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا انکار کردیا (آیت ) ” فسوف یعلمون “ (عنقریب وہ اپنے انجام کو جان لیں گے ) ۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کانوا لیقولون “ یعنی انہوں نے یہ بات بعثت سے پہلے کی اور یہ بات اہل مکہ کے مشرکین جب ان کے پاس اولین کا ذکر اور آخرین کا علم آیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَّاَبْصِرْهُمْ [اور آپ ﷺ دیکھتے رہیں ان کو ] فَسَوْفَ يُبْصِرُوْنَ [تو عنقریب وہ دیکھ لیں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 171–175

پیغمبروں کی مدد کی جائے گی، اللہ کے لشکر غالب رہیں گے ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبر حضرات کے بارے میں ہماری طرف سے یہ پہلے ہی سے طے شدہ ہے کہ ان کی ضرور مدد کی جائے گی اور اللہ کا لشکر غالب رہے گا۔ سورة المومن میں فرمایا : (اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) (بلاشبہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیاوی زندگی میں مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس دن گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے) اور سورة المجادلہ میں فرمایا ہے : (کَتَبَ اللّٰہُ لاََغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِِنَّ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 167–179

مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر قال اللہ تعالیٰ وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین فکفروا بہ فسوف یعلمون۔ یہاں تک مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد فرمایا اب آگے مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہود ونصاریٰ کی سرکشی اور ہلاکت کا حال سن کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر پہلوں کی طرح ہمارے پاس بھی توریت وانجیل جیسی کوئی کتاب ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص فرمانبردار بندے ہوئے اور خوب اس پر عمل کرتے لیکن جب توریت وانجیل سے بڑھ کر ان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل ہوا اور نبی کریم ان کی طرف مبعوث ہوئے تو منکر ہوگئے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 172–176

68:۔ افبعذابنا الخ : یہ کیسے نادان ہیں کہ ہمارا عذاب جلدی مانگتے ہیں۔ حالانکہ جس دن ہمارا عذاب ان پر آنا نازل ہوگا وہ دن ان کے لیے بہت برا دن ہوگا۔ وتول عنہم الخ : اچھا آپ فی الحال ان سے تعرض نہ فرمائیں اور انتظار فرمائیں کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ وہ خود بھی اپنا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 167–182

ربط آیات گزشتہ درس کی آخری تین آیات میں فرشتوں کا کلام ذکر کیا گیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کیلئے ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے جس سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم صف بستہ رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یہی وہ فرشتے ہیں جن کو مشرک لوگ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں ، ان کو معبود مان کر ان سے حاجت براری کرتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جو مخلوق اپنے پروردگار کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ صف بستہ کھڑی ہے ، اس کی تسبیحو تنزیہہ بیان کرتی اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہے ، اور ان میں سے ہر ایک کا ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے ، دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَبْصِرْہُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُوْنَ۝ 175 بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 174–179

فتول عنہم حتی حین وہ کس لیے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور ہمارا عذاب جب کسی قوم پر آتا ہے تو ان کا برا دن اور ان کی صبح بری صبح ہوتی ہے۔ اے محمد ﷺ تو تھوڑے زمانہ تک ان سے اعراض کر اور صبر کر اور دیکھتا رہ وہ آپ دیکھ لیں گے، اس میں فتح بدر و دیگر فتوحات کی طرف بھی اشارہ ہے اور نیز مرنے کے بعد جو کچھ بلا پیش آنے والی ہے اس کی طرف بھی۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 174–175

فَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۔ وَّاَبْصِرْھُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (الصآفات : 174، 175) (پس اے پیغمبر آپ کچھ مدت تک ان سے اعراض کریں۔ اور دیکھتے رہیں وہ خود بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس پر نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور صبر اور انتظار کی ہدایت کی گئی ہے۔ یعنی اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلے اور سنت کی وضاحت فرماتے ہوئے اس حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ حق و باطل کی اس خونخوار کشمکش میں غلبہ حق کا ہو کر رہے گا۔ اور اگر قریش ایمان نہ لائے تو اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد یہ مٹا دیے جائیں گے۔ لیکن ابھی اس فیصلے پر عمل کا وقت نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 174–179

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی ﷺ آپ کے ساتھ بھی اللہ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا اس لیے آپ کو ان سے الجھنے کی بجائے ایک وقتتک ان سے اعراض اور انتظار کرنا چاہیے۔ بے شک یہ آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن آپ ان کو ایک وقت کے لیے صرف نظر فرمائیں کیونکہ عنقریب یہ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لیں گے کہ ہمارا عذاب ان کو کس طرح آلیتا ہے۔ جہاں تک دنیا کی پکڑ کا معاملہ ہے جب ہم نے انہیں ذلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو پھر کوئی طاقت انہیں بچانے والی نہ ہوگی۔ لہٰذا جب اللہ کے وعدے کا وقت آن پہنچا تو نبی آخر الزمان ﷺ اس طرح اہل مکہ اور یہود ونصارٰی پر غالب آئے کہ کوئی دم مارنے کی جرأت نہ کرسکا۔ آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

175: وَّ اَبْصِرْھُمْ (اور ان کو دیکھتے رہو) یعنی دیکھو جو ان کو اس دن پہنچے گا۔ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ (پس عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے) اس کو۔ یہ سوف وعید کے لئے ہے تبعید کیلئے نہیں یا ان کی طرف دیکھیں جب ان کو عذاب دیا جائے گا۔ پس وہ دیکھ لیں گے جس کو وہ اوپر اقرار دیتے ہیں۔ یا ان کو بتلایا کہ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 175–176

175، وابصرھم، جب ان پر عذاب نازل ہوگا۔ فسوف یبصرون، اس وجہ سے وہ کہیں گے کہ عذاب کب آئے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 167–179

167۔ 179۔ اور مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ان مشرکین کو یوں قائل کیا۔ کہ اہل کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آوے اور قسمیں کھا کر یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خالص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے۔ لیکن اس میں انہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اس کا انجام انہی کے حق میں جو کچھ ہوگا وہ ان کو معلوم ہوگا۔ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے اسلام کی مخالف بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 167–182

آیت 167 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خلاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ (فسوف یعلمون) عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہوگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے جس کو کوئی رد کرسکتا ہے نہ اس کی مخالفت کرسکتا ہے۔۔۔ کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 147–182

او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “ ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 175–178

115 انجام کے انتظار کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ دیکھتے رہو ان کے انجام کو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے اپنے انجام کو "۔ یعنی اپنے وقت مقرر پر۔ اور وہ دور نہیں۔ کبھی بھی آسکتا ہے۔ پس یہ لوگ اس کی جلدی مچانے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کریں کہ عقل و خرد اور ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے اور یہی ہوسکتا ہے کہ انسان اس آخری انجام کے آنے سے پہلے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرے ورنہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد میں انجام کے انتظار کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جب یہ ہٹ دھرم لوگ ماننے کو تیار نہیں تو ان کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دو کہ عنقریب یہ خود ہی دیکھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 167–182

رسولوں کی مدد اور کفار پر عذاب تشریح : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ” اگر ہمارے پاس بھی کوئی پیغمبر آتا جس طرح یہود و نصاریٰ کے پاس آئے تھے تو ہم ضرور نیک پاک فرمانبردار لوگ ہوتے “ لیکن اب جب کہ ان کے پاس پیغمبر آیا ہے تو یہ ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں بلکہ ہر وقت رسول اور ان کے پیرؤوں کے دشمن بنے رہتے ہیں تو اللہ الہ العٰلمین نبی اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں اور خوشخبری بھی دیتے ہیں کہ فتح ہمیشہ حق کی ہی ہوگی یہ لوگ چاہے جو مرضی ہے کرلیں اللہ کے نیک بندوں کی ہی مدد کی جائے گی اور انہی کو کامیابیاں بھی دی جائیں گی۔ یہ خوشخبری جنگ بدر اور فتح مکہ میں مسلمانوں کی شاندار…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 139–182

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 174–175

ف 13 یعنی جب تک ہم آپ ﷺ کو ان سے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتے آپ ﷺ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور زبانی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ آیت مکی دور کی ہے۔14 چناچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور چند سال بعد آنحضرت ﷺ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور کفار نے اپنی ذلت و رسوائی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:175) ابصرہم فسوف یبصرون۔ تو ان کو دیکھتا رہ۔ سو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے۔ یعنی آپ ذرا اتنظار فرما دیں اور دیکھیں جس دن ان کو عذاب آلے گا اور یہ بھی اس وقت دیکھ لیں گے کہ ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ حین سے مراد یوم بدر۔ یوم فتح مکہ۔ وقت الموت یوم القیامت۔ ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 167–182

لغات القرآن آیت نمبر 167 تا 182 :۔ سبقت (گزر چکا ہے ، صادر ہوچکا) المنصورون (فتح حاصل کرنے والے) جند (لشکر) تول (منہ پھیرا) تول (منہ پھیرا) ساحۃ (میدان ، گھر کا آنگن) سائ (برا ہے) صباح ( صبح) یصفون (وہ بناتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 167 تا 182 :۔ اصل میں جن لوگوں کو ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرنا ہوتا ہے ان کے لئے کسی معجزہ ، دلیل اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ہی حق و صداقت کی روشنی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس کو فوراً قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیتے ہیں لیکن جن لوگوں کو عمل کرنا نہیں ہوتا وہ سو بہانے بنا کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ یہی صورتحال عربوں کی تھی جو لوگ کفر و شرک پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 166–179

(ف 2) اوپر مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرماکران آیتوں میں ان مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ اس کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آئے اور قسمیں کھاکریہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خاص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے اور وہ قول وقرار کچھ یاد نہ رکھا سو اس انکار و انحراف کا جوانجام ہونے والا ہے عنقریب دیکھ لیں گے پھر فرمایا کہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہرچ کی ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو مدد پہنچاتا ہے اور آخرکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 158–182

[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 163–176

خدائے خیر اور خدائے شر 1: قرآن حکیم میں تمام عقائد باطلہ کی تردید موجود ہے ۔ جو اس وقت رائج تھے ۔ اور یا ان کے مقبول ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان تھا ۔ گو بظاہر صرف اہل کتاب اور مشرکین کو زیادہ تر مخاطب فرمایا ہے لیکن اگر غور وتعمق سے دیکھا جائے ۔ تو اس کتاب معرفت میں تمام مذہبی اور دینی تصورات کی توضیح اور تردید موجود ہے ۔ عربوں میں ایک عقیدہ اس وقت یہ موجود تھا ۔ کہ دنیا کے دو الگ الگ خدا ہیں ۔ ایک خیر کا خدا ہے جس سے سوائے حسن و جمال کے اور بھلائیوں کے اور کسی بات کا صدور نہیں ہوتا ۔ دوسرا شر کا خدا ہے ۔ جس سے مفاسد اور مضرات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے ۔ کہ علم کلام کا یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(175) اور آپ ان کو دیکھتے رہیے سو یہ عنقریب خود بھی اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ یعنی جو مہلت ان کو دی گئی ہے اس تک ان کی حالت اور ان کے انجام کا انتظار کیجئے تھوڑے ہی دنوں میں ان کو خود بھی اپنا انجام معلوم ہوا جاتا ہے۔ شاید اس پر اس وعید کی کفار کی جانب سے تعجیل کی گئی ہوگی کہ جو کچھ معلوم ہونا ہے وہ ہوجائے اس میں تاخیر کیوں ہورہی رہے ہم اپنا انجام دیکھنے کو تیار ہیں آگے اس کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 173–182

ف 4۔ مطلب اہل حق کے غالب ہونے کا یہ ہے کہ اس کا مقتضائے اصل یہی ہے۔ پس عارضی مغلوبیت حکمت ابتلاء سے اس کے مناقض نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کو دیکھتے رہیے پھر عنقریب وہ خود بھی دیکھ لیں گے : 175۔ ان کے حالات پر آپ کڑی نگاہ رکھیے اور چوکس وچوکنا ہو کر اپنا کام کیے جائیے ، تم بھی عمل کرتے رہو اور وہ بھی کر رہے ہیں پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جس کا جو عمل ہے اس کے مطابق اس کو نتیجہ نہ ملے آپ بےفکر رہیے عنقریب تم کو تمہارے کام کا اور ان کو ان کے کام کا نتیجہ ملے گا اور جب نتیجہ ان کے ہاتھ میں جائے گا تو وہ یقینا ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ان پر ان کی ایک ایک حرکت واضح ہوجائے گی پھر تم خوش ہوجاؤ گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ماتم کناں ہوں گے اور ان کا ایک ایک یہ بات کہے گا کہ (آیت) ” اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصالحین “۔ ” اے میرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 171–179

The sense of 'the victory of the people of Allah' In verses 171-173, it was said: وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْ‌سَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُ‌ونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ (And Our Word has already gone ahead in favor of Our servants - the messengers - they are the ones who will have Allah's support, and verily it will be Our army that prevails). The sense of these verses is that it stands predetermined with Allah that His chosen servants, that is, the prophets would be the ones to prevail. This may raise a difficulty, for in the mortal world, some…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 175–182

94 That is. `It will not take long when they will see their defeat and your victory with their own eyes." This proved to be true as it had been foretold. Hardly 14 to 15 years had passed after the revelation of these vases when the pagans of Makkah witnessed the Holy Prophet enter their city as a conqueror, and then a few years later the same people saw that Islam had overwhelmed not only Arabia but the mighty empires of Rome and Iran as well.

Read the full tafseer →