وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ ۟ۚوَّاِنَّا لَـنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَۚ
اور ہم صف باندھے رہتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, we are those who line up [for prayer].
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz
وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ ۟ۚوَّاِنَّا لَـنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَۚ
اور ہم صف باندھے رہتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, we are those who line up [for prayer].
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
اور ہم صف بستہ خدمت گار ہیں
اور ہم صف باندھے رہتے ہیں
اور ہم تو (بندگیٴ الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں
اور ہم تو (اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں) صف باندھے رہتے ہیں۔
اور بیشک ہم پر پھیلائے حکم کے منتظر ہیں،
اور یقیناً ہم تو خود صف بستہ رہنے والے ہیں،
اور بلاشبہ ہم، یقینا ہم صف باندھنے والے ہیں۔
اور ہم صف بستہ رہنے والے
اور ہم تو خدا کے حضور بس صف بستہ رہنے والے ہیں
اور ہمارا کام تو صف بستہ کھڑے رہنا ہے (اس کے حکم کے انتظار میں)
اور ہم (سب) صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں
اور ہم تو سب کے سب صفیں باندھے کھڑے رہتے ہیں۔
اور بیشک ہم صف باندھے رہتے ہیں۔
Verily we range ourselves in rows (as humble servants)
and We, surely We, are those who stand in rows
and We, surely We, are those who stand in rows
And verily, we (angels), we stand in rows;
Lo! we, even we are they who set the ranks,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And indeed, we are those who line up [for prayer].
We stand in ranks (for prayer)
And most surely we are they who draw themselves out in ranks,
And verily we! we are ranged in ranks.
"And we are verily ranged in ranks (for service);
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 161–170
فرشتوں کے اوصاف۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
سورة الصّٰٓفّٰت 91 یعنی اللہ کی اولاد ہونا تو درکنار، ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے جس کا جو درجہ اور مرتبہ مقرر ہے اس سے ذرہ برابر تجاوز تک کرنے کی مجال ہم نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–166
وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبً آ (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان نسبی تعلق قرار دیا ہے) اس جملے کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیاں فرشتوں کی مائیں ہیں۔ گویا معاذ اللہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ تعالیٰ کا زوجیت کا تعلق ہے، اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔ چناچہ ایک تفسیری روایت میں ہے کہ جب مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تو حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ ان کی ماں کون ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ جنات کی سردار زادیاں (تفسیر ابن کثیر، ص 32 ج 4) لیکن اس تفسیر پر یہ اشکال رہتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
وانا لنحن الصآقون وانا لنحن السیحون دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ ہم ہر وقت اس کے حضور میں صف بستہ رہین والے اور اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔ فرشتوں کی صف بستگی کا ذکر اس سورة کی پہلی ہی آیت میں ہوا ہے اور اس کے تحت ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ مستحون سے مقصود وہی چیز ہے جو سورة کے شروع میں تالیت ذکرا کے الفاظ سے بیان ہونی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ عرش الٰہی کے اردگرد فرشتوں کی نماز ہے جو عبدیت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ ہاں اس کو ذکر سے تعبیر فرمایا ہے یہاں تسبیح سے اور قرآن میں نماز کی تعبیران دونوں ہی لفظوں سے ہوئی ہے یہ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے یعنی خدا کو ان تمام باتوں سے ارفع و منزہ قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
166۔ 1 مطلب یہ کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح میں مصروف رہتے ہیں، نہ کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–165
30: یہ ان مشرکین کے ایک اور بےہودہ عقیدے کی تردید ہے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ جنات کے سرداروں کی بیٹیاں فرشتوں کی مائیں ہیں، گویا العیاذ باللہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیویاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–166
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔ یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے…
Read the full tafseer →7 یعنی اپنی اپنی حد پر ہر کوئی اللہ کی بندگی اور اس کا حکم سننے کے لیے کھڑا رہتا ہے۔ مجال نہیں آگے پیچھے سرک جائے۔
Read the full tafseer →آیت 165{ وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ ”اور ہم تو سب کے سب صفیں باندھے کھڑے رہتے ہیں۔“ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور صف بستہ مستعد کھڑے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
93 یعنی اے مشرکین عرب ! تم اور تمہارے معبود مل کر بھی شرک اور شرکیہ عقائد کی مدافعت میں اور اسلام کا راستہ روکنے میں جتنے ہتھکنڈے استعمال کرسکتے ہو۔ اور جتنی سازشیں تیار کرسکتے ہو کرلو۔ اللہ کے مخلص بندوں کو تم اپنے دام فریب میں پھنسا نہیں سکتے۔ تم صرف ایسے شخص کو ہی پھنسا سکتے ہو جو تمہارا ہی ہم جنس ہو اور اس نے جہنم میں جانے کا تہیہ کر رکھا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
89۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہم عبد محض اور محکوم خالص ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے۔ جو خدمت ہم میں سے جس کے سپرد ہے، بس وہ ایس میں لگا رہتا ہے۔ یہ سب مضمون فرشتوں کی زبان سے ادا ہورہا ہے۔ اس سے ایک طرف تردید ان جاہلی قوموں کی بھی ہورہی ہے، جنہوں نے فرشتوں میں الوہیت اور معبودیت کی شان پائی ہے، اور دوسری طرف اہل کتاب کی بھی تردید ہے جنہوں نے بعض فرشتوں کو خطاکار وعصیاں شعار قرار دیا ہے (آیت) ” وما ...... معلوم “۔ بعض نے اس سے یہ اشارہ سمجھا ہے کہ ملائکہ کے لیے مقامات معین ومعلوم ہیں، جن میں علو و ترقی کی گنجائش نہیں، بخلاف انسان کے کہ وہ جس قدر بھی جدوجہد کرے، قرب وعلو کے مراتب طے کرتا رہے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →وانا النحن الصآفون اور (عبادت کے وقت یا اللہ کا حکم سننے کے وقت) ہم صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن مالک کی روایت سے بیان کیا کہ لوگ منتشر طور پر نماز پڑھا کرتے تھے (یعنی قطار نہیں بناتے تھے) جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو صف بندی کا حکم دے دیا۔ ابن المنذر اور ابن جریج نے بھی اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔ کلبی نے کہا : آسمان پر عبادت کے فرشتوں کی صفیں ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے (نماز میں) زمین پر آدمیوں کی صفیں۔ مسلم نے حضرت جابر بن سمرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم ملائکہ کی صفوں کی طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے ؟ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
(164۔ 166) آگے جبریل امین کا قول روایت کرتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا آسمان میں ایک درجہ مقرر ہے اور ہم نماز میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ : اور ہم سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے صفیں بنانے والے ہیں۔ جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلاَ تَصُفُّوْنَ کَمَا تَصُفُّ الْمَلاَءِکَۃُ عِنْدَ رَبِّہَا ؟ فَقُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَکَیْفَ تَصُفُّ الْمَلاَءِکَۃُ عِنْدَ رَبِّہَا ؟ قَالَ یُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْأُوَلَ ، وَیَتَرَاصُّوْنَ فِي الصَّفِّ) [ مسلم، الصلاۃ، باب الأمر بالسکون في الصلاۃ۔۔ : 430۔ أبوداوٗد : 661 ] ”تم لوگ اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں بناتے ہیں ؟“ ہم نے عرض کیا : ”اے اللہ کے رسول ! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صفیں بناتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
164 ۔ 166:۔ یہ فرشتوں کا قول ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں کہا ہے اور جنہوں نے ان کی عبادت کی تھی ان کے انکار کے لئے ہے۔ مقاتل نے کا ہے : یہ تین آیات اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ سدرۃ المنتھی کے پاس تھے حضرت جبریل امین پیچھے ہٹ گئے تو نبی کریم ﷺ نے کہا : ” یہاں تو مجھے چھوڑ جائے گا “ حضرت جبریل امین نے عرض کی کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ میں اپنے مقام سے آگے بڑھوں ٭۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے قول کی حکایت بیان کرتے ہوئے ان آیات کو نازل فرمایا : وما منا الا لہ مقام معلوم۔۔ کو فیوں کے نزدیک اس کی تقدیر کلام یہ ہے : وما منا الا من لہ مقام معلوم تو اسم موصول کو حذف کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید بن (رح) وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما منا الا لہ مقام معلوم “ (اور ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے (جہاں وہ عبادت کرتا ہے) یعنی فرشتوں کا (آیت ) ” وانا لنحن الضآفون “ (اور ہم صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں (آیت) ” وانا لنحن المسبحون “ (اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں لگے رہتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا کہ ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے اسی آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) کا قول ہے 4:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں سعید بن جبیر (رح)…
Read the full tafseer →وَّاِنَّا [اور یہ کہ ] لَنَحْنُ [یقینا ہم لوگ ] الصَّاۗفُّوْنَ [صف باندھنے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–170
فرشتوں کی بعض صفات کا تذکرہ ان آیات میں اول تو مشرکین کو خطاب فرمایا کہ تم اور تمہارے سارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ شانہٗ کی توحید سے کسی کو نہیں پھیر سکتے حالانکہ تمہاری کوششیں برابر جاری ہیں ہاں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جس کسی کا دوزخ میں جانا مقرر و مقدر ہے اسی کو توحید کے راستے سے ہٹا سکتے ہو۔ چونکہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اور اس لیے ان کی شان عبدیت انہی کی زبانی بیان فرمائی (پہلے جنات کے بارے میں بتایا جاچکا ہے کہ وہ اپنے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص مجرم ہوگا گرفتار ہو کر حاضر کیا جائے گا) جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔ (ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
66:۔ وان کانوا الخ : یہ شکوی مع تخویف دنیوی ہے۔ نزول قرآن سے پہلے مشرکین قریش کہا کرتے تھے کہ جس طرح پہلے لوگوں (یہود و نصاری) پر کتابیں اتریں۔ اگر اس طرح کی کوئی کتاب ہم پر نازل ہوتی تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے۔ اور خالص اس کی عبادت کرتے۔ جب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آخری کتاب (قران) آگئی تو فورًا اس کا انکار کردیا۔ اس کفر و انکار کا انجام عنقریب ہی دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
ربط آیات اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…
Read the full tafseer →وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ 165ۚ صف الصَّفُّ : أن تجعل الشیء علی خط مستو، کالناس والأشجار ونحو ذلك، وقد يجعل فيما قاله أبو عبیدة بمعنی الصَّافِّ «1» . قال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا[ الصف/ 4] ، ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا [ طه/ 64] ، يحتمل أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الصَّافِّينَ ، وقال تعالی: وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ [ الصافات/ 165] ، وَالصَّافَّاتِ صَفًّا[ الصافات/ 1] ، يعني به الملائكة . وَجاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا [ الفجر/ 22] ، وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] ، فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْها صَوافَ [ الحج/ 36] ، أي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
اس کے بعد خدا تعالیٰ ملائکہ کے وہ صفات ان کی زبانی اقرار کے موافق بیان فرماتا ہے کہ جن سے ان کا بندہ اور اس کی مخلوق ہونا ثابت ہوجاوے اور مشرکین کا خیال رد ہوجاوے فقال (1) وما منا الا لہ مقام معلوم۔ (2) وانا لحن الصافون، (3) وانا لنحن المسبحون یہ تین صفت ملائکہ کی ہیں کہ وہ یہ تین باتیں آپ کہتے ہیں، ان کا اقرار کرتے ہیں۔ پہلی صفت یہ کہ ہر ایک فرشتہ کا ایک درجہ معین ہے، اس سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ عام ہے کہ وہ درجہ تصرفات عالم سفلی و علوی کا ہو یا عبادت و تقرب کا ہو جو کام جس کو اور جو مرتبہ جس کو دیا گیا ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کرسکتا۔ دوسری صفت کے یہ معنی ہیں کہ ملائکہ حکمِ الٰہی بجالانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
وَمَا مِنَّـآ اِلاَّ لَـہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ۔ وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ ۔ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ ۔ (الصآفات : 164 تا 166) (اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک معین مقام ہے۔ اور ہم اللہ کے حضور صف بستہ رہنے والے خدمتگار ہیں۔ اور ہم اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔ ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے فرشتوں کے مقام کی وضاحت اوپر کی آیات میں فرشتوں کی حیثیت کو واضح کیا گیا اور ان سے متعلق مشرکین کے عقائد کی تردید کی گئی۔ لیکن اب ان کے مقام و مرتبہ کی مزید وضاحت کے لیے فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا اپنا اعتراف ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ مشرکین پر ان کی غلطی کو مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
فہم القرآن ربط کلام : نیک جنّات اور مواحد بندوں کا عقیدہ بیان کرنے کے بعدملائ کہ کا عقیدہ اور ان کا اعتراف ذکر کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے نیک جنّات اور مخلص بندوں کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔ نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کی رشتہ داری ہے۔ جنّات، انسان اور ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔ وہ سب کا واحد خالق، مالک اور رازق ہے یہی عقیدہ تمام ملائکہ کا ہے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ہماری کیا مجال ہے کہ جہاں ہماری ڈیوٹی لگائی گئی ہے اس سے ایک انچ آگے پیچھے ہوسکیں اور جو ہمیں حکم دیا جاتا ہے اس میں بال برابر سستی کریں۔ ہم تو اپنی اپنی جگہ پر کھڑے اپنے خالق کے حکم…
Read the full tafseer →165: وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآ فُّوْنَ (اور ہم صف بستہ کھڑے ہیں) ہم اپنے اقدام کی نماز میں صف بندی کرتے ہیں یا ہم عرش الٰہی کے گرد مؤمنوں کے لئے دعا کرنے کی خاطر صف بندی کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →165 ، انالنحن الصافون ، قتادہ (رح) کا قول ہے کہ فرشتے اپنے قدموں پر صف بستہ ہوتے ہیں ۔ کلبی کا بیان ہے کہ آسمان پر عبادت کے فرشتوں کی صفیں ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے زمین پر آدمیوں کی صفیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
164۔ 166 تفسیر قرطبی اور تفسیر مقاتل 2 ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ معراج کی رات جب آنحضرت ﷺ مقام سدرۃ المنتہیٰ تک جبرئیل کے ساتھ پہنچے تو اس مقام پر پہنچ کر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آگے جانے سے رکے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا کہ ایسے مقام پر مجھ کو تنہا چھوڑتے ہو حضرت جبرئیل نے ان تینوں آیتوں کے مضمون کے موافق جواب دیا۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے قائل کرنے کو ان تین آیتوں میں نازل فرمایا کہ یہ ظالم مشرک فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور ان مورتوں کی پوجا کر کے مورتوں والے فرشتوں کو اپنا سفارشی قرار دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–166
آیت 161 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : اے مشرکو ! تم اور تمہارے خود ساختہ الہ کسی کو فتنے میں مبتلا کرنے یا گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہوگیا۔ یہاں کسی کو گمراہ کرنے کے بارے میں، ان کا اور ان کے معبودوں کا عجز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کو بیان کرنا مقصود ہے۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فلاح یافتہ بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کی امید نہ رکھو۔ آیت یہ فرشتوں کے بارے میں کفار کی بہتان طرازی سے برأت کا بیان ہے، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور لمحہ بھر کے لئے اس کی نافرمانی نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “ ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–165
105 صدق و اخلاص ذریعہ نجات و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مجرم لوگوں کو کل قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بارگہ میں پکڑا اور جکڑا ہوا حاضر کیا جائے گا سوائے اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے "۔ کہ وہ اس طرح کے شرکیہ عقائد سے بھی بچے رہیں گے اور اس کے نتیجے میں وہ دوزخ کے عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے اور نجات سے بہرہ ور ہوں گے۔ (المراغی، الجامع وغیرہ) ۔ سو یہ استثناء ۔ { اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ۔ سے ہے۔ کیونکہ " محضرون " کے اندر یہ مفہوم موجود ہے کہ مجرموں کو خدا کے حضور گرفتار کرکے پیش کیا جائے گا۔ اس لیے اس استثناء کے ذریعے یہ بات واضح فرما دی کہ اس سے صرف وہی لوگ بچ سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی صف باندھے ہر آن اطاعت و حکم برداری کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ( دیکھئے آیت 1)
Read the full tafseer →(37:165) الضافون : صفت سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے اس کا واحد صاف ہے۔ صف مصدر جس کے معنی قطار باندھنے کے ہیں۔ بطور اسم بمعنی قطار بھی مستعمل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
(ف 1) شان نزول : تفسیر قرطبی اور تفسیر مقاتل میں چند روایتوں میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ معراج کی رات جب نبی ﷺ مقام درۃ المنتہی تک حضرت جبرائیل کے ساتھ پہنچے تو اس مقام پر پہنچ کر حضرت جبرائیل آگے جانے سے رکے، نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل سے کہا کہ ایسے مقام پر مجھ سے جدا ہوتے ہو، حضرت جبرئیل نے ان آیتوں کے مضمون کے موافق جواب دیا، اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے قائل کرنے کو ان تین آیتوں میں نازل فرمایا کہ یہ ظالم مشرک فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور ان مورتوں کی پوجا کرتے ہیں اور فرشتوں کو اپناسفارشی قرار دیتے ہیں ان کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ کی جناب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–182
[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–176
خدائے خیر اور خدائے شر 1: قرآن حکیم میں تمام عقائد باطلہ کی تردید موجود ہے ۔ جو اس وقت رائج تھے ۔ اور یا ان کے مقبول ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان تھا ۔ گو بظاہر صرف اہل کتاب اور مشرکین کو زیادہ تر مخاطب فرمایا ہے لیکن اگر غور وتعمق سے دیکھا جائے ۔ تو اس کتاب معرفت میں تمام مذہبی اور دینی تصورات کی توضیح اور تردید موجود ہے ۔ عربوں میں ایک عقیدہ اس وقت یہ موجود تھا ۔ کہ دنیا کے دو الگ الگ خدا ہیں ۔ ایک خیر کا خدا ہے جس سے سوائے حسن و جمال کے اور بھلائیوں کے اور کسی بات کا صدور نہیں ہوتا ۔ دوسرا شر کا خدا ہے ۔ جس سے مفاسد اور مضرات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے ۔ کہ علم کلام کا یہ…
Read the full tafseer →(165) اور ہم تو صف بستہ اور قطار باندھ کر کھڑے ہونے والے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنی اپنی حد پر ہر کوئی کھڑا رہتا ہے۔ حدیث میں ملائکہ کی صفوں کا ذکر آتا ہے جیسا کہ ہم شروع سورت میں ذکر کر آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
ف 2۔ یعنی ان میں جو ملائکہ ہیں ان کا یہ مقولہ ہے کہ ہم تو بندہ محض ہیں، چناچہ جو خدمت ہم کو سپرد ہے اسی کی بجا آوری میں لگے رہتے ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →اور یہ کہ ہم پرے باندھے کھڑے ہیں : 165۔ ہر وقت حکم ماننے کے لیے سرتسلیم خم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید میں لگے ہوئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ طاقت و قوت کا اور کام ہی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس کو تسخیر کردیا ہے اور جو کام انسان اس طاقت وقوت کی فطرت کے مطابق لینا چاہتا وہ دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور یہی ان کی حمد وتسبیح ہے اور اس بات کے وہ اقراری ہیں کہ ہم تو صف بستہ خدمت گار ہیں اور تسبیح خواں ہیں ۔ جس طرح اس کائنات کی ہرچیز انسان کے لیے تسخیر کی گئی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–166
In verse 158, it was said: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا (And they have made up between Him and the Jinns some kinship). There are two explanations of this sentence. According to the first Tafsir, this is a description of the false belief held by the Mushriks of Arabia that the daughters of the chieftains of the Jinns are mothers of the angels. As if, God forbid, the daughters of the chieftains of the Jinns have marital relations with Allah Ta’ ala and, as a result of this bond, angels have come to exist. Hence, it appears in an exegetical narration when the Mushriks of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
91 That is, "Not to speak of being Allah's children, we do not have the power to exceed in any way or degree the place and position and status appointed for each of us by Allah. "
Read the full tafseer →